انوکھےاشعار ، جن کا صرف ایک مصرعہ ہی مشہور ہوا

انوکھےاشعار :

اردوشاعری کی تاریخ میں بہت سےایسےاشعارہیں کہ جن کاپہلا مصرعہ اتنا مشہور ہوا کہ ان کا دوسرا مصرعہ جاننے کی کبھی ضرورت محسوس ہی نہیں ہوئی۔ تو کیا یہ مصرعے ایسے ہی تخلیق ہوئے یا ان کا کوئی دوسرا مصرعہ بھی ہے.
جی جناب!! ان کا دوسرا مصرعہ بھی ہے۔ ایسے اشعار کا ایک مصرعہ تو مشہور ہو جاتاہے۔ مگر دوسرا وقت کی دھول میں کہیں کھو جاتا ہے۔ تو جناب لیجیے ۔میں نے یہاں ان اشعار کو لکھ دیا جن کا صرف ایک مصرعہ مشہور ہوا ۔ پڑھیے اور سر دھنیے.

ہم طالب شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام
بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا

خط ان کا بہت خوب’عبارت بہت اچھی
اللہ کر ےزورِقلم اور زیادہ

نزاکت بن نہیں سکتی حسینوں کے بنانے سے
خدا جب حسن دیتا ہے نزاکت آ ہی جاتی ہے

یہ راز تو کوئی راز نہیں ،سب اہلِ گلستان جانتے ہیں
ہر شاخ پہ اُلو بیٹھا ہے انجامِ گلستاں کیا ہوگا

داورِ محشر میرے نامہ اعمال نہ کھول
اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں

میں کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کےخوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

قیس جنگل میں اکیلا ہے مجھے جانے دو
خوب گزرے گی جب مل بیٹھیں گے دیوانے دو

غم و غصہ و رنج و اندوں و حرما ں
ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے

مریضِ عشق پہ رحمت خدا کی
مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی

آخرگِل اپنی صرفِ میکدہ ہوئی
پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا

بہت جی خوش ہواحالی سے مل کر
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں اِس جہاں میں

نہ جانا کہ دنیا سے جاتا ہے کوئی
بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے

نہ گورِسکندر نہ ہی قبرِ داراں
مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے

غیروں سے کہا تم نے، غیروں سے سنا تم نے
کچھ ہم سے کہا ہوتا کچھ ہم سے سنا ہوتا

جذبِ شوق سلامت ہے تو انشاءاللہ
کچھے دھاگے سے چلیں آئیں گے سرکار بندھے

قریب ہے یارو روزِمحشر، چھپے گا کشتوں کا خون کیونکر
جو چپ رہے گی زبانِ خنجر، لہو پکارے گا آستین کا

پھول تو دو دن بہارِجاں فزاں کھلا گئے
حسرت اُن غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے

کی میرے قتل کے بعد اُس نے جفا سے توبہ
ہائے اُس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

خوب پردہ ہے چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں ،سامنے آتے بھی نہیں

اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا
لڑتے بھی ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں

چل ساتھ کہ حسرت دلِ مرحوم سے نکلے
عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

انتخاب اسامہ خورشيد مفتاحى

چند مزید اشعار

کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا اس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی(پروین شاکر)

اس زلف پہ پھبتی شپ دیجور کی سوجی

اندھے کو اندھیرے میں بہت دور کی سوجی

اب اداس پھرتے ہو، سردیوں کی شاموں میں
‎اس طرح تو ہوتا ہے، اس طرح کے کاموں میں