تین اگست کے خطبے کی تفصیل از قاری حنیف ڈار

اللہ پاک نے جس جس انداز میں عورت کا ذکر قرآن میں کیا ہے، اس کے ہر روپ کو ایک مقام عطا کر دیا، بطور ماں، بیوی، بیٹی، بہن ہر روپ میں اس کی صلاحیتوں کو سراہا ہے اور بڑے بڑے تاریخی واقعات کہ جن کے گرد مذاہب گھومتے ھیں وہ عورت سے شروع ھوئے، اور عورت نے ہی انہیں ایک انجام تک پہنچایا۔ اللہ پاک نے ان بڑے واقعات میں جس قدر عورت پر اعتماد کیا ہے، اس کا عشر عشیر ہمارے گھروں، معاشرے اور ھمارے رویوں میں نظر نہیں آتا۔

وہ مذہب کہ ہزاروں انبیاء جس کی شریعت کے پابند رہے وہ اول، آخر اور درمیان سارے کا سارا عورت کے گرد گھومتا ھے۔ عورت بہترین فوری اقدام کرنے والی، بہترین مشاہدہ کار یعنی آبزرور اور جاسوس، بہترین مشیر بہترین وکیل ھے اور بہترین حکمران بھی۔ میں جو واقعات لکھنے لگا ہوں اور جن کو اپنے استدلال کی بنیاد بنانے لگا ہوں وہ سب قران حکیم سے لئے گئے ہیں، اگر کوئی اختلاف رکھتا ہے تو قرآن سے کم کسی دلیل کو میں قبول نہیں کروں گا۔

1– عورت کا جھٹ سے بڑا فیصلہ لے لینا ۔۔۔۔
قرآن میں سب سے پہلے حضرت مریم علیہا السلام کی والدہ ‘زوجہ عمران ‘کا ذکر شروع ہوتا ہے اور اچانک بریکنگ نیوز کی طرح کے واقعے سے شروع ہوتا ہے کہ عمران کی زوجہ نے اعلان کیا کہ اے پروردگار میں اپنا پیٹ والا بچہ دنیاوی ذمہ داریوں سے آزاد کر کے تیری نذر کرتی ہوں تو اسے قبول فرما! مریم علیہ السلام کے والد زندہ ہیں، مگر اس واقعے کی پکچر سے مکمل طور پر باہر ہیں، گویا اللہ پاک کے نزدیک ناقابلِ ذکر ہیں، ان کا کوئی کردار نہیں، ایک عورت فیصلہ کر لیتی ہے کہ اس نے بیٹے کو کیا بنانا ہے۔ پھر جب وہ بچہ بیٹے کی بجائے بیٹی ثابت ہوتی ہے تو بھی وہ بیٹھ کر شوہر سے مشورہ نہیں کرتیں بلکہ بیٹی بھی نذر کر دیتی ھیں اور یہ بنی اسرائیل کی ساری تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ کوئی لڑکی معبد کی نذر کی جائے۔ اس ایک فیصلے نے نہ صرف سابقہ ساری تاریخ بدل ڈالی بلکہ آنے والے زمانوں کا رخ متعین کر دیا اور یہ فیصلہ ایک عورت نے لیا۔

فیصلہ کن فطرت کی دوسری مثال ام موسیٰ علیہا السلام ہیں وہ بھی زوجہ عمران ہیں مگر وہاں ان کا ذکر عمران کی زوجہ کی بجائے ام موسیٰ علیہ السلام کی حیثیت سے کرایا گیا ھے۔ مریم علیہا السلام کے واقعے میں بیوی کی حیثیت اور موسیٰ علیہ السلام کے واقعے میں ماں کی حیثیت سے فیصلہ لینے کی صلاحیت کو اجاگر کیا ہے، قرآن میں سب سے زیادہ موسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ ہے اور اسی نسبت سے ام موسیٰ کا کردار! اللہ پاک نے موسیٰ علیہ السلام کی ماں کو وحی کی کہ اسے تابوت میں ڈالو اور تابوت کو دریا برد کر دو! یہاں بھی شوہر موجود ہے مگر فیصلے میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ بیوی ہی سارا فریضہ سرانجام دیتی ہے اور وہی رب کے خطاب اور وحی کا مہبط بنتی ہے۔ یہی معاملہ مریم علیہا السلام کا ہے کہ جب ان کی والدہ نے عرض کیا کہ میرے مالک میں نے تو بیٹی جن دی ہے، یعنی بیٹے کی توقع میں منت مانی تھی مگر بیٹیاں تو کوئی معبد کو نہیں دیتا ،، اللہ پاک فرماتا ہے کہ اللہ بخوبی جانتا تھا کہ اس نے کتنی عظیم ہستی پیدا کی ھے، بے چاری کو کیامعلوم کہ بیٹا ہوتا بھی تو اس بیٹی جیسا کبھی نہ ہوتا، معبد میں لوبان جلاتا ، جھاڑو دیتا اور آنے والوں کا استقبال کرتا اس کے سوا اس نے کرنا کیا تھا۔ ولیس الذکر کالانثی، اور لڑکا لڑکی جیسا نہ ھوتا۔ ایک عظیم آیت ہے، ایسی آیت اگر مرد کے بارے میں نازل ہو جاتی تو پتہ نہیں مرد حضرات کیا کچھ کرتے ۔

پھر جب اس بچی کو معبد کو سونپ دیا گیا اس کی توجہ اور ارتکاز کا یہ عالم تھا کہ گویا وہ جہاں ہوتی خدا ان کے پاس ہوتا۔ ان کو رنگ برنگ کے بے موسم کے پھل فراھم کرتا، یہاں تک کہ اللہ پاک کے نبی زکریا علیہ السلام بھی اس تعلق سے بے خبر رہتے ہیں اور جب انہیں اس بات کا ادراک مریم کی زبان سے ہوا کہ اس مجلس میں معاملہ کہاں تک پہنچا ہوا ہے تو بے ساختہ وہ بھی ایسی ہی لائق اور اللہ پاک کی منظورِ نظر اولاد مانگنے پر مجبور ہو گئے ۔ پھر فرشتوں کا ہر وقت مریم علیہا السلام کو گھیرے رہنا اور نبی عیسیٰ علیہ السلام کی معجزانہ تخلیق کا بوجھ بھی عورت مریم کے کندھوں پہ ڈال دینا اور انہیں اس امتحان کے لئے چن لینا عورت کی بحیثیت ماں عظمت کا شاہکار ھے۔

عورت بحیثیت آبزرور یا جاسوس ۔۔۔۔
جاسوسی اور مشاہدے کی صلاحیت اللہ نے عورت ذات میں کوٹ کوٹ کر بھری ہے، اس میں کوئی استثناء نہیں ہے کہ وہ عورت دیہاتی ہے یا شہری، پڑھی لکھی ہے یا ان پڑھ، گوری ہے یا کالی، موٹی ہے یا پتلی، لمبی ہے یا چھوٹی، بچی ہے یا بوڑھی۔ مشاھدہ اور تجسس و جاسوسی نیز اپنے تاثرات کو چھپا لینے کی صلاحیت جس قدر عورت کو ودیعت کی گئی ہے، مرد کو اس کا عشرِ عشیر بھی نصیب نہیں۔ کوئی مرد اپنے آپ کو یا اپنے تاثرات کو بیوی سے نہیں چھپا سکتا، وہ آفس میں جھگڑ کر آیا ہے تو گھر میں گھستے ھی، بیوی پہلا سوال کرے گی، کسے نال لڑ کے آئے او؟ اگر آپ باہر کوئی منظر دیکھ کر آئے ہیں تو پہلا سوال ہو گا” کیا دیکھا ہے ؟ خوش کیوں ہو ؟ وہ جو کہا گیا ہے کہ جس نے شادی کر لی اس نے آدھا ایمان محفوظ کر لیا، اس کا مطلب یہ نہیں کہ بیوی کر لینے سے مرد کے جذبات آدھے سو جاتے ھہں بلکہ اس کا مطلب ھے کہ ان پر ایک دقیق نگران بٹھا دیا جاتا ھے، جو اس سکائی لیب کو کنٹرول کرتا رھتا ھے ۔

موسیٰ علیہ السلام کو دریا میں پھینک دینے کے بعد موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے اپنے دس سالہ بیٹے کی بجائے بیٹی کو جاسوسی کے لئے چنا اور حکم دیا کہ قصۜیہہ، اس کے پیچھے پیچھے جا! بس ماں نے تو اتنا ہی حکم دیا تھا، مگر 9 سالہ بیٹی نے تو کمال ہی کر دیا۔ اللہ پاک اس معصوم کی ادا کا ذکر فرماتے ہیں کہ بچی دریا کے کنارے تابوت کے ساتھ ساتھ کچھ اس طرح چل رہی تھی کہ گویا وہ اجنبی ہے اور اس کا دریا میں تیرتے تابوت کے ساتھ نہ کوئی تعلق ہے اور نہ ہی تجسس! فبصرت بہ عن جنبٍ و ھم لا یشعرون” اس نے نظر رکھی اس پر اجنبی بن کر اور انہیں محسوس بھی نہ ہونے دیا! پھر جب تابوت پکڑ لیا گیا تو وہ گھر کی طرف خبر دینے نہیں دوڑی، بلکہ وہ موسیٰ کو کھونا اور نظر سے اوجھل کرنا نہیں چاھتی تھی جب تک کہ ان کا آخری ٹھکانہ نہ دیکھ لے ! وہ سارے مجمعے میں ایک اجنبی کی طرح تماشہ دیکھتی رھی، ایکسٹرا ویجیلینس کا مظاھرہ بھی نہیں کیا کہ کوئی شاہی جاسوس ان کی دلچسپی کو محسوس نہ کر لے، مگر جہاں بولنا چاھئے تھا وہیں وہ بولی اور اس طور پہ بولی اور ان الفاظ کا انتخاب کیا کہ پھر اپنے تعلق کو صاف چھپا گئی۔

جب بچہ دوددھ نہیں پی رھا تھا تو اس نے نارمل انداز میں تجویز دی کہ ایک گھرانہ ہے جو بچوں کو دودھ پلاتا ہے اگر اس کو یہ بچہ دے دیا جائے تو وہ اس کو خیر خواہی سے پالیں گے اور دودھ بھی پلائیں گے کیونکہ ان کو اس کا تجربہ ھے! تجویز منظور ھو گئی اور وہ 9 سالہ بچی ماں کے لئے نوکری بھی ڈھونڈ لائی، بھائی کا مستقبل بھی محفوظ کر لیا، میں کہا کرتا ہوں کہ شاید ہارون علیہ السلام ہوتے تو وہ ” ہائے میرا ویر کہہ کہہ کر لپٹ جاتے بچے سے خود بھی مرتے اور بھائی کو بھی مروا دیتے لہذا اللہ پاک نے نہایت حکمت سے ماں بیٹی کا انتخاب کیا اس تاریخی موڑ پر، سورہ القصص کا اسٹارٹ ھی معرکہ الآراء ھے، ھم نے یہ فیصلہ کیا کہ بنی اسرائیل پر احسان کیا جائے اور ان ھی کو لیڈر بنایا جائے اور ان ھی کو حکومت کا وارث بنایا جائے اور ان کو ملک میں تمکن عطا کیا جائےاور فرعون ہامان اور ان کے لشکروں کو وہ کر کے دکھا ہی دیا جائے جس کا وہ خدشہ محسوس کر رہے تھے، ( اور اسی خدشے کے پیشِ نظر بچوں کا قتل عام کر رہے تھے ) و اوحینا الی ام موسی، ان تمام خدائی فیصلوں کے ظہور میں لانے کا بوجھ موسی کی ماں پر ڈال دیا، اور ہم نے وحی کی موسیٰ کی ماں کو، عورت تیری عظمت کو سلام ہے، تجھ پر تیرے رب کے اعتماد کو سلام ہے !

موسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں جب بھی کوئی نیا موڑ آیا کسی نہ کسی عورت کی وجہ سے ہی آیا – ان کی زندگی کو نیا موڑ دینے ھمیشہ عورت استعمال کی گئی ! وہ جب بھی انتہائی مطلوب ہوئے انہیں بچانے کے لئے اللہ پاک نے عورت کو ہی بھیجا!! فرعون کے محل میں آپ کا داخلہ کچھ اس شان سے ہوا کہ آپ انتہائی مطلوب ہستی تھے، وہ مطلوب جس کو اس کی ماں نے بھی پناہ نہیں دی اور اٹھا کر سمندر میں ڈال دیا، وہ مطلوب جس کے شک میں اگر ہزاروں نہیں تو سینکڑوں بچے ضرور مروا دیئے گئے! مگر جب وہ انتہائی مطلوب ہستی فرعون کے گھر پہنچی یعنی شیر کی کھچار میں پہنچی تو ایک عورت خم ٹھونک کر کھڑی ھو گئی ! و قالت أمرأۃ فرعون قرۃ عینٍ لی و لک لا تقتلوہ، اور کہا فرعون کی زوجہ نے یہ تو میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ھے، مت قتل کرو اسے، عسی ان ینفعنا او نتخذہ ولداً، ہو سکتا ھے کہ یہ ہمیں نفع دے دے یا ہم اس کو اپنا بیٹا ہی بنا لیں! یوں فرعون کی عقل اسے کچھ اور سمجھا رہی تھی، ہامان اپنی سی کوشش کر رھا تھا اور آسیہ ڈٹ کر کھڑی تھی وہ مسلسل اصرار کرتی رہیں تا آنکہ فرعون نے موسیٰ علیہ السلام کے قتل کا فیصلہ منسوخ کر دیا۔

موسیٰ رائل فیملی کا حصہ بن گئے، اور پھر آپ سے قتل خطا ھو گیا، ایک قبطی آپ کے ہاتھ سے غلطی سے قتل ہو گیا اور اب پھر آپ کے قتل کے لئے شوری ٰبیٹھ گئ، شوریٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے قتل پر اتفاق کر لیا اور آل فرعون کے ایک شخص کی وجہ سے آپ کو بروقت اطلاع مل گئی ،یوں آپ خالی ہاتھ لگے کپڑوں میں صحراء کی جانب روانہ ہو گئے، جس طرف اللہ پاک لے جائے مجھے تو رستے کا کوئی اندازہ نہیں، اب موسیٰ پھر موسٹ وانٹیڈ ہو چکے تھے۔ آپ کی تلاش میں ہرکارے پھر رہے تھے اور بھوکے پیاسے در بدر موسیٰ علیہ السلام کو پناہ دینے اور ان کی زندگی کو نبوت کی صان چڑھانے اور تربیت دینے پھر دو عورتیں کنوئیں پر منتظر کھڑی تھیں! یہ دو عورتیں ہی نہیں اپنے باپ کے وہ بیٹے بنی ہوئی تھیں جنہوں نے گھر کا سارا معاشی بوجھ اپنے نازک کندھوں پر اٹھایا ہوا تھا اور اللہ پاک کی طرف سے کسی ریلیف کی منتظر تھیں کہ موسیٰ علیہ السلام کی صورت میں ریلیف آ پہنچی۔ دیکھئے اللہ پاک کس طرح ایک ہی واقعے سے کتنے رنگ پیدا کرتا ھے !

موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا سارے چرواہے تو پانی پلا رہے ہیں، آپ دونوں کا معاملہ کیا ہے کہ اس طرح ہٹ کر کھڑی ہیں؟ جواب دیا گیا کہ ہم تب تک پانی نہیں پلا سکتیں جب تک سارے چرواہے پانی پلا کر فارغ نہ ہو جائیں!! آپ نے ڈول پکڑا اور ان بہنوں کے جانوروں کو پانی پلا دیا! بچیاں جب روزانہ کے معمول سے جلدی گھر پہنچیں تو باپ کو تعجب ہوا، پوچھا کیا ماجرا ھوا؟ جواب دیا گیا کہ ایک اللہ والا پردیسی جوانمرد کھڑا تھا اس نے جھٹ پٹ پانی پلا دیا، حکم ہوا اس پردیسی کو بلایا جائے کہ اس کو جزاء بھی دی جائے اور اس کا واقعہ بھی سنا جائے! ادھر موسی پانی پلا کر فارغ ہوئے تو اسی درخت کے تلے جا کھڑے ہوئے جہاں وہ بہنیں کھڑی تھیں اور اپنی وہ مشہور دعا مانگی جسے پڑھ کر دل بھر آتا ہے، شاھی خاندان کا پروردہ، رائل اکیڈیمی کا تربیت یافتہ، اللہ سے کلام کرتا ھے، قال رب انی لما انزلت الیۜ من خیر فقیر ، میرے رب میں ہر اس خیر کا فقیر ہوں جو بھی تو مجھے بھیج دے !! اور ایک عورت مدد کے روپ میں نمودار ھوتی ہے! ان میں سے ایک جو بڑی بھی تھی اور ہوشیار بھی، وہ سراپا حیا بنے، حیاء کی چال چلتے ہوئے آئی اور موسیٰ علیہ السلام کو کہا کہ ہمارے ابا جان آپ کو بلا رہے ھیں وہ آپ کو بدلہ دینا چاھتے ھیں اس نیکی کا جو آپ نے ھمارے حق میں کی ھے ! موسی علیہ السلام جب شیخِ مدین کے گھر پہنچے تو ساری کہانی سنا دی، بابا جی نے تسلی دی کہ آپ فکر مت کریں آپ ظالم قوم کے علاقے سے نکل آئے ہیں!

اسی لڑکی نے جس نے موسیٰ علیہ السلام سے پہلی دفعہ کلام کیا تھا، پھر باپ سے بات کی تھی پھر موسیٰ علیہ السلام کو بلانے آئی تھی، باپ کو مشورہ دیا کہ ابا بندہ امانت دار بھی ہے کیونکہ اس نے آنکھوں کی خیانت بھی نہیں کی اور قوت والا بھی ھے، اور ایسا ہی قوی اور امین ھمارے گھر کی ضرورت تھا آپ ان سے نوکری کی بات کیوں نہیں کرتے؟ مشورہ قبول کر لیا گیا اور موسیٰ علیہ السلام سے ایک محرم رشتہ قائم کرتے ہوئے اسی بچی کا نکاح 8 سال کی بکریاں چرانے کی مشقت کے عوض کر لیا گیا، یوں پہلا بندہ جس نے بیوی کی خاطر بکریاں چرائیں وہ موسیٰ علیہ السلام تھے، وہیں آپکی تربیت کی گئی کیونکہ بکریاں چرانا ہر نبی کی سنت رہی ہے، شاہی خاندان کے پروردہ شہزادے نے 10 سال بکریاں چرائیں اور 10 سال بعد بیوی لے کر واپسی کی راہ کا سفر اختیار کیا! دوران سفر آپ قضائے الہی سے رستہ بھول گئے، اور آپکی زوجہ کو دردِ زہ شروع ہو گیا۔ دھند نے زمین آسمان ایک کر رکھا تھا کہ کچھ سجھائی نہ دیتا تھا جبکہ زچہ و بچہ کو اس شدید سردی میں آگ اور حرارت کی ضرورت تھی! یوں بیوی کی خاطر آگ متلاشی موسیٰ کی نظروں کو وہ آگ دکھائی گئی، جس کو وہ لینے پہنچے تو آگ کی بجائے پیغمبری تھما دی گئی ، اور آپ کو اسی فرعون کی طرف رسول بنا کر بھیج دیا گیا جو آپ کے قتل کا خواہشمند تھا!

قرآن کی بیان کردہ مدبر اور کامیاب حکمران ” ملکہ سبا بلقیس ” ۔۔۔۔

قرآنِ حکیم نے جہاں انبیاء پر لگائے گئے الزامات سے ان کا دامن صاف کیا ہے وہیں ملکہ سبا بلقیس کے بارے میں بھی یہود کی ہرزہ سرائیوں کا منہ توڑ جواب دیا اور انہیں ایک مدبر اور اپنے عوام سے محبت کرنے والی ایک ذہین مسلمان ملکہ کے طور پر پیش کیا ہے! جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے اسے خط لکھا تو اس نے اپنی شوریٰ کا اجلاس بلایا، جبکہ وہ مشرک اور سورج کی پوجا کرنے والی تھی، مگر قرآنی خبر ” و امرھم شوری بینھم ” کہ مسلمانوں کے معاملات آپس کے مشورے سے طے ہوتے ہیں کا مصداق تھی! شوری کے دوران سرداروں نے جنگ کی طرف میلان ظاہر کیا اور اپنی قوت اور تجربے کا حوالہ دیا مگر آخری فیصلہ ملکہ پر ھی چھوڑ دیا! ملکہ نے ان سے تاریخ کا نچوڑ صرف ایک جملے میں بیان کر دیا اور اللہ پاک نے ملکہ کے قول کی تائید فرمائی! اس نے کہا ” دیکھو یہ بادشاہ لوگ جب فاتح ہو کر کسی بستی میں گھستے ھیں تو وہاں فساد بپا کر دیتے ہیں اور اس بستی کے عزیز ترین لوگوں کو ذلیل ترین بنا دیتے ہیں۔ اللہ پاک نے فرمایا۔ و کذالک یفعلون۔ بالکل اسی طرح کرتے ہیں!

آج بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ملکہ بلقیس کا قول کتنا ٹو دا پؤائنٹ ہے۔ عراق اور لیبیا کو دیکھ لیں، کل تک جو عہدوں اور طاقت کے لحاظ سے ٹاپ ٹین تھے وہ اگلے دن موسٹ وانٹیڈ لسٹ میں ٹاپ ٹین پر تھے! پھر اس نے جنگ کے آپشن کو رد کر کے کہا کہ میں ایک وفد بھیج رہی ہوں جو وہاں جا کر صورتحال کا جائزہ لے گا اور اس کی رپورٹ پر ھی اگلا قدم طے کیا جائے گا! اپنے سفراء کی رپورٹ سے غیر مطمئن ملکہ نے خود دورہ کرنے کا ارادہ کر لیا اور حضرت سلیمان علیہ السلام کو اپنے دورے کی اطلاع دے دی، حضرت سلیمان نے ملکہ کا تخت منگوا لیا اور جب وہ دربار مین حاضر ہوئی تو اس کا "‘ تــراہ ” نکالنے کے لئے اک دم اسی کا تخت بیٹھنے کے لئے پیش کر دیا ،، اور سوال کیا ” أھٰکذا عرشکِ؟ کیا آپ کا عرش بھی اسی جیسا ہے ؟ ملکہ نے نہایت وقار سے تخت پر قدم رنجہ فرماتے ہوئے بڑا ڈپلومیٹک جواب دیا ،، جس سے اس کی ذہانت کا اندازہ ہوتا ہے، اس نے نہ تو تعجب کا اظہار کیا ، اور نہ ہاں یا نہ میں جواب دیا، بلکہ کہا ” کأنہ ھو !! لگتا تو اسی جیسا ہے !

مگر اس نے اس بات کو اپنے حساب میں جوڑ ضرور لیا! پھر جب سلیمان علیہ السلام نے اپنا دربار اس حال میں سجایا جہاں نہایت شفاف شیشے کا فرش تھا جس کے پانی میں نیچے چلتی پھرتی مچھلیاں بھی نظر آرہی تھیں اور ملکہ کو دربار میں دعوت دی گئ تو ملکہ نے سمجھا کہ دربار تک جانے والے رستے میں پانی ہے تو اس نے اپنی شلوار تھوڑی سی اوپر اٹھائی، جس پر حضرت سلیمان علیہ السلام نے آواز دی کہ تشریف لائیے یہ شیشہ ہے پانی اس کے نیچے ہے، اس بات سےملکہ حقیقت کی تہہ تک پہنچ گئ کہ یہ نفیس آدمی عام دنیا دار بادشاہ نہیں بلکہ واقعتاً کسی عظیم آسمانی ہستی کا نمائندہ ھے، یوں اس نے سابقہ زندگی سے توبہ کر کے سلیمان علیہ السلام کے دست مبارک پر اسلام قبول کر لیا! جس کے نتیجے میں اس کے اندازِ حکومت کو دیکھتے ہوئے سبا کی حکومت ملکہ ہی کے پاس رہنے دی گئ، یوں ملکہ اپنی پوری قوم سمیت مسلمان ہو گئ، خود بھی دونوں جہانوں میں کامیاب ہوئی اور اپنی قوم کو بھی سرخرو کر دیا، اس کا تقابل اگر کرنا ہے تو مرد بادشاہ سے کر کے اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کریں کہ مرد بادشاہ کامیاب ہوا یا عورت ملکہ ؟؟ نیز کس کی قوم برباد ہوئی، مرد بادشاہ کی یا عورت حکمران کی ؟؟

1-پہلے نمبر پر فرعون کو دیکھ لیں ایک نہیں دو رسول تشریف لائے تھے، ایک ملاقات نہیں بلکہ 30 سال انہوں نے محنت کی اور 9 معجزے اس نے دیکھے! مگر خود بھی ڈوبا اور قوم بھی ڈبو دی! قرآن اس کی بربادی اور کم عقلی کا ذکر کچھ یوں کرتا ھے ” و اضل فرعون قومہ وما ھدی،، فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا، انہیں سیدھی راہ نہ سجھائی! اور فیصلہ سنایا یقدم قومہ یوم القیامہ فاوردھم علی النار، و بئس ورد المورد ! اور وہ اپنی قوم کے اگے آگے چلے گا قیامت کے دن اور انہیں آگ میں جا اتارے گا اور برا ٹھکانہ ہے اترنے کے لئے !

2- قیصر کو اللہ کے رسول ﷺ نے خط لکھا اور اسے لکھا کہ اگر تم مسلمان ہو جاؤ گے تو تمہاری قوم بھی مسلمان ہو جائے گی اور تمہیں ان کے اسلام کا اجر بھی ملے گا، اور تمہاری بادشاہی بھی تمہارے پاس رہے گی ! اور اگر تم پہلے کافر بنے تو تمہاری قوم بھی تمہارے اتباع میں کافر رہے گی، یوں تمہیں ان کے گناہ کا بوجھ بھی اٹھانا ہوگا ! ابوسفیان کی گواہی کے نتیجے میں حق کچھ اس طرح قیصر پر واضح ھوا تھا کہ اس نے یقین کے ساتھ کہا تھا کہ اس رسول اللہ کا حکم ٹھیک اس جگہ پہنچ کر رہےگا جہاں اس وقت میرے یہ قدم ہیں، مگر وہ اپنی قوم کے سرداروں کے دباؤ کا سامنا نہ کر سکا اور ان کے دباؤ میں اور بادشاہی جانے کے ڈر سے اسلام قبول نہ کر سکا یوں خود بھی برباد ہوا اور اپنی قوم کو بھی برباد کیا، جبکہ ملکہ بلقیس نے حق واضح ہو جانے کے بعد ایک لمحے کی دیر بھی نہیں کی اور اسلام کو قبول کرنے کا بولڈ قدم اٹھایا اور سرداروں کے دباؤ کو مسترد کر کے اپنے عوام کو دونوں جہانوں کی بربادی سے بھی بچا لیا اور اپنی بادشاہی اور حکمرانی بھی بچا لے گئ !

فاعتبروا یا اولی الابصـــار !!

سورس

Dr. Muhammad Hamidullah
Visit Website of Dr. Muhammad Hamidullah
ماخذ فیس بک
Leave A Reply

Your email address will not be published.