“اگر زینب زندہ ہوتی” تحریر اور جوابات

“اگر زینب زندہ ہوتی”

تحریر محمد حسن الیاس

ہم تھوڑی دیر کے لیے تصور کر لیتے ہیں کہ زینب زندہ ہے ۔
وہ کوڑےدان کے پاس بے ہوش پڑی ملی تھی ۔اسے بروقت ہسپتال پہنچا دیا گیا ،اور یوں اس کی جان بچ گئی۔چند ہفتوں بعد جب وہ چلنے کے قابل ہوئی تو عدالت نے اسے طلب کرلیا گیا اور اس سے اس دعوی کے متعلق پوچھا گیا جو اس کی بے ہوشی کے دوران کیا گیا تھا۔زیر نظر کاروائی شریعی عدالت کی ہے جو فقہ اسلامی کی روشنی میں انصاف فراہم کرتی ہے ۔

قاضی :تمھارے والد نے رپورٹ لکھوائی ہے، کہ تمھارے ساتھ زنا کیا گیا ہے۔
زینب:جی، مجھے زبردستی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

قاضی:کیا عمر ہے تمھاری؟ 
زینب:سات سال

قاضی:وکیل صاحب، آپ کو معلوم ہے بچے کا دعوی شریعت اسلامی میں معتبر نہیں۔وہ عاقل و بالغ نہیں، کیا آپ اس کے اس دعوے کا کوئی ثبوت پیش کرسکتے ہیں. (التشریع الجنائی 397:2)

وکیل:جی ہسپتال کی میڈیکل رپورٹ یہ ہے۔اس پر دو “عاقل ،بالغ، مرد ڈاکٹروں” نے سائن کر کے لکھا ہے کہ بچی کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔

قاضی:کس شخص نے تمھارے ساتھ زنا کیا ہے؟

پولیس:جی ہم نے cctv کی مدد سے اس درندے کو گرفتار کر لیا ہے۔اور اس نے اقرار جرم بھی کر لیا ہے۔

قاضی:مجرم پیش ہو اور عدالت کے سامنے بتائے کیا وہ زنا کا اقرار کرتا ہے؟

مجرم:نہیں، میں اقرار نہیں کرتا.

پولیس افسر:کیمرے سے اس کے کپڑوں ،بالوں، قد سب کی شناخت ہوگئی ہے۔دیکھیں ویڈیو. میں نظر آرہا ہے یہی ہے جو ہاتھ پکڑ کر لے جا رہا ہے۔

قاضی:حدود کے کیس میں گواہی کا معیار متعین ہے، لگتا ہے وکیل صاحب آپ شریعت اسلامی اور فقہ اسلامی سے واقف نہیں ہیں۔
زنا کے معاملے میں ضروری ہے کہ عینی گواہوں کہ تعداد چار ہو۔اور یاد رہے گواہ مسلمان ہونا چاہیے۔کسی غیر مسلم اور مشرک کی گواہی معتبر نہیں۔(المغنی176/10)

وکیل:آپ جو فرما رہے ہیں ایسا ہی ہوگا، لیکن جی یہ زنا رضامندی کے ساتھ نہیں ہوا، یہ تو زنا بالجبر ہے ۔یعنی زبردستی زنا کیا گیا ہے۔اور یہ بچی کے ساتھ کیا گیا ہے۔اس۔معصوم بچی کے ساتھ۔

قاضی:فقہ اسلامی کی روشنی میں زنا بالجبر ،زنا کے علاوہ کوئی الگ جرم نہیں ہے۔زنا زنا ہی ہوتا ہے۔۔چاہے جبرا ہو یا مشاورت سے۔جوان سے ہو یا عجوزہ سے ۔البتہ اگر آپ یہ ثابت کر دیں کہ زینب بی بی مالکی فقہ کی پیرو ہیں اور چار مسلمان عاقل بالغ مردوں نے اس شخص کو زبردستی زینب کو اپنا گھر میں لے جاتے دیکھا ہے تو “جنسی استمتاع کے عوض” مہر کی رقم کے جتنا معاوضہ مجرم سے دلوایا جا سکتا ہے،حد پھر بھی جاری نہیں ہوگی، کیونکہ مردوں کی گواہی زینب کو لے جانے کی ہے، زنا ہوتے ہوئے انھوں نے نہیں دیکھا۔(المدونۃ 322/5)۔

وکیل:کیا آپ نے ٹی وی دیکھا ہے؟ اس معصوم پھول جیسی بچی سے ہمدردی میں پورا ملک سڑکوں پر نکل آیا ہے، لوگ انصاف کا تقاضہ کر رہے ہیں، ہمیں آپ سے انصاف کی توقع ہے ۔

قاضی:اگر زینب حنفی ہے تو مجرم کے انکار کے بعد چار گواہوں نے اگر اسے اٹھا کر لے جاتے ہوئے بھی دیکھا ہو تو “جنسی استمتاع کے عوض” حق مہر جتنا معاوضہ ملنا نا ممکن ہے۔اس صورت میں حد بھی جاری نہیں ہو سکتی (سرخسی، المبسوط، 61/9)

حد جاری ہونے کے لیے ضروری ہے کہ چار گواہ اس بات کی گواہی دیں کہ انھوں نے مجرم کو زینب کے ساتھ زنا کرتے ہوئے پورے یقین سے دیکھا ہے اور وہ ہوش و حواس ، قطعیت اور پورے اذعان سے اس کی گواہی دیتے ہیں۔وکیل صاحب ان چار میں سے اگر دو یہ بھی کہہ دیں کہ زنا جبرا ہوا ہے، تو زینب سزا سے بچ جائے گئی اور مجرم پر حد نافذ ہوسکے گی۔المغنی(185/10)

وکیل:زینب کو سزا سے کیا مطلب؟ زینب تو بے چاری وہ بچی ہے جس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔جبرا زیادتی کی گئی ۔

قاضی:زینب اگر یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی تو وکیل صاحب اسے قذف کی سزا ہو سکتی ہے۔ہم آپ کو رعایت دے کر یہ بات کہہ رہے ہیں کہ آپ اگر چار گواہ لے آئیں ۔اور ان میں سے دو بھی یہ کہہ دیں کہ زنا جبرا کیا گیا تھا تو زینب سزا سے بچ جائے گی۔اور مجرم کو سزا مل جائے ۔لیکن زینب کو قذف سزا سے بچانے کےلیے بھی دو لوگوں کو جبرا زنا کی گواہی دینا ہوگی۔
لہذا چار گواہ ہوں گے تو مجرم کو سزا ہوگی ورنہ شریعی حد نافذ نہیں کی جا سکتی ۔(الاستذکار 146/7)

زینب کے والد :اگر ہم چار گواہ پیش کردیں تو پھر کیا عدالت اس مجرم کو سزا دے دے گی اور زینب کو انصاف مل جائے گا؟ اس مجرم کو عبرت ناک سزا مل سکے گی ۔
کیا سزا ہوگی اسلامی قانون و فقہ کے تحت قاضی صاحب ؟

قاضی:کیا مجرم شادی شدہ ہے؟

پولیس افسر:جی نہیں

قاضی:پھر سو کوڑے کی سزا دی جائے گی ۔(سورہ نور، آیت 2)

پولیس: ہم نے چار گواہ تلاش کر لیے ہیں۔
قاضی :عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

فیصلہ :
“میڈیکل رپورٹ پر دو مرد مسلمان ڈاکٹرز کی تصدیق اور چار عاقل بالغ مسلمان مردوں کی عینی گواہی کے بعد فقہ اسلامی اور شریعت اسلامی کی روشنی میں زینب کے ساتھ زنا کے مجرم کو 
“سو کوڑے ” مارنے کی سزا سنائی جاتی ہے، ان شرائط کے ساتھ کہ کوڑے اتنے سخت نہ ہوں کہ مجرم کو زخمی کر دیں یا جلد اکھڑ جائے بلکہ متوسط ہوں اور ان میں گراہ بھی نہ لگی ہوئی ہو۔کوڑے مختلف اعضاء پر مارے جائیں گے کیونکہ ایک عضو پر مستقل مارنا باعث ہلاکت ہو سکتا ہے، کوڑوں کا مقصد محض زجر ہے، مجرم کی شرم گاہ اور چہرے پر بھی کوڑے نہیں ماریں جائیں گے
(ہدایہ کتاب الحدود فصل فی کیفیۃ الحدود و اقامۃ) ۔

مجرم کو ایک ہفتے میں سو کوڑے کی سزا پوری ہوجانے کے بعد رہا کردیا گیا۔

زینب کی طبیعت بحال ہوگی، وہ اب تین ماہ بعد اسکول جانے کے لیے گھر سے نکلی تو اس نے دیکھا، گلی کی کونے میں کھڑا ایک شخص اس کی طرف نظریں جما کر زیر لب مسکرا رہا تھا ۔۔۔۔

محمد حسن الیاس۔

سورس

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب

فقہ اور اصولِ فقہ کے متعلق جہلِ مرکب کا شاہ کار

تحریر: محمد مشتاق

غامدی صاحب کا حلقہ اپنے متعلق ہمارے حسنِ ظن کو مسلسل ختم کرنے کے درپے ہے اور اس ضمن میں تازہ ترین کوشش ان کی ترجمانی پر فائز صاحب نے کی ہے جنھوں نے نہ صرف یہ کہ فقہ اور اصولِ فقہ کے متعلق اپنے جہلِ مرکب کا ، بلکہ فقہاے کرام کے متعلق اپنے شدید تعصب کا بھی اظہار کیا ہے اور وہ بھی اس سانحے کے سیاق میں جس پر پوری قوم رنج اور الم میں مبتلا ہے۔ ماضیِ قریب میں اس حلقے ، اور بالخصوص ان ترجمان صاحب ، کے ساتھ بحث کے تجربے کی روشنی میں میری سوچی سمجھی راے یہ ہے کہ جامد اور اندھی تقلید میں مبتلا اس متعنت اور متعصب گروہ کے ساتھ بحث کا فائدہ کوئی نہیں ہے ۔ اس لیے میں نے ان کی اس یاوہ گوئی کو نظرانداز کیا لیکن مسلسل کئی اصحاب نے اس ضمن میں سوال کیا ۔ اس لیے مجبوراً چند نکات قلم بند کررہا ہوں۔ 
——————–
پہلی غلطی : یہ مسلمانوں کا قاضی ہے یا انگریزوں کا گونگا ، بہرا اور اندھا جج؟ 
——————–
ترجمان صاحب نے اپنے مکالمے میں جس قاضی کو پیش کیا ہے وہ انگریزی عدالت کا جج ہے جس کے نہ صرف ہاتھ پیر بندھے ہوئے ہیں ، اور نہ صرف اس کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے بلکہ وہ صرف انھی امور پر سوال اٹھا سکتا ہے جو فریقین نے اس کے سامنے پیش کیے ، وہ صرف وہی ثبوت دیکھ سکتا ہے جو مدعی نے اس کے سامنے پیش کیا ، وہ مدعی اور مظلوم کے درمیان فرق دیکھنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا ، نہ ہی اسے مظلوم کی چیخ و پکار سنائی دیتی ہے ، نہ ہی وہ اپنے اوپر یہ لازم سمجھتا ہے کہ مظلوم کی دادرسی کرے اور ظالم کے خلاف ثبوت اور شواہد اکٹھے کروائے ، نہ ہی وہ کمرۂ عدالت سے باہر جا کر خود صورتِ واقعہ اور میدانی حقیقت معلوم کرنے کا اختیار رکھتا ہے ۔ یہ اندھا، گونگا، بہرا اور اپاہج جج انگریزوں کے وضع کردہ adversarial system کا جج ہے ، نہ کہ مسلمانوں کے قاضی کا ۔ کاش ترجمان صاحب ذرا سی مشقت اٹھا کر مسلمان قاضی اور اس معذور جج کے درمیان فرق پر بھی – اردو میں ہی – کوئی کتاب پڑھ لیتے! 
کچھ نہیں تو کم از کم اس سوال پر غور کریں کہ inquisitorial system میں جج کے پاس کیا اختیارات ہوتے ہیں اور اس کی ذمہ داریاں کیا ہوتی ہیں؟ یہ سمجھنا بھی مشکل ہو تو کم از کم سپریم کورٹ کے اختیارات ہی دیکھ لے کہ وہ “جے آئی ٹی” تشکیل دے سکتی ہے یا نہیں؟ وہ “رٹ” جاری کرسکتی ہے یا نہیں؟ 
——————–
دوسری غلطی : اس قاضی نے فقہ پڑھی ہے یا المورد کی میزان؟ 
——————–
ترجمان صاحب نے جس شخص کو قاضی کے منصب پر بٹھایا ہے اس نے “تخصص فی المیزان – الطبع الاخیر” کا کورس تو یقیناً کیا ہوا ہے لیکن اس کے بعد فقہ کا مطالعہ صرف سطحی اور سرسری ہی کیا ہے اور وہ بھی ثانوی مآخذ ، بلکہ تیسرے درجے کے مآخذ ، سے ۔ (اور وہ بھی اردو میں ، ورنہ کم از کم بیسویں صدی عیسوی کے مصری مصنف عبد القادر عودہ کی کتاب “التشریع الجنائی” کو “التشریح الجنائی” تو نہ لکھتے۔ واضح رہے کہ کی بورڈ پر عین اور ح ایک دوسرے سے اتنی دور واقع ہیں کہ عین کی جگہ ح لکھا ہی نہیں جاسکتا جب تک واقعی تشریع کو تشریح نہ مانا جائے!) 
کم از کم یہ بات تو میں سو فی صد یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ترجمان صاحب نے امام سرخسی کی المبسوط ج 9 ، کتاب الحدود ، کا مطالعہ کیا ہی نہیں ہے ورنہ ایک تو وہ “بونگی” بالکل بھی نہ مارتے جو انھوں نے امام سرخسی کے حوالے سے ماری ہے اور دوسرے انھیں اسی کتاب میں یہ بات تو ضرور ملتی کہ فساد کے جرم پر عبرت ناک طریقے سے سزاے موت دینے کا اختیار حکمران اور قاضی کے پاس ہے اور اس کے ثبوت کےلیے اقرار یا گواہی ضروری نہیں بلکہ قرائن بھی کافی ہوتے ہیں ۔ 
بہرحال ترجمان صاحب کے فرض کردہ متخصص فی المیزان – الطبع الاخیر قاضی کو یہ بھی علم نہیں کہ بچی کے ساتھ کی گئی زیادتی فقہ کی رو سےزنا کی تعریف میں ہی نہیں آتی ، اس لیے قذف کا سوال ہی نہیں اٹھتا ۔ اس نام نہاد قاضی کو یہ بھی علم نہیں کہ فقہ کی رو سے بچی پر تشدد کی بدترین قسم کا ارتکاب کیا گیا ہے جس پر فقہی قواعد کی رو سے حدود اور قصاص کے بجاے فقہی تصور “سیاسہ” کا اطلاق ہوتا ہے اور اس وجہ سے اس شنیع ترین جرم کا ارتکاب کرنے والے بدبخت کو بدترین سزا دینا لازم ہے ۔ یہ نام نہاد قاضی یہ بھی نہیں جانتا کہ فقہ کی رو سے اس معاملے میں بارِ ثبوت بچی یا اس کے ولی پر نہیں بلکہ حکومت پر ہے کہ وہ بہرصورت معلوم کرے اور ناقابلِ تردید ثبوت عدالت میں پیش کرکے ثابت کرے کہ جرم کا ارتکاب کس نے کیا ہے ؟ یہ نام نہاد قاضی یہ بھی نہیں جانتا کہ فقہ کی رو سے قاضی پر لازم ہے کہ اگر مجرم معلوم نہ ہوسکے یا جرم ثابت نہ ہوسکے تو اس صورت میں اس پر لازم ہے کہ حکمران پر اس بچی کے ساتھ کیے گئے مظالم کی تلافی لازم کردے ۔ 
——————–
تیسری غلطی: اس متخصص فی المیزان -الطبع الاخیر – قاضی نے فقہاے کرام کے اصولِ فقہ نہیں پڑھے ۔ 
——————–
اس کی وجہ تو واضح ہے ۔ اس نام نہاد قاضی کا تخصص تو میزان کے آخری دستیاب ایڈیشن کے “اصول و مبادی” میں ہی ہے ۔ اسے اصولِ فقہ سے کیا نسبت؟ اس لیے یہ نام نہاد قاضی یہ بھی نہیں جانتا کہ فقہاے کرام جس قاضی کا ذکر کررہے ہیں وہ یا تو مجتہد ہوتا ہے اور یا مقلد ۔ پہلی صورت میں وہ اصول خود وضع کرتا ہے ، ان کے درمیان ہم آہنگی یقینی بناتا ہے اور پھر خود ان اصولوں کی روشنی میں فروع مستنبط کرتا ہے ۔ وہ اس کا محتاج نہیں ہوتا کہ ایک بات حنفی فقہ کی المبسوط سے لے تو دوسری بات حنبلی فقہ کی المغنی سے ۔ پھر اگر دوسری صورت ہے کہ یہ قاضی مقلد ہے تو فقہ کی رو سے اس پر لازم ہے کہ کسی ایک فقہی مذہب کی ہی اتباع کرے کیونکہ ایک فقہی مذہب کے اصول آپس میں ہم آہنگ ہوتے ہیں اور دو یا زائد مذاہب کے اصول بسا اوقات ایک دوسرے کے ساتھ اکٹھے نہیں چل سکتے۔ اس صورت میں بھی یہ قاضی یہ کر ہی نہیں سکتا تھا کہ ایک بات حنفی فقہ کی المبسوط سے لے اور دوسری حنبلی فقہ کی المغنی سے ۔ 
ہاں۔ چونکہ یہ قاضی میزان کے آخری دستیاب ایڈیشن کا متخصص ہے ، اس لیے یہ بات قابلِ فہم ہے کہ کیوں وہ ایک اصول ایک جگہ سے ، دوسرا اصول دوسری جگہ سے ، ایک فقہی جزئیہ ایک کتاب سے، دوسرا فقہی جزئیہ دوسری کتاب سے ، عموماً اردو تراجم سے ، یا سنی سنائی سے ، یا سینہ در سینہ پہنچنے والی روایت سے ، لیتا ہے اور اس چکر میں ہی نہیں پڑتا کہ یہ اصول اور جزئیات آپس میں ہم آہنگ ہیں بھی یا نہیں ؟ 
——————–
فقہی لحاظ سے مسئلے کی صحیح نوعیت
——————–
ترجمان صاحب کی ساری فرض کردہ صورت حال فقہی لحاظ سے غلط ہے ۔ فقہاے کرام کی تصریحات کی روشنی میں مسئلے کی صحیح نوعیت یہ ہے : 
1۔ اس معاملے میں بارِ ثبوت بچی کے ولی پر نہیں بلکہ حکمران پر ہے اور مجرم تک پہنچنا قاضی کی ذمہ داری ہے جس کے لیے وہ صرف حکمران کی جانب سے پیش کیے گئے ثبوتوں پر ہی انحصار کا پابند نہیں ہے بلکہ اس پر لازم ہے کہ آگے بڑھ کر خود ایسی تدابیر اختیار کرے کہ مجرم معلوم ہوسکے اور اس کے خلاف ناقابلِ تردید ثبوت اکٹھے کیے جاسکیں ۔ 
2۔ اس معصوم بچی کے ساتھ پیش آیا ہوا واقعہ حدِ زنا کا مسئلہ ہے ہی نہیں ، بلکہ یہ فساد کی بدترین قسم ہے جس کے لیے فقہاے کرام “سیاسہ” کے تصور کی رو سے قاضی کےلیے یہ اختیار مانتے ہیں کہ وہ قرائن اور جدید ترین ذرائع سے میسر آنے والے ثبوتوں کی روشنی میں مجرم کو ایسی عبرت ناک سزا دے کہ پھر کسی کو اس طرح کے جرم کے ارتکاب کی جرات ہی نہ ہوسکے۔
3۔ مجرم معلوم نہ ہوسکے تب بھی بچی کے ساتھ کیا گیا ظلم رائیگاں نہیں جائے گا بلکہ اس کی تلافی کی ذمہ داری حکمران پر ہے اور قاضی کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ حکمران سے مظلوم کا یہ حق وصول کروائے ۔ 
——————–
المورد کے تجدد کی رو سے معاملے کی نوعیت
——————–
ترجمان صاحب کی طرح میں بھی یہ بتاسکتا تھا کہ المورد کے تجدد کی رو سے اس مسئلے کی کیا نوعیت ہے اور اس تجدد کی رو سے حکمران کے اختیارات اور قانون کے ساتھ جو کھلواڑ ہوتا ہے اس سے اس طرح کے معاملے میں کیا فسادِ عظیم برپا ہوسکتا ہے لیکن میں بہرحال اس سطح تک نہیں گرسکتا کہ اس عظیم اور دردناک قومی سانحے کو پوائنٹ سکورنگ کے لیے استعمال کرسکوں۔ مجھے اس سے معذور جانیے ۔ 
——————–
ایک نصیحت
——————–
جس کے متعلق مجھے یقین ہے کہ ترجمان صاحب اسے درخورِ اعتنا نہیں سمجھیں گے ۔ پھر بھی نصیحت کرنا میری ذمہ داری ہے ۔ میں پورے خلوص سے انھیں یہ نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ فقہاے کرام کے متعلق یاوہ گوئی سے قبل ایک دفعہ فقہ اور اصولِ فقہ کو سمجھنے کی کوشش ضرور کریں۔ ترجمانی کے فرائض انجام دینے کی وجہ سے زیادہ فرصت نہ ہو تو کم از کم فقہاے احناف کے ہاں “سیاسہ” کا تصور ہی سمجھنے کی کوشش کریں ۔ اور ہاں۔ اس مقصد کے لیے مستشرقین یا مستغربین کے بجاے فقہاے کرام ہی کی کتب کا مطالعہ کریں ، اور وہ بھی اصل زبان میں ۔ 
——————–
پس نوشت
——————–
قاضی حسین احمد صاحب مرحوم کی دختر ایم این اے بنے تو ان کی صلاحیت کے باوجود اسے “اقربا پروری” سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ پتہ نہیں المورد میں ڈائریکٹر کا عہدہ اقربا پروری کا نتیجہ ہے یا نہیں ۔

سورس

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگر زینب زندہ ہوتی
ڈاکٹر مشتاق صاحب کے جواب میں

تحریر: عرفان شہزاد

ڈاکٹر مشتاق صاحب نے حسن الیاس صاحب کی پوسٹ کے جواب میں اپنی پوسٹ، “فقہ اور اصولِ فقہ کے متعلق جہلِ مرکب کا شاہ کار”، میں اصل مسئلہ کو ایڈریس ہی نہیں کیا اور دیگر باتوں میں الجھا کر فقہ کی اس پوزیشن کے نقائص سے توجہ ہٹانے کی سعی کی ہے جس کی نشان دہی حسن صاحب کی پوسٹ میں کی گئی تھی۔
حسن الیاس صاحب کی پوسٹ زندہ بچ جانے والی زینبوں کا فقہی نوحہ ہے۔ زندہ زینب ہمارے لیے اتنا بڑا مسئلہ کیوں نہیں جتنا انتقال کر جانے والی زینب؟ مر جانے والی تو اپنی اذیت سہہ چکی، ایسی زندہ بچیوں اور خواتین کی اذیت تو ہر لمحہ اس کا مقدر ہے۔ ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ اس مظلوم کی داد رسی ہماری وہ فقہی عدالت کیا کرتی ہے جس کے نفاذ کے لیے زینب کے والد کے قائد نے کئی جانیں قربان کروا دیں۔ ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ اسے اس قانون میں کیا انصاف ملے گا جس کی خاطر زینب کے اسلامسٹ بھائی اپنی جانیں دے اور دوسروں کی جانیں لے رہے ہیں۔
زنا بالجبر کے معاملات میں فقہی پوزیشن میں اتنے نقائص ہیں کہ جج کو مجرم کو دینے کے لیے کسی شرعی سزا کا پابند نہیں کیا جا سکتا۔
ڈاکٹر مشتاق صاحب نے فقہ میں سمجھی گئی شرعی پوزیشن کے نقائص کو جج یا قاضی کے سیاستہ اختیار کے ذریعے پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔ یعنی جج کی صواب دید ہے کہ کوئی سزا دے نہ دے یا کوئی معمولی سزا دے یا انتہائی سزا دے یہ اس کا اختیار ہے۔ مگر شرعا وہ پابند نہیں ہے۔
ہم مسئلے کو متعین سوالات کی صورت میں سامنے رکھ دیتے ہیں تاکہ قارئین کو بات سمجھنے میں آسانی ہو۔
کیا زنا بالرضا اور بالجبر کو فقہ میں ایک ہی جرم تصور کیا گیا ہے یا نہیں ؟
دونوں جرائم کے ثبوت کا نصاب چار عینی گواہ ہے یا نہیں ؟ چار گواہ جو عاقل، بالغ، مسلم مرد ہوں اور انھوں نے یہ جرم مکمل طور پر ہوتا اپنی آنکھون سے دیکھا ہو۔
دونوں جرائم کی شرعی سزا ایک ہی ہے یا نہیں ؟ یعنی مجرم کنوارا ہو تو سو کوڑے اور شادی شدہ ہو تو سنگسار کرنا۔
جن کیسز میں قتل نہیں ہوا صرف زنا بالجبر ہوا وہ فساد فی الارض کے زمرے میں آتے ہیں یا نہیں؟
مشتاق صاحب نے زینب کے کیس کو فساد فی الارض کہہ کر ایک خلط مبحث کیا ہے۔ حسن صاحب نے ایک زندہ زینب کا کیس لیا ہے۔ کیا بغیر قتل کے ایک زندہ بچی یا خاتون کے ساتھ بالجبر زنا ہماری فقہ میں فساد فی الارض میں شمار ہوتا ہے یا نہیں ؟
ایسے کیسز میں بار ثبوت مدعی پر ہے یا نہیں؟
بچی کی گواہی ناقابل قبول ہے یا نہیں ؟
بچی تو چھوڑیے ایک عاقل بالغ خاتون کی گواہی حدود میں معتبر ہے یا نہیں؟ اس کی گواہی پر شرعی حد کا نفاذ ہوگا یا نہیں؟
فقہ میں طرفہ تماشا یہ ہے کہ عورت کی گواہی پر قاضی تعزیرا سزا تو دے سکتا ہے لیکن حد جاری نہیں کر سکتا۔ یعنی زنا بالجبر کی متاثرہ خاتون کی اکیلی گواہی ثبوت جرم کے لیے کافی نہیں۔ ہماری فقہ کے مطابق عورت سے تنہائی میں بالجبر زنا ہو جائے تو اس کی گواہی پر حد شرعی نافذ نہیں ہو گئی البتہ بچہ پیدا ہونے کے بعد رویا ہے یا نہیں۔ اس معاملے میں اس کی گواہی قبول ہے۔ بدایۃ المجتھد جمہور فقھا کا موقف بیان کرتی ہے:
الجمھور انہ لا تقبل شھادۃ النساء فی الحدود، لا مع رجل ولا مفردات، وقال اھل الظاھر: تقبل اذا کان معھن رجل وکان النساء اکثر من واحدۃ فی کل شیء علیظاھر الآیۃ. وقال ابوحنیفۃ: تقبل فی الاموال وفیما عدا الحدود من احکام الابدان مثل الطلاق والرجعۃ والنکاح والعتق ولا تقبل عند مالک فی حکم من احکام البدن. واختلف اصحاب مالک فی قبولھن فی حقوقالابدان المتعلقۃ بالمال، مثل الوکالات والوصیۃ التی لا تتعلق الا بالمال فقط. فقال مالک وابن القاسم وابن وھب: یقبل فیہ شاھد وامرأتان وقال اشھب وابن الماجشون: لایقبل فیہ الاّ رجلان. واما شھادۃ النساء مفردات، اعنی النساء دون الرجال، فھی مقبولۃ عندالجمھور فی حقوق الابدان التی لا یطلع علیھا الرجال غالباً مثل الولادۃ والاستھلال وعیوب النساء .
“جمہور کا مذہب یہ ہے کہ عورتوں کی شہادت کسی حال میں بھی قبول نہیں کی جا سکتی ، خواہ وہ کسی مرد کے ساتھ مل کر گواہی دیں یا تنہا ۔ اہل ظاہر اِس کے برخلاف یہ کہتے ہیں کہ وہ اگر ایک سے زیادہ ہوں اور اُن کے ساتھ اگر کوئی مرد بھی شریک ہو تو آیت کے ظاہری مفہوم کی بنا پر اُن کی شہادت تمام معاملات میں قبول کی جائے گی۔ امام ابو حنیفہ کے نزدیک اِس صورت میں بھی اُن کی گواہی صرف مالی معاملات میں اور حدود کے سوا دوسرے بدنی احکام، مثلاً : رجوع، نکاح اور غلاموں کی آزادی ہی میں قابل قبول ہو گی ۔ امام مالک اِسے بدنی احکام میں نہیں مانتے ۔ مال سے متعلق بدنی حقوق ، مثال کے طو رپر وکالت اور اُس وصیت کے بارے میں جو صرف مال ہی سے متعلق نہیں ہوتی البتہ ، مالک اور اُن کے اصحاب میں اختلاف ہے۔ چنانچہ اشہب اور ابن ماجشون اِن معاملات میں صرف دو مردوں اور مالک، ابن قاسم اور ابن وہب ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی قبول کرتے ہیں۔ رہا تنہا عورتوں کی شہاد ت کا معاملہ تو یہ جمہور کے نزدیک صرف اُن بدنی حقوق میں قبول کی جائے گی جن پر مرد عام حالات میں کسی طرح مطلع نہیں ہو سکتے، مثلاً: عورتوں کے عیوب، ولادت اور پیدایش کے وقت بچے کا رونا ۔ ‘‘
بدایۃ المجتہد (۲ /۳۴۸)

سوال یہ ہے کہ جرم اگر ثابت ہے تو حد کیوں نہیں، اور ثابت نہیں تو تعزیر کیوں؟ ایسا نہیں ہو سکتا ہے کہ عورت کی گواہی سے آدھا پونا جرم ثابت ہوتا ہے اس لیے تعزیز کی سزا دی جائے گی اور مرد کی گواہی سے پورا اس لیے شرعی حد نافذ ہوگی۔
ڈی این اے ٹیسٹ، سی سی ٹی وی، فنگر پرنٹس اور فرنزک رپورٹ نیز اسی طرح دسیوں جدید سائنسی طریقے و آلات انسانی زندگی کے تقریبا تمام شعبہ جات و معاملات میں قطعی بینات کی حیثیت رکھتے ہیں، ان کے ہوتے ہوئے چار عاقل بالغ مرد مسلمان عینی گواہوں کے فقہی نصاب پر اصرار ریپسٹ کی حوصلہ افزائی نہیں ہے تو اور کیا ہے؟
فقہ کی رو سے شرعی پوزیشن وہی ہے جو حسن الیاس صاحب نے بیان کی۔
تعزیر اور سیاستہ سزا کے اختیار کا معاملہ وہاں درست ہے جہاں اصل جرم ثابت نہ ہو سکے اور جج اپنا اختیار استعمال کرے۔ یہاں تو چارعینی گواہوں کے بنا جرم اصلا ثابت ہی نہیں ہو سکتا۔ فقہ میں سمجھی گئی شرعی پوزیشن کے ان نقائص کو تعزیر یا سیاستہ سزا سے دور کرنے کی کوشش گویا شریعت میں موجود کمی کو انسانی صواب دید سے پورا کرنا ہے۔
ہمارا پوچھنا یہ ہے کہ چوری اگر بڑھ کر ڈاکہ بن جائے تو فساد فی الارض میں شمار کی جاتی ہے تو زنا بڑھ کر بالجبر ہو جائے تو فساد فی الارض میں کیوں شمار نہیں ہوتا؟ مال کے خلاف جارحیت فساد ہے تو آبرو کے خلاف جارحیت فساد کیوں نہیں؟
ہمارا موقف اس میں یہ ہے کہ زنا بالجبر اصلا فساد فی الارض ہے جس کی سخت ترین سزائیں قرآن میں بیان ہوئی ہیں جس میں عبرت ناک طریقے سے قتل کرنا بھی ہے۔ اسے جج کی صواب دید پر نہیں چھوڑا گیا اور نہ اس کے لیے چار عینی گواہوں کا ثبوت فراہم کرنے کی شرط عائد کی گئی ہے۔ اس میں متاثرہ خاتون یا بچی کی گواہی، بالغ عورت، ڈی این اے ٹسٹ اور ہر اس ثبوت سے سے بھی حتمی طور پر جرم ثابت ہو سکتا ہے جو تمام دنیا کی عدالتوں میں ثبوت جرم کے لیے معقول اور قابل قبول مانے گئے ہیں۔
یہ ہیں وہ مسائل جن کی طرف توجہ دلانا اصلا مقصود تھا۔

سورس

 

 

تحریر ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

چیئرمین شعبۂ قانون ، بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد

 ٭جنسی تشدد زنا کی قسم نہیں ہے، نہ ہی اس کےثبوت کے لیے معیار چار عینی گواھوں والا ھے ۔

پہلی بات یہ ہے کہ فقہاے کرام کی ساری بحث باہمی رضامندی سے کیے جانے والے زنا سے متعلق ہے۔ اکراہ کا ذکر اس میں دیگر اثرات کا جائزہ لینے کےلیے آیا ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ جرم کی نوعیت اور اس کا معیارِ ثبوت دو الگ امور ہیں اور انھیں الگ الگ ہی سمجھنا ضروری ہے۔ اس لیے ہم پہلے جرم کی نوعیت پر بحث کرتے ہیں۔
جرم کی نوعیت سمجھنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ریپ یا “زنا بالجبر” کا تصور ہے۔ اس تصور نے ہی فقہاے کرام کے موقف کو سمجھنا مشکل کردیا ہے اور انگریزی قانون کے اس تصور کا ملبہ فقہاے کرام پر ڈالا جاتا ہے۔ پچھلی پوسٹ میں جہاں امام سرخسی کے حوالے سے زنی بمکرھۃٍ کی صورت کا ذکر ہے وہاں وہ ایک سیریز آف کیسز کا حصہ ہے جس میں پہلے ہی سے زنا ثابت شدہ ہے اور وہ اس پر بحث کررہے ہیں کہ اس صورت میں جبکہ عورت پر زبردستی کی گئی تھی اور اس بنا پر عورت سے حد ساقط ہوگئی تو کیا مرد سے بھی ساقط ہوسکتی ہے کہ فعل اس نے تنہا تو نہیں کیا تھا؟ اس کا جواب وہ یہ دیتے ہیں کہ مرد کا فعل الگ ہے اور عورت کا فعل الگ اور مرد کو اس کے فعل کی سزا دی جائے گی۔ اس لیے وہ زنا کی حد سے نہیں بچ سکتا۔ وہ یہاں یہ بحث کر ہی نہیں رہے کہ “زنا بالجبر” کا معیارِ ثبوت کیا ہے؟ ان کی بحث اس سوال پر ہے کہ جب زنا ثابت ہوچکا ہے لیکن ساتھ ہی اکراہ (جبر)بھی ثابت ہوا ہے تو کیا اکراہ کی وجہ سے زنا کی حد معطل ہوجائے گی؟ اس کا جواب وہ نفی میں دیتے ہیں۔ پس جہاں اکراہ بھی ثابت شدہ ہو اور زنا بھی ہو ثابت شدہ ہو تو اکراہ کرنے والے کو اکراہ کی سزا بھی دی جائے گی اور زنا کی بھی۔ یہ رہا ایک مسئلہ۔
اب آئیے دوسرے مسئلے کی طرف۔ جہاں صرف اکراہ ثابت ہو تو وہاں کیا کیا جائے گا؟ اس سیدھے سادے سوال میں ہی سارے مسئلے کی کنجی ہے۔ اس سیدھے سادے سوال کا جواب یہ ہے کہ جہاں اکراہ ثابت ہو وہاں اکراہ کی سزا دی جائے گی۔ اس پر سوال قائم ہوتا ہے کہ اکراہ کی سزا کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ شریعت نے بہت سے دیگر جرائم کی طرح اکراہ کے جرم کی سزا بھی متعین نہیں کی ہے بلکہ اسے حکمران کی صواب دید پر چھوڑا ہے جو اکراہ کی صورت اور نوعیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس پر مناسب سزا مقرر کر سکتا ہے۔ سنگین صورتوں میں وہ سزاے موت بھی مقرر کر سکتا ہے۔ بہت زیادہ سنگین صورتوں میں وہ سزاے موت کےلیے کوئی عبرتناک طریقہ بھی تجویز کرسکتا ہے۔ یوں فقہاے کرام کےلیے یہ معاملہ حدود کا نہیں، بلکہ “سیاسہ” کا ہوا۔ 
اب سوچیے کہ اکراہ کی ممکن صورتیں کیا ہوسکتی ہیں؟ انسان کس حد تک وحشی ہوسکتا ہے؟ ظاہر ہے کہ کوئی جامع و مانع فہرست مرتب کرنا کسی انسان کے لیے ممکن ہی نہیں۔ ہم صرف چند موٹی موٹی کیٹگریز ہی ذکر کرسکتے ہیں۔ ان کیٹگریز میں ایک کیٹگری “جنسی تشدد” کی ہے۔ اب اس پر سوچیے کہ جنسی تشدد کی ممکن صورتیں کیا ہوسکتی ہیں؟ اس کا جواب بھی یہی ہے کہ اس کی جامع مانع فہرست بنانا ممکن ہی نہیں۔ بے شمار صورتیں ہوسکتی ہیں جن میں ایک وہ صورت بھی ہوسکتی ہے جسے انگریزوں نے ریپ کہا اور پھر یہاں اس کےلیے زنا بالجبر کا ترجمہ رائج کرایا۔ 
اب اگر کسی شخص نے کسی عورت کو نوچا کھسوٹا اور دیگر کئی وحشیانہ طریقے اختیار کیے لیکن اس نے دخول فی القبل نہیں کیا تو وہ جنسی تشدد تو ہے لیکن زنا بالجبر نہیں ہے۔ اسی طرح اگر اس نے دخول فی الدبر کیا تو یہ جنسی تشدد تو ہے لیکن زنا بالجبر نہیں ہے۔ نہ ہی ان دونوں صورتوں کو ریپ کہا جاسکتا ہے (دیکھیے: مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 375)۔ 
اس لیے ایک تو ریپ اور زنا بالجبر کا تصور انتہائی حد تک ناقص ہے۔ جنسی تشدد کی بے شمار دیگر قسمیں، جو زیادہ سنگین بھی ہوسکتی ہیں، اس تعریف میں آتی ہی نہیں۔ دوسرا یہ کہ اسے “زنا” کی صورت بنا دیا گیا ہے، جو فقہاے کرام کے اصولوں کے مطابق غلط ہے۔ یہ زنا کی قسم نہیں بلکہ جنسی تشدد کی قسم ہے، اکراہ کی قسم ہے، سیاسہ جرم ہے۔
اس بحث کے بعد معیارِ ثبوت کا مسئلہ خود بخود واضح ہوگیا۔ جب جنسی تشدد کا جرم زنا کے جرم سے الگ جرم ہے اور اس پر سیاسہ کے اصول کا اطلاق ہوتا ہے تو پھر اس کے ثبوت کےلیے چار گواہوں کی شرط بھی ضروری نہیں ہے اور اس کی سزا بھی سو کوڑے یا رجم کے علاوہ کچھ اور شکل اختیار کرسکتی ہے۔

٭کیا جنسی تشدد کے ثبوت کےلیے چار گواہ چاہئیں؟
اسلامی قانون سے مناسبت رکھنے والے کسی بھی شخص سے یہ سوال پوچھیے۔ وہ اس کا جواب نفی میں دے گا۔ متخصصین فی المیزان کی ساری بحث ہی غلط نہج پہ چل رہی ہے اور ان کی سمجھ میں آ بھی نہیں رہا کہ انھیں غلطی کہاں سے لاحق ہوئی ہے کیونکہ بے چارے پروپیگنڈے کے متاثرین ہیں اور اس لحاظ سے قابلِ رحم ہیں۔ 
پروپیگنڈے کی وضاحت کےلیے اس امر پر غور کریں کہ پاکستان میں حدود آرڈی نینسز کے خلاف جو ہنگامہ اٹھایا گیا اور غامدی صاحب جس کےلیے zietgeist تھے، اس میں بار بار یہ جھوٹ دہرایا گیا کہ ریپ کی شکار خاتون سے چار گواہ طلب کیے جاتے ہیں اور وہ بے چاری چار گواہ کہاں سے لائے۔ کسی نے اتنی زحمت بھی گوارا نہیں کی کہ جرم زنا آرڈی نینس ایک دفعہ پڑھ کر تو دیکھ لیا جائے کہ کیا واقعی ایسا ہے؟ چلیں ہم آپ کو اس آرڈی نینس کی بعض دفعات پڑھوا دیتے ہیں۔ 
دفعہ 6 میں زنا بالجبر کی تعریف پیش کی گئی تھی اور دفعہ 8 میں اس کےلیے معیار ثبوت یہ رکھا گیا تھا کہ ملزم اقرار کرے یا اس کے خلاف چار گواہ پیش ہوں۔ آرڈی نینس کے ناقدین نے اس سے آگے پڑھنے کی زحمت گوارا ہی نہیں کی۔ دفعہ 10 میں قرار دیا گیا تھا کہ چار گواہ نہ ہوں تو کیا کیا جائے گا۔ ملاحظہ کریں: 
whoever commits … zina-bil-jabr which is not liable to hadd, or for which proof in either of the forms mentioned in Section 8 is not available and the punishment of ‘qazf’ liable to hadd has not been awarded to the complainant, or for which hadd may not be enforced under this Ordinance, shall be liable to tazir.
اسی دفعہ کی ذیلی دفعہ 3 میں قرار دیا گیا تھا: 
Whoever commits zina-bil-jabr liable to tazir shall be punished with imprisonment for a term which may extend to twenty-five years and shall also be awarded the punishment of whipping numbering thirty stripes.
ان دفعات کی روشنی میں یہ دعوی قطعی غلط تھا کہ ریپ کی شکار خاتون اگر چار گواہ پیش نہ کرسکی تو ریپ ثابت نہ ہوتا، یا یہ کہ ریپ کے ثبوت میں ڈی این اے اور میڈیکل رپورٹس ناقابل اعتبار ٹھہرائی گئیں۔ ایسا نہیں تھا بلکہ معاملہ صرف اتنا تھا کہ چار گواہ “حد” کی سزا کےلیے درکار تھے۔ ڈی این اے اور دیگر رپورٹس اور ثبوتوں پر 25 سال تک قید اور 30 کوڑوں کی تعزیری سزا دی جاسکتی تھی۔
جہاں تک قذف کا تعلق ہے، ریپ کے مقدمے میں ایک امکان یہ بہرحال موجود ہوتا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ ملزم کو جھوٹے دعوے میں فریم کیا جارہا ہو۔ اس لیے اس آرڈی نینس میں یہ قرار دیا گیا کہ اگر الزام لگانے والی کو عدالت نے قذف کی سزا سنائی تو پھر ریپ کے ملزم کو ریپ کی تعزیری سزا نہیں دی جاسکے گی۔ یہ تو عین منطقی بات تھی۔ جب اس پر لگایا گیا الزام عدالت میں جھوٹا ثابت ہوا تو کیسے اسے ریپ کی سزا دی جاتی؟
قانون نے پولیس کو یہ اختیار نہیں دیا تھا کہ وہ ریپ کا الزام لگانے والی خاتون پر قذف کا مقدمہ بھی دائر کردے۔ قذف آرڈی نینس میں قذف کی تعریف صرف زنا کے الزام پر محیط تھی، نہ کہ زنا بالجبر کے الزام پر۔ تاہم پولیس، بالخصوص پنجاب پولیس، نے یہ سلسلہ شروع کیا تھا جس کی وجہ سے مظلوم خواتین کو بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور پھر اس سلسلے کو وفاقی شرعی عدالت نے روکا۔
یہ تو رہا حدود آرڈی نینسز اور “زنا بالجبر” کا معاملہ جس میں حدود آرڈی نینسز کے تحت بھی جرم کو چار گواہوں کے بجاے دیگر طریقوں سے ثابت کیا جاسکتا تھا لیکن اس صورت میں حد کے بجاے تعزیر کی سزا دی جاتی۔ 
اس کے بعد (متخصصین فی المیزان کی سمجھ میں تو نہیں آئے گا لیکن عام لوگوں کے لیے واضح کردوں کہ) ہماری بحث “زنا بالجبر” پر نہیں بلکہ “جنسی تشدد” پر ہورہی ہے۔ کیا متخصصین فی المیزان کسی ایک فقیہ کا نام بتاسکتے ہیں جو جنسی تشدد کے ثبوت کےلیے چار گواہ لازمی سمجھتے ہوں؟ 
چلیں کسی ایسے فقیہ کا ہی نام بتادیں جو جنسی تشدد کے الزام کو قذف کہتا ہو۔ 
یہ بھی نہیں تو کسی ایسے فقیہ کا نام بتادیں جو “زنا بالجبر” کے الزام کو قذف کہتا ہو اور اس وجہ سے ثبوت میں چار گواہ مانگتا ہو۔ 
یہ بھی نہ ہوسکے تو کم از کم یہ تو مان لیجیے کہ فقہ اور فقہاے کرام کے متعلق آپ خواہ مخواہ کی بدگمانیوں میں مبتلا ہیں۔
صلاے عام ہے یارانِ نکتہ داں کےل

سورس

 

زنا بالجبر کی سزا کے بارے میں فقہا کا موقف

سید منظور الحسن

ڈاکٹر محمد مشتاق اور جناب حسن الیاس کی بحث کے تناظر میں

زنا بالجبر یا زنا بالاکراہ کے بارے میں ہمارے فقہا کا عمومی موقف یہ ہے کہ یہ زنا ہی کی ایک قسم ہے اور اس کے لیے شریعت میں وہی سزا ہے جو اس کی ایک دوسری قسم زنابالرضا کے لیے مقرر ہے۔ چنانچہ یہ زنا بالرضا ہی کی طرح مستوجب حد ہے جس کی شرعی سزا سورۂ نور (۲۴) کی آیت ۲ کے مطابق سو کوڑے ہے۔ تاہم، یہ سزا اس کے غیر شادی شدہ مرتکب کے لیے ہے۔ جہاں تک شادی شدہ مجرم کا تعلق ہے تو زنا بالرضا ہو یا زنابالجبر، ہر دو صورتوں میں اُس کے لیے رجم یعنی سنگ ساری کی سزا ہے۔ سو کوڑے کی طرح یہ بھی شرعی حد ہے جو سنت متواترہ سے ثابت ہے۔ حدود کی یہ سزائیں زنا بالرضا کے دونوں فریقین کے لیے ہیں، البتہ زنا بالجبر میں ان کا مستحق صرف جبر کرنے والا فریق ہے، جبر کا شکار ہونے والا فریق ان سے مستثنیٰ ہے۔ زنا بالجبر کے ثبوت کا معیار چار مسلمان مرد گواہوں کی عینی شہادت ہے۔ بعینہ یہی معیارزنا بالرضا کے ثبوت کے لیے بھی ہے۔ چار چشم دید مسلمان گواہ اگر میسر ہوں تو کوڑے یا رجم کی حد کا نفاذ ہوگا، بصورت دیگر یہ حدود نافذ نہیں کیے جائیں گے۔ اس سے واضح ہے کہ ثبوت جرم اور نفاذ حدود کے اعتبار سے زنا بالجبر اور زنا بالرضا میں کوئی فرق نہیں ہے۔ جو معیارات ثبوت اور جو شرعی حدودز نا بالرضا کے لیے قائم ہیں، وہی زنا بالجبر کے لیے بھی مقرر ہیں۔

زنا بالجبر اور اس کی سزا کے حوالے سے یہ فقہا کا عمومی موقف ہے۔ دور حاضر میں فقہ حنفی کے جید عالم دین مولانا مفتی تقی عثمانی نے پاکستان میں حدود آرڈیننس کی بحث کے تناظر میں اسے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

۱۔ قرآن کریم نے سورہ نور کی دوسری آیت میں زنا کی حد بیان فرمائی ہے:

’’جو عورت زنا کرے، اور جو مرد زنا کرے، ان میں سے ہر ایک کو سو کوڑے لگاو ٔ۔ ‘‘(النور:۲)

اس آیت میں ”زنا“ کا لفظ مطلق ہے جو ہر قسم کے زنا کو شامل ہے، اس میں رضا مندی سے کیا ہوا زنا بھی داخل ہے، اور زبردستی کیا ہوا زنا بھی۔ بلکہ یہ عقلِ عام (Common Sense)کی بات ہے کہ زنا بالجبر کا جرم رضا مندی سے کیے ہوئے زنا سے زیادہ سنگین جرم ہے، لہٰذا اگر رضا مندی کی صورت میں یہ حد عائد ہو رہی ہے تو جبر کی صورت میں اس کا اطلاق او ر زیادہ قوت کے ساتھ ہوگا۔

اگرچہ اس آیت میں ”زنا کرنے والی عورت“ کا بھی ذکر ہے، لیکن خود سورہ نور ہی میں آگے چل کر اُن خواتین کو سزا سے مستثنیٰ کر دیا گیا ہے جن کے ساتھ زبردستی کی گئی ہو، چنانچہ قرآن کریم کا ارشاد ہے:

’’اور جوان خواتین پر زبردستی کرے تو اللہ تعالیٰ ان کی زبردستی کے بعد (ان خواتین) کو بہت بخشنے والا، بہت مہربان ہے۔ ‘‘(النور ۳۳)

اس سے واضح ہو گیا کہ جس عورت کے ساتھ زبردستی ہوئی ہو، اسے سزا نہیں دی جا سکتی البتہ جس نے اس کے ساتھ زبردستی کی ہے، اس کے بارے میں زنا کی وہ حد جو سورہ نور کی آیت نمبر ۲ میں بیان کی گئی تھی، پوری طرح نافذ رہے گی۔

۲۔ سو کوڑوں کی مذکورہ بالا سزا غیر شادی شدہ اشخاص کے لیے ہے، سنت متواترہ نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ اگر مجرم شادی شدہ ہو تو اسے سنگ سار کیا جائے گا اور حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے سنگ ساری کی یہ حد جس طرح رضا مندی سے کیے ہوئے زنا پر جاری فرمائی، اسی طرح زنا بالجبر پر بھی جاری فرمائی۔ …..لہٰذا قرآن کریم، سنت نبویہ علی صاحبہا السلام اور خلفاءراشدین کے فیصلوں سے یہ بات کسی شبہہ کے بغیر ثابت ہے کہ زنا کی حد جس طرح رضا مندی کی صورت میں لازم ہے، اسی طرح زنا بالجبر کی صورت میں بھی لازم ہے، اور یہ کہنے کا کوئی جواز نہیں ہے کہ قرآن وسنت نے زنا کی جو حد (شرعی سزا) مقرر کی ہے وہ صرف رضا مندی کی صورت میں لاگو ہوتی ہے، جبر کی صورت میں اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔ “ (حدود آرڈیننس ایک علمی جائزہ، ص 22تا 23) ”حدود آرڈیننس میں احکام یہ تھے کہ اگرزنا پر شرعی اصول کے مطابق چار گواہ موجود ہوں تو آرڈیننس کی دفعہ ۵ کے تحت مجرم پر زنا کی حد(شرعی سزا) جاری ہو گی۔ “( حدود آرڈیننس ایک علمی جائزہ، ص26)

فقہا کے اس موقف سے یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ حدود شریعت میں زنا بالرضا اور زنا بالجبر کے جرائم، اُن کے ثبوت اور اُن کی سزا میں کوئی تفریق نہیں ہے۔ چنانچہ اگر کوئی غیر شادی شدہ شخص کسی خاتون، کسی لڑکی یا کسی کم سن بچی کے ساتھ جبراً فعل شنیع کا ارتکاب کرتا ہے اور اُس کا یہ جرم چار مسلمان گواہوں کی عینی شہادت سے پایۂ ثبوت تک پہنچ جاتا ہے تو اس پر شرعی حدود کے مطابق سو کوڑے کی سزا نافذ ہو گی۔

استاذ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کے نزدیک یہ موقف شریعت اسلامی کی صحیح تعبیر پر مبنی نہیں ہے۔ اس میں نوعیت جرم، معیار ثبوت اور نفاذ حدود، تینوں اعتبارات سے بعض ایسے اسقام ہیں کہ جن کی موجودگی میں شریعت کا منشا و مقصود کما حقہ حاصل نہیں ہوسکتا۔ استاذ گرامی کی یہی وہ تنقیدہے کہ جس کے بعض پہلوؤں کو ادارۂ علم و تحقیق المورد کے اسکالر برادرم حسن الیاس نے اپنی ایک حالیہ تحریر میں نمایاں کیا ہے۔ اس میں انھوں نے قصور کی سات سالہ معصوم زینب سے زیادتی اور قتل کے اندوہ ناک واقعے کے حوالے سے یہ بیا ن کیا ہے کہ اگر زینب زندہ بچ جاتی اور اس کے ساتھ زیادتی کا جرم چار گواہوں کی شہادت سے ثابت ہو جاتا تو ہماری فقہ کے مطابق مجرم پر وہی سو کوڑے کی حد نافذ کی جاتی جو زنابالرضا کے مجرم کے لیے مقرر ہے۔ ”اگر زینب زندہ ہوتی“ کے زیر عنوان یہ تحریر ایک محاکاتی المیہ ہے جس میں مکالمے کی صورت میں فقہی موقف کے بعض اسقام کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔

حسن الیاس صاحب نے اس بحث کو جس موقع پر اٹھایا ہے اور اس کے لیے جو پیرایۂ بیان اختیار کیا ہے، اس پر یقیناً دو رائیں ہو سکتی ہیں، لیکن جہاں تک اس کی سماجی حساسیت اورعلمی ضرورت کا تعلق ہے تو دین کے سنجیدہ طالب علموں کے لیے اس سے مفر ممکن نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہل علم نے اس تحریر کا غیر معمولی نوٹس لیا ہے اور اس پر اپنے اتفاق واختلاف اور تحسین و تنقید کا بھرپور اظہار کیا ہے۔ اس ضمن میں سب سے نمایاں بحث انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی اسلام آبادکے فاضل استاد اور ہمارے برادر مکرم ڈاکٹر محمد مشتاق صاحب کی طرف سے سامنے آئی ہے۔ ”فقہ اور اصول فقہ کے متعلق جہل مرکب کا شاہ کار“ اور ’’جنسی تشدد زنا کی قسم نہیں ہے‘‘ کے زیر عنوان انھوں نے اپنے ابتدائی مضامین میں حسن صاحب کے تمام مقدمات کی تغلیط کی ہے اور اس بات پر اصرار کیا ہے کہ وہ فقہا کے نقطۂ نظر کو سمجھنے سے قاصر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   زنا بالجبر، حنفی فقہ اور امام سرخسی – محمد حسن الیاس

برادرم مشتاق صاحب نے نقد و جرح کے لیے بالعموم طنز و تعریض اور تنقیص و تضحیک کا پیرایہ اختیار کیا ہے۔ یہ ظاہرہے کہ اُن کے علمی مرتبے کے شایان شان نہیں ہے۔ اُن کاتعارف علوم اسلامی کے ایک معلم، فقہ حنفی کے ایک ماہر اور دین کے ایک مخلص داعی کا ہے۔ یہ تعارف عامیانہ کے بجائے عالمانہ اسلوب کلام کا تقاضا کرتا ہے۔ بہرحال، اس سے قطع نظر کرتے ہوئے اگر اُن کی تحریروں کے نفس مضمون کا جائزہ لیا جائے تو انھوں نے یہ نے بیان کیا ہے کہ فقہا کے نزدیک زنا بالجبر، زنا کا جرم ہی نہیں ہے، یہ جنسی تشدد کی ایک قسم ہے جس میں اکراہ شامل ہے۔ اس اعتبار سے یہ فساد کا جرم ہے۔ ربا اور دیگر متعدد جرائم کی طرح اس کی سزا بھی قرآن مجید نے مقرر نہیں کی۔ اس لیے فقہا اسے شرعی حدود کے تحت نہیں، بلکہ سیاسۃ شریعۃ کے تحت زیر بحث لاتے ہیں۔ وہ اس کے ثبوت کے لیے اقراریاشہادت کو ضروری قرار نہیں دیتے، بلکہ حالات و قرائن ہی کی بنا پر اسے ثابت مانتے ہیں۔ جہاں تک اس کی سزا کا تعلق ہے تو فقہا اس پر حدود یعنی سو کوڑے یا رجم کی سزائیں نافذ نہیں کرتے۔ ان کے بجائے وہ قاضی یا حکمران کو یہ حق دیتے ہیں کہ اپنی صواب دید کے مطابق جو چاہے سخت سے سخت سزا نافذ کرے۔ جرم کی شدت اور شناعت کے لحاظ سے یہ موت کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔ مشتاق صاحب کے مضامین کے درج ذیل مقامات اسی موقف کو واضح کرتے ہیں:

’’…..(اما م سرخسی کی کتاب المبسوط کے مطابق) فساد کے جرم پر عبرت ناک طریقے سے سزاے موت دینے کا اختیار حکمران اور قاضی کے پاس ہے اور اس کے ثبوت کےلیے اقرار یا گواہی ضروری نہیں بلکہ قرائن بھی کافی ہوتے ہیں۔ ….. فقہ کی رو سے بچی پر تشدد کی بدترین قسم کا ارتکاب کیا گیا ہے جس پر فقہی قواعد کی رو سے حدود اور قصاص کے بجاے فقہی تصور “سیاسہ” کا اطلاق ہوتا ہے اور اس وجہ سے اس شنیع ترین جرم کا ارتکاب کرنے والے بدبخت کو بدترین سزا دینا لازم ہے۔ …..ا س معصوم بچی کے ساتھ پیش آیا ہوا واقعہ حدِ زنا کا مسئلہ ہے ہی نہیں، بلکہ یہ فساد کی بدترین قسم ہے جس کے لیے فقہاے کرام “سیاسہ” کے تصور کی رو سے قاضی کےلیے یہ اختیار مانتے ہیں کہ وہ قرائن اور جدید ترین ذرائع سے میسر آنے والے ثبوتوں کی روشنی میں مجرم کو ایسی عبرت ناک سزا دے کہ پھر کسی کو اس طرح کے جرم کے ارتکاب کی جرات ہی نہ ہوسکے۔ …..جنسی تشدد زنا کی قسم نہیں ہے، نہ ہی اس کےلیے معیار ثبوت زنا کا ہے۔ ….. فقہائے کرام کی ساری بحث باہمی رضامندی سے کیے جانے والے زنا سے متعلق ہے۔ اکراہ کا ذکر اس میں دیگر اثرات کا جائزہ لینے کےلیے آیا ہے۔ …..جب جنسی تشدد کا جرم زنا کے جرم سے الگ جرم ہے، اور اس پر سیاسہ کے اصول کا اطلاق ہوتا ہے تو پھر اس کے ثبوت کےلیے چار گواہوں کی شرط بھی ضروری نہیں ہے، اور اس کی سزا بھی سو کوڑے یا رجم کے علاوہ کچھ اور شکل اختیار کرسکتی ہے۔ ‘‘(دلیل ) مشتاق صاحب کے اس فہم پر حسن الیاس صاحب نے اپنی تحریر و تقریر کے ذریعے سے اس بات پر اصرار کیا ہےکہ اس موقف کو فقہا سے منسوب کرنا کسی طرح بھی درست نہیں ہے، فقہا کا موقف وہی ہے جس کی عکاسی انھوں نے اپنے ابتدائی مضمون میں کی ہے۔ اپنی بات کی دلیل کے طور پرانھوں نے امام ابن عبدالبر اور امام سرخسی کے درج ذیل اقتباسات کو بھی پیش کیا ہے:

’’علما کا اس بات پر اتفاق ہے کہ زبردستی اور جبراً زنا کرنے والا موجب حد ہے، اگر اس پر گواہیاں پیش کر دی جائیں، وہ گواہیاں جو حد کو لازم کرتی ہیں۔ یا پھر وہ آدمی خود اس کا اقرار کر لے۔ (ابن عبد البر، الاستذکار ج ۷ صفحہ ۱۴۶) جب گواہ اس بات پرقائم ہوجائیں کہ اس مرد نے اس خاتون کو مجبور کر کے اس کے ساتھ واقعتا ًزنا کیا ہے تو اس مرد کو حد لگائی جائے گی۔ عورت کو نہیں لگائی جائے گی۔ (السرخسی، المبسوط، ج 9، ص 54)‘‘(دلیل، فیس بک)

اس بحث و مکالمے کے ضمن میں میری طالب علمانہ رائے یہ ہے کہ مشتاق صاحب نے زنا بالجبر کی سزا کے حوالے سے جو بات فقہا کی نسبت سے بیان کی ہے، اُسے کسی طرح بھی فقہا کے موقف کی ترجمانی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ مزید برآں اس سے اُن اعتراضات کی تردید بھی نہیں ہوتی جو حسن الیاس صاحب نے اپنے مضمون میں اٹھائے ہیں۔ اس پر مستزاد یہ طرفہ تماشا ہے کہ زنا بالجبر کو زنا سے الگ کرنے، اسے فساد قرار دینے، اسے چار گواہوں کے بجائے حالات و قرائن سے ثابت ماننے اور مجرم کے لیے قتل تک کی عبرت ناک سزا مقرر کرنے کا جو نقطۂ نظر انھوں نے جوابی طور پر پیش کیا گیا ہے، وہ نتائج کے اعتبار سے فقہا کے بجائے مدرسہ فراہی کے موقف کے زیادہ قریب ہے۔ اس لیے ان تحریروں کے مطالعے سے بظاہر یہ تاثر قائم ہو تاہے کہ ان میں حسن الیاس صاحب کے نقد کی تائید کی گئی ہے، مگر اس کے لیے تردید کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے، اور فقہا کے موقف کی تردید کی گئی ہے، مگر اس کے لیے تائید کا پیرایہ اختیار کیا گیا ہے۔

یہ تاثر کیسے قائم ہوتاہے، اس کودو سوالوں کے جواب میں آرا کے تقابل سے بآسانی سمجھا جا سکتا ہے۔

پہلا سوال یہ ہے کہ کیا فقہا زنا بالجبر کو زنا بالرضا سے الگ جرم تصور کرتے ہیں؟

حسن الیاس صاحب کے فہم کے مطابق اس کا جواب نفی میں ہے۔ یعنی وہ ان دونوں کو اصلاً ایک ہی نوعیت کا جرم گردانتے ہیں۔ چنانچہ مذکورہ تحریر میں انھوں نے لکھا ہے:

”فقہ اسلامی کی روشنی میں زنا بالجبر، زنا کے علاوہ کوئی الگ جرم نہیں ہے، زنا زنا ہی ہوتا ہے، چاہے جبراً ہو یا مشاورت سے۔ “

مفتی تقی عثمانی صاحب کے درج ذیل بیان سے یہی بات ثابت ہوتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

” (سورہ ٔ نور کی)اس آیت میں ”زنا“ کا لفظ مطلق ہے جو ہر قسم کے زنا کو شامل ہے، اس میں رضا مندی سے کیا ہوا زنا بھی داخل ہے، اور زبردستی کیا ہوا زنا بھی۔ “

یہ بھی پڑھیں:   “زنا بالجبر اور فکر فراہی” – محمد حسن الیاس

مشتاق صاحب اس کی واضح تردید کرتے ہیں۔ اپنے مضامین میں مختلف مقامات پر انھوں نے لکھا ہے:

”زنا بالجبر زنا کی قسم نہیں، بلکہ جنسی تشدد کی قسم ہے، اکراہ کی قسم ہے۔ “

”جنسی تشدد کا جرم زنا کے جرم سے الگ جرم ہے۔ “

”بچی کے ساتھ کی گئی زیادتی فقہ کی رو سے زنا کی تعریف میں ہی نہیں آتی۔ “

دوسرا سوال یہ ہے کہ زنا بالجبر کی صورت میں اگر حد کے شرائط پورے ہو ں تو کیا اس صورت میں فقہا کے نزدیک حد نافذ ہو گی؟

حسن الیاس صاحب کے مضمون میں اس کا جواب اثبات میں ہے:

” فقہ اسلامی اور شریعت اسلامی کی روشنی میں زینب کے ساتھ زنا کے مجرم کو (سورہ نور کی مقرر کردہ حد یعنی) سو کوڑے مارنے کی سزا سنائی جاتی ہے۔ “

مفتی تقی عثمانی صاحب کے درج ذیل الفاظ سے بھی یہی بات سمجھ میں آتی ہے:

” جس عورت کے ساتھ زبردستی ہوئی ہو، اسے سزا نہیں دی جا سکتی البتہ جس نے اس کے ساتھ زبردستی کی ہے، اس کے بارے میں زنا کی(سو کوڑے کی)وہ حد جو سورۂ نور کی آیت نمبر ۲ میں بیان کی گئی تھی، پوری طرح نافذ رہے گی۔ ۔ ۔ قرآن کریم، سنت نبویہ علی صاحبہا السلام اور خلفاءراشدین کے فیصلوں سے یہ بات کسی شبہہ کے بغیر ثابت ہے کہ زنا کی حد جس طرح رضا مندی کی صورت میں لازم ہے، اسی طرح زنا بالجبر کی صورت میں بھی لازم ہے۔ “

مگر مشتاق صاحب کا بیان اس کے برعکس ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

”جب جنسی تشدد کا جرم زنا کے جرم سے الگ جرم ہے اور اس پر سیاسہ کے اصول کا اطلا ق ہوتا ہے تو پھر اس کے ثبوت کے لیے چار گواہوں کی شرط بھی ضروری نہیں ہے اور اس کی سزا بھی سو کوڑے یا رجم کے علاوہ کچھ اور شکل اختیار کر سکتی ہے۔ “

”اس معصوم بچی کے ساتھ پیش آیا ہوا واقعہ حد زنا کا مسئلہ ہے ہی نہیں، بلکہ یہ فساد کی بدترین قسم ہے، جس کے لیے فقہائے کرام ”سیاسہ“ کے تصور کی رو سے قاضی کے لیے یہ اختیار مانتے ہیں کہ وہ قرائن اور جدید ترین ذرائع سے میسر آنے والے ثبوتوں کی روشنی میں مجرم کو ایسی عبرت ناک سزا دے کہ پھر کسی کو اس طرح کے جرم کے ارتکاب کی جرات ہی نہ ہو سکے۔ “

اس تقابل سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ زنا بالجبر کے حوالے سے فقہا کا موقف وہی ہے جسے حسن الیاس صاحب نے سمجھا ہے اور جو مفتی تقی عثمانی صاحب کے اقتباسات سے ثابت ہے۔ یہی موقف پاکستان میں فقہ حنفی کے نمائندہ علما کا متفقہ موقف ہے۔ ۲۰۰۶ میں حقوق نسواں بل کی بحث کے موقع پر مفتی تقی عثمانی، مولانا زاہدالراشدی، مفتی منیب الرحمن، قاری حنیف جالندھری، مولانا حسن جان، ڈاکٹر سرفراز نعیمی اور بعض دیگر علما نے یہ موقف ان الفاظ میں بیان کیا تھا:

”زنا بالجبر اگر حد کی شرائط کے ساتھ ثابت ہو جائے تو اس پر حد زنا جاری کی جائے گی۔ “(ماہنامہ الشریعہ، اکتوبر ۲۰۰۶)

اس جملے کے معنی یہ ہیں کہ یہ علما: ۱۔ زنا بالجبر کی اصطلاح کو قبول کرتے ہیں؛ ۲۔ اسے زنا ہی کی ایک صورت تصور کرتے ہیں؛ ۳۔ اس کے ثبوت کے لیے حد ہی کی شرائط یعنی مجرم کے اقرار یا چار مسلمان گواہوں کی شہادت کو تسلیم کرتے ہیں اور ۴۔ اس پرزنا (بالرضا) ہی کی حد یعنی سو کوڑے یا رجم کی سزا نافذ کرتے ہیں۔

چنانچہ علما و فقہا کے اس موقف اور مشتاق صاحب کی رائے کا اگر تقابلی تجزیہ کیا جائے تو واضح ہو گا کہ:

فقہ حنفی کے اکابرین یہ کہتے ہیں کہ زنا بالجبر زنا ہی کی ایک صورت ہے، جبکہ مشتاق صاحب کہتے ہیں کہ زنا بالجبر زنا کی قسم نہیں ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ یہ حدود کے دائرے کا جرم ہے، جبکہ مشتاق صاحب کہتے ہیں کہ یہ حدود کے دائرے کا نہیں، بلکہ سیاسہ کے دائرے کا جرم ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ یہ جرم مجرم کے اقرار یا چار مسلمان گواہوں کی شہادت سے ثابت ہو گا، جبکہ مشتاق صاحب کہتے ہیں کہ یہ حالات و قرائن سے ثابت ہو گا۔

وہ کہتے ہیں کہ اس پر زنا (بالرضا) ہی کی حد یعنی سو کوڑے یا رجم کی سزا نافذ ہو گی، مشتاق صاحب کہتے ہیں کہ نہیں اس پر سو کوڑے یا رجم کی سزا کے علاوہ کوئی اور سزا نافذ ہو گی۔

اگر صورت معاملہ یہی ہے توپھر یہ کوئی بہت بڑا مغالطہ ہے جس کا شکار مشتاق صاحب ہوئے ہیں یا بصورت دیگر قارئین کا حد درجہ سوئے فہم ہے کہ وہ مشتاق صاحب کی بات کا مفہوم اُن کے مدعا کے برعکس سمجھ رہے ہیں۔ بہرحال اس الجھن کو سلجھانا اب مشتاق صاحب ہی کی ذمہ داری ہے۔ ہماری گزارش یہ ہے کہ اگر ہمارا اور قارئین کا فہم درست ہے تو مشتاق صاحب کو کوئی خلط مبحث پیدا کیے بغیر پوری وضاحت سے یہ بیان کرنا چاہیے کہ فقہا کا عمومی موقف تو وہی ہے جو حسن الیاس صاحب نے سمجھا ہے، مگر وہ اُس سے قطع نظر کرتے ہوئے اپنے علم و تحقیق اور اپنے دلائل کی بنیاد پر اس مسئلے کو مختلف زاویۂ نظر سے دیکھتے ہیں۔ لیکن اگر اُن کے نزدیک ایسا نہیں ہے تو پھر اُن کو اپنی بات ثابت کرنے کے لیے توضیح و تنقیح کے کچھ مزید مراحل سے گزرنا چاہیے۔ اس ضمن میں دو نہایت سادہ سوالوں پر اُن کے متعین اور مختصر جواب نہ صرف اُس تناقض اور ابہام کو دور کر سکتے ہیں جو بادی النظر میں اُن کی تحریروں سے پیدا ہو رہا ہے، بلکہ باہمی ابلاغ مدعا میں معاون ہو سکتے ہیں۔ سوال یہ ہیں:

۱۔ حسن الیاس صاحب کی مفروضہ صورت کے مطابق اگر زینب کو کسی غیر شادی شدہ شخص نے ظلم کا نشانہ بنا کر قتل کیے بغیر چھوڑ دیا ہوتا اورچار چشم دید گواہ زنابالجبر کی شہادت دے دیتے تو فقہا کے موقف کے مطابق اس جرم کو کس لفظ یا اصطلاح سے تعبیر کیا جاتا اور مجرم پر کون سی سزا نافذکی جاتی؟

۲۔ فقہا کا مختار اگر موقف وہی ہے جسے مشتاق صاحب نے سیاسہ کے زیر عنوان بیان کیا ہے اور جس کے مطابق زبردستی کیے گئے زنا پر نہ زنا کا اطلاق ہوتا اور نہ اس کے حدود کا تو پھر وہ موقف کس کا ہے جو مفتی تقی عثمانی، مولانا زاہد الرشدی، مفتی منیب الرحمن اور بعض دیگر جید حنفی علما کے حوالے سے اوپر نقل ہوا ہے اور جس کے مطابق زبردستی کیے گئے زنا پر زنا اور اس کے حدود ہی کا اطلاق ہوتا ہے؟

 
Dr. Muhammad Hamidullah
Visit Website of Dr. Muhammad Hamidullah

You might also like More from author

تبصرے

Loading...