آزمائش کے ضابطے از قاری حنیف ڈار

اللہ پاک نے قرآن حکیم میں بار بار اور صاف صاف بیان کیا ھے کہ انسان یہاں بے فکری کی زندگی گزارنے اور موج مستی کرنے نہیں بھیجا گیا ، بلکہ نہایت سنجیدہ اور اھم مشن پر بھیجا گیا ھے ،جہاں اسے قدم قدم پر بلاؤں اور مصائب کا سامنا اس شان کے ساتھ کرنا ھے کہ جب یہ آزمائشی زندگی کا ابتدائی دورانیہ ختم ھو اور انسان یہاں سے واپس بلایا جائے تو کامیاب و کامران ھو کر لوٹے اور خوشی خوشی اپنے رب سے ملاقات کرے ،، اللہ پاک سورہ العنکبوت میں یہ واضح کرنے کے بعد کہ ” کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ھے کہ انہیں صرف یہ کہہ دینے پر چھوڑ دیا جائے اور کہ ھم ایمان لائے اور ان کے ایمان کا امتحان نہیں لیا جائے گا ؟ ھم نے ان سے پہلوں کو بھی آزمایا ھے اور ھم لازم یہ آزما کر رھیں گے کہ کون اپنے دعوئِ ایمان میں سچا ھے اور کون جھوٹا ھے – گویا ھمیں یہیں جتا دیا جاتا ھے کہ اپنے آپ سے ملاقات کر لو ” یہ ھو تم ” حشر میں تو ھم نے تمہیں صرف لوگوں کو دکھانا ھے –

یقین کریں اس کی گرفت بھی ھمارے بھلے کے لئے ھوتی ھے ،، اس نے فرمایا تو ھے کہ کبھی تم نے سوچا ھے کہ تمہیں عذاب دے کر اللہ کا کیا بھلا ھو جائے گا ،؟ بھلا تمہیں عذاب دینے سے اس کا فائدہ کیا ھو گا ؟ مگر اس سوال کی اھمیت تم پر تب ھی واضح ھو گی اگر تم اللہ کی قدر کرنے والے ھو اور تمہیں اللہ پر اعتماد اور بھروسہ ھے ،،( النساء 137) تمہارا پہلا گلہ تو یہ ھوتا ھے کہ تم تو بڑے نیک اور معصوم ھو بس اللہ تمہاری قدر نہیں کرتا اور مصیبتوں پر مصیبتیں بھیجتا چلا جاتا ھے،، دوسرا الزام یہ ھوتا ھے کہ تم تو ایک سے بڑھ کر ایک نیکی کرتے ھو اور فلاں فلاں سے بڑھ کر نیک اور صالح ھو ،نیز اگر کوئی خطا ھو بھی جاتی ھے تو کم از کم فلاں جتنا تو گنہگار نہیں ھوں ،، یہ اللہ پر لا علمی کا الزام ھے جبکہ حقیقت یہ ھے کہ و کان اللہ شاکراً علیما ،، اللہ قدر دان بھی ھے اور ھر وقت ھر بات سے باخبر بھی ھے ،، تب ھی تو اگلا امتحان پہلے امتحان سے بڑھ کر آتا ھے ،، تم اگلی کلاس میں چلے جاتے ھو جوں جوں تمہارے درجات بلند ھوتے ھیں امتحان کا لیول بھی بلند ھوتا چلا جاتا ھے ،، اے لیول والے سے کے – جی ون ، کا امتحان تو نہیں لیا جا سکتا ناں ؟ ،، تم کہتے ھو درجات تو بڑھیں مگر امتحان کے – جی ون اور ٹو والا ھی لیا جائے ،کتنی کرپٹ سوچ ھے تمہاری –

تم دیکھتے نہیں کہ یوسف علیہ السلام پہ کیا کیا قیامتیں ھیں جو نہیں گزریں ،، ماں فوت ھو گئ سوتیلے بھائیوں نے دس سال کی عمر میں اٹھا کر کنوئیں میں پھینک دیا ،غلام بنا کر بیچے گئے ،، زلیخا سے عصمت بچائی تو زلیخا موج کرتی رھی اور وہ بے گناہ دس سال کے لئے جیل بھیج دیئے گئے ،، مگر انہوں نے کسی موقعے پر اللہ کا گلہ نہیں کیا ان دو قیدیوں سے اللہ کا تعارف کرایا تو کس شان سے کرایا ؟ کبھی ثواب کے علاوہ سواد کے لئے بھی قرآن پڑھ کر دیکھو ، یہ جس نیت سے پڑھا جائے وھی اثر کرتا ھے ، جسے ثواب چاھئے صرف ثواب ملتا ھے ، اور جسے ھدایت چاھیئے اور ھدایت ملتی ھے اور جسے گمراھی کی تلاش ھو وہ بھی جب یہاں سے نکلتا ھے تو ویسا نہیں رھتا جیسا اس میں گھسا تھا ،، اںڈا جب مرغی کے نیچے سے بغیر بچہ نکلے مسترد ھو جاتا ھے تو واللہ پھر آملیٹ بنانے کے قابل بھی نہیں رھتا ،جسے قرآن مسترد کر دے اسے پھر کہیں سے بھی شفا نہیں ملتی ، جہاں بھی جاتا ھے گمراھی ھی پاتا ھے ،، اللہ کے رسول نے فرمایا تھا جس نے ھدایت کو اس کے باھر ڈھونڈا اضلہ اللہ ،اللہ نے اسے کبھی راہ نہیں سوجھنے دی اور گمراہ ھونے دیا ،،،
جب چالیس سال بعد باپ ملا تو اپنے ابا سے اپنے اللہ کی اتنی تعریفیں کیں کہ پڑھو تو آنکھوں کے چشمے ابل پڑتے ھیں ،، فرمایا ابا جی یہ ھے اس خواب کی تعبیر جو میں نے پہلے دیکھا تھا ، اسے میرے رب نے ھی ممکن بنایا ھے ، اور ابا جی مجھے میرے اللہ نے جیل سے بھی نکالا ،میرے لئے کچھ کام تھا جیل میں ،، جیل میں لوگ مجرم بن کر جاتے ھیں مگر میرے اللہ نے مجھے وھاں معصوم داخل کیا، بغیر کسی گناہ کے پھر جب میں نے وھاں اپنا کام کر لیا تو مجھے سیدھا بادشاہ کے دربار میں لے گیا ،، اور آپ کو میرے بھائیوں سمیت مجھ سے آ ملایا حالانکہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں میں اختلاف ڈال دیا تھا ،، بس اتنی باتیں کرنی تھیں کہ اللہ کا ان پر اور یوسف کا اللہ پر پیار اس طرح امڈ امڈ کر آیا کہ گویا اللہ نے بھی اپنا دربار وھیں منتقل کر لیا یا یوسف کو دربار سمیت اپنے حضور حاضر کر لیا کہ یوسف علیہ السلام بےساختہ صیغہ غائب سے صیغہ متکلم پر منتقل ھو گئے گویا کہ اللہ سے مخاطب ھو گئے ،رب قد آتیتنی من الملک ، و علمتنی من تاویل الاحادیث فاطر السموات واارضِ انت ولیی فی الدنیا والآخرہ ،توفنی مسلما و الحقنی بالصالحین ،،،،،،میرے پالنے والے تُو نے مجھے بادشاھی عطا کر دی ، مجھے باتیں سمجھنے کی حکمت عطا فرما دی ،خوابوں کی تعبیر سکھا دی زمین و آسمان کا نقشہ سوچنے والے پھر اس نقشے کو قائم کر دکھانے والے عظیم مولا تو ھی میرا سرپرست ھے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی مجھے اسی تابعداری میں موت دے اور مجھے صالحین کے ساتھ ملا دے ،، اس دعا میں پیار اور اعتماد کو ٹیمپو دیکھا ھے ؟ کوئی گلہ شکوہ ،بد اعتمادی نظر آئی ھے ؟ وہ تو پیغمبر تھے ذرا عام آدمی کی مثال بھی سن لیجئے ،،،
حضرت عروہ ابن زبیرؓ جب ولید بن عبدالملک کو ملنے عراق تشریف لائے تو رستے میں آپ کے پاؤں پہ پھوڑا نکلا جو آگے چل کر بگڑ گیا اور خلیفہ ولید بن عبدالملک کے حکیموں نے اس کو کاٹنے کا فیصلہ کیا ، حکیموں نے انہیں شراب پینے کا مشوری دیا تا کہ نشے کی حالت میں ان کو تکلیف کا احساس نہ ھو مگر آپ نے فرمایا کہ میں اس حالت میں بھی اس حرام شئے کو منہ نہیں لگانا چاھتا ،، آپ نے اللہ کا ذکر شروع کیا اور حکیموں سے اپنا کام کرنے کو کہا ،، پاؤں آری کے ساتھ کاٹا جا رھا تھا ، اذیت سے پسینہ آپ کے ماتھے سے ابل ابل کر نکل رھا تھا ،، مگر آپ مسسلسل ذکر میں مشغول رھے خلیفہ ولید جو بچپن سے ان کا دوست تھا پاس بیٹھا پسینہ صاف کرتا جا رھا تھا ،، آپ نے پتہ تک نہ چلنے دیا اور پاؤں کٹ کر الگ ھو گیا ،، مگر جب خون بہتی ٹانگ کو کھولتے تیل میں ڈبویا گیا تا کہ بہتے خون کو روکا جائے تو آپ اذیت سے بیہوش ھو گئے ،، ھوش میں آنے پر آپ نے اپنا پاؤں ھاتھ میں اٹھایا اور کہا کہ بخدا تو نے ھمارا خوب ساتھ دیا اور ھمیں ساری ساری رات اللہ کے حضور کھڑا رکھا ، مجھے امید ھے کہ میری وجہ سے تو آگ میں نہیں ڈالا جائے گا ،، اس کے بعد اس کو پلٹتے ھوئے فرمایا کہ اے اللہ تو بندے کا کتنا خیال رکھتا ھے ،، تو نے مجھے چار ھاتھ پاؤں عطا فرمائے ، پھر ایک کو لیا اور تین کو میرے لئے چھوڑ دیا –

اس امتحان سے فارغ نہیں ھوئے تھے کہ اگلا شروع ھو گیا ،، آپ کا بیٹا دیوار پہ چڑھا خلیفہ کے اسطبل کا نظارہ کر رھا تھا کہ اوپر سے سیدھا گھوڑوں میں جا گرا ،،اور گھوڑوں نے اسے روند کر رکھ دیا ،، آپ کو اطلاع دی گئ اور بچے کی نعش کو لا کر ان کے ساتھ رکھ دیا گیا ،، عروہ ابن زبیرؓ نے بچے کے ماتھے سے خون کو صاف کیا اور اس کے بالوں میں ھاتھ پھیرتے ھوئے اپنے رب کو مخاطب کیا ، فرمایا کہ میرے مولا تو ھم بندوں سے کتنا پیار کرتا ھے ،، تو نے مجھے ساتھ بیٹے دیئے ، پھر ان میں سے ایک لیا اور چھ میرے لئے چھوڑ دیئے ۔ تیری کریمی کا کوئی ٹھکانہ نہیں ،،،، یہ ھے ایمان اور یہ ھے اللہ سے محبت ،، اور ایسے ھوتے ھیں اللہ سے محبت کرنے والے ،، امتحان اس شان سے پاس کرنا کہ خود ممتحن پھڑک اٹھے ،، وہ خود کہہ اٹھے کہ ” ان ھذالھوا البلآء المبین "

بندہ کسی بندے کا کیا دیتا ھے ،،، 
بندے تو بہانہ ہیں، خدا دیتا ھے ،،،،
وہ جو مشکل میں بھی ڈالے تو کروں شکر ادا،،
کوئی اپنا سمجھ کر ھی تو سزا دیتا ھے ،،،،،،،،،
آپ اگر دیکھیں کہ بہت سارے بچے باھر کیچڑ میں کھیل رھے ھیں اور ان میں آپ کا بیٹا بھی ھے ،،،
آپ کس کو ڈانٹیں گے ؟ کس کو سزا دیں گے ؟ اپنے بیٹے کو ،، ؟
کیوں ؟ اس لئے کہ وہ آپ کا اپنا ھے ، اس کے گندہ ھونے پر آپ کو تکلیف ھوئی ھے ،، اسے اس گندگی میں بگڑی شکل میں دیکھ کر آپ کو اچھا نہیں لگا ،،، اب اس بچے کو اگر یہ گلہ ھو کہ میرا ابا دوسرے بچوں سے تو پیار کرتا ھے ان کو کچھ نہیں کہا جبکہ مجھ سے دشمنی کرتا ھے ،میری خوشی پہ جلتا ھے اور مجھے سزا دیتا ھے ،،،،،،،،،،
کیا اس بچے کا گلہ سچ ھے ؟
یہ سزا پیار کا مظھر ھے یا دشمنی کا ؟ اور دوسرے بچوں کے گندہ ھونے کی پرواہ نہ کرنا پیار کی نشانی ھے یا ان کی گندگی سے بے نیازی کی نشانی ھے ؟

سورس

Dr. Muhammad Hamidullah
Visit Website of Dr. Muhammad Hamidullah
Leave A Reply

Your email address will not be published.