بول مٹی دیا باوی۔۔بمعہ۔۔ اردو ترجمہ

او بول مٹی دیا ، او بول مٹی دیا باویا ،

تیرے دکھاں نے مار مکا لیا ، میرا سوہنا ماہی

او مٹی دا میں باوا بنایا ، اُتے چا دتی اے کھیسی

وطناں والے مان کرن ، کی میں مان کراں میں پردیسی

میرا سوہنا ماہی ، آ جا ہو ہوووووووو ۔۔۔۔ اوئے

ہو بوہے اگے لاواں بیریاں ، گلاں گھر گھر ہوون تیریاں تے میریاں

مینوں شکل دکھا جا ، آ جا ہو ووووو ۔۔۔۔ اوئے

ہو گل وچ میرے ڈھولنا ، سانوں معاف کریں مندا بولنا

مینوں شکل وکھا جا ، آجا ہو وووو۔۔۔۔۔ اوئے

او بول مٹی دیا ۔۔۔۔۔

او بول مٹی دیا ، باویا او کیوں نئیں بولدا ؟ برا کیوں نئیں بولدا ؟

ہائے دلاں دی گھنڈی نوں ، ویریا نئیں کھولدا ؟

او بول مٹی دیا ۔۔

جد میت نظریں آوندی ، چھیتی کرن اُپا ، پانی صابن پیل کے ، انہوں دتے خوب نہوا ،

اودے قد وچ الفی ڈال دے ، کلمہ طیب لکھا ، او گھروں پریرے ، قبروں ریرے تن سو سٹھ جواب

تے کیوں نئیں بولدا ، برا کیوں نئیں بولدا ، دلاں دی گھنڈی نوں ، ویریا نئیں کھولدا

او بول مٹی دیا ۔۔۔

او ماں دھی نوں متاں دیندی ، توں مایا وچ موئی نی

تینو لج کسے دی ناہیں ، توں کی لیں گی لوئی نی

صاحب دا دروازہ نیواں ، توں پگڑی اوچیائی نی

شام سویرے غافل کڑیے ، سُتیاں رین وہائی نی

کی ہویا ؟ کی ہویا تینوں؟ ، چرخے تند نئیں پائی نی

بن بیٹھی پنج پھولاں رانی ، گھر وچ حکم چلایا نی ،

نو دروازے محل تیرے دے ، اُچا بہت بنایا نی

کس کولوں تو کوٹھا لیتا ؟، کاغذ نئیں کروایا نی ،

خبر نئیں اوتھے دھکا ملنا ، لخیا نئیں کرایا نئیں ، ندی کنارے ڈھا ہمیشہ کندھ ریت دی پئی نی

شام سویرے غافل کڑیے ، سُتیاں رین وہائی نی

تے کیوں نئیں بولدا برا کیوں نئیں بولدا ، ہائے دلاں دی گھنڈی نوں ویریا نئیں کھولدا

او بول مٹی دیا ۔۔۔۔۔

بول مٹی دیا ۔۔۔۔۔

ہو ہو ہو ہو ۔۔۔۔

اردو ترجمہ ۔

او ماٹی کے پُتلے

بول ، تو بولتا کیوں نہیں ؟،

میرے دلدار ، تیرا دکھوں نے مجھے مار ڈالا ہے ۔

تیری یاد میں ، میں نے ایک مٹی کا پُتلا بنا کر

اس پر ایک سوتی چادر ڈال دی ہے تاکہ تجھ جیسا دکھے ،

اپنے وطن بسنے والے ، خوش ہیں ، لیکن میں پردیسی تجھ بن کیسے جیوں ،

میں نے گھر میں تمہاری بلائیں دور کرنے کے لئے بیری کا درخت لگایا ہے ،

میری اور تیری الفت کے چرچے اب ہر گھر میں ہو رہے ہیں ،

اب طاقت برداشت نہیں ، مجھ سے آن ملو ۔

اے مٹی کے پُتلے تو بولتا کیوں نہیں ؟،

وہ راز جسے تو نے بری بات کی طرح دل میں چھپایا ہوا ہے ، اسے کھول دے

اس وقت سے پہلے ،

جب مرنے کے بعد عزیز دوست اور رشتہ دار مری میت کو جلدی جلدی نہلا کر ،

کلمہ طیبہ سے مزین کفن میں لپیٹ کے قبر میں دفن کرنے کے بعد بھول جائیں گے،

تو اس راز کو کھول دے ۔

ماں اپنی بیٹی کو سمجھاتی ہے ، تو مایا کی لوبھ میں مر مٹ گئی ہے ،

تجھے ماں باپ کی عزت کا ذرا خیال نہیں ہے ، تو کیا شرم و حیا کی لاج رکھے گی ،

تیرے صاحب کی عزت والی چوکھٹ نیچی ہے لیکن تونے اپنی انا کی پگڑی بہت اونچی باندھ رکھی ہے ،

اے غافل ! لڑکی تو نے اپنی عمر کے صبح شام غفلت کی نیند سو کر گذار دیے ،

تجھے کیا ہوا ہے کہ تو نے اپنے چرخے سے سوت کات کر کوئی کمائی نہیں کی ؟،

اس عارضی ٹھکانے کو تو مستقل سمجھ کر رانی پھولاں کی طرح حکم چلاتی ہے ،

تیرے بلند و بالا عزائم کے خوبصورت محل کے دروازے بہت سے ہیں ،

ذرا سوچ ، یہ محل تمہارا ہے ؟ کیا اس کی ملکیت کی پکی فرد ملکیت تیرے پاس ہے ؟ ،

پتہ نہیں شوہر کے گھر جا کر تیرے ساتھ کیا سلوک ہو ،

میں تو یہ جانوں کہ وقت کے تیز بہتے دھارے کے کنارے ریت کا محل سلامت کھڑا نہیں رہ سکتا ،

اور تو عمر کی رُت غافل سو کر گذار رہی ہے –

اے ماٹی کے پُتلے ، بول ،

تُو کیوں نہیں بولتا ؟۔

بول ۔

Posted by | View Post | View Group

You might also like More from author

تبصرے

Loading...