ایک سیاسی (بظاہر غیر سیاسی) حکایت اور نبی کریمؐ کی ازدواجی زندگی از ابن آدم

صحیح بخاری کتاب النکاح میں عیسی بن یونس کی روایت میں 11 عورتوں کا ایک مکالمہ بقول راوی حضرت عائشہؓ کے ذریعے سے نبی کریمﷺ تک پہنچا ہے- ازروئے روایات وہ عورتیں اپنے شوہروں کی خصوصیات بیان کر رہی تھیں، جن میں آخر میں ام زرع نامی عورت نے اپنے شوہر ابو زرع کا قصہ کچھ یوں بیان کیا:

’’ گیارھویں عورت کہنے لگی کہ میرے خاوند کا نام ابو زرع ہے۔ ابوزرع کا کیا پوچھنا ، اُس نے زیورات سے میرے کانوں کو جھُکا دیا ، کھلا پلا کر میرے بازوؤں کو چربی سے موٹا کر دیا کہ میں اپنے موٹاپے کو محسوس کرنے لگی۔شادی سے پہلے چند بھیڑ بکریوں کے سہارے میں مشکل سے گذراوقات کر رہی تھی لیکن ابوزرع نے مجھے بکثرت گھوڑوں ، اُونٹوں اور کھیتوں کا مالک بنا دیا ، اِتنی جائداد کا مالک ہونے پر بھی اُس کا مزاج بہت عُمدہ ہے ، میں بات کرتی ہوں تو وہ کبھی بُرا نہیں مناتا ، سو جاؤں تو خواہ صبح تک سوتی رہوں لیکن کبھی نہیں جگاتا۔اپنی مرضی کے مطابق کھاتی پیتی ہوں۔ابوزرع کی والدہ یعنی میری ساس صاحبہ کا کیا کہنا ، اُس کے صندوق بھرے رہتے ہیں اور گھر کشادہ ہے۔ابوزرع کا بیٹا نہایت نازک اَندام پتلا اور چھریرہ جسم ۔کم خوراک اِتنا کہ چوماہی بکری کی ایک ہی دستی میں شکم سیر ہو جائے۔ابوزرع کی بیٹی کی کیا بات ہے۔باپ اور ماں کی لاڈلی اور فرمانبردار ہے لیکن سوکن کے دِل کی جلن ہے۔ابوزرع کی لونڈی کا بھی کیا کہنا ، ہماری باتوں کو اِدھر اُدھر نہیں پھیلاتی اور نہ گھر کے کسی راز کو فاش کرتی ہے ، کوئی چیز چُرا کر نہیں کھاتی اور گھر کی پوری طرح صفائی رکھتی ہے اور گھر کو صاف سُتھرا رکھنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتی۔اُس کا بیان ہے کہ ایک روز ابوزرع ایسے وقت گھر سے باہر نکلا کہ میں دودھ سے مکھن نکال رہی تھی ، اُسے ایک عورت مِلی جس کے چِیتے کے بچوں کی طرح دو بچے تھے جو اُس کے زیرِ بغل پستانوں سے کھیلتے ہوئے دُودھ پی رہے تھے۔پس اُس نے مجھے طلاق دے کر اُس عورت کے ساتھ نکاح کر لیا ۔ اِس کے بعد ناچار میں نے ایک ایسے شخص سے نکاح کر لیا جو بہترین گھڑ سوار اور نیزہ بازی کا شائق تھا ، اُس نے مجھے بہت سے جانور اور ہر قسم کے اسباب سے ایک جوڑا دیا ، اُس نے مجھے اِجازت دی کہ جتنا چاہو کھاؤ پیو اور اپنے عزیز و اقارب کو بھی کھلاؤ ، لیکن اُس نے جتنا مال مجھے دیا اُس کے ساتھ تو ابوزرع کا ایک برتن بھی نہیں بھرے گا۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ میں بھی تمہارے لیے اسی طرح ہوں جیسے اُمِّ زرع کیلئے ابو زرع تھا۔‘‘
{صحیح بخاری کتاب النکاح }

عیسی بن یونس کے بقول نبی کریمؐ نے حضرت عائشہ‌ؓ سے فرمایا کہ “میں تمہارے لیے ویسا ہوں جیسا ام زرع کے لیے ابو زرع تھا”، جبکہ غور کیا جائے تو روایت میں ابو زرع نے ایسا کونسا اعلیٰ کردار کا مظاہرہ پیش کیا ہے کہ اسکو نبی پاک کی ذات سے موازنتاً پیش کیا جائے، اس نے تو ایک ایسی عورت کو دیکھ کر کہ جس کے بچے اسکے سینے سے اسکا دودھ پی رہے تھے، اس کے لیے ام زرع کو چھوڑ دیا تھا- کیا نعوذ باللہ نبی کریم اپنی ذات کو ایک ایسے رنگین شخص سے جوڑتے کہ جو راہ چلتے بھی عورتوں کو تاکتا ہو، اور ایسی ہی کسی عورت کی خاطر بلاوجہ اپنی بیوی کو چھوڑدے- یہ کون سا اعلی اخلاق کا نمونہ تھا جسکو راوی عیسی بن یونس نبی کریمﷺ کی ذات سے متصف کررہا ہے۔

اگر نبی کریمؐ کی ازدواجی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو اس کہانی کو نبی پاک ﷺ سے جوڑنے کا مقصد سمجھ آجاتا ہے- حضرت عائشہؓ کی شادی کے بعد حضرت ام سلمہؓ ہی ایک ایسی خاتون حرم نبویؐ میں آئی ہیں کہ جن کی ایک دودھ پیتی بچی (زینب بنت ابوسلمہؓ ) بھی ان کے ساتھ نبی کریمؐ کے گھر میں آئی تھیں—– راویوں کی زہریلی پود جہاں حضرت عائشہؓ سے شدید بغض رکھتی تھی، وہاں حضرت خدیجہؓ کے بعد صرف حضرت ام سلمہؓ کو ہی پسند کرتی تھی، کیونکہ انکے ایک صاحب زادے جنگ صفین و جمل میں حضرت علیؓ کے طرفدار تھے- اور اس روایت کے راوی عیسی بن یونس کے دادا ابو اسحق سبیعی ایک مسلمہ شیعہ راوی ہیں۔

ام زرع کی کہانی کو حضرت عائشہؓ اور نبی پاکؐ کی زندگی پر غیر ضروری طور پر فٹ کرنے کی وجہ یہ تھی کہ یہ ثابت کیا جائے کہ جس طرح ایک بچے والی عورت ابوزرع کی زندگی میں ام زرع کے مقابلہ میں زیادہ اہم تھی، ویسے ہی حضرت ام سلمہؓ (جو کہ پہلے شوہر سے اولاد والی تھیں) بھی بے اولاد حضرت عائشہؓ کے مقابلہ میں حضورؐ کے لیے زیادہ منزلت رکھتی تھیں۔

تمام امہات المومنین میں حضرت عائشہؓ کا مقام جس طرح روز روشن کی طرح نمایاں تھا، اس سے براہ راست انکار تو راویوں کے لیے ممکن تھا نہیں- ناچار ماضی کی لوک کہانیوں کو روایتوں کے روپ میں امت کے سامنے پیش کرنے لگے، اور نبی کریمﷺ اور انکے حقیقی اہل بیت کی ایک مکروہ منظر کشی کرنے لگے۔

کاش ہمارے مصنفین روایات لکھنے سے پہلے درمیان کے راویوں کے اس بغض کو بھی ہر روایت قبول کرنے سے پہلے مدنظر رکھتے، تو ایک جانب جہاں ہماری کتب میں سیرت نبوی اپنی اصل کی طرح بے داغ صورت میں ہمارے سامنے رہتی وہیں یہ تبرائی روایات دین میں تفرقہ ڈالنے کے لیے تخریب کا بھی کام نہ کرتیں۔

سوچنے کے لیے ایک سنجیدہ بات یہ ہے کہ کیونکہ ہم مسلمانوں نے تو بحیثیت امت بعد از قرآن بھی متعدد کتب کو منزل من اللہ مان ہی لیا ہے لہذا جو بھی خرافات ان میں داخل ہوگئی ہیں، ان پر تاویلات کرکے ہم قبول کر لیتے ہیں، مگر کیا کوئی غیر مسلم بھی اس نوع کی تبرائی کہانیاں پڑھ کر نبی کریمؐ کی ایک متاثرکن شخصیت اپنے ذہن میں لا پائے گا، اس بات سے اس امت وسطی کو اب کوئی سرو کار نہین رہا ہے جبکہ یہی چیز سب سے پہلے سوچے جانے کے لائق ہے کہ اس دین کی ترویج کو روکنے کے لیے جتنے بھی کانٹے تبررائی راویوں نے بوئے ہیں، انکو چن کر صاف کیا جائے کیونکہ تمام دنیا کے سامنے دین اور اسکے شارح کی صاف اور بے داغ تصویر سامنے لانا اس امت کی اولین ذمہ داری ہے۔

 
Posted by | View Post | View Group
ماخذ فیس بک

You might also like More from author

تبصرے

Loading...