تخلیق کی ابتدا ! از قاری حنیف ڈار

0

جاننے والے بخوبی جانتے ہیں اور جو نہیں جانتے وہ جان لیں کہ مابدولت کسی زمانے میں جمعیت خدام القرآن اور اس سے متعلقہ نظم کا حصہ تھے ،، ڈاکٹر صاحب کا پروگرام تھا۔ ہلٹن ہوٹل میں جس میں پاکستانی اور انڈین اردو دان طبقے کی کریم اکٹھی تھی ، اس پروگرام کے دوران ڈاکٹر صاحب نے ڈارون کی تھیوری پر بات کی ، جس میں بتایا گیا کہ ڈارون سے بھی بہت پہلے ایک مسلمان اسکالر اس موضوع پر یہی کچھ لکھ گئے ہیں جو ڈارون نے لکھا ھے ـ ان کے بقول جانداروں کی تخلیق کا ابتدائی پراسیس وھی ھے جو ڈارون کہتا ھے مگر فرق یہ ھے کہ ھم یہ کہتے ہیں کہ یہ خود بخود نہیں ھوا بلکہ اللہ پاک نے اس پراسیس سے جانداروں کو پیدا فرمایا اور پھر ان میں سے کو الگ کر کے اس کو خلافت کے لئے چنا ـ وہ اچانک تبدیلی جس کی وجہ سے ایک نسل سے دوسری نسل الگ چلنے لگتی ھے وہ ایک کرشمہ ھے جو اللہ پاک کے کلمہ کن کی مظھر ھوتا ھے ،خدا کو اس تخلیق میں سے نکال کر وھی بےبسی باقی رہ جاتی ھے جس کا سامنا ڈارون کو کرنا پڑا کہ وہ اس تبدیلی کی کوئی سائنسی وجہ بیان نہ کر سکا ـ

پروگرام کے دوران تو ھم بندے چیک کرنے میں مصروف رھے کہ کتنے حاضری ھے اور کون کون آیا ھے۔ لہذا ڈاکٹر صاحب کے خطاب پر کوئی خاص توجہ نہ دے سکے ، جب اس پروگرام کی آڈیوز کمرشل بنیادوں پر ریکارڈ ھونے لگیں تو دوران ریکارڈنگ میں نے ڈاکٹر صاحب کا خطاب سنا اور حسب معمول ایک مولوی کی حیثیت سے اس پر ہنگامہ کھڑا کر دیا کہ ڈاکٹر صاحب نے یہ کیا کہہ دیا ہے! ہم چاہتے تھے کہ ڈاکٹر صاحب اس موضوع پرہمیں دلیل سے قائل کریں تا کہ ہم اپنے مقتدیوں کو بھی قائل کر سکیں ، ایسا ممکن نہیں کہ ایک تھیوری تو ڈاکٹر صاحب دیں اور ہم صرف ان کے تقدس میں اس کا دفاع کرتے اور اپنے ضمیر سے خیانت کرتے رہیں ـ مگر ڈاکٹر صاحب کوئی بات سننے یا کرنے کے لئے تیار نہ تھے ، وہ فرماتے کہ یہ میرا ذوق ھے اگر کوئی اس کو تسلیم نہیں کرتا تو بھی ھمارے نظم کا حصہ رہ سکتا ہے ،جبکہ میرا اصرار تھا کہ اتنی بڑی بات کو کلیئر کیئے بغیر ہم کسی نظم کے تابع نہیں رہ سکتے ـ

خیر اسی رسہ کشی کے نتیجے میں ہم کو نظم سے فارغ کر دیا گیا ـ ڈاکٹر صاحب اس موضوع پر کُھل کر نہیں بولتے تھے تا کہ علماء کو ان کے تعاقب کے لئے نیا ایشو نہ مل جائے ، مگر اس مروت کے باجود جب علماء ان کو مودودی صاحب کی ایکسٹینشن کہہ کر ان کی مخالفت کرتے رھے تو انہوں نے اس بحث کو کتاب کی شکل دے دی اور اس تھیوری پر کتاب بھی لکھ دی جس کی ایک کاپی ہم کو بھی فراہم کر دی گئی ، ہم جب تک روایتوں کے اسیر رھے قرآن کریم کے واضح اشارے بھی ھماری سمجھ سے دور ہی رہے ـ ھم ڈاکٹر صاحب کے رد میں روایتیں ہی پیش کرتے اور ڈاکٹر صاحب کو منکرِ حدیث کہتے ،، مگر جب خود ڈاکٹر صاحب والی جگہ پر جا کھڑے ھوئے تو ہر پہلو واضح ھو گیا ـ اس لئے اس تحریر پر ہر قسم کے فتوے اور ردعمل کو مکافات عمل اور ڈاکٹر صاحب سے کی گئی گستاخی کا کفارہ سمجھ کر قبول کر لونگا ـ کتاب جب ہم کو ملی تب تک ہم خود ڈاکٹر اسرار بن چکے تھے۔ لہذا اس کتاب کو یونہی virgin رکھ چھوڑا اور پڑھنے کی نوبت ہی نہ آئی ـ لائبریری ختم کی تو وہ کتاب بھی دیگر کتابوں کے ساتھ بانٹ دی گئی ـ

اس مضمون سے پہلے کوشش کی کہ وہ کتاب دستیاب ھو تو ڈاکٹر صاحب کے دلائل پر بھی نظر ڈال لی جائے ،مگر کتاب نہ ملنی تھی سو نہ ملی۔
ہم سب کو اللہ پاک نے پیدا فرمایا ہے ـ کائنات و ما فیھا ،فرشتے ،جنات ، حیوانات ،جمادات ،نباتات ،گلیکسیز خلا و فضا پانی اور ھوا اور انسان یہ سب اللہ پاک کی تخلیق ہیں ، اس پر ایمان رکھتے ھوئے یہ تحقیق کہ کونسی چیز کس طرح اور کن مراحل سے گزر کر بنی خلاف ایمان نہیں بلکہ باعثِ اطمینان ہے ،جیسا کہ حضرت ابراھیم علیہ السلام نے اس بات پر ایمان رکھتے ھوئے کہ اللہ پاک سب کو دوبارہ بنائے گا ،یہ سوال خود اللہ پاک سے پوچھ لیا کہ ’’ ارنی کیف تحی الموتیٰ ‘‘ ؟ مجھے بتا نہیں بلکہ دکھا دیجئے کہ آپ مردے کیسے زندہ فرمائیں گے؟ بتائے پر تو میں پہلے ہی ایمان رکھتا ھوں بس دیکھنے کا تجسس ہے کہ ھو گا کیسے ،، اللہ پاک نے بعد والوں کو کنفیوژن سے بچانے کے لئے بات وہیں کلیئر کر لی کہ ’’ او لم تؤمن ؟ کیا تم اس پر ایمان نہیں رکھتے کہ مردے زندہ کیے جائیں گے ؟ قال بلی ،، عرض کیا کہ کیوں نہیں رکھتا ۔۔ ولکن لیطمئن قلبی ،، میں اپنے دل کے اطمینان کے لئے عرض کر رھا ھوں ۔،، گویا ایمان اور اطیمنان الگ الگ کیفیات ہیں ـ اس اطمینان کے لئے اللہ پاک نے وہ کام خود ابراھیم علیہ السلام کے ہاتھوں کروا کے بتا دیا کہ اسی طرح بکھرے اجزاء ھماری ایک آواز پر زندہ ھو کر اکٹھے ھو جائیں گے !

تو عرض ھے کہ علیہ السلام کو اللہ پاک نے ہی پیدا فرمایا ھے اور گلی سڑی مٹی سے ہی بنایا ہے مگر سوال یہ ھے کہ کس طرح بنایا ہے؟ کیا علیہ السلام کا مٹی کا بُت اللہ پاک نے ھماری طرح دو ہاتھوں سے بنایا ؟ جس طرح انسان مٹی کے کھلونے بناتے ہیں ؟ ایسا ھر گز ممکن نہیں اس لئے کہ اللہ پاک کے ہاتھ کوئی بھی نہیں مانتا ‘‘ جو کہتے ہیں کہ اللہ پاک نے مٹی کا بُت بنایا وہ یا اللہ کے ہاتھوں سے بنایا ھوا بُت تسلیم کریں یا بتائیں کہ وہ بُت کیا فرشتوں نے بنایا تھا ؟ یا ہوائیں چلتی رھیں اور کسی پہاڑی کو کاٹ کر کے بت کی شکل دے دی گئی؟ پوری کائنات اللہ کے دستِ تخلیق کا شاہکار ہے مگر اسباب کے ذریعے بنائی گئی ہے ، اسی طرح علیہ السلام بھی اسباب کی زنجیر کا حصہ ہیں ،، اللہ پاک نے جو قرآن میں فرمایا ھے کہ [ منھا خلقناکم و فیھا نعیدکم و منھا نخرجکم تارۃ اخری ] ھم نے تمہیں اسی زمین سے پیدا کیا ھے اور اسی میں تمہیں لوٹائیں گے اور اسی میں سے دوبارہ نکالیں گے ] یہ خطاب ھم سب کو ھے ،کیا ھم سب کے مٹی کے بت بنائے جاتے ہیں؟ علیہ السلام سے لے کر ھم تک سب اس زمین سے بنائے گئے کہ مگر مختلف مراحل سے گزر کر زمین سے اخذ کردہ یہ اجزاء ھماری شکل میں ظاھر ھوئے ـ

جو روٹی ھم کھاتے ہیں وہ اللہ پاک کی ھی عطا کردہ ھے اور زمین میں سے نکلی ھے۔ اس روٹی کی تخلیق کا ھر مرحلہ روٹی ھی ھے اور ان مراحل میں سے کسی مرحلے کو بھی ذکر کر کے اللہ کا احسان جتایا جا سکتا ھے، زمین کو مختلف مراحل سے گزار کر فصل کے لئے تیار کرنا ، پھر بونا ، پھر پانی کھاد دینا، پھر کاٹنا ،پھر گاھنا پھر دانے پسانا پھر آٹا گوندھنا پھر اس کو پکا کر روٹی کی شکل دینا ، بظاھر تو آپ کے ہاتھ میں صرف روٹی ھوتی ھے جبکہ حقیقت میں یہ روٹی ان تمام مراحل کی ایک کتاب ہے ـ

سوال یہ ھے کہ مٹی میں سے کو کیسے نکالا گیا اور کیا قرآن حکیم ان مراحل کی تفصیل بتاتا ھے ؟ اگر قرآن میں اس کے واضح اشارات موجود ہیں تو ان کو مان لینے میں خدا کی کس صفت کا انکار ہے؟ سورہ الم السجدہ میں اسباب کی یہ زنجیر بڑی تفصیل کے ساتھ بیان فرمائی گئی ہے !

[ الَّذِي أَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُ وَبَدَأَ خَلْقَ الْإِنْسَانِ مِنْ طِينٍ (7) ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهُ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ مَاءٍ مَهِينٍ (8) ثُمَّ سَوَّاهُ وَنَفَخَ فِيهِ مِنْ رُوحِهِ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ قَلِيلًا مَا تَشْكُرُونَ (9)

اب آیئے آدم علیہ السلام کو ھر اسٹیج پر بنتے دیکھتے ہیں ، اللہ وہ ھستی ھے جس نے جو چیز بھی بنائی کمال کی بنائی اور انسان [ آدم ] کو بنانے کی ابتدا مٹی سے کی ـ پھر رکھا اس[ آدم] کی نسل کو ایک بےوقعت پانی کے خلاصے میں،( یعنی آدم کی ایک شکل بن گئی ھے اس شکل کو اب نطفے کے ذریعے Extend کیا جا رھا ھے، چلایا جا رھا ھے، پہلے مٹی کے سلالۃ یعنی خلاصے سے بدن تک پہنچایا پھر اس بدن یعنی بت کی نسل نطفے یعنی پانی کے خلاصے سے شروع کر دی ھر جاندار سے الگ الگ آدم کی بجائے ایک آدم سے مزید آدموں کی پیدائش ھونا شروع ھو گئی [ ثم جعل نسلہ من سلالۃ من ماء مھین ]یہ کس کی نسل چل رھی ھے اس ھُو کی ضمیرکس کی طرف ھے ؟ ظاھر ھے انسان کی طرف آدم علیہ السلام کی طرف مگر ابھی وہ علیہ السلام نہیں بنے کتنے آدم کھپیں گے تو وہ علیہ السلام والے آدم سامنے آئیں گے ، وہ اس مرحلے پربھی انسان یعنی آدم ہی ھے حالانکہ اس میں روح نہیں پھونکی گئی ، ابھی بدن ہی زیرِ بحث ھے جو مٹی سے بنا ہے ابھی اس میں مزید ڈرائیورز انسٹال کرنے باقی ہیں ـ

ثم سواہ ،، پھر اس کو تسویہ کیا ،، یہاں بھی ھُو کی ضمیر کس کی طرف ھے ؟ کس کی نک سک درست کی گئی ھے ؟؟ آدم کی مگر ابھی بھی وہ علیہ السلام نہیں ھوئے ابھی روح نہیں ڈالی گئی حالانکہ وہ زندہ ہیں اور نطفے سے ان کی نسل چلتی آ رھی ھے[ ثم جعل نسلہ من سلالۃ من ماء مھین ] ثم سواہ و نفخ فیہ من روحہ ،، پھر اس کو تمام صلاحیتوں سے Enable فرمایا یہ تسویہ ھے ، اس کے بعد اپنی صفات کا خلاصہ یا نچوڑ ، ارادہ اور اختیار اور تخلیق کا ہنر عطا فرما دیا ،، ان صلاحیتوں سے مالا مال مال وہ ہستی تھی جس کے سامنے فطرت کے نمائندہ فرشتوں کو سرِ تسلیم خم کرنے Bow down کا حکم دیا گیا ـ اب ھر بچہ نطفے کی حالت میں ھی ان تمام صلاحیتوں کی ابتدائی شکل کا حامل ھوتا ھے ،، روح کے القاء یا ڈاؤن لوڈ ھوتے ہیں سوچ سمجھ تفکر تدبر تذکر کی ساری صلاحتیں ایکٹیویٹ ھو گئیں، لہذا بات کو ختم فرمایا و جعل لکم السمع الابصار والافئدۃ ،، اور رکھ دیں تم میں سماعت و بصیرت اور اس سنے اور دیکھے کا ڈیٹا پراسیس کرنے والا فنکشن ،، الافئدہ ،،

بت بنانے کا ذکر اللہ پاک نے قرآن میں کہیں بھی نہیں کیا بلکہ صاف صاف بولا کہ اللہ پاک نے تمہیں زمین میں سے نباتات کی طرح اگایا ہے ، پھر تمہیں اس زمین میں لوٹا دیتا ھے اور پھر اس میں سے نکالے گا جس طرح نکالا جاتا ھے ،،
[ وَ اللَّهُ أَنْبَتَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ نَباتاً «17» ثُمَّ يُعِيدُكُمْ فِيها وَ يُخْرِجُكُمْ إِخْراجاً «18»نوح

ما لَكُمْ لا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقاراً «13» وَ قَدْ خَلَقَكُمْ أَطْواراً «14»

تمہیں کیا ھو گیا ھے کہ تم اللہ پاک کے بارے میں پروقار سوچ نہیں سوچتے ، جبکہ اس نے تمہیں اسٹیپ بائی اسٹیپ تخلیق کیا ھے ،، یہ ” کُم ” صرف ہم نہیں ہیں بلکہ آدم علیہ السلام بھی شامل ہیں ،جس طرح منھا خلقناکم کی ” کُم ” میں سب سے پہلے آدم علیہ السلام شامل ہیں پھر ھم ،، اللہ پاک نے طور پہ طور خلقا من بعدِ خلق ،، آدم علیہ السلام کی تخلیق کے ساتھ ہی ارتقاء کا یعنی Evolution کو معطل کر دیا گیا ، اس کے بعد کسی نسل سے دوسری نسل کا سفر نہیں ھوا ، اسی نسل کے قد،  بت اور عادات میں کمی بیشی ھوتی رھی مگر اب اس زمین پر اور سمندر کے نیچے کوئی ارتقائی عمل جاری نہیں ، اس لئے کوئی مخلوق آدھی نہیں ملتی ،، قرآن حکیم میں اس بات کی دھمکی بھی دی گئی ھے کہ اگر ھم چاہیں تو ارتقاء کا پہیہ پھر چلا سکتے ہیں اور تم میں سے کوئی نئی مخلوق پیدا کر سکتے ہیں جس طرح تمہیں دوسروں سے نکالا گیا ہے ،،
[ وَرَبُّكَ الْغَنِيُّ ذُو الرَّحْمَةِ ۚ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَسْتَخْلِفْ مِن بَعْدِكُم مَّا يَشَاءُ كَمَا أَنشَأَكُم مِّن ذُرِّيَّةِ قَوْمٍ آخَرِينَ (133) الانعام

(فَلَا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشَارِقِ وَالْمَغَارِبِ إِنَّا لَقَادِرُونَ * عَلَى أَنْ نُبَدِّلَ خَيْرًا مِنْهُمْ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِينَ) المعارج/ 40، 41

سو ایسا نہیں [ جیساتم سوچتے ہو] مشارق اور مغارب کے رب کی قسم ہم اس پر قادر ہیں کہ ان کے بدلے بہتر مخلوق لے آئیں کوئی ہمیں پیچھے نہیں چھوڑ سکتا ،کوئی ہمیں ہرا نہیں سکتا ـ

[ نحن قدرنا بينكم الموت وما نحن بمسبوقين على أن نبدل أمثالكم وننشئكم في ما لا تعلمون) الواقعہ ـ 61 ]
ہم نے تمہارے درمیان موت مقدر کر دی ہے اور کوئی ہمیں پیچھے نہیں چھوڑ سکتا کہ ھم تمہارے جیسے نہ لا سکیں اور تمہیں کوئی ایسی مخلوق بنا دیں جو تم نہیں جانتے ـ

بلکہ یہانتک فرما دیا کہ اگر ھم چاہیں تو تم میں سے یقیناً فرشتے پیدا کرنے شروع کر دیں ظاھر ھے یہ ارتقاء کا پہیہ دوبارہ چلانے کے امکان کی طرف اشارہ ہے ـ

[ وَلَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَا مِنْكُمْ مَلَائِكَةً فِي الْأَرْضِ يَخْلُفُونَ (60) الزخرف

البتہ انسان کی نسبت بندر کی طرف کرنا کسی طور بھی درست نہیں جبکہ بندر سدا سے بندر تھے اور انسان سدا سے اسی بغیر دُم والے جسم کے ساتھ تھا ، اگرچہ ان کا point of departure ایک تھا ،،

تمت بالخیر ـ

 
 
ماخذ فیس بک

You might also like

تبصرے

Loading...