تصوف کی مختصر تاریخ ۔۔۔ احمد بن الیاس

اہلسنت والجماعت سے باقاعدہ طور پر الگ ہو کر چار مذہبی مسالک پہلی دو ہجری صدیوں میں ہی ابھر کر سامنے آگئے۔

۱۔ خارجیہ
۲۔ امامیہ
۳۔ مرجئہ
۴۔ معتزلہ

ان میں قدر مشترک یہ تھی کہ ان چاروں کی علیحدگی کا بنیادی محرک مذہبی نہیں بلکہ سیاسی و سماجی تھا لیکن ان چاروں نے مذہبی فرقوں کی شکل اختیار کرلی۔ ان میں سے خارجیہ، امامیہ اور معتزلہ بنوامیہ کی پالیسیوں کے خلاف ردعمل میں اٹھے جبکہ مرجیہ کا عقیدہ بنوامیہ کی پالیسیوں کا ردعمل تو تھا لیکن انکار میں نہیں، بلکہ قبولیت کی صورت میں۔

خارجیہ کا بیج اسی دن پڑ گیا تھا جب لاکھوں لوگوں نے اسلام قبول کرلیا لیکن صحابہ کرام کی طرح ان کی تربیت نہ ہوسکی۔ چنانچہ وہ شدت پسندی کا شکار ہوگئے اور جب حکومت انتہائی یوٹوپیائی اسلامی معیار پر پوری نہ اتری تو بغاوت اور قتل و غارت پر اتر آئے۔ سیدّنا عثمان رضی اللٰہ عنہ کے دور میں بغاوت کرنے والے لوگ بھی بنیادی طور پر یہی تھے، اگرچہ ان کو نام اور شناخت سیدّنا علی رضی اللٰہ عنہ کے لشکر سے خارج ہونے پر ملی۔

امامیہ بھی ملوکیت کی ناانصافیوں اور گناہوں کے ردعمل میں ابھرے لیکن ان میں اور خارجیہ میں بنیادی فرق یہ تھا کہ خارجی سیدّنا علی رضی اللٰہ عنہ سے سرکشی کرگئے اور یہ بظاہر ان سے وابستہ رہے بلکہ انتہاء پسندی کا شکار ہوکر ان کو خدا کی طرف سے مامور امام اور انبیاء کی طرح معصوم عن الخطاء قرار دے دیا۔

مرجیہ وہ لوگ تھے جو پہلے فتنے (شہادتِ عثمان سے صلح حسن و معاویہ) اور دوسرے فتنے (شہادتِ حسین سے شہادتِ عبداللٰہ بن زبیر تک) کے خون خرابے سے اس قدر بددل ہوئے کہ تقدیر کے عقیدے میں انتہاء پسندی کا شکار ہوگئے اور بنوامیہ کے ظلم کو خدا کی رضا اور اپنی تقدیر قرار دے کر برداشت کرنے اور خارجیہ یا امامیہ یا راسخ العقیدہ اہلسنت کی طرح سیاسی و سماجی حالات کی ابتری پر بے چین ہوکر اقدامات اٹھانے سے منع کرنے لگے۔

معتزلہ مرجئہ کے برعکس دوسری انتہاء پر نکل گئے اور تقدیر کا تقریباً مکمل انکار ہی کر بیٹھے اور یہیں سے ان کا ہر شئے پر سوال کرنے کا رویہ پیدا ہوا جس سے ان کی ٹریڈ مارک عقل پرستی نے جنم لیا۔ خارجیہ کی طرح متشدد عسکری یا امامیہ کی طرح انڈرگراؤنڈ سیاسی شکل اختیار کرنے کی بجائے معتزلہ علمی مکتب فکر اور فلسفیانہ تحریک کی شکل اختیار کرگئے۔

لیکن یہ تو تھے اسلام کی مرکزی اور حقیقی جماعت یعنی اہلسنت والجماعت سے الگ ہوکر الگ فرقے بن جانے والے گروہ۔ خود اہلسنت نے معاشرے میں اس ابتری پر کیا ردعمل دیا جس ابتری کا سیاسی اظہار ملُوکیت کی صورت میں ہوا تھا ؟ ظاہر ہے کہ انہوں نے اس ابتری کو قبول تو نہیں کیا اسی لیے وہ مرجیہ سے الگ گروہ ہیں اور اسی لیے صرف ابتدائی خلفاء کو ہی خلفائے راشد کہا جاتا ہے۔ تو پھر اہلسنت نے کس طرح اس تنزل اور ابتری سے معاملہ کیا ؟ جواب ہے : تصوف۔

جب یہ واضح ہوگیا کہ ملوکیت سے چھٹکارا اب تقریباً ناممکن ہے کیونکہ سماج کی حالت ہی اب وہ نہیں رہی کہ جس پر خلافت راشدہ کا سا سیاسی نظام کھڑا تھا تو اہلسنت نے توجہ دین کے خارجی اور سیاسی پہلو سے ہٹا کر باطنی اور روحانی پہلو پر مرکوز کردی تاکہ کم از کم اس کو بچایا جاسکے اور ظاہری پہلو کو لاحق ہوچکا وائرس باطنی پہلو کو بھی بیمار نہ کرے اور مسلمانوں کی حکومت خراب ہونے سے ان کے عقائد بھی خراب نہ ہونے لگیں جیسا کہ خارجیہ، امامیہ، مرجیہ، معتزلہ جیسی تحریکوں کی صورت ہونے لگا تھا۔

جہاں کوفہ امامیہ اور خارجیہ کا مرکز تھا وہیں عراق کا ایک اور عرب شہر بصرہ تصوف کی جائے پیدائش قرار پایا۔ تصوف کے بانی حسن بصری اور تصوف کو فکری بنیاد دینے والی خاتون رابعہ بصری تھیں۔ رابعہ بصری پہلی شخصیت تھیں جس نے اس نکتے پر بہت زیادہ توجہ دلانی شروع کردی کہ محبت اپنی اصل میں صرف خدا سے اور خوف حقیقیت میں صرف خدا کا ہونا چاہیے ۔۔۔ خدا کی تخلیق سے محبت اور خدا کی تخلیق سے خوف اس تخلیق کی خدا سے نسبت کے وسیلے سے ہے یعنی خدا کے لیے ہے اور بلواسطہ ہے۔ جنت اور دوزخ بھی خدا کی تخلیق ہیں اور صرف جنت کا حصول اور صرف دوزخ سے بچنا مقصد نہیں ہے بلکہ خدا کی محبت اور رضائے الٰہی کا حصول اصل مقصد ہے اور جنت دوزخ کا خوف یا لالچ اس لیے ہے کہ ان کی نسبت بھی محبوب سے یعنی خدا سے ہے اور وہ محبوب کی خوشنودی یا ناراضی کی علامتیں یا اظہار ہیں۔

اگرچہ رابعہ بصری اور ابتدائی دور کے دیگر صوفیاء مثلاً بشر الحافی، ذوالنون مصری، بایزید بسطامی اور جنید بغدادی کا چیزوں کو سمجھانے کا انداز وقت کی ضرورت کے لحاظ سے نیا تھا لیکن ان کی کوئی بھی بات نئی یا اپنی طرف سے نہیں تھی بلکہ سارا کا سارا استدلال بنیادی اسلامی عقائد اور قرآن حدیث سے تھا (جملہ معترضہ: اسی تناظر میں تصوف کے متوازی دین ہونے والی بات بھی غلط اور بے بنیاد ہے)۔

دراصل اس بات پر زور دینے کی ضرورت اس لیے پیش آرہی تھی کہ صحابہ کے دنیا سے اٹھ جانے کے بعد سماجی ابتری، ملوکیت اور فتوحات کے نتیجے میں آنے والی خوشحالی مسلمانوں میں ظاہر پرستی اور مادہ پرستی پیدا کررہی تھی جس کے سبب دو خطرات تھے :

۱۔ اسلام کا ایک حصہ یہودیت کی طرح روح اور محبت جیسی اقدار سے عاری ایک روایت، خدا کے ساتھ ایک لین دین اور قوانین کا ایک خشک مجموعہ بن کر رہ جائے گا جس کا مقصد صرف روایت کی پیروی یا خدا کے ساتھ معاہدے کی پاسداری کرکہ جنت میں جانا اور دوزخ سے بچنا ہوگا اور بس۔

۲۔ اسلام کا ایک دوسرا حصہ ظاہر پرستی کے ردعمل میں مسیحیت کی طرح شریعت سے ہی بیگانہ ہوجائے گا اور محض مابعدالطبعی اور فلسفیانہ قسم کے عقائد بلکہ موشگافیوں کا مجموعہ بن کر رہ جائے گا۔

گویا خطرہ یہ درپیش تھا کہ اسلام تقسیم ہوجائے گا اور اس کے آثار ایک طرف خارجیہ و امامیہ اور دوسری طرف مرجیہ و معتزلہ جیسی تحریکوں کئ صورت میں دیکھنے کو مل رہے تھے۔ لہذا مختلف عناصر میں توازن اور اعتدال پیدا کرکہ ابتری کے اس موسم میں ان انتہاؤں کے وائرسز سے اہلسنت کو بچانے کے لیے تصوف کی صورت تسنن نے ایک مدافعتی نظام پیدا کیا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ تصوف میں آپ کو چاروں گمراہ فرقوں کی کچھ کچھ درست باتوں سے اتفاق ملتا ہے جن میں انتہاء پسندی کے سبب وہ فرقے پیدا ہوئے لیکن تصوف ان چاروں میں سے کسی کی بھی انتہاء پسندی کو اختیار نہیں کرتا۔

خارجیہ کا توحید کے حوالے سے زور ہمیں ابتدائی تصوف میں واضح طور پر نظر آتا ہے جس کے نتیجے میں پہلے محبت اور خوف کو بھی اصلاً صرف خدا سے مخصوص کرنے پر زور دیا گیا اور پھر وحدت الوجود جیسی توحیدی انتہاء پسندی پیدا ہوئی کہ خدا کے وجود کے علاوہ کسی بھی وجود کے ہونے سے ہی انکار کردیا گیا۔ لیکن تصوف میں خوارج کی طرح توحید کا یہ مطلب کبھی نہیں لیا گیا کہ کسی انسان کو حکم ہی نہ بنایا جائے۔

امامیہ کا اصول کہ شخصیات بھی اپنے آپ میں اصولِ دین بن جاتی ہیں ہمیں اہلبیت سے لگاؤ اور مرشد کے تصور کی صورت تصوف میں نظر آتا ہے لیکن یہاں نبی کے بعد کسی کو معصوم یا مامور نہیں کہا گیا۔

مرجئہ کا تقدیر پر زور ہمیں صوفیاء میں خدا کی رضا میں راضی رہنے اور توکل پر زور دینے کی صورت نظر آتا ہے لیکن تقدیر کے نام پر ہر صورت ظلم سہتے رہنے کی بات صوفیاء نے نہیں کی جیسا کہ مرجئہ کرتے تھے۔

اور معتزلہ کی طرح عقل اور استدلال کی طرف جھکاؤ ہمیں صوفیانہ استدلال اور متصوفانہ علم الکلام میں نظر آتا ہے لیکن معتزلہ کی طرح خالص عقل کو بنیادی اصول کبھی تصوف میں نہیں بنایا گیا۔

گویا اہلسنت نے ایک طرف مادہ پرستی اور ظاہر پرستی سے دین کی روح یعنی محبت کو بچایا تو دوسری طرف دین کے ظاہر کو بھی حصے بخرے ہونے سے اس طرح محفوظ رکھا کہ ہر اس جائز بات کی تائید کرکہ اسے ایک توازن اور اعتدال میں پرو دیا جس میں انتہاء پسندی اور غلو کے سبب لوگ گمراہ فرقوں کا شکار ہوکر منتشر ہورہے تھے۔ یوں اہلسنت والجماعت کی جماعت بکھرنے سے محفوظ رہی اور اس جماعت کے وسیلے سے دین بھی بچ گیا۔

لیکن یہ سب کہنے کے بعد بالخصوص صوفیانہ استدلال اور متصوفانہ علم الکلام والی بات کے تناظر میں یہ بات بہت ضروری ہے کہ تصوف اپنی اصل میں بنیادی طور ایک عملی چیز تھی، قرآن و حدیث اور سیدھے سادے اسلامی استدلال سے اخذ کی گئیں اس کی فکری بنیادیں تو تھیں لیکن تصوف شروع میں کوئی فلسفہ نہیں تھا۔ اسے فلسفہ کی شکل ملنی تب شروع ہوئی جب قرون وسطیٰ میں فلسفہ مسلم دنیا میں بہت زیادہ سرایت کرگیا۔ ان حالات میں رابعہ بصری، جنید بغدادی، بشر حافی، ذوالنون مصری، معروف کرخی، سری سقطی اور بایزید بسطامی جیسے سیدھے سادے اسلامی تفکر اور زہد پر مبنی صوفیوں کی بجائے فلسفی صوفی سامنے آنا شروع ہوئے جن میں منصور حلاج اور شہاب الدین مقتول ابتدائی مثالیں ہیں لیکن اس فلسفیانہ تصوف کا نکتہ عروج ابن عربی ہیں۔

تصوف کی فلسفیانہ ڈاکٹرئین پر کام تو ابن عربی قبل ہی بہت ہوچکا تھا اور وحدت الوجود کا نظریہ بھی موجود تھا لیکن ابن عربی نے تصوف کو ایک مکمل، انتہائی مربوط اور سفسٹیکیٹڈ فلسفیانہ ڈاکٹرئین اپنی پوری شرح و بسط کے ساتھ دی جسے بعد میں اسلامی وحدت الوجود کا نام دیا گیا۔

یہ ڈاکٹرئین مسلم دنیا میں زوال کے دور میں مقبول تو بہت ہوئی لیکن خود صوفیاء میں اس پر اجماع کبھی نہیں ہوا اور ابن عربی کا احترام کرنے کے باوجود انہیں قطعی طور پر متفقہ امام خود تصوف میں بھی نہیں مانا گیا بلکہ شیخ عبدالقادر جیلانی جیسی شخصیات کے مقابل ان کی شخصیت ثانوی رہی اور وہ صوفیوں کے ایک بڑے مگر مخصوص طبقے کے ہی امام رہے۔

لیکن تصوف میں اس نئے رجحان کی بات سے یہ مغالطہ ہرگز نہیں ہونا چاہیے کہ شریعت یا راسخ العقیدگی سے روگردانی کے رجحانات جو آج تصوف کے نام پر بعض حلقوں میں نظر آتے ہیں وہ اس موقع پر پیدا ہوئے یا تصوف کی عملی تحریک سے فلسفیانہ رنگ اختیار کرنے کا مطلب شریعت پر عمل کرنے سے گریز تھا۔ ابن عربی جو فلسفیانہ تصوف کے سب سے بڑی امام ہیں نا صرف خود شریعت کی شدت سے پابندی کرتے تھے بلکہ ان کی پانچ سو کتب کی کثیر اکثریت شریعت کے مسائل اور شریعت پر عمل کی تاکید سے ہی عبارت ہیں۔ تصوف کی کتب تو ان کے ہاں محض چند ایک ہیں البتہ ظاہر ہے کہ یہی چند ایک بہت معروف ہوئیں۔ سب سے بڑی ستم ظریفی یہ کہ ابن عربی روحانیت اور طریقت کے معاملے میں باطنی تھے اور شریعت اور فقہ کے باب میں پکے ظاہری تھے۔ ظاہری وہ لوگ ہیں جو شریعت کی تشریح اور تاویل کے معاملے میں چاروں مذاہب میں موجود لچک کو ناپسند کرتے ہیں۔ آج کل کے ظاہری جنہیں وہابی یا سلفی کہا جاتا ہے تصوف سے بیزار ہیں لیکن اس دور کے ظاہری ابن عربی جیسے ٹھیٹھ وحدت الوجودی صوفی بھی ہوتے تھے اور تصوف کے سب سے بڑے امام عبدالقادر جیلانی بھی شریعت پر سختی سے عمل میں ظاہر یوں سے صرف ایک درجہ کم مذہب کے پیروکار یعنی حنبلی تھے۔ اس دور میں دینی ذہانت کا معیار اتنا نہیں گرا تھا اور معاملات اتنے نہیں دھندلائے تھے کہ دین کے محفوظ رہنے اور نسل در نسل منتقل ہونے کے میڈیم یعنی تصوف کا انکار کردیا جائے جیسا کہ آج کیا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ ابن تیمیہ جیسی شخصیت نے بھی جنہیں آج کے ظاہری (سلفی/ وہابی) بھی اپنا امام کہتے ہیں، تصوف کا انکار کبھی نہیں کیا۔ ہمارے اپنے دور میں اقبال اور مودودی جیسے لوگوں نے رائج تصوف کے کئی پہلوؤں پر سخت تنقید کی لیکن تصوف کو متوازی دین یا حرام یا کفر و شرک نہیں کہا کیونکہ وہ ذہین لوگ تھے اور انہوں نے تاریخ بالخصوص تاریخ تصوف کو غور سے پڑھا تھا۔

تو سوال یہ ہے کہ تصوف کے نام پر پیر پرستی، قبر پرستی، شریعت سے روگردانی، مجاوری، ملنگی جیسے رجحانات کب اور کیسے پیدا ہوئے۔ اس کا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ تصوف مسلم سماج میں وجود رکھتا ہے اور ہمارے سب سے بڑی اور مرکزی روایت رہا ہے۔ اس حوالے سے اسے بجا طور پر مسلم سماج کا آئینہ کہا جاسکتا ہے۔ کسی دور میں مسلم سماج کی جو حالت ہوئی اس کے اثرات تصوف کے ڈسکورس پر بھی پڑے۔ مثلاً ہم نے پہلے دیکھا کہ قرون وسطیٰ میں فلسفے کے رجحان نے فلسفیانہ تصوف کا ڈسکورس پیدا کردیا۔ بالکل اسی طرح جب قرون وسطیٰ کے بعد مسلمانوں کے زوال کا تاریک دور شروع ہوا تو زوال کے یہ اثرات تصوف پر بھی بہت ہوئے اور وہ سب خرافات شروع ہوئیں جو آج تصوف کے نام پر نظر آتی ہیں۔

لیکن تصوف کے وحدت الوجودی فلسفیانہ ڈسکورس کو جب پورے تصوف کا نمائندہ کبھی نہیں تسلیم کیا گیا تو ان جہالتوں کی کھل کر مخالفت تو اکثر صوفی مشائخ خود کرتے آئے ہیں اور کرتے ہیں۔ انہیں سماج میں تصوف کی نمائندہ کیسے کہا جاسکتا ہے ؟ یہ تو تصوف میں ہماری سماجی ابتری کی نمائندہ ہیں۔ مسلم سماج بہتر ہوگا تو یہ خرافات بھی دور ہوتی جائیں گی اور مسلم سماج کی بہتری کا ایک بہترین طریقہ قرون اولیٰ کے حقیقی، عملی اور متوازن تصوف کو شعوری کوشش سے دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش ہے۔

– احمد الیاس

You might also like More from author

تبصرے

Loading...