براھیمی نظر پیدا بڑی مشکل سے ھوتی ھے ،، تحریر قاری حنیف ڈار

براھیمی نظر پیدا بڑی مشکل سے ھوتی ھے ،،
ھوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنا لیتی ھے تصویریں ،،

اللہ پاک نے کتنی سادہ اور عام فہم بات بیان کی ھے کہ ایک خالق ھے جس نے مخلوق پیدا کی ھے ، تا کہ وہ اپنے خالق کو پہچانے اور اس کی اطاعت کرے ،، اس مخلوق تک اپنے احکامات پہنچانے کے لئے انہی میں سے رسول چنے ، کچھ نے ان رسولوں کی رسالت کو بھی مانا اور ان کے ذریعے پہنچنے والے رسالے کو بھی مانا اور اس میں دی گئ ھدایات پر عمل کیا اور رب کی رضا پا گئے ،،

کچھ نے ان رسولوں کو بھی جھٹلا دیا ، اور رسالے کو بھی جھٹلا دیا ،، اپنی مرضی کی زندگی جئے اور اپنے خالق کے مجرم بن کر حاضر ھونگے ،، ماننے والوں کو انعام اور جھٹلانے والوں کو سزا دی جائے گی جس کے لئے ایک بڑے دن کا اھتمام کیا جائے گا جو تب تک ختم نہیں ھو گا جب تک ایک ایک کا حساب نہیں ھو جاتا ،،

اس کے مقابلے میں یونانی ملاحدہ کے فلسفوں سے آلودہ نئے نئے نظریئے پیش کر کے سیدھے رستے پر دھول اڑائی گئ اور اس کو ٹیڑھا کرنے کی سعی کی گئ ، واضح کو مبہم کر دیا گیا اور خالق و مخلوق ، عابد اور معبود آمر اور مامور ، کو ایک کر دیا گیا ،، یوں خود ھی ایک سراب تخلیق فرما لیا ،،

خود کوزہ و خود کوزہ گر و خود گِلِ کوزہ ،،

اگر خدا کے وجود کے سوا باقی سب سراب ھے ،، تو سرابوں کی یہ فہرست کافی طویل ھو جاتی ھے،

۱ – سارے رسول معاذ اللہ سراب قرار پاتے ہیں ،،، ساری شریعتیں سراب ،، ساری کتابیں سراب ،،
جب ھے ھی کوئی نہیں، تو کون آیا ؟ کس کی طرف آیا ؟ کیوں آیا ؟ ساتھ کیا لایا ؟ خدا راضی کن سے ھوا ؟ غصے کن پر ھوا ؟ کشتی پر سوار کون ھوا ؟ اور کون ڈوب گیا ؟ حکم کس کو دیئے گئے ؟ حکم کس نے توڑے ؟ بستیاں کس کی الٹی گئیں اور کیوں الٹی گئیں ؟ جب ھے ھی کوئی نہیں تو مطالبے کس سے کیئے گئے ؟، بدر و احد کس نے لڑی ؟ قصہ آدم و ابلیس کیا ھوا ؟ مدینے میں مزار کس کا ھے ، مکے میں گھر کس نے بنایا ؟ کس کا بنایا ؟ کن کے لئے بنایا ،، ؟

۲- ڈاکٹر اسرار احمد بھی ایک سراب کا نام تھا ، جو ساری زندگی ایک سراب کی طرف دعوت دیتے رھے ، جو ان کے متبع بنے وہ بھی سراب ،جنہوں نے ان کی مخالفت کی وہ بھی سراب اور ایک دن وہ سراب ایک سراب کے بستر پر دم توڑ گیا ،،
قاری حنیف بھی سراب ، پھر گستاخ کون ھوا ، فتوے کس کے خلاف دیئے گئے اور دینے والے بھی سراب، یا للعجب 
یہ سب باتیں آپ کو وحدت الوجود والوں کے اقوال و شاعری میں مل جائیں گی ،،

وحدت الوجود بھگتی مذھب کا سروپ!

بھگت کبیر نے ھندوستان میں تمام مذاھب پر مشتمل ایک ملغوبہ بنایا تھا ،یہ ایک بیوہ ھندو عورت کی ناجائز اولاد تھا جسے اس کی ماں نے سماج کے خوف سے ایک تالاب کے کنارے پھینک دیا تھا،جہاں سے وہ مسلمان جولاھے کے ھاتھ لگا ، اسی نے وہ مذھب تخلیق کیا کہ جسے بڑے بڑے صوفیاء نے گرم کیک کی طرح ھاتھوں ھاتھ لیا ،، نوبت یہانتک پہنچی کہ اکبر دینِ اکبری بنانے پر مجبور ھو گیا ،جو اصل میں بھگتی مذھب تھا ! اس میں اللہ پاک ھی ھر ھر میں ھے ،، کاشی اور مکہ ایک ھی ھیں اور گنگا اور زمزم ایک ھی چشمے کے دو سوتے ھیں ! ھندو اور مسلم کوئی غیر نہیں اور نہ ھی ان میں کوئی برا ھے ،سب اسی کے مرضی کا رول کر رھے ھیں ! مسلمان صوفیاء کی شاعری جو اس زمانے سے تعلق رکھتی ھے، وہ بتاتی ھے کہ بھگتی مذھب یا وحدت الوجود یا ” ھر ھر “مذھب اتنا مقبول تھا کہ صوفیاء نے اس کے اظہار میں کوئی خوف محسوس نہیں کیا کہ قرآن و حدیث کے بالکل خلاف نظرئے پر مسلمانوں میں کوئی رد عمل ھو گا ،، آج دوسروں کو مستحبات و مباحات کے اختلاف پر کافر قرار دینے والے اس زمانے کے صریح کفر کو کس طرح شیر مادر سمجھ کر ھضم کرتے رھے،، تف ھے ان کی غیرت ایمانی پر !

بلہے شاہ اور بھگتی مذھب !

دوئی دور کرو کوئی شور نہیں !
ایہہ تُرک ،ھندو کوئی ھور نہیں !

سب سادھ کہو ،کوئی چور نہیں !
ھر گھٹ وچ آپ سمایا ائے !

ایک جگہ فرماتے ھیں !

کیوں اوئلے بہہ بہہ جھاکی دا ؟
ایہہ پردا کس توں راکھی دا ؟

تسیں آپے آپ ھی سارے ھو !
کیوں کہندے اسی نیارے ھو !

آئے اپنے آپ نظارے ھو !
وچ برزخ رکھیا خاکی دا !

بھگتی مذھب ” ھر ھر ” یا ھمہ اوست ! پر لکھتے ھیں !

اک لازم بات ادب دی اے !
سانوں بات ملومی سب دی اے !

ھر ھر وچ صورت رب دی ائے !
کتے ظاھر تے کتے چَھپدی اے !

اب بایا فرید کا مذھب بھی دیکھ لیں !

سب صورت وچ ذات (اللہ ) سنجانی !
حق باھجوں کوئی غیر نہ جانی !

نہ کوئی آدم نہ کوئی شیطان !
بن گئ سب کوڑ کہانی !

قرآن میں تاکید سے بار بار کے بیان کردہ قصہ آدم و شیطان کو ” کُوڑ ” یعنی جھوٹ کہہ دینا اور پھر نہ صرف مسلمان رھنا بلکہ قطب اور غوث بھی بن جانا یہ صوفیاء کا ھی کمال تھا !

تفسیرِ نعیمی کی جلد ششم ذرا دیکھ لیجئے توحید کے بیان میں کیا گلفشانی کی گئ ھے !

خود بن کے خلیل آپ کو آتش میں گرایا ! اور خود ھی اس گھر کو گلزار بنایا !
یوسف تمہیں یعقوب تمہیں ، تم ھی زلیخا ،، موسی تمہیں ،عیسی تمہیں اور تمہی ھو یحی !

باقی تو خیر جو ھے سو ھے ،، اللہ کے زلیخا ھونے کے بارے میں کیا خیال ھے

سورس

Dr. Muhammad Hamidullah
Visit Website of Dr. Muhammad Hamidullah

You might also like More from author

تبصرے

Loading...