حضرت زیدؓ، حضرت زینبؓ اور قرآن مجید: (قسط۔۱) از ابن آدم

دور نبویؐ کی اسلامی تاریخ کا حساس ترین واقعہ جو بیان ہوتا ہے وہ حضرت زیدؓ بن حارثہ کی مطلقہ حضرت زینبؓ بنت جحش کا رسول کریمﷺ کے ساتھ نکاح ہے۔ مستشرقین ہوں یا ملحدین، دونوں ہی گروہ اس واقعہ کی مشہور تشریحات کی بنیاد پر نبی اطہرﷺ کی ذات کو معطون کرتے ہیں۔ دوسری جانب ہمارا رویہ یہ ہوتا ہے کہ انہی زہریلی تشریحات کی تاویلات کر کے جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں، یہ جانے بغیر کہ یہ تشریحات حقیقی ہو بھی سکتی ہیں یا کسی مجوسی زادے نے خود سے گھڑ کر نبی پاکﷺ کے کردار پر کیچڑ اچھالنے کی مکروہ کوشش کی ہے۔

قرآن کریم میں اس واقعہ کا ذکر ذوالقعدہ ٥ ہجری میں نازل ہونے والی سورہ احزاب کی آیات ٣٦ تا ٤٠ میں آیا ہے۔ان آیات کے متعلق دو پس منظر مشہور ہیں۔ پہلے کے مطابق حضرت زینبؓ جو کہ رسول اللهﷺ کے “آزاد کردہ” غلام حضرت زیدؓ کی بیوی تھیں، ان پر جب رسول الله کی نظر پڑی تو نعوز باللہ انؐ کے دل میں حضرت زینبؓ کو اپنانے کا خیال پیدا ہوا۔ حضرت زیدؓ کے علم میں جب یہ بات آئی تو انھوں نے حضرت زینبؓ کو طلاق دینے کا عندیہ دیا تاکہ رسول کریمؐ اپنی خواہش کے مطابق ان سے شادی کر لیں۔ نبی کریمؐ نے حضرت زیدؓ پر اپنی حقیقی خواہش کا اظہار نہ کرتے ہوئے اوپری دل سے ان کو طلاق نہ دینے کا مشورہ دیا۔ تاہم پھر بھی جب انھوں نے طلاق دے دی تو الله تعالی نے اپنے نبیؐ کی خواہش کے مطابق ان کا نکاح حضرت زینبؓ سے کر دیا۔ رشتہ بھیجے جانے اور پھر نکاح کے بعد رسولؐ الله کی حضرت زینبؓ سے ملاقات جس طور بیان کی جاتی ہے اس میں بھی سنسنی کا پہلو موجود ہے۔

قطع نظر اس کے کہ یہ معلوم کیا جائے کہ کیا سوره احزاب کی یہ آیات اس غلیظ کہانی کی تائید کر بھی رہی ہیں یا نہیں، اُس تاویلاتی بیانیہ پر بھی نظر ڈال لی جائے جو کہ اس افسانے کے مقابلے میں بیان کیا گیا ہے۔اس کے مطابق نبی کریم کی پھوپھی زاد بہن حضرت زینبؓ، جو کہ اعلیٰ خاندان سے تھی، ان کے ساتھ الله کے رسولؐ نے حضرت زید ؓ کا نکاح اس لئے کرنا چاہا تاکہ اسلام میں غلام اور آزاد کا فرق مٹ جائے، کیونکہ حضرت زیدؓ حضور اکرمؐ کے “آزاد کردہ غلام” تھے۔ جب حضرت زینبؓ اس نکاح پر تیار نہ ہوئیں تو سورہ احزاب کی آیت ٣٦ نازل ہوئی کہ کسی مومن مرد یا عورت کا اپنی ذات پر کوئی اختیار نہیں رہتا جب کہ الله اور اس کے رسولؐ فیصلہ کر چکے ہوں،ناچار انھوں نے نکاح کر تو لیا لیکن انکے خاندانی پس منظر نے ان کے لیے حضرت زیدؓ کو بحیثیت شوہر ذہنی طور پر قبول کرنے سے روک دیا،نتیجتاً حضرت زیدؓ ان کو طلاق دینے پر مجبور ہو گئے۔ رسولؐ الله نے کوشش کی کہ حضرت زیدؓ طلاق نہ دیں تاہم نباہ نہ ہو سکا۔ اب رسولؐ الله کے پاس حضرت زینبؓ کی دلجوئی کے لئے اور کوئی چارہ نہ رہ گیا تھا کہ خود ہی نکاح کر لیں، کیونکہ پچھلا نکاح ایک “آزاد کردہ غلام” سے انھوںؐ نے حضرت زینبؓ کو مجبور کرکے کروایا تھا۔ یہاں یہ بات بھی غور طلب ہے کہ دور نبویؐ کی ہی اسلامی تاریخ میں ایسے واقعات موجود ہیں جہاں اعلیٰ نسبی پس منظر کی خواتین کی نسبتاً کمزور پس منظر کے افراد یا یہاں تک کہ آزاد کردہ غلاموں سے بھی شادیاں ہوئیں اور کامیاب رہیں- گویا اگر اسلام کے اندر حسب نسب کے خاتمہ کے لیے رسولؐ اللہ نے حضرت زینبؓ کی شادی انکی مرضی کے خلاف ایک کمزور پس منظر والے شخص سے کروائی، تو وہ تو ناکام ہوئی، اور باقی شادیاں کامیاب رہیں۔ نعوذ باللہ اگر ایسا ہی ہوتا تو کیا یہ بات نبیؐ کی کوتاہ نظری کی نشاندہی نہیں کرتی۔ کیا ایسا کسی مسلمان کے لیے سوچنا بھی زیبا ہے۔ دوسری بات یہ کہ اسلام میں جبری شادی کا نظریہ کہاں سے آگیا کہ جب ایک خود مختار عورت شادی پر راضی نہیں ہے، اس پر دباؤ ڈالنے کے لیے آیت تک نازل ہوجائے، کہ انکار کا کوئی راستہ ہی نہ رہے۔ کیا اسلام فسطائیت کی تعلیم دینے نازل ہوا تھا؟ حالانکہ سیرت نبویؐ سے ثابت ہے کہ کسی عورت کی جبری شادی منسوخ کرنے کا اختیار اللہ کے رسولؐ نے عورت کو دیا۔ آخر حضرت زیدؓ اور زینبؓ کا نکاح ہی کیوں ایسا انوکھا اقدام تھا، کہ تمام اسلامی ضابطے بھی بالائے طاق رکھ دیے گئے۔

دونوں بیانیوں پر بحث کرنے سے پہلے بہتر ہو گا کہ سوره الاحزاب ( نزول ذو القعدہ ٥ ہجری) کی وہ آیات بھی سامنے رکھلی جائیں جو کہ حضرت زینبؓ کے رسولؐ الله کے ساتھ نکاح کے وقت نازل ہوئیں۔

“کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسولؐ کسی معاملے کا فیصلہ کر دے تو پھر اسے اپنے اُس معاملے میں خود فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل رہے اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسولؐ کی نافرمانی کرے تو وہ صریح گمراہی میں پڑ گیا (٣٦) اے نبیؐ، یاد کرو وہ موقع جب تم اس شخص (حضرت زیدؓ بن حارثہ جو کہ اس مکالمے کے وقت زیدؓ بن محمدؐ تھے) سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے اور تم نے احسان کیا تھا کہ “اپنی بیوی کو روکے رکھو اور اللہ سے ڈرو اور تم اس بات کو اپنے دل میں چھپا رہے ہو جسے اللہ ظاہر کر دے گا، اور تم لوگوں سے ڈر رہے ہو حالانکہ اللہ اس کا زیادہ حقدار ہے کہ تم اس سے ڈرو”؛ پس جب زیدؓ اس عورت (حضرت زینبؓ) سے اپنی حاجت پوری کر چکا ہم نے اس (حضرت زینبؓ) کا نکاح تم (رسول کریمؐ) سے کر دیا تاکہ مومنوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے معاملہ میں کوئی تنگی نہ رہے جبکہ وہ ان سے اپنی حاجت پوری کر چکے ہوں اور اللہ کا حکم تو عمل میں آنا ہی چاہیے تھا (٣٧) نبی پر کسی ایسے کام میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے جو اللہ نے اس کے لیے مقرر کر دیا ہو۔  یہی اللہ کی سنت ان سب انبیاء کے معاملہ میں رہی ہے جو پہلے گزر چکے ہیں اور اللہ کا حکم ایک قطعی طے شدہ فیصلہ ہوتا ہے (٣٨) (یہ اللہ کی سنت ہے اُن لوگوں کے لیے) جو اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور اُسی سے ڈرتے ہیں اور ایک خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے، اور محاسبہ کے لیے بس اللہ ہی کافی ہے (٣٩) (لوگو) محمدؐ تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، مگر وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں، اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے (٤٠)”(سورہ احزاب، نزول ۵ ہجری)

اگر اس بات کو تھوڑی دیر کے لئے درست مان بھی لیا جائے کہ آیت ٣٦ اس وقت نازل ہوئی جب حضرت زینبؓ حضرت زیدؓ کو کمتر جانتے ہوئے ان سے شادی کرنے سے انکار کر رہی تھیں، تو اس کا مطلب تو یہ ہو گا کہ یہ آیت سورہ احزاب کے باقاعدہ نزول سے کافی عرصہ پہلے نازل ہوگئی۔تو کیا ٥ ہجری تک یہ آیت معلق ہی رہی جو کہ کسی سورت کے ذیل میں نہ تھی۔یہ کیونکر ممکن ہے۔

اس کے بعد دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر بی بی زینبؓ نے اس آیت کے نزول کے بعد شادی کر ہی لی تھی تو اس شادی کو دل سے کیوں نہ قبول کیا؟ ہمارے آج کے معاشرے میں بھی لاتعداد نوجوان لڑکے اور لڑکیاں کسی طرف میلان نہ رکھنے کے باوجود بھی بزرگوں کے دباؤ میں شادی کر لیتے ہیں مگر پھر اس رشتے کو نباہتے ہیں۔ پھر کیا حضرت زینبؓ الله اور اس کے رسولؐ کے صریح حکم کے باوجود بھی محض خاندانی تفاخر کی بنا پر حضرت زیدؓ کو بحیثیت شوہر قبول نہیں کررہی تھیں۔ مزید یہ کہ آیت ۳٦ میں حکم صرف حضرت زینبؓ کے لئے مخصوص تو نہیں ہے، بلکہ وہاں تو تمام مسلمانوں کے لئے ایک عمومی کلیہ کے طور پر بلا تخصیص حکم ہے۔ لہذا اس آیت کے نزول کے بعد اگر رسولؐ الله حضرت زیدؓ کو طلاق دینے سے روک رہے تھے تو انؓ کے لئے طلاق دینا کس طور جائز ہوا کیونکہ ازروئے تشریحات آیت ٣٦ تو حضرت زیدؓ کے حضرت زینبؓ سے نکاح ہونے سے پہلےہی نازل ہو چکی تھی۔ گویا حضرت زیدؓ نے حضرت زینبؓ کو طلاق دے کر ایک ناجائز کام کا ارتکاب کیا۔ قران کے ایک نازل شدہ حکم کی خلاف ورزی کی۔

مزید بحث کرنے سے بہتر ہو گا کہ حضرت زیدؓ اور حضرت زینبؓ کے خاندانی پس منظروں کو بھی مد نظر رکھ لیاجائے تاکہ ان آیات کی تفہیم میں آسانی ہو سکے۔ حضرت زینبؓ رسولؐ الله کی پھوپھی امیمہ بنت عبد المطلب کی صاحبزادی تھیں۔ گویا حضرت زینبؓ کی والدہ تو ضرور مکہ کے معزز ترین خاندان قریش کی بیٹی تھیں۔ تاہم حضرت زینبؓ کا اپنا تعلق قریش سے نہیں تھا بلکہ آپ کا تعلق قبیلہ بنو اسد سے تھا جو کہ قریشی خاندان بنو امیہ کا حلیف تھا۔ رسولؐ الله سے جس وقت حضرت زینب ؓ کی شادی ہوئی یعنی ٥ ہجری کا آخر، اس وقت حضرت زینب کی عمر ٣۵ سال کے لگ بھگ تھی۔ ظاہر ہے کہ ان کی پہلی شادی حضرت زیدؓ سے ٥ ہجری کے اس پاس تو نہیں ہو سکتی (کیونکہ یہ پہلی شادی کی عمر نہیں ہوتی)۔ قرائن یہی بتاتے ہیں کہ یہ شادی نبوت کے ابتدائی دور میں ہی کبھی ہوئی ہے۔ (یعنی بالفرض یہ شادی سورہ احزاب آیت ۳٦ کے نزول کی بدولت ہوئی، تو یہ آیت کم و بیش ۱۸ سال معلق ہی رہی، یہاں تک کہ سورہ احزاب کا نزول ہوا)۔

دوسری جانب حضرت زیدؓ یمنی الاصل خاندانی شخص تھے جن کو اغوا کاروں نے بچپن میں ہی ایک میلے میں فروخت کر دیا تھا اور حضرت خدیجہؓ کے بھتیجے حکیم بن حزام نے ان کو خرید کر اپنی پھوپھی کو تحفے میں دے دیا تھا۔ شادی کے بعد حضرت خدیجہؓ نے حضرت زیدؓ کو رسولؐ الله کی خدمت میں پیش کر دیا تھا۔ عرصہ بعد حضرت زیدؓ کے والدین کو آپ کی مکہ موجودگی کا علم ہوا اور انکے والد اور چچا آپ کو واپس حاصل کرنے نبی کریمؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔تاہم حضرت زیدؓ نے واپس جانے سے انکار کر دیا۔رسولؐ الله نے یہ دیکھتے ہوئے حضرت زیدؓ کو خانہ کعبہ لے جا کر اپنا بیٹا بنانے کا اعلان کیا،اور یوں وہ زیدؓ بن محمدؐ بن گئے۔ یہ واقعہ قبل از نبوت کا ہے۔عربوں میں زبان کی بنیاد پر رشتوں کی بہت اہمیت تھی جو کہ حقیقی خونی رشتوں ہی کی مانند ہوتے تھے۔ لہٰذا حضرت زیدؓ رسول الله کے آزاد کردہ غلام نہ تھے بلکہ ان کے لے پالک بیٹے تھے۔ اور اس وقت کے عرب رواج کے مطابق ان کا تعلق قریش اور بنو ہاشم سے تھا۔ باقی ان پر غلامی کا داغ بھی ایک نسلی غلامی کا نہ تھا بلکہ یہ ایک حادثہ تھا۔ وہ تو ایک معلوم خاندان کے چشم و چراغ تھے۔اور جس وقت بعثت ہوئی وہ خانوادہ رسولؐ کا حصہ تھے، اولین مسلمانوں میں سے ایک تھے اور رواج کے مطابق رسولؐ الله کے واحد بیٹے تھے۔

آخر کیوں ہمارے ذہنوں میں یہ بات بٹھائی جاتی ہے کہ وہ آزاد کردہ غلام تھے جب کہ قرآن خود ان کو رسول ﷺ کا منہ بولا بیٹا بتا رہا ہے۔ دراصل پہلی صدی کے اختتام پر بنو امیہ کے خلاف جو عباسی علوی تحریک چلی یہ اس کا شاخسانہ ہے جس کا شکار نبی پاکؐ کی بقیہ تین بیٹیاںؓ بھی بنیں اور حضرت زیدؓ بھی۔ ان تین بیٹیوںؓ کا “قصور” تو یہ تھا کہ وہ تینوں عباسیوں علویوں کے سیاسی مخالف خاندان بنو امیہ کی بہوئیں تھیں۔ لہٰذا پورے طور یہ کوشش ہوئی کہ مسلمانوں کے ذہنوں سے ان تینوں کا وجود ہی مٹا دیا جائے۔ حضرت زیدؓ سے عباسیوں کو تو کوئی پرخاش نہیں تھی لیکن علوی افراد خانوادہ نبویؐ میں حضرت فاطمہؓ کے علاوہ کسی کو بھی دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔ لہٰذا حضرت زیدؓ کو منہ بولے بیٹے کی بجائے مسلسل آزاد کردہ غلام بلوایا جاتا ہے، تاکہ ان کا اور نبی کریمؐ کا تعلق کمزور کرکے دکھایا جائے۔جب کہ سوره احزاب کی آیت ۳۷ میں انکا نام کے ساتھ ذکر ہے، اور پھر منہ بولا بیٹا ہونے کا حوالہ ہے۔

یہ مفروضہ ہی غلط ہے کہ حضرت زینبؓ خاندانی تفاخر کی بنیاد پر حضرت زیدؓ کا رشتہ مسترد کرنا چاہتی تھیں، اس لیے کہ شادی کے وقت حضرت زیدؓ تو قریش اور بنو ہاشم کا حصہ تھے جب کہ حضرت زینبؓ ایک غیر قریشی خاتون تھیں۔ مزید یہ کہ اسلام میں اگر نسبی اعتبار سے تفاخر کی کوئی اہمیت ہوتی تو حضرت زیدؓ تو رسول وقت کے بیٹے تھے تو ان سے بڑھ کر فخر کون کر سکتا تھا؟

جو لوگ سوره الاحزاب کی آیات کے اس پس منظر کے قائل ہیں کہ رسول الله کا حضرت زینبؓ سے نکاح الله تعالیٰ نے اس لئے کروایا تھا کہ رسول الله نے ان کو اچانک دیکھ کر اپنے دل میں ان کے لئے رغبت محسوس کی اور پھر الله تعالیٰ نے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں سے نکاح کی اجازت دے کر رسول کریمؐ کے نکاح کا راستہ ہموار کیا، ان کے لئے عرض ہے کہ نبی پاکؐ اچانک دیکھ کر ان کی طرف رغبت محسوس کر ہی نہیں سکتے تھے، کیونکہ وہ ان کی سگی پھوپھی زاد بہن تھیں جن کو وہ بچپن سے اس وقت تک دیکھتے ہی آ رہے تھے۔اور جب وہ حضرت زیدؓ کی بیگم بنیں تو رسول الله سے ان کا سامنا پہلے کی نسبت زیادہ ہی ہو گیا ہو گا کیونکہ وہ پھوپھی زاد بہن کے ساتھ ساتھ (اس وقت کے رواج کے مطابق) زیدؓ بن محمدؐ کی بیوی بھی بن گئی تھیں۔ مزید یہ بھی دھیان میں رہے کہ اسلام میں اس وقت تک پردے کے احکامات نازل بھی نہیں ہوئے تھے، کہ اتنی قریبی رشتہ داروں کو بھی یوں اچانک دیکھا جائے۔ دراصل یہ بیہودہ گوئی بائبل کی اوریا حطی اور بت شیبا کی کہانی سے متاثر ہوکر گھڑی گئی تھی، جس کے مطابق بادشاہ وقت نے اپنے ایک سپاہی کی بیوی کو یوں ہی اچانک دیکھ لیا تھا۔

باقی اگر رسول الله ﷺ سے ان کا نکاح، رسول الله کی نفسانی خواہش (نعوز باللہ) کی بنیاد پر الله تعالیٰ نے کرایا ہوتا تو یہ بات بھی خود الله تعالیٰ کی سنت کے خلاف جاتی۔ سوره ص کی آیات ٢١ تا ٢٥ میں حضرت داؤدؑ کا ایک قصہ بیان ہو رہا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ حضرت داودؑ کی کسی نفسانی خواہش پر الله تعالیٰ نے فوراً تنبیہ کی اور انھوں نے الله کی طرف رجوع کیا اور اپنے لئے مغفرت کی دعا کی۔ سوره ص ایک مکی سورت ہے، کیا یہ ممکن ہے کہ ایک جانب تو یہ بیان کیا جا رہا ہو کہ اگر کسی نبی میں کسی نفسانی خواہش کی طرف میلان بھی پیدا ہوا ہو تو الله تعالیٰ فوراً متنبہ کر دیتا ہے اور دوسری جانب ٥ ہجری میں الله کی سنت اور قرآن کی ایک نازل شدہ واقعہ کے برخلاف خود الله تعالیٰ ہی نبی پاکؐ کے لئے اس قسم کی سہولیات پیدا کررہا ہو۔حضرت زینبؓ ہی کی شادی سے متعلق نازل ہونے والی آیات میں سے آیت ٣٨ میں الله تعالیٰ نے یہ بیان بھی کیا ہے کہ الله کی سنت اپنے انبیاء کے معاملے میں تبدیل نہیں ہوتی۔

اس فحش واقعے کو ان آیات پر منطبق کرنے کے لئے آیت ٣٧ میں بیان مکالمہ میں تقسیم پیدا کی جاتی ہے وہ اس طرح کہ فعل مضارع/حال میں رسول الله اور حضرت زیدؓ کے مکالمے کو کہ جس میں رسول الله ان کو کہہ رہے ہیں کہ اپنی بیوی کو طلاق نہ دو اور جو بھی تم چھپا رہے ہو الله اس کو ظاہر کر دے گا، اس مکالمے کے آخری آدھے حصے کو فعل ماضی میں لے جا کر الله اور رسولؐ کا مکالمہ بنا دیا جاتا ہے یعنی جب رسول الله (نعوز باللہ) اوپری دل سے یہ کہہ رہے تھے کہ “اے زید! اپنی بیوی کو روکے رکھو اور الله سے ڈرو” تو اس وقت کے متعلق الله نے بیان کیا کہ “اے نبی! تم اس وقت اپنے دل میں جو چھپائے ہوئے تھے (یعنی نعوذ باللہ بی بی زینبؓ کی محبت) وہ الله ظاہر کرنے والا تھا”۔ اگر ایسی ہی بات ہوتی تو جملے کے اس حصہ کو فعل ماضی میں ہونا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہے۔

اس فحش قصے کو جہاں ماننے والے بہت تھے تو وہیں پر ایک بڑے طبقے نے اس کا انکار بھی کیا۔ تاہم انکار کے باوجود بھی وہ طبقہ رسولؐ الله اور حضرت زیدؓ کے آیت ۳۷ والے مکالمے میں پیدا کی گئی تقسیم سے باہر نہ نکل سکا اور اس مکالمہ کے آخری حصے کو الله اور اسکے رسولؐ کے درمیان ہی کا مکالمہ مان لیتا ہے، مگر اب کی بار تاویل مختلف کر دی جاتی ہے۔اس گروہ کا کہنا ہے کہ الله کی طرف سے نبی کریمؐ کو حضرت زینبؓ سے رسولؐ اللہ کے ہونے والے نکاح کی خبر اس وقت ہی دیدی گئی تھی جب کہ وہ حضرت زیدؓ کی منکوحہ تھیں۔ گویا رسولؐ اللہ کے علم میں آچکا تھا کہ عنقریب حضرت زیدؓاور زینبؓ میں طلاق ہو جائے گی اور سابقہ بہو ہونے کے ناطے لوگ رسولؐ اللہ اور حضرت زینبؓ کے ہونے والے نکاح پراعتراض اٹھائیں گے، تو انھوں نے مقدور بھر کوشش کی کہ حضرت زیدؓ اور زینبؓ میں طلاق ہو ہی نہ سکے۔آیت ٣٦ کے متعلق کیونکہ یہ ذہن نشین پہلے ہی کرا دیا گیا تھا کہ اعلیٰ نسبی حضرت زینبؓ، آزاد کردہ غلام حضرت زیدؓ سے بامر مجبوری شادی کر پائی تھیں لہٰذا وہ بار بار حضرت زیدؓ کو ان کے کم نسب ہونے کا احساس دلاتی تھیں۔ اس چیز کی شکایت حضرت زیدؓ رسولؐ الله سے کرتے تھے اور طلاق دینے کی خواہش کا اظہار کرتے تھے۔ جبکہ الله نبی کریمؓ کو بتا ہی چکا تھا کہ طلاق بالآخر ہونی ہی ہے اور اس کے بعد آپؐ کو یہ شادی کرنی ہو گی۔ لہذا اللہ کے رسولؐ نے الله کے اس امر کو ٹالنے کے لئے یہ کوشش شروع کی کہ حضرت زیدؓ اور حضرت زینبؓ کی طلاق ہو ہی نہ پائے۔یہ کہانی اگرچہ پچھلی کہانی کے مقابلے میں اس لحاظ سے تو شاید قابل قبول ہے کہ اس میں فحاشی کا عنصر نہیں لیکن اس میں رسولؐ الله کی ذات پر ایک دوسرا الزام دھر دیا گیا کہ وہ الله کی مشیت میں رکاوٹ پیدا کرنے کے موجب بن رہے تھے۔دوسری جانب ام المومنین کا یہ کردار بیان ہوتا ہے کہ وہ نسلی برتری کے زعم میں گرفتار تھیں اور کم نسل زیدؓ کو اپنا شوہر ماننے پر راضی نہ تھیں، جو کہ حقائق کے بالکل ہی منافی ہے۔

تیسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب رسولؐ الله نے حضرت زیدؓ کو طلاق دینے سے روک ہی دیا تھا تو انھوں نے حضرت زینبؓ کو کیوں طلاق دی۔ جب کہ اس تشریح کے مطابق سورہ احزاب کی آیت ٣٦ توعرصہ پہلے نازل ہو چکی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ جب الله اور رسول کوئی فیصلہ کر دیں تو کسی انسان کو اپنی ذات پر کوئی حق حاصل نہیں رہتا۔ یعنی اس بیانیہ کو اگر تسلیم کیا جائے تو رسولؐ الله، حضرت زیدؓ اور حضرت زینبؓ تینوں کی ہی شدید کردار کشی ہوتی ہے۔ رسولؐ الله کی اس حوالے سے کہ الله کے رسولؐ ہونے کے باوجود بھی وہ الله ہی کے احکامات کی بجاآوری کے بجائے رکاوٹ پیدا کر رہے تھے، حضرت زیدؓ پر اس حوالے سے کہ سوره احزاب ہی کی آیت ٣٦ کے نازل ہونے کے باوجود بھی انھوں نے رسولؐ الله کے حکم کی خلاف ورزی کی اور منع کرنے کے باوجود بھی طلاق دی، اور قرآن کا عملی انکار کیا اور حضرت زینبؓ پر اس حوالے سے کہ وہ متکبرانہ شخصیت کی مالک تھیں اور کسی کو کم نسب سمجھتے ہوئے اس سے شادی کرنے کو معیوب سمجھ رہی تھیں اور اللہ اوررسولؐ کے حکم پر شادی کرنے کے باوجود بھی اس شخص کو دل سے شوہر تسلیم نہ کیا۔

یہ تو ان دونوں قصوں کی قباحتیں ہیں کہ جہاں ایک جانب آیت ٣٧ کے متن سے ٹکرا رہے ہیں وہیں دوسری جانب آیت ٣٦ کو سورت کے نظم سے توڑ کر مکے کے بھی ابتدائی دور میں لے جاتے ہیں۔ فحش گوئی کے ساتھ ساتھ پہلے قصے کا تیسرا عیب یہ کہ حضرت زینبؓ کو رسولؐ الله نے بچپن سے ہی دیکھا ہوا تھا اور جب تک پردے کے احکامات بھی نازل نہیں ہوئے تھے، لہذا اچانک دیکھ کر فریفتہ ہونے کا کوئی امکان نہیں تھا اور دوسرے قصے میں قباحت یہ ہے کہ جس وقت حضرت زیدؓ کی حضرت زینبؓ سے شادی ہوئی، حضرت زیدؓ نسبی اعتبار سے تمام مسلمانوں میں اعلیٰ ترین تھے، یعنی کہ نبی وقت کے بیٹے زیدؓ بن محمدؐ تھے، لہذا کم نسب قرار دیکر حضرت زینبؓ رشتہ کا انکار نہیں کر سکتی تھیں۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔

 
 
Dr. Muhammad Hamidullah
Visit Website of Dr. Muhammad Hamidullah
ماخذ فیس بک

You might also like More from author

تبصرے

Loading...