اسلام اور غلامی، اعتراضات کےجوابات، تحریر و تحقیق: محمد حسنین اشرف، میاں عمران

اسلام اور غلامی

اعتراضات کےجوابات

تحریر و تحقیق: محمد حسنین اشرف، میاں عمران

حصہ اول

سچائی تمہیں آزاد کردے گی صیح فرماتے ہیں احباب سچائی انسان کو آزاد کرتی ہے لاکھوں دروں سے ہٹا کہ ایک در پہ سر جھکواتی ہے جہاں انسان عزت کی زندگی بسر کرکے آخرت میں بھی ایک اچھی زندگی کی امید کر سکتا ہے۔ دین پہ حملہ وطیرہ ہے الحاد کا اور انہوں نے ہر درجے میں اہل ایمان کے دلوں میں شک و شبہ میں مبتلا کرنا انکا وطیرہ ہے خیر ہے بات کی طرف بڑھتے ہیں۔
ملحدوں نے اعتراض کی شروعات یہاں سے کی ہے کہ اسلام سے پہلے بھی غلاموں کے ساتھ اچھے سلوک کا درس دینے والے لوگ موجود تھے۔ اس سے کون انکاری ہے کہ اچھے لوگ ہر درجے میں ہر جگہ موجود تھے۔ لیکن کیا بحثیت مجموعی غلاموں کی حالت ایسی تھی کہ ان پہ کوئی ظلم نہ ہوتا تھا۔ انکے ساتھ بڑے اچھے طریق سے پیش آیا جاتا تھا۔ قدیم دنیا کے چند علاقوں میں اس بات کو ظہور کیا اس بات کو ثبوت ہے کہ غلامی کا سرے سے نام و نشان ہی نہی تھا؟
رہی بات دین کی تو اسلام کوئی نبیﷺ کے آنے کے بعد شروع نہی ہوا بلکہ نبیﷺ تو اسلام کے آخری پیغمبر ہیں۔ ان سے پہلے عرب دین سے واقف تھے لیکن دین میں خرافات پیدا کر چکے تھے ان خرافات کے دور کرنے کے لئے ہی نبیﷺ کو بھیجا گیا تھا۔ اصل میں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ ایک نبی کرتا کیا ہے وہ دین جو پہلے سے موجود ہے جسکی ابتداء آدم ء سے ہوئی وہ اس دین میں اگر کچھ بڑھانا مقصود ہے اسے بڑھا دیتا ہے کسی بدعت کا خاتمہ کرنا ہے اسے ختم کردیتا ہے اور اگر کوئی نئی بات دین میں شامل ہونی ہو تو دین میں اس بات کو شامل کردیا جاتا ہے۔
قران میں ارشاد ہے:
وَاَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ مِنَ الْکِتٰبِ وَمُھَیْمِنًا عَلَیْہِ فَاحْکُمْ بَیْنَھُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ وَلَا تَتَّبِعْ اَھْوَآئَ ھُمْ عَمَّا جَآئَ کَ مِنَ الْحَقِّ ، لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْکُمْ شِرْعَۃً وَّمِنْھَاجًا، وَلَوْ شَآئَ اللّٰہُ لَجَعَلَکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً، وَّلٰکِنْ لِّیَبْلُوَکمُ ْفِیْ مَآ اٰتٰکُمْ فَاسْتَبِقُواالْخَیْرٰتِ. اِلَی اللّٰہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُوْنَ.﴿المائدہ 5 :48﴾ ’’اور ﴿اے پیغمبر﴾، ہم نے یہ کتاب تمھاری طرف حق کے ساتھ اتاری ، اُس شریعت کی تصدیق میں جو اِس سے پہلے موجود ہے اور اُس کے لیے محافظ بنا کر ، اِس لیے تم اِن ﴿اہل کتاب﴾ کے درمیان اُس ہدایت کے مطابق فیصلہ کرو جو اللہ نے نازل کی ہے اور اُس حق کو چھوڑ کر جو تمھارے پاس آ چکا ہے ، اِن کی خواہشوں کی پیروی نہ کرو۔ ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت اور ایک راہِ عمل مقرر کی ہے ۔ اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا ، لیکن اُس نے چاہا کہ جو کچھ اُس نے تمھیں دیا ہے، اُس میں تمھیں آزمائے۔ چنانچہ بھلائیوں کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو ۔ تم سب کو اللہ ہی کی طرف پلٹنا ہے ، پھر وہ تمھیں بتا دے گا وہ سب چیزیں جن میں تم اختلاف کرتے رہے ہو ۔‘‘
شریعت پہلے سے موجود تھی اس میں سرکشی اختیار کرنے والوں نے جو کمی و بیشیاں کیں انکے جواب میں پیغمبر بھیجا جاتا اور پیغمبر کوئی سائل کی فریاد لے کر نہی آتا تھا وہ خدا کی طرف سے ایک عدالت کے طور پہ دنیا میں موجود ہوتا تھا۔
کیا واقعی عرب اس سے واقف تھے اسکے لئے چند مثالیں آپکی نظر کرتاہوں۔
جاہلی شاعر جران العود کہتا ہے :
وادرکن اعجازًا من اللیل بعد ما اقام الصلٰوۃ العابد المتحنف
’’اور اِن سواریوں نے رات کے پچھلے حصے کو پا لیا ، جبکہ عبادت گزار حنیفی نماز سے فارغ ہو چکا تھا۔ ‘‘
اعشیٰ وائل کا شعر ہے :
وسبح علی حین العشیات والضحٰی ولا تعبد الشیطان، واللّٰہ فاعبدا
’’اور صبح و شام تسبیح کرو، اور شیطان کی عبادت نہ کرو ، بلکہ اللہ کی عبادت کرو۔‘‘
ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات سے تین سال پہلے ہی میں نماز پڑھتا تھا۔ پوچھا گیا کہ کس کے لیے ؟ فرمایا : اللہ کے لیے ۔ مسلم ، رقم ۶۳۵۹۔
عرب اس سب سے واقف تھے لیکن وہ اس میں بدعات شامل کرچکے اور ان بدعات کے خاتمے کے لئے نبیﷺ تشریف لائے۔
تاریخ کے مطالعے کے وقت دین کا یہ پہلو انسان کے سامنے لازم ہونا چاہیے۔ دین کوئی نئی چیز نہی تھی اہل عرب کے لئے وہ اس سے واقف تھے۔ اب یہ کہنا کہ مکاتبت پہلے سے موجود تھی اور اسے بنائے استدلال بنانا بے معنی ہے اسلام نے جو چیزیں رائج تھیں ان میں چند کو چن لیا اور جو بری تھیں انکو رد کردیا۔ مکاتبت اور یہ سارے قوانین اسلام سے پہلے رائج تھے تو اس سے اسلام کی صحت پہ کیا فرق پڑتا ہے اس نے ایک لعنت کا خاتمہ کرنا تھا اسکے لئے اس نے اپنے اصول وضع کردئے۔
وَالَّذِیْنَ یَبْتَغُوْنَ الْکِتٰبَ مِمَّا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ فَکَاتِبُوْھُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِیْہِمْ خَیْرًا وَّاٰتُوْھُمْ مِّنْ مَّالِ اللّٰہِ الَّذِیْٓ اٰتٰکُمْ.﴿النور ۲۴: ۳۳﴾ ’’اور تمھارے غلاموں میں سے جومکاتبت چاہیں ، اُن سے مکاتبت کر لو، اگر اُن میں بھلائی دیکھتے ہو اور ﴿اِس کے لیے﴾ اللہ کا وہ مال اُنھیں دو جو اُس نے تمھیں عطا فرمایا ہے۔‘‘
اس آیت سے واضح ہے کہ قران نے مکاتبت کو متعارف نہی کروایا بلکہ ایک رائج چیز کو استعمال کیا وگرنہ وہ اسکی شرح و وضاحت بھی کرتا کہ یہ مکاتبت کیا ہوتی ہے۔
بات کو آگے بڑھانے سے پہلے ذرا اس زمانے میں پھیلی اس لعنت کو دیکھ لیں کہ وہ کس درجے میں تھی۔ اور کون کون اسکا شکار تھا۔
پروفیسر کیتھ بریڈلے اپنے آرٹیکل “قدیم روم میں غلاموں کی مزاحمت (Resisting Slavery in Ancient Rome)” میں اس دور کی غلامی کا نقشہ کھینچتے ہوئے لکھتے ہیں:
روم اور اٹلی میں، 200 قبل مسیح سے لے کر 2000 عیسوی تک، کی چار صدیوں میں آبادی کا چوتھائی بلکہ تہائی حصہ غلاموں پر مشتمل تھا۔ اس دوران کروڑوں کی تعداد میں مرد، خواتین اور بچے کسی بھی قسم کے حقوق کے بغیر رہتے رہے ہیں گویا کہ قانونی اور معاشرتی طور پر وہ سرے سے وجود ہی نہیں رکھتے۔ وہ انسان ہی نہیں سمجھے جاتے تھے۔
پلوٹرک کی بیان کردہ معلومات کے مطابق کسی غلام کا نام ہی نہ ہوا کرتا تھا۔ انہیں کوئی چیز اپنی ملکیت میں رکھنے، شادی کرنے یا قانونی خاندان رکھنے کی کوئی اجازت نہ ہوا کرتی تھی۔ غلاموں کا مقصد یا تو محض محنت کرنے والے کارکنوں کا حصول ہوا کرتا تھا یا پھر یہ اپنے آقاؤں کی دولت کے اظہار کے لئے اسٹیٹس سمبل کے طور پر رکھے جاتے تھے۔ غلاموں کو جسمانی سزائیں دینا اور ان کا جنسی استحصال کرنا عام تھا۔اپنی تعریف کے لحاظ سے ہی غلامی ایک وحشی، متشددانہ اور غیر انسانی ادارہ تھا جس میں غلام کی حیثیت محض ایک جانور کی سی تھی۔
قدیم یونانی معاشرہ میں پورا ایک طبقہ ہیلوٹس کا تھا جو غلاموں پر مشتمل ہوتا تھا۔ یونان میں بہت سے لوگوں کے پاس اپنی زمین نہ تھی اور (مزارعت پر کاشت کرنے کی وجہ سے) انہیں اپنی فصل کا بڑا حصہ جاگیر داروں کو دینا ہوتا تھا۔ اس وجہ سے یہ لوگ قرض لینے پر مجبور ہوتے اور سوائے اپنے جسم و جان کے ان کے پاس کوئی چیز رہن رکھنے کے لئے نہ ہوا کرتی تھی۔ ان لوگوں کو غلام بنا لیا جاتا۔ کہا جاتا ہے کہ ایک وقت میں ایتھنز شہر میں محض 2100 شہری اور 460,000 غلام موجود تھے۔۔ غلاموں کو اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے سب کچھ کرنا پڑتا تھا۔ پہلے عبرانیوں کے ہاں اور پھر یونانیوں میں غلاموں سے نہایت ہی سخت برتاؤ رکھا جاتا تھا۔ یونان کی تمام شہری ریاستوں میں معاملہ ایک جیسا نہ تھا۔ ایتھنز میں غلاموں سے کچھ نرمی برتی جاتی جبکہ سپارٹا میں ان سے نہایت سخت سلوک کیا جاتا لیکن عمومی طور پر غلام بالکل ہی بے آسرا تھے۔
مصر میں بھی دنیا کے دوسرے خطوں کی طرح غلامی موجود رہی ہے۔ مصری قوانین کے تحت پوری رعایا کو فرعون کا نہ صرف غلام سمجھا جاتا تھا بلکہ ان سے فرعون کی عبادت کا مطالبہ کیا جاتا تھا۔ اہرام مصر کی تعمیر سے متعلق جو تفصیلات ہمیں ملتی ہیں، ان کے مطابق اہرام کی تعمیر ہزاروں کی تعداد میں غلاموں نے کی تھی۔ کئی کئی ٹن وزنی پتھر اٹھانے کے دوران بہت سے غلام حادثات کا شکار بھی ہوئے تھے۔ (سورس)

حصہ دوم

یہ معاشرے چلتے ہی غلاموں کے سروں پہ تھے۔ ایک دم اگر انہیں کہا جاتا کہ غلاموں کو آزاد کرو اور بالفرض محال سب آزاد کردیتے تو عرب کی معاشرتی زندگی کا جو حشر ہوتا اس سے میرا خیال ہے سب اچھے سے واقف ہونگے۔ آج جب ہماری سارا بینکاری نظام سود پہ چل رہا ہے ذرا ایک دم سود کو بینکاری نظام سے نکال دیں تو یہ نظام ٹھپ ہو جائے گا تو اس سلسلے میں تدابیر کی جاتی ہیں کہ اسے ابھی ایسے ہی رہنے دیا جائے نئے سودی قرضوں اور معاملہ جات پہ کڑی پابندی اور صرف بینکوں میں جو سود پہ قرضے وغیرہ دیئے ہیں ان تمام کو نپٹایا جائے تاکہ سود بھی ختم اور بینکاری نظام بھی چلتا رہے۔ لیکن اسکے باوجود کتنے ہونگے جو اس قبیح عمل سے باز نہی آئیں گے اور اس طرح سود کو حکمتاََ ختم کرنے سے ایک تو بینکس اور سارا نظام درہم برہم اور دیوالیہ ہونے سے بچ جائے گا اور دوسرا سود ایک وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہو جائے گا۔ اب خود ہی دیکھیں ان دونوں میں سے بہتر اور دورپا نظام کونسا ہے؟
بلکل یہی معاملہ اسلام نے غلاموں کے ساتھ کیا۔ قدیم زمانے میں غلام تین طرح کے تھے۔ ایک جنگی قیدی، دوسرے آزاد آدمی جن کو پکڑ پکڑ کر غلام بنایا اور بیچ ڈالا جاتا تھا۔ تیسرے وہ جو نسلوں سے غلام چلے آہے تھے اور کچھ پتہ نہ تھا کہ ان کے آباء و اجداد کب غلام بنائے گئے تھے اور دونوں قسموں میں سے کس قسم کے غلام تھے۔ اسلام جب آیا تو عرب اور بیرون عرب دنیا بھر کا معاشرہ ان تمام اقسام کے غلاموں سے بھرا ہوا تھا اور سارا معاشی و معاشرتی نظام مزدوروں اور نوکروں سے زیادہ ان غلاموں کے سہارے چل رہا تھا۔ اسلام کے سامنے پہلا سوال یہ تھا کہ یہ غلام جو پہلے سے چلے آرہے ہیں ان کا کیا کیا جائے۔ اور دوسرا سوال یہ تھا کہ آئندہ کے لیے غلامی کے مسئلے کا حل کیا ہے۔ پہلے سوال کے جواب میں اسلام نے یہ نہیں کیا کہ یکلخت قدیم زمانے کے تمام غلاموں پر سے لوگوں کے حقوق ملکیت ساقط کردیتا، کیونکہ اس سے نہ صرف یہ کہ پورا معاشرتی و معاشی نظام مفلوج ہوجاتا بلکہ عرب کو امریکہ کی خانہ جنگی سے بھی بدرجہا زیادہ سخت تباہ کن خانہ جنگی سے دوچار ہونا پڑتا اور پھر بھی اصل مسئلہ حل نہ ہوتا جس طرح امریکہ میں حل نہ ہوسکا اور سیاہ فام لوگوں (Negroes) کی ذلت کا مسئلہ بہرحال باقی رہ گیا۔ اس احمقانہ طریقِ اصلاح کو چھوڑ کر اسلام نے فَکّ رَقَبَہ کی ایک زبردست اخلاقی تحریک شروع کی اور تلقین و ترغیب، مذہبی احکام اور ملکی قوانین کے ذریعے سے لوگوں کو اس بات پر ابھاراکہ یا تو آخرت کی نجات کے لیے طوعاً غلاموں کو آزاد کریں، یا اپنے قصوروں کے کفارے ادا کرنے کے لیے مذہبی احکام کے تحت انہیں رہا کریں، یا مالی معاوضہ لے کر ان کو چھوڑ دیں۔ اس تحریک میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود 63 غلام آزاد کیے۔ آپ کی بیویوں میں سے صرف ایک بیوی حضرت عائشہ رض کے آزاد کردہ غلاموں کی تعداد 67 تھی۔ حضور کے چچا حضرت عباس رض نے اپنی زندگی میں 70 غلاموں کو آزاد کیا۔ حکیم بن حزام رض نے 100، عبداللہ بن عمر رض نے ایک ہزار، ذوالکلاع حمیری رض نے آٹھ ہزار اور عبدالرحمٰن بن عوف نے تیس ہزار کو رہائی بخشی۔ ایسے ہی واقعات دوسرے صحابہ کی زندگی میں بھی ملتے ہیں جن میں حضرت ابو بکر رض اور حضرت عثمان رض کے نام بہت ممتاز ہیں۔ خدا کی رضا حاصل کرنے کا ایک عام شوق تھا جس کی بدولت لوگ کثرت سے خود اپنے غلام بھی آزاد کرتے تھے اور دوسروں سے بھی غلام خرید خرید کر آزاد کرتے چلے جاتے تھے۔ اس طرح جہاں تک سابق دور کے غلاموں کا تعلق ہے، وہ خلفائے راشدین کا زمانہ ختم ہونے سے پہلے ہی تقریباً سب کے سب رہا ہوچکے تھے۔
آئندہ بنائے جانے والے غلاموں کے ذیل میں اسلام نے غلامی کی آخری وجہ کے علاوہ باقی انسانی غلامی کے سارے طریقوں پر پابندی لگادی ۔ آخری وجہ (جنگی قیدیوں کو غلام بنانا) کو کیوں برقرار رکھا گیا اس کی اصل یہ ہے کہ اس میں مخلوق کی جان بچائی گی ہے، کیونکہ جب ایک دشمن مسلمانوں کے مقابلے میں فوج کشی کرتا ہو اور اس کے ہزاروں لاکھوں آدمی مسلمانوں کے ہاتھوں میں قید ہوں، تو اب ہمیں کوئی بتلا دے کہ ان قیدیوں کو کیا کرنا چاہیے؟
ایک صورت تو یہ ہے کہ ان سب کو رہا کردئیے جائے، اس کا حماقت ہونا ظاہرہے کہ دشمن کے ہزاروں لاکھوں کی تعداد کو پھر اپنے مقابلے کے لئے مستعد کردیا۔
ایک صورت یہ ہے کہ سب کو فورا قتل کردیا جائے، اگر اسلام میں ایسا کیا جاتا تو مخالفین جتنا شور و غل مسئلہ غلامی پر کرتے ہیں ، اس سے کہیں زیادہ اس وقت کرتے کہ دیکھئے کہ کیا سخت حکم ہے کہ قیدیوں کو فورا قتل کردیا گیا؟
ایک صورت یہ ہے کہ سب کو کسی جیل خانے میں بند کر دیا جائے اور وہاں رکھ کر ان کو روٹی کپڑا دیا جائے، اس سے جیل کا عملہ اور ہزاروں جنگی بے کار ہو جاتا ہے ۔ پھر تجربہ شاہد ہے کہ جیل خانے میں رکھ کر آپ چاہے قیدیوں کو کتنی ہی راحت پہنچائیں ، ان کی ان کو کچھ قدر نہیں ہوتی کیونکہ آزادی سلب ہونے کا غیظ ان کو اس قدر ہوتا ہے کہ وہ آپکی ساری خاطر مدارات کو بے کار سمجھتے ہیں، تو سلطنت کا اتنا خرچ بھی ہوا اور سب بے سود کہ اس سے دشمن کی دشمنی میں کمی نہ آئے، پھر قید خانے میں ہزاروں لاکھوں قیدی ہوتے ہیں وہ سب کے سب علمی اور تمدنی ترقی سے بلکل محروم رہتے ہیں اور یہ سب بڑا ظلم ہے۔
اسلام نے اس کے بجائے معاشرے میں انویسٹ کردیا، انکو قیدی سے بہتر انسانی حقوق اور آزادی دی ۔ سوسائٹی نے انکو خوشی سے قبول کیا اور سلطنت بھی بار عظیم سے بچ گی ، چونکہ ہر شخص کو اپنے قیدی سے خدمات لینے کا حق ہوتا ہے اس لئے وہ اسکو روٹی کپڑا جو کچھ دے گا ، اس پر گراں نہیں ہوتا، اس کے لیے ایک نوکر کا معاملہ ہوگیا جس سے وہ خدمت لیتا اور اسے معاوزہ میں روٹی کپڑا اور مکان دیتا،پھر چونکہ غلام کو چلنے پھرنے سیر و تفریح کرنے کی آزادی ہوتی ہے ، قید خانے میں بند نہیں ہوتا ، اس لئے اسکو اپنے آقا پر غیظ نہیں ہوتا، جو جیل خانہ میں کے قیدی کو ہوتا ہے ۔
آقا کو غلاموں کے ساتھ احسان اور نرمی کا برتاو کرنے کا حکم شرعی بھی تھا اس لیے اچھے سلوک سے اس کا احسان دل میں گھر کر لیتا ہے اور وہ اس کے گھر کو اپنا گھر ، اس کے گھر والوں کو اپنا عزیز سمجھنے لگاتا ہے. یہ سب باتیں ہی نہیں بلکہ واقعات ہیں۔
اسلام نے غلاموں کی تربیت کا حکم دیا ۔ آقا خود چاہتا ہے کہ میرا غلام مہذب و شائستہ ہو، وہ اس کو تعلیم بھی دلاتا ہے، صنعت و حرفت بھی سکھاتا ، اسکو علمی اور تمدنی ترقی کا بھرپور موقع ملتا۔ چنانچہ اسلام میں صد ہا علماء زہاد ایسے ہوئے ہیں جو اصل میں موالی (آزاد کردہ غلام) تھے، غلاموں کے طبقہ نے تمام علوم میں ترقی حاصل کی، بلکہ غلاموں کو بعض دفعہ بادشاہت بھی نصیب ہوتی تھی. تاریخ اسلام میں سلطنت غلامان کا تذکرہ موجود ہے۔
اب ظاہر سی بات ہے جب کوئی نیا ملک فتح ہوگا تو وہاں موجود غلاموں کا کیا ہوگا؟ جو لوگ پہلے سے غلام تھے یا جنگی قیدیوں کی صورت میں بعد میں آئے انکو اسلام نے بدتریج غلامی سے نکالا۔ اسلام کے احکام میں تدریج کا باعث یہ چیز ہے کہ معاشرے میں پھیلی ہوئی بعض برائیاں جن کی جڑ یں کسی معاشرے میں بہت دور تک پھیل جائیں ، ان کو یک لخت ختم کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔اس طریقے سے معاشرے میں بجائے خیر کے ، انتشار اور بدنظمی پھیلنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شراب کے احکام بھی اسی طرح سے نازل فرمائے تھے۔چونکہ عرب میں غلامی ایک ادارے کی صورت پر موجود تھی، اور ایک ایک آدمی کے پاس بیس ، تیس اور سو تک غلام ہوتے تھے۔اسلام نے اس لعنت کا آغاز نہیں کیا تھا، بلکہ یہ لوگ صدیوں اور نسلوں سے اسی طرح کام کر رہے تھے۔عرب کے طول و عرض اور عراق ، شام اور مصر کی ریاستیں فتح ہوئیں تو اس سارے علاقے میں کروڑوں غلام کام کر رہے تھے۔چنانچہ اگر ان سب کو بیک وقت آزاد کر دیا جاتا تو معاشرے میں بدنظمی اور انتشار پھیل جاتا۔لاکھوں خواتین، مرد اور بچے بے گھر اور لا وارث ہو جاتے۔چوروں ، ڈاکوؤں ، بھکاریوں اور بدکاروں کی وہ فوج منظر عام پر آتی جسے سنبھالنا کسی کے بس میں نہ ہوتا۔
چنانچہ اسلام نے اس مسئلے کا حل یہ نکا لا کہ مسلمانوں کو غلاموں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا، ان کو حقوق دینا شروع کردیے ، انکو معاشرے میں حیثیت متعارف کروائی ،حکم دیا جو خود کھاؤ ، غلاموں اور لونڈیوں کی اچھی تربیت کرو۔ پھر انکو مختلف بہانوں سے غلامی سے نکالنے کی کوششیں شروع کروائیں ، مثلا لونڈیوں کو آزاد کر کے ان کے ساتھ شادی کو دہرے اجر کا باعث قرار دیا۔غلاموں کو آزاد کرنے کو اسلام نے سب سے بڑ ی نیکی قرار دیا۔ مختلف گنا ہوں کے کفارے میں غلام آزاد کرنے کی ترغیب دی۔
اس سلسلے میں قران اور احادیث کا موقف:
أَلَمْ نَجْعَلْ لَهُ عَيْنَيْنِ. وَلِسَاناً وَشَفَتَيْنِ. وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ۔ فَلا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ۔ وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْعَقَبَةُ۔ فَكُّ رَقَبَةٍ۔ أَوْ إِطْعَامٌ فِي يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ۔ يَتِيماً ذَا مَقْرَبَةٍ۔ أَوْ مِسْكِيناً ذَا مَتْرَبَةٍ۔ (90:11-15)
کیا ہم نے اس (انسان) کے لئے دو آنکھیں، زبان اور دو ہونٹ نہیں بنائے اور دونوں نمایاں راستے اسے نہیں دکھائے۔ مگر اس نے دشوار گزار گھاٹی سے گزرنے کی کوشش نہیں کی اور تمہیں کیا معلوم کہ وہ دشوار گزار گھاٹی ہے کیا؟ کسی گردن کو غلامی سے آزاد کروانا، یا فاقے میں مبتلا کسی قریبی یتیم یا مسکین کو کھانا کھلانا۔
وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ فَمَا الَّذِينَ فُضِّلُوا بِرَادِّي رِزْقِهِمْ عَلَى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَهُمْ فِيهِ سَوَاءٌ أَفَبِنِعْمَةِ اللَّهِ يَجْحَدُونَ۔
اللہ نے تم میں سے بعض کو دیگر پر رزق کے معاملے میں بہتر بنایا ہے۔ تو ایسا کیوں نہیں ہے کہ جو رزق کے معاملے میں فوقیت رکھتے ہیں وہ اسے غلاموں کو منتقل کر دیں تاکہ وہ ان کے برابر آ سکیں۔ تو کیا اللہ کا احسان ماننے سے ان لوگوں کو انکار ہے ؟(النحل 16:71)
لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَالْمَلائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ۔ (2:177)
نیکی یہ نہیں کہ تم اپنے چہروں کو مشرق یا مغرب کی طرف کر لو بلکہ نیکی تو یہ ہے کہ کوئی اللہ، یوم آخرت، فرشتوں، آسمانی کتب، اور نبیوں پر ایمان لائے اور اپنے مال کو اللہ کی محبت میں رشتے داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں، سائلوں اور غلاموں کو آزاد کرنے کے لئے خرچ کرے۔
وَالَّذِينَ يَبْتَغُونَ الْكِتَابَ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْراً وَآتُوهُمْ مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي آتَاكُمْ۔ (النور 24:33)
تمہارے غلاموں میں سے جو مکاتبت کرنا چاہیں، ان سے مکاتبت کر لو اگر تم ان میں بھلائی دیکھتے ہو اور ان کو اس مال میں سے دو جو اللہ نے تمہیں دیا ہے۔
إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاِبْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنْ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ۔ (التوبة 9:60)
یہ صدقات تو دراصل فقرا، مساکین اور سرکاری ملازموں (کی تنخواہوں) کے لئے ہیں، اور ان کے لئے جن کی تالیف قلب مقصود ہو۔ یہ غلام آزاد کرنے، قرض داروں کی مدد کرنے، اللہ کی راہ میں خرچ کرنے اور مسافروں کی مدد کے لئے ہیں۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک فریضہ ہے اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔
لا يُؤَاخِذُكُمْ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُمْ الأَيْمَانَ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ ذَلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ۔ (المائدة 5:89)
تم لوگ جو بغیر سوچے سمجھے قسمیں کھا لیتے ہو، ان پر تو اللہ تمہاری گرفت نہ کرے گا مگر جو قسمیں تم جان بوجھ کر کھاتے ہو، ان پر وہ ضرور تم سے مواخذہ کرے گا۔ (ایسی قسم توڑنے کا) کفارہ یہ ہے کہ تم دس مساکین کو اوسط درجے کا وہ کھانا کھلاؤ جو تم اپنے بال بچوں کو کھلاتے ہو یا انہیں لباس فراہم کرو یا پھر غلام آزاد کرو۔ جسے یہ میسر نہ ہو وہ تین دن کے روزے رکھے۔ یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔
وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا ذَلِكُمْ تُوعَظُونَ بِهِ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ۔ (المجادلة 58:3)
جو لوگ اپنی بیویوں کو ماں قرار دے بیٹھیں اور پھر اپنی کہی ہوئی بات سے رجوع کرنا چاہیں تو ان کے لئے لا زم ہے کہ وہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگانے سے پہلے ایک غلام آزاد کریں۔ اس سے تمہیں نصیحت کی جاتی ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اس سے باخبر ہے۔
وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَقْتُلَ مُؤْمِناً إِلاَّ خَطَأً وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِناً خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ إِلاَّ أَنْ يَصَّدَّقُوا فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ تَوْبَةً مِنْ اللَّهِ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيماً حَكِيماً۔ (النساء 4:92)
کسی مومن کو یہ بات روا نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے مومن کو قتل کرے سوائے اس کے کہ غلطی سے ایسا ہو جائے۔ تو جو شخص غلطی سے کسی مسلمان کو قتل کر بیٹھے وہ ایک مسلمان غلام آزاد کرے اور مقتول کے وارثوں کو قانون کے مطابق دیت ادا کرے، سوائے اس کے کہ وہ معاف کر دیں۔
احادیث
ابو بردہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے فرمایا، “تین قسم کے افراد کے لئے دوگنا اجر ہے : اہل کتاب میں سے کوئی شخص جو اپنے نبی پر ایمان لا یا اور اس کے بعد محمد پر بھی ایمان لا یا۔ ایسا غلام جو اللہ کا حق بھی ادا کرتا ہے اور اپنے مالکان کی تفویض کردہ ذمہ داریوں کو بھی پورا کرتا ہے۔ ایسا شخص جس کے پاس کوئی لونڈی ہو جس سے وہ ازدواجی تعلقات رکھتا ہو، وہ اسے بہترین اخلاقی تربیت دے، اسے اچھی تعلیم دلوائے، اس کے بعد اسے آزاد کر کے اس سے شادی کر لے تو اس کے لئے بھی دوہرا اجر ہے۔(بخاری، کتاب العلم، حديث 97)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے خود اس کی مثال قائم فرمائی۔ آپ نے سیدہ صفیہ اور ریحانہ رضی اللہ عنہما کو آزاد کر کے ان کے ساتھ نکاح کیا۔ اسی طرح آپ نے اپنی لونڈی سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کو آزاد کر کے ان کی شادی سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے کی۔ آپ نے اپنی ایک لونڈی سلمی رضی اللہ عنہا کو آزاد کر کے ان کی شادی ابو رافع رضی اللہ عنہ سے کی۔
ابوہرہرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ نبی صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے فرمایا: “جو شخص بھی کسی مسلمان غلام کو آزاد کرتا ہے ، اللہ تعالی اس (غلام) کے ہر ہر عضو کے بد لے (آزاد کرنے والے کے ) ہر ہر عضو کو جہنم سے آزاد کرے گا۔” سعید بن مرجانہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں علی بن حسین (زین العابدین) رضی اللہ عنہما کے پاس گیا اور ان سے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے اپنے ایک غلام کی طرف رخ کیا اور اسے آزاد کر دیا۔ اس غلام کی قیمت عبداللہ بن جعفر دس ہزار درہم یا ایک ہزار دینار لگا چکے تھے۔
(بخاری، کتاب العتق، حديث 2517)
ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم سے پوچھا، کس غلام کو آزاد کرنا سب سے افضل ہے ؟” آپ نے فرمایا، “جو سب سے زیادہ قیمتی ہو اور اپنے آقاؤں کے لئے سب سے پسندیدہ ہو۔” میں نے عرض کیا، “اگر میں ایسا نہ کر سکوں تو؟” آپ نے فرمایا، “تو پھر کسی کاریگر یا غیر ہنر مند فرد کی مدد کرو۔” میں نے عرض کیا، “اگر میں یہ بھی نہ کر سکوں؟” آپ نے فرمایا، “لوگوں کو اپنی برائی سے بچاؤ۔ یہ بھی ایک صدقہ ہے جو تم خود اپنے آپ پر کرو گے۔”(بخاری، کتاب العتق، حديث 2518)
ابو دردا رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا: “جو شخص بھی مرتے وقت غلام آزاد کرتا ہے ، وہ تو اس شخص کی طرح ہے جو (گناہوں سے) اچھی طرح سیر ہونے کے بعد (نیکی کی طرف) ہدایت پاتا ہے۔(سنن نسائی الکبری، کتاب العتق، حديث 4873)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم کو غلاموں کی آزادی سے ذاتی طور پر دلچسپی تھی۔ اوپر بیان کردہ عمومی احکامات کے علاوہ آپ بہت سے مواقع پر خصوصی طور پر غلاموں کو آزاد کرنے کی ترغیب دیا کرتے تھے۔ بہت سی جنگوں جیسے غزوہ بد ر، بنو عبدالمصطلق اور حنین میں فتح کے بعد آپ نے جنگی قیدیوں کو غلام نہ بنانے کے لئے عملی اقدامات کئے اور انہیں آزاد کروا کر ہی دم لیا۔ اس کے علاوہ بھی آپ مختلف غلاموں کے بارے میں ان کے مالکوں سے انہیں آزاد کرنے کی سفارش کیا کرتے تھے۔آپ خود بھی جب یہ محسوس فرماتے کہ آپ کا کوئی غلام آزادانہ طور پر زندگی بسر کرنے کے لئے تیار ہو گیا ہے تو اسے آزاد فرما دیتے۔ یہ سلسلہ آپ کی پوری زندگی میں جاری رہا حتی کہ آپ کی وفات کے وقت آپ کے پاس کوئی غلام نہ تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم کے برادر نسبتی عمرو بن حارث جو ام المومنین جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہما کے بھائی ہیں، کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے اپنی وفات کے وقت درہم، دینار، غلام، لونڈی اور کوئی چیز نہ چھوڑی تھی۔ ہاں ایک سفید خچر، کچھ اسلحہ (تلواریں وغیرہ) اور کچھ زمین چھوڑی تھی جسے آپ صدقہ کر گئے تھے۔(بخاری، کتاب الوصايا، حديث 2739)
آپ نے حکومتی سطح پر بھی بہت سے غلاموں کو خرید کر آزاد کرانے کی روایت ڈالی ، بعض مکاتبوں کو اپنی رقم کی ادائیگی کے لئے ان کی مدد کی گئی، اس کی ایک مثال سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ہیں۔ بعد میں خلفاء راشدین کے دور میں بھی بیت المال سے غلاموں کو خرید خرید کر آزاد کیا جاتا تھا۔ اگر کسی کا کوئی وارث نہ ہوتا تو اس کی چھوڑی ہوئی جائیداد کو بیچ کر اس سے بھی غلام آزاد کئے جاتے۔
طارق بن مرقع نے ایک غلام کو اللہ کی رضا کے لئے آزاد کیا۔ وہ فوت ہو گیا اور اس نے کچھ مال ترکے میں چھوڑا۔ یہ مال اس کے سابقہ مالک طارق کے پاس پیش کیا گیا۔ وہ کہنے لگے، “میں نے تو اسے محض اللہ کی رضا کے لئے آزاد کیا تھا، میں اس میں سے کچھ نہ لوں گا۔” یہ بات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو لکھ کر بھیجی گئی کہ طارق مال لینے سے انکار کر رہے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا، “اگر وہ قبول کر لیں تو ٹھیک ہے ورنہ اس سے غلام خرید کر آزاد کرو۔” راوی کہتے ہیں کہ اس مال سے پندرہ غلام آزاد کئے گئے۔
(مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب المیراث، حدیث 32086)
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے فرمایا، “مکاتب کے مال میں کوئی زکوٰۃ نہیں ہے جب تک وہ مکمل آزاد نہ ہو جائے۔
”(دارقطنى، سنن، كتاب الزكوة)
سیدنا ابوہرہرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم کے پاس آیا اور کہنے لگا، “میں ہلاک ہو گیا۔ میں نے روزے کی حالت میں اپنی بیوی سے ازدواجی تعلقات قائم کر لئے ہیں۔” آپ نے فرمایا، “غلام آزاد کرو۔” وہ کہنے لگا، “میرے پاس کوئی غلام نہیں ہے۔” آپ نے فرمایا، “دو مہینے کے لگاتار روزے رکھو۔” وہ کہنے لگا، “مجھ میں اتنی طاقت نہیں ہے۔” آپ نے فرمایا، “پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔” وہ بولا، “میرے پاس یہ بھی تو نہیں ہے۔”
اسی اثنا میں آپ کے پاس کھجوروں کو ایک ٹوکرا لا یا گیا۔ آپ نے فرمایا، “وہ سائل کہاں ہے ؟” اسے ٹوکرا دے کر ارشاد فرمایا، “اسی کو صدقہ کر دو۔” وہ بولا، “مجھ سے زیادہ اور کون غریب ہو گا۔ اللہ کی قسم اس شہر کے دونوں کناروں کے درمیان میرے خاندان سے زیادہ غریب تو کوئی ہے نہیں۔” یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم ہنس پڑے اور آپ کے دانت ظاہر ہو گئے۔ آپ نے فرمایا، “چلو تم ہی اسے لے جاؤ۔”
(بخاری، کتاب الادب، حديث 6087) (سورس)

حصہ سوم

اس سلسلے میں اسلام نے جو طریق اختیار کیا اسے ایک فہرست میں آپ احباب کے سامنے پھر رکھے دیتا ہوں ملاحظہ کرلیں۔
۱۱۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہ کو غلاموں کے ساتھ عمدہ برتاؤ کرنے کی تربیت دی۔ انہیں یہ حکم دیا کہ جو تم خود کھاؤ وہی انہیں کھلاؤ، جو خود پہنو، وہی انہیں پہناؤ اور ان کے کام میں ان کی مدد کرو ۔ غلاموں کو اپنا بھائی سمجھو، ان کا خیال رکھو اور ان پر ظلم نہ کرو۔ اسی تربیت کا نتیجہ یہ نکلا کہ صحابہ اپنے غلاموں سے اچھا برتاؤ کرنے لگے ۔ احادیث میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں ۔ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ اور ان کے غلام کو دیکھ کر یہ پہچاننا مشکل تھا کہ آقا کون ہے اور غلام کون ہے ۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا اپنے غلاموں سے بیٹوں کا سا سلوک کرتیں ۔
۲۲۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہ کو حکم دیا کہ اپنے غلاموں اور لونڈیوں کو اعلیٰ اخلاقی تربیت دیں اور انہیں آزاد کر دیں ۔ لونڈیوں کو آزاد کرنے کے بعد ان سے شادی کرنے کو ایسا کام قراردیا جس پر اللہ تعالیٰ کے حضور دوہرے اجر کی نوید ہے ۔ بعد کے دور میں ہمیں ایسے بہت سے غلاموں یا آزاد کردہ غلاموں کا ذکر ملتا ہے جو علمی اعتبار سے جلیل القدر علما صحابہ کے ہم پلہ تھے ۔ ایک مثال سیدنا سالم رضی اللہ عنہ تھے جن کا شمار ابی بن کعب، عبد اللہ بن مسعود اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہم جیسے جلیل القدر صحابہ میں ہوتا ہے ۔
۳۳۔ مثال قائم کرنے کے لیے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے تمام غلام آزاد کیے یہاں تک کہ اپنی وفات کے وقت آپ کے پاس کوئی غلام نہ تھا۔ آپ کے جلیل القدر صحابہ کا بھی یہی عمل تھا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی دولت سے ایسے غلام خرید کر آزاد کیے جن پر ان کے مالک اسلام لانے کے باعث ظلم کرتے تھے ۔ صحابہ کی تاریخ میں ایسے بہت سے غلاموں کا ذکر ملتا ہے جو آزاد کیے گئے تھے ۔ ان کے حالات پر کئی کتابیں بھی لکھی گئیں جو کتب الموالی کہلاتی ہیں ۔
۴۴۔ دور جاہلیت میں آزاد کردہ غلاموں کو بھی کوئی معاشرتی مقام حاصل نہ تھا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں ان کے سابقہ مالکوں کا ہم پلہ قرار دیا۔
۵۵۔ ایسے غلام جو آزادی کے طالب تھے ، ان کی آزادی کے لیے قرآن نے “مکاتبت” کا دروازہ کھولا۔ اس کے مطابق جو غلام آزادی کا طالب تھا، وہ اپنے مالک کو اپنی مارکیٹ ویلیو کے مطابق قسطوں میں رقم ادا کر کے آزاد ہو سکتا تھا۔ صحابہ کرام ایسے غلاموں کی مالی مدد کرتے جو مکاتبت کے ذریعے آزاد ہونا چاہتے تھے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک لونڈی بریرہ رضی اللہ عنہا کے مالک کو رقم ادا کر کے انہیں آزاد کروایا تھا۔ قرآن نے حکومتی خزانے میں سے ایسے غلاموں کی مالی امداد کا حکم دیا ہے ۔
۶۶۔ جنگی قیدیوں کو غلام بنایا جاتا تھا۔ قرآن نے جنگی قیدیوں کے بارے میں یہ حکم دیا کہ یا تو انہیں بلامعاوضہ آزاد کر دیا جائے یا پھر ان سے جنگی تاوان وصول کر کے آزاد کیا جائے۔ اس طرح نئے غلام اور کنیزیں بننے کا سلسلہ رک گیا۔
(ریحان احمد یوسفی)
اب خود اندازہ کرلیں کہ یہ غلامی کا جوا انسان کے گلے سے اتار پھینکے کے لئے کس درجے میں انتظامات کئے گئے۔ اب بڑھتے ہیں لونڈیوں کی طرف۔۔
يَا اَيُّھَا النَّبِيُّ اِنَّا اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ اللَّاتِي آتَيْتَ اُجُورَھُنَّ وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ مِمَّا اَفَاءَ اللَّہُ عَلَيْكَ وَبَنَاتِ عَمِّكَ وَبَنَاتِ عَمَّاتِكَ وَبَنَاتِ خَالِكَ وَبَنَاتِ خَالَاتِكَ اللَّاتِي ھَاجَرْنَ مَعَكَ وَامْرَاَۃً مُّؤْمِنَۃً اِن وَھَبَتْ نَفْسَھَا لِلنَّبِيِّ اِنْ اَرَادَ النَّبِيُّ اَن يَسْتَنكِحَھَا خَالِصَۃً لَّكَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَيْھِمْ فِي اَزْوَاجِھِمْ وَمَا مَلَكَتْ اَيْمَانُھُمْ لِكَيْلَا يَكُونَ عَلَيْكَ حَرَجٌ وَكَانَ اللَّہُ غَفُورًا رَّحِيمًا۔ (الاحزاب 50 )
اے نبی! بیشک ہم نے آپ کے لئے آپ کی وہ بیویاں حلال فرما دی ہیں جن کا مہَر آپ نے ادا فرما دیا ہے اور ان عورتوں کو جو (احکامِ الٰہی کے مطابق) آپ کی مملوک ہیں، جو اللہ نے آپ کو مالِ غنیمت میں عطا فرمائی ہیں، اور آپ کے چچا کی بیٹیاں، اور آپ کی پھوپھیوں کی بیٹیاں، اور آپ کے ماموں کی بیٹیاں، اور آپ کی خالاؤں کی بیٹیاں، جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہے اور کوئی بھی مؤمنہ عورت بشرطیکہ وہ اپنے آپ کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نکاح) کے لئے دے دے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی) اسے اپنے نکاح میں لینے کا ارادہ فرمائیں (تو یہ سب آپ کے لئے حلال ہیں)، (یہ حکم) صرف آپ کے لئے خاص ہے (امّت کے) مومنوں کے لئے نہیں، واقعی ہمیں معلوم ہے جو کچھ ہم نے اُن (مسلمانوں) پر اُن کی بیویوں اور ان کی مملوکہ باندیوں کے بارے میں فرض کیا ہے، (مگر آپ کے حق میں تعدّدِ ازواج کی حِلّت کا خصوصی حکم اِس لئے ہے) تاکہ آپ پر (امتّ میں تعلیم و تربیتِ نسواں کے وسیع انتظام میں) کوئی تنگی نہ رہے، اور اللہ بڑا بخشنے والا بڑا رحم فرمانے والا ہے۔
اس آیت میں ماملکت یمینک سے مراد وہ لونڈیاں ہیں اور لونڈیوں کی تعریف مما افاء اللہ علیک (جو اللہ تعالیٰ نے تم کو لڑائ میں بطور غنیمت دلوائی ہوں) سے کی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ بدر سے پہلے اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئ فَے عطا نہیں کیا تھا۔ لہٰذا بدر کے بعد لڑائیوں میں جو عورتیں مسلمانوں کے پاس قید ہوکر آئیں انہی کو لونڈیاں بنا کر رکھنا قرآن مجید نے جائز قراردیا تھا۔ پھر ارشاد ہوتا ہے:
لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِن بَعْدُ وَلَا اَن تَبَدَّلَ بِھِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ وَلَوْ اَعْجَبَكَ حُسْنُھُنَّ اِلَّا مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ وَكَانَ اللَّہُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ رَّقِيبًا۔ (الاحزاب 52 )
اس کے بعد (کہ انہوں نے دنیوی منفعتوں پر آپ کی رضا و خدمت کو ترجیح دے دی ہے) آپ کے لئے بھی اور عورتیں (نکاح میں لینا) حلال نہیں (تاکہ یہی اَزواج اپنے شرف میں ممتاز رہیں) اور یہ بھی جائز نہیں کہ (بعض کی طلاق کی صورت میں اس عدد کو ہمارا حکم سمجھ کر برقرار رکھنے کے لئے) آپ ان کے بدلے دیگر اَزواج (عقد میں) لے لیں اگرچہ آپ کو ان کا حُسنِ (سیرت و اخلاق اور اشاعتِ دین کا سلیقہ) کتنا ہی عمدہ لگے مگر جو کنیز (ہمارے حکم سے) آپ کی مِلک میں ہو (جائز ہے)، اور اللہ ہر چیز پر نگہبان ہے۔
یہ آیت اس وقت نازل ہوئ جب ازواج مطہرات کی تعداد گیارہ تک پہنچ چکی تھی۔ حضور کا آخری نکاح ٧ھ کے خاتمہ پر حضرت میمونہ سے ہوا ہے۔ لہٰذا اس آیت کے نزول کا زمانہ ٨ھ سمجھنا چاہیے۔ یہاں پھر لونڈیوں کو حلال کرنے کا حکم موجود ہے۔
٨٨ھ کے اواخر میں غزوۂ اوطاس ہوا۔ بہت سی عورتیں پکڑی ہوئ آئیں۔ ان میں جو شادی شدہ عورتیں تھیں ان کے معاملے میں مسلمان متردد ہوئے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئ:
وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ اِلاَّ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ كِتَابَ اللّہِ عَلَيْكُمْ وَاُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاءَ ذَلِكُمْ اَن تَبْتَغُواْ بِاَمْوَالِكُم مُّحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِہِ مِنْھُنَّ فَآتُوھُنَّ اُجُورَھُنَّ فَرِيضَۃً وَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا تَرَاضَيْتُم بِہِ مِن بَعْدِ الْفَرِيضَۃِ اِنَّ اللّہَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا۔ (النساء 24 )
(اور شوہر والی عورتیں (بھی تم پرحرام ہیں) سوائے ان (کافروں کی قیدی عورتوں) کے جو تمہاری مِلک میں آجائیں، (ان احکامِ حرمت کو) اللہ نے تم پر فرض کر دیا ہے، اور ان کے سوا (سب عورتیں) تمہارے لئے حلال کر دی گئی ہیں تاکہ تم اپنے اموال کے ذریعے طلبِ نکاح کرو پاک دامن رہتے ہوئے نہ کہ شہوت رانی کرتے ہوئے، پھر ان میں سے جن سے تم نے اس (مال) کے عوض فائدہ اٹھایا ہے انہیں ان کا مقرر شدہ مَہر ادا کر دو، اور تم پر اس مال کے بارے میں کوئی گناہ نہیں جس پر تم مَہر مقرر کرنے کے بعد باہم رضا مند ہو جاؤ، بیشک اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے)
اور یہ لونڈیاں بھی اسی حکمت کے تحت بنانے کی اجازت دی گئی جو پچھلی قسطوں میں تفصیل سے زیر بحث ہے لیکن اس پہ بھی نبیﷺ کا عمل اور قران بلکل صیح جگہ پہ موجود ہیں۔
فَإِذا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إِذَا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ذَلِكَ
محمد، 47 : 4
’’پھر جب (میدان جنگ میں) تمہارا مقابلہ (متحارب) کافروں سے ہو تو (دورانِ جنگ) ان کی گردنیں اڑا دو، یہاں تک کہ جب تم انہیں (جنگی معرکہ میں) خوب قتل کر چکو تو (بقیہ قیدیوں کو) مضبوطی سے باندھ لو، پھر اس کے بعد یا تو (انہیں) (بلامعاوضہ) احسان کر کے (چھوڑ دو) یا فدیہ (یعنی معاوضہِ رہائی) لے کر (آزاد کر دو) یہاں تک کہ جنگ (کرنے والی مخالف فوج) اپنے ہتھیار رکھ دے (یعنی صلح و امن کا اعلان کر دے)۔‘‘
امام ابو عبید القاسم بن سلام (م 224ھ) فرماتے ہیں :
جاء نا الخبر عن رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم فی حکم الاساری من المشرکين بثلاث سنن. المن والفداء والقتل وبها نزل الکتاب قال جل ثنائه (فاما مناً بعد وأما فداء حتی تضع الحرب أوزارها، وقال (فاقتلوا المشرکين حيث وجدتموهم) ولکل قد عمل النبی صلی الله عليه وآله وسلم
’’ہمارے پاس مشرک جنگی قیدی کے بارے میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تین طریقے آئے ہیں : المن (احسان کر کے ان کو چھوڑ دینا) الفداء (فدیہ لے کر چھوڑ دینا) القتل (قتل کر دینا) اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ضرورت و حکمت کے تحت ان میں سے ہر ایک پر عمل فرمایا ہے۔‘‘
احسان رکھ کہ چھوڑ دینا:
11۔ المن یعنی احسان کی ایک مثال اہل مکہ سے آپ کا برتاؤ ہے کہ چند کے علاوہ سب کو معاف فرما دیا۔ کسی کو نہ غلام لونڈی بنایا، نہ کوئی دوسری سزا دی، پھر اعلان فرما دیا کہ کسی زخمی پر حملہ نہ کیا جائے، بھاگنے والے کا پیچھا نہ کیا جائے، کسی قیدی کو قتل نہ کیا جائے اور جو دروازہ بند کر لے اس کے لئے بھی امان ہے۔
22۔ دوسری مثال اہل خیبر کی ہے جسے آپ نے بزور شمشیر فتح فرمایا۔ زمین آپ نے تقسیم فرما دی اور یہودی مردوں پر احسان فرمایا۔ ان کو زمین پر کام کرنے کا اجازت دے دی کہ پیداوار آدھی ہماری آدھی تمہاری، جب تک اﷲ نے چاہا تمہیں یہاں رہنے دیا جائے گا پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آئے روز فتنہ انگیزی کے سبب ان کو خیبر سے جلاوطن کر کے ملک شام بھیج دیا۔
33۔ جنگ قریظہ کے موقع پر عمر بن سعد اور زبیر بن باطا کو معاف فرما دیا حالانکہ حکم قتل میں یہ بھی شامل تھے۔
44۔ جبیر بن معطم فرماتے ہیں میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بدری قیدیوں کے بارے میں بات کرنے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تیرا والد معظم بن عدی اگر میرے پاس آ کر سفارش کرتا تو میں ان کو آزاد کر دیتا۔ علامہ ابو عبید فرماتے ہیں یہ ہے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا احسان فرمانے کا طریقہ جسے بعد کے ائمہ نے اپنایا۔
55. ان رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم رد ستة الاف من سبی هوازن من النساء والصبيان والرجال الی هوازن حين اسلموا.
رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہوازن کے چھ ہزار قیدی آزاد فرما دیئے جن میں عورتیں، بچے اور مرد سبھی شامل تھے، جب وہ مسلمان ہو گئے۔
ابو عبيد، کتاب الاموال : 117
صحيح بخاری، 1 : 242
6۔ غزوہ بنی المصطلق 66 ھ میں ہوا۔ فتح کے نتیجہ میں کچھ جنگی قیدی مسلمانوں کے ہاتھ لگے ان میں سیدہ جویریہ بنت الحارث بن ابی ضرار سردار قبیلہ کی صاحبزادی بھی تھیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے نکاح کر کے ان کے حق مہر کے طور پر ان کو اور ان کی قوم کے تمام جنگی قیدیوں کو رہا فرمایا، یہ سو گھرانوں کے قیدی تھے۔
ابن کثير، البديه والنهايه، 4 : 161
کتاب الاموال : 120
اسی طرح احسان کر کے جنگی کافروں کو چھوڑ دینے کی سینکڑوں مثالیں عہد نبوی و عہد خلافتِ راشدہ میں ہمارے سامنے ہیں۔ (سورس)

حصہ چہارم

باقی جتنی بھی احادیث اور تاریخی واقعات ملحد حضرات نقل کرتے ہیں وہ اخبار آحاد ہیں۔ اتنی قطعی اور صریح آیات اور نبیﷺ کے عمل کے باوجود انہوں نے چند موقوف اور چند دوسری روایات کو اٹھا کہ حق کو چھپانے کی ناکام کوشش کرتے ہے۔
چناچہ خبر واحد کے متعلق جب امر قطعی موجود ہو کیا رویہ اختیار کیا جاتا ہے اسے ملاحظہ کرلیں۔
خطیب بغدادی نے ’’الکفایہ‘‘ میں بیان کیا ہے کہ دین کے وہ امور جن کا علم قطعی ذرائع سے حاصل ہوا ہے، ان کے بارے میں خبر واحد کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر کسی خبر کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قطعی نہیں ہے تو اسے کسی ایسی بات پر جس کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قطعی ہے، فائق قرار نہیں دیا جا سکتا۔ لکھتے ہیں:
خبر الواحد لا یقبل فی شئ من ابواب الدین الماخوذ علی المکلفین العلم بہا والقطع علیہا والعلۃ فی ذلک انہ اذا لم یعلم ان الخبر قول رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کان ابعد من العلم بمضمونہ فاما ما عدا ذلک من الاحکام التی لم یوجب علینا العلم بان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قررہا واخبر عن اللّٰہ عزوجل بہا فان خبر الواحد فیہا مقبول والعمل بہ واجب ویکون ما ورد فیہ شرعًا لسائر المکلفین ان یعمل بہ وذلک نحو ما ورد فی الحدود والکفارات وہلال رمضان وشوال واحکام الطلاق والعتاق والحج والزکاۃ والمواریث والبیاعات والطہارۃ والصلاۃ وتحریم المحظورات.( ۱ / ۴۳۲)
’’مکلفین پر قطعیت اور علم سے حاصل شدہ دین کے کسی مسئلہ میں خبر واحد کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ اس کی علت یہ ہے کہ جب پتا نہ چلے کہ وہ خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے تو وہ اپنے مضمون کی وجہ سے بعید از قیاس ہوگی، سوائے ان احکام کے جن کا جاننا واجب نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی توثیق فرما دی اور ان کے بارے میں اللہ عزوجل سے خبر لائے تو ان میں خبر واحد مقبول ہوگی اور اس پر عمل کرنا واجب ہے اور اس میں جو کچھ بھی بطور شرع وارد ہو، تمام مکلفین کے لیے اس پر عمل کرناواجب ہے۔ یہ اسی طرح ہے، جس طرح حدود، کفارات، رمضان و شوال کے چاند دیکھنے، طلاق، غلام آزاد کرنے، حج، زکوٰۃ، وراثت، بیوع، طہارت، نماز اور ممنوعہ چیزوں کے حرام کرنے کے احکام میں وارد ہوا ہے۔‘‘
میرے لئے فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ یہ کام مصووف معصومیت میں کر رہے ہیں یا وہ دین کے مبادی اور استباط اور استخراج سے ناواقف ہیں؟
’’احکام القرآن‘‘ اور فقہ حنفی کے جلیل القدر عالم ابو بکر جصاص نے قراء ت خلف الامام کی صحیح روایات کے باوجود اسے اس لیے قبول نہیں کیا کہ اس حکم کے بارے میں صحابہ کا اجماع نہیں ہے۔ اس سے واضح ہے کہ ان کے نزدیک اجماع سے ملنے والے حکم کو خبر واحد سے ملنے والے علم پر فوقیت حاصل ہے:
…ومما یدل علی ذلک ما روی عن جلۃ الصحابۃ من النہی عن القراء ۃ خلف الامام واظہار النکیر علی فاعلہ ولو کان ذلک شائعًا لما خفی امرہ علی الصحابۃ لعموم الحاجۃ الیہ ولکان من الشارع توقیف للجماعۃ علیہ ولعرفوہ کما عرفوا القراء ۃ فی الصلاۃ اذا کانت الحاجۃ الی معرفۃ القراء ۃ خلف الامام کہی الی القراء ۃ فی الصلاۃ للمنفرد او الامام فلما روی عن جلۃ الصحابۃ انکار القراء ۃ خلف الامام ثبت انہا غیر جائزۃ فممن نہی عن القراء ۃ خلف الامام علی وابن مسعود وسعد وجابر وابن عباس وابو الدرداء وابو سعید وابن عمر وزید بن ثابت وانس… ان ما کان ہذا سبیلہ من الفروض التی عمت الحاجۃ الیہ فان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم لا یخلیھم من توقیف لہم علی ایجابہ فلما وجدناہم قائلین بالنھی علمنا انہ لم یکن منہ توقیف للکافۃ علیہ فثبت انہا غیر واجبۃ ولا یصیر قول من قال منہم بایجابہ قادحًا فی ما ذکرنا من قبل ان اکثر ما فیہ لم یکن من النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم توقیف علیہ للکافۃ فذہب منہم ذاہبون الی ایجاب قراء تہا بتاویل او قیاس ومثل ذالک الکافۃ ونقل الامۃ.(جصاص، احکام القرآن ۳ / ۴۲۔۴۳)
’’…یہ بات اس روایت پر دلالت کرتی ہے جو امام کے پیچھے قراء ت کرنے کی نہی اور قراء ت کرنے والے کے رد کے بارے میں آئی ہے۔ اگریہ حکم عام ہوتا تو عمومی حاجت کی وجہ سے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے آپ کا حکم مخفی نہ رہتا اور شارع علیہ السلام کی طرف سے اجتماعی حکم ہوتا اور صحابۂ کرام اس کو اسی طرح جانتے، جس طرح نماز میں قراء ت کو جانتے تھے، کیونکہ جس طرح اکیلے نماز پڑھنے والے کے لیے اور امام کے لیے نماز میں قراء ت کی معرفت ضروری ہے، اسی طرح امام کے پیچھے بھی قراء ت کی معرفت ضروری ہوتی۔ جب اکابر صحابۂ کرام سے امام کے پیچھے قراء ت کرنے کا انکار مروی ہے تو ثابت ہو گیا کہ یہ ناجائز ہے۔ جن حضرات نے قراء ت خلف الامام سے منع کیا ہے، ان میں سے حضرت علی، حضرت ابن مسعود، حضرت سعد، حضرت جابر، حضرت ابن عباس، حضرت ابوالدرداء، حضرت ابو سعید، حضرت ابن عمر، حضرت زید بن ثابت اور حضرت انس رضی اللہ عنہم شامل ہیں… اگر یہ ان فرائض میں سے ہوتی جن کی حاجت عموماً پڑتی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کو ان کے لیے واجب قرار دیتے۔ جب ہمیں معلوم ہو گیا کہ صحابۂ کرام نے اس سے منع کیا ہے تو یہ طریقہ توقیف بھی معلوم ہوگیا کہ آپ کی طرف سے تمام لوگوں کے لیے حکم نہیں تھا اور ثابت ہو گیا کہ یہ (قراء ت خلف الامام) واجب نہیں ہے۔ اس سے پہلے جو ہم نے ذکر کیا کہ اس مسئلے میں اکثر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے تمام لوگوں کے لیے حکم نہیں ہے، اس بارے میں اس کو واجب قرار دینے والے کا قول باعث طعن نہیں ہے۔ بعض اس کی قراء ت کو تاویل یا قیاس کے ذریعے سے واجب قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ اس طرح کے حکم کے اثبات کے لیے ’کافہ‘ اور ’نقل امت کا طریق اختیار کیا جاتا ہے۔‘‘
بعض روایتوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صبح کے وقت قنوت پڑھنے کا ذکر ہے ۔ کیا ان روایتوں کی بنا پر اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معمول بہ عمل کے طور پر قبول کرنا چاہیے۔ اس مسئلے کے بارے میں ابن قیم نے بیان کیا ہے کہ اگر یہ عمل فی الواقع آپ کا معمول ہوتا اور آپ اسے امت میں جاری کرنا چاہتے تو آپ صحابہ کو اس کا امین بناتے۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ کوئی کام آپ نے جاری فرمایا ہو اور پھر امت نے اسے ختم کر دیا ہو:
ومن المعلوم بالضرورۃ ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لو کان یقنت کل غداۃ ویدعوا بھذا الدعاء ویومن الصحابۃ لکان نقل الامۃ لذلک کلہم کنقلہا لجھرہ بالقراء ۃ فیہا وعددہا ووقتہا.(زاد المعاد ۹۵۔ ۹۶)
’’یہ بات یقیناً معلوم ہے کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر صبح قنوت پڑھتے، اور دعا میں بھی اس کو دہراتے اور صحابۂ کرام کو اس کا امین بناتے تھے تو امت اسے اسی طرح نقل کرتی، جس طرح اس نے صبح کی نماز کی جہری قراء ت کو، اس کی رکعات کو اور اس کے وقت کو نقل کیا ہے۔‘‘
مجھے سمجھ نہی آ رہی کہ ملحد ان تمام احادیث کے بیان سے اخذ کیا کرنا چاہتے ہیں۔
انکے عنوانات اور اسمیں موجود بحث دین سے استنباط و استخراج کے فقہی اصولوں سے ناواقفی کا نتیجہ ہے۔ (سورس)