حضرت سلیمان علیہ السلام کے قرآنی واقعات کی حقیقت تحریر: محمد نعیم خان

ڈاؤن لوڈ پی ڈی آیف فائل

حضرت  کے قرآنی واقعات کی حقیقت

تحریر:

 

عنوانات

مَنطِقَ الطَّيْرِ سے مراد

لفظ جن کی تحقیق

نمل کی وضاحت

ہد ہد کون؟ 

ملکہ سبا کا تخت

 حضرت سلیمان علیہ السلام کے قرآنی واقعات کی حقیقت

حضرت سلیمان اور ملکہ سبا کے تخت لانے کا واقعہ ہمیں سوره النمل میں ملتا ہے . جس کو مفسرین کچھ یوں بیان کرتے ہیں کہ ایک کتاب کا علم جاننے والے نےپلک جھپکنے سے پہلے ہی وہ تخت لا کر حضرت سلیمان کے سامنے رکھ دیا .

یہ وہ موقف ہے جو زیادہ تر مفسرین بیان کرتے ہیں . اب سوچنے والی بات ہے کہ جس کے دربار میں ایسے لوگ شامل ہوں جو ایک تخت لمحہ بھر سے بھی کم عرصے میں کئی میل دور سے لا کر سامنے رکھ دیں ، کیا اس کو اتنی بڑی فوج کی ضرورت ہوگی ؟. کیا لمحے بھر میں دشمن کا جنگی سازو سامان اس کے قدموں میں نہ ہوگا ؟. کیا ایسا شخص پوری دنیا فتح نہ کر سکے گا ؟

ان تمام باتوں کے باوجود حضرت سلیمان کے پاس ایک پوری فوج تھی اور پیغام رسانی کے لیے پرندوں کی بھی فوج رکھی ہوئی تھی . تیز رفتار گھوڑے ، لوہے سے بنا اسلحہ اور بے شمار جنگی سازو سامان .

پھر کسی کی مرضی کے بغیر اس کا مال اپنے قبضے میں کرنا اور اس میں تبدیلی کرنا کیا کسی بھی طرح چوری کے زمرے میں نہیں آتا ؟. اس پر کچھ احباب تاویل پیش کرتے ہیں کہ کسی کا مال اٹھا کر اس کے سامنے پیش کرنا چوری نہیں کہلاتا . یہ ایسی بودی تاویل ہے کہ اس پر کوئی کیا کلام کرے . ایک تو آپ نے کسی کا مال اس کی اجازت کے بغیر اٹھایا پھر تبدیل کر کے اس کے سامنے رکھ دیا کہ پہچاننے میں نہ آئے  پھر اس کو چوری بھی قرار نہیں دیتے کیوں کہ یہاں معاملہ ایک نبی کا ہے . بلکل ایسی ہی تاویل حضرت یوسف کا اپنے بھائی کے سامان میں پیالہ رکھنے کے معاملے میں یہی احباب کرتے ہیں . یعنی وہاں بھی ایک رسول پر دھوکے بازی اور چوری کا الزام لگاتے ہیں . چوری کا الزام بھائی پر لگا کر اس کو روک دیا کیوں کہ اس ملک کے قانون کے مطابق روک نہیں سکتے تھے .پھر اس پر مزید ستم ظریفی یہ کہ اس کو الله کی تدبیر قرار دیتے ہیں . ایسی باتیں الله اور اس کے رسولوں کو زیب نہیں دیتیں . یہ رسول ایسی باتوں سے پاک ہوتے ہیں

اس تمہید کے بعد ایک ایک آیت پر غور کرتے ہیں .

یہ قصہ سوره النمل کی آیت15 سے شروع ہوتا ہے .

وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ عِلْمًا ۖ وَقَالَا الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي فَضَّلَنَا عَلَىٰ كَثِيرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ ﴿15﴾

(دوسری طرف) ہم نے داؤدؑ و سلیمانؑ کو علم عطا کیا اور انہوں نے کہا کہ شکر ہے اُس خدا کا جس نے ہم کو اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت عطا کی (15)

یہ آیت تو اپنے مفہوم میں ایسی نہیں کہ اس کی بیان کی جاے البتہ ایک ضمنی طور پر یہ بات کہتا چلوں کہ یہاں فَضَّلَنَا عَلَىٰ كَثِيرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ سے کیا مراد ہے ؟. میرے نزدیک یہ وہی بات ہے جو سوره البقرہ کی آیت 283 میں یا سوره اسرا کی آیت 55 میں بیان ہوا ہے کہ بعض پیغمبروں کو بعض سے بڑھ کر مرتبے دیے ہیں . یہاں اس ہی بات کا ذکر ہے کیوں کہ بنی اسرائیل میں بادشاہت تھی جو نقطہ عروج پر حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کے دور میں پہنچی تھی .

اگلی آیت ہے .

وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ ۖ وَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنطِقَ الطَّيْرِ وَأُوتِينَا مِن كُلِّ شَيْءٍ ۖ إِنَّ هَـٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِينُ ﴿16 ﴾

اور داؤدؑ کا وارث سلیمانؑ ہوا اور اس نے کہا ““لوگو، ہمیں پرندوں کی بولیاں سکھائی گئی ہیں اور ہمیں ہر طرح کی چیزیں دی گئی ہیں، بیشک یہ (اللہ کا) نمایاں فضل ہے” (16 )

مَنطِقَ الطَّيْرِ سے مراد :

نطق سے مراد آواز دار حروف کے ساتھ بولنا جس سے بات سمجھ میں آ جاے ، حیوانات کے بولنے کو نطق نہیں کہتے بلکہ صوت کہتے ہیں . صوت بھی عربی زبان کا لفظ ہے جس کا ذکر سوره لقمان کی آیت19 میں ملتا ہے .

. نطق کا لفظ انسان پر بولا جاتا ہے لیکن دوسروں پر بطور مجاز بولا جا سکتا ہے . اس کی وجہ یہ ہے کہ الله نے انسان کو بیان کرنے کا علم عطا کیا ہے . اس میں یہ صلاحیت رکھی ہے کہ جس سے وہ اپنی بات دوسروں کو سمجھا دیتا ہے پھر اس ہی سے مختلف زبانیں وجود میں آئی  ہیں . اس ہی کا ذکر سوره الرحمان کی آیت3 اور 4 میں یوں کیا ہے ،

خَلَقَ الْإِنسَانَ ﴿3﴾ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ ﴿4 ﴾

اُسی نے انسان کو پیدا کیا (3) اور اسے بولنا سکھایا (4 )

مفسرین نے نطق الطیر کے ساتھ یہ اضافہ بھی کردیا کہ حضرت سلیمان تو تمام جانوروں کی بولی جانتے تھے . کبھی کبوتر سے باتیں کرتے تھے تو کبھی گدھا انہیں کوئی بات بتا رہا ہوتا تھا کبھی ایک طوطا اپنے گھر پہ واپسی پر ان کو یہ پیغام بول کر جاتا ہے کہ واپس آکر کچھ کام کی باتیں بتائے گا . غرض مفسرین کی تفسیر پڑھیں تو سواے قصے کہانیوں کے اور کچھ نہیں ملے گا .

خود حضرت سلیمان کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ نطق الطیر میں نہ صرف حضرت سلیمان بلکہ پوری قوم بھی شامل ہے . اس ہی آیت کے الفاظ ہیں ،

““لوگو، ہمیں پرندوں کی بولیاں سکھائی گئی ہیں”

جس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ سلطنت کے سامانوں میں سے ایک سامان ہے جیسے ,اس ہی آیت میں اس کے بعد حضرت سلیمان فرماتے ہیں

“اور ہمیں ہر طرح کی چیزیں دی گئی ہیں”

جس سے مراد سلطنت چلانے کے لیے وہ تمام چیزیں دی گی ہیں جو ضروری ہیں اور نطق الطیر بھی اس میں شامل ہے .

جیسا کہ لفظ کل کی وضاحت میں اپنی دوسری تحریروں میں کر چکا ہوں کہ یہ اپنے سیاق کے حساب سے مطلب دے گا . ایسا نہیں ہے کہ یہاں کل سے مراد کائنات کی ہر چیز بلکہ صرف وہی ضروری سامان جو ایک سلطنت کو چلانے کے لیے ضروری ہوں . بلکل یہی الفاظ ملکہ سبا کے لیے بھی قرآن میں آے ہیں .

نطق الطیر کی تشریح سے یہ بات امید ہے واضح ہو گئی ہوگی کہ یہاں نطق کا لفظ ان معنوں میں استعمال نہیں ہوا جن معنوں میں انسانوں پر بولا جاتا ہے بلکہ یہ ان معنوں میں بولا گیا ہے جس کا ذکر سوره الجاثیہ کی آیت 29 میں ہے ،

هَـٰذَا كِتَابُنَا يَنطِقُ عَلَيْكُم بِالْحَقِّ

یہ ہماری کتاب تمہارے بارے میں سچ سچ بیان کردے گی

اس سے مراد یہ نہیں کہ کتاب بولنے لگے گی بلکہ یہ کتاب پڑھ کر مطلب واضح ہو جاتا ہے بلکل اس ہی طرح پرانے زمانے میں پرندوں سے پیغام رسانی کا کام انجام لیا جاتا تھا اس لیے یہاں مجازی طور پر اس کو نطق الطیر کہا گیا .

پہلی اور دوسری عالمی جنگوں میں پرندوں سے ایسے ہی پیغام رسانی کا کام لیا جاتا رہا ہے اور بہت سے پرندوں کو اس پر فوجی اعزازات بھی دئیے گے تھے .

جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ کسی بھی فوج میں کمیونیکشن ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے . بروقت پیغام کی ترسیل فوج کو درست فیصلہ کرنے اور دشمنوں کو شکست دینے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے . اس ہی لیے ان کا یہاں خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا .

یہاں پر کچھ احباب اعتراض اٹھاتے ہیں کہ الله نے ہر شے کو گویائی کی صلاحیت دی ہوئی ہے اور پھر سوره السجدہ کی آیت 21 پیش کرتے ہیں

وَقَالُوا لِجُلُودِهِمْ لِمَ شَهِدتُّمْ عَلَيْنَا ۖ قَالُوا أَنطَقَنَا اللَّـهُ الَّذِي أَنطَقَ كُلَّ شَيْءٍ وَهُوَ خَلَقَكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ﴿21﴾

وہ اپنے جسم کی کھالوں سے کہیں گے “تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی؟”وہ جواب دیں گی “ہمیں اُسی خدا نے گویائی دی ہے جس نے ہر چیز کو گویا کر دیا ہے اُسی نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اور اب اُسی کی طرف تم واپس لائے جا رہے ہو (21 )

نطق کا ایک مطلب گواہی دینا ، شہادت دینا ، دلالت کرنا بھی ہے . پوری کائنات اپنے وجود سے ایک خالق کی گواہی زبان حال سے دے رہی ہے . بلکل یہی مطلب اس آیت کا ہے. اس کے علاوہ قرآن میں قیامت کے جتنے بھی واقعات بیان کئے جاتے ہیں وہ سب تمثیلی ہوتی ہے حقیقی نہیں . اس لیے اوپر پیش کی جانے والی آیت تمثیلی ہے حقیقی نہیں .

اگلی آیت ہے .

وَحُشِرَ لِسُلَيْمَانَ جُنُودُهُ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ وَالطَّيْرِ فَهُمْ يُوزَعُونَ ﴿17﴾

سلیمانؑ کے لیے جن اور انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے تھے اور وہ پورے ضبط میں رکھے جاتے تھے (17 )

اس آیت نے اوپر والی آیت کو مزید واضح کردیا کہ پرندے حضرت سلیمان کی فوج میں بڑی تعداد میں شامل تھے اور پیغام رسانی کا ایک الگ حصہ فوج میں تھا . اس ہی کو اس سے پہلی آیت کے آخر میں الْفَضْلُ الْمُبِينُ سے تعبیر کیا ہے .

جس طرح اس واقعہ میں دوسری آیتوں کے ساتھ قصے کہانیاں منسوب ہیں بلکل اس ہی طرح اس آیت کے ساتھ بھی یہی حال ہے .

اس آیت میں انسان ، جن اور پرندوں کا ذکر ہے . جو ان کی فوج کا حصہ تھے .پرندوں سے مراد دنیا جہاں کے پرندے نہیں تھے بلکہ صرف وہی پرندے فوج کا حصہ تھے جن سے پیغام رسانی کا کام لیا جا سکتا تھا .

انسان اور پرندوں پر تو کوئی اعتراض نہیں ہوتا اور بات بھی سمجھ آ جاتی ہے لیکن ”جن“ کا نام آتے ہی دیو مالائی قصے شروع ہو جاتے ہیں . یہ قصہ ہمارے ذہنوں میں اتنے راسخ ہیں کہ ان کو ذہنوں سے نکالنا نہ صرف مشکل بلکہ نا ممکن بھی ہے .

اس لفظ جن پر تحقیق کرتے ہیں . یہاں بہت مختصر کلام کروں گا . جن احباب کو دلچسپی ہو وہ میری کتاب “ کی حقیقت ” کا مطالعہ کر لیں وہاں تفصیل سے اس لفظ پر اپنی گزارشات پیش کی ہیں .

لفظ جن کی تحقیق

جن کے لفظی معنی وہ شے جو نظروں سے اوجھل ہو ، چھپی ہوئی ہو ، قرآن میں اس کو اصطلاحی اور لغوی دونوں معنوں میں استعمال ہوا ہے . عرب ملائکہ کو بھی جن کہتے تھے کیوں کہ وہ نظر نہیں آتے اور نظروں سے اوجھل ہوتے ہیں . اس ہی طرح ہمارا نفس ہماری نظروں سے اوجھل ہوتا ہے نظر نہیں آتا اس لیے اس پر بھی اس لفظ کا اطلاق ہوتا ہے . اس ہی طرح وہ انسان جو پہاڑی ، دیہاتی ، قبائلی علاقوں میں رہتے ہیں اور اور کبھی کبھی شہروں میں آتے ہیں ان کو قرآن جن سے تعبیر کرتا ہے .

جیسے شیطان الانس ہوتے ہیں بلکل ویسے ہی جن الانس کیوں نہیں ہو سکتے . اس لیے اس آیت میں جن سے مراد انسان ہی ہیں . اس کی دلیل سوره الانعام کی آیت 13 سے ہے جس میں الْجِنِّ وَالْإِنسِ أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنكُمْ کے الفاظ آئے ہیں. جس کے معنی جنوں اور انسانوں کے پاس ان ہی میں سے رسول آئے .

اس آیت میں لفظ رُسُلٌ مِّنكُمْ سے یہ مطلب اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ جنوں (جو کے ایک الگ نوع ہے ) میں سے جن اور انسانوں میں سے انسان رسول آئے اس کی تائید سوره الاحقاف کی آیت29تا 32 سے ہوتی ہے ….

وَإِذْ صَرَفْنَا إِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ فَلَمَّا حَضَرُوهُ قَالُوا أَنصِتُوا ۖ فَلَمَّا قُضِيَ وَلَّوْا إِلَىٰ قَوْمِهِم مُّنذِرِينَ ﴿29﴾ قَالُوا يَا قَوْمَنَا إِنَّا سَمِعْنَا كِتَابًا أُنزِلَ مِن بَعْدِ مُوسَىٰ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ وَإِلَىٰ طَرِيقٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿30﴾ يَا قَوْمَنَا أَجِيبُوا دَاعِيَ اللَّـهِ وَآمِنُوا بِهِ يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُجِرْكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ ﴿31﴾ وَمَن لَّا يُجِبْ دَاعِيَ اللَّـهِ فَلَيْسَ بِمُعْجِزٍ فِي الْأَرْضِ وَلَيْسَ لَهُ مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءُ ۚ أُولَـٰئِكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ﴿32﴾

اورجب ہم نے آپ کی طرف چند ایک جنوں کو پھیر دیا جو قرآن سن رہے تھے پس جب وہ آپ کے پاس حاضر ہوئے تو کہنے لگے چپ رہو پھر جب ختم ہوا تو اپنی قوم کی طرف واپس لوٹے ایسے حال میں کہ وہ ڈرانے والے تھے (29) کہنے لگے اےہماری قوم بیشک ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد نازل ہوئی ہے ان کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے ہو چکیں حق کی طرف ا ور سیدھے راستہ کی طرف رہنمائی کرتی ہے (30) اے ہماری قوم الله کی طرف بلانے والے کو مان لو اور اس پر ایمان لے آؤ وہ تمہارے لیے تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں دردناک عذاب سے بچا لے گا (31) اور جو الله کی طرف بلانے والے کو نہ مانے گا تو وہ زمین میں اسے عاجر نہیں کر سکے گا اور الله کے سوا اس کا کوئی مددگار نہ ہوگا یہی لوگ صریح گمراہی میں ہیں (32) کیا انہوں نے نہیں دیکھا جس الله نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے میں نہیں تھکا اس پر قاد رہے کہ مردوں کو زندہ کردے کیوں نہیں وہ تو ہر ایک چیز پر قادر ہے(33)

ان آیات کے الفاظوں پر غور کریں … ان آیات میں لفظ كِتَابًا أُنزِلَ مِن بَعْدِ مُوسَىٰ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ کےآئے ہیں . حلانکہ بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰ کے بعد بہت سے نبی آ چکے تھے لیکن تفصیلی شریعت حضرت موسیٰ کے بعد کسی پر نازل نہیں کی گئی . بنی اسرائیل کو انذار میں قرآن میں یہی الفاظ استعمال ہوے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ کوئی نظر نہ آنے والے الگ نوع کی مخلوق نہیں بلکہ انسانوں ہی کے گروہ کا ایک حصہ ہے .

پھر اس پر مزید شواہد ان ہی آیات کی ان الفاظ سے ہوتا ہے يَا قَوْمَنَا أَجِيبُوا دَاعِيَ اللَّـهِ وَآمِنُوا بِهِ اس میں الفاظ وَآمِنُوا بِهِ خاص طور پر توجہ طلب ہیں . قرآن میں تمام احکامات انسانوں کے متعلق ہیں اگر اس قرآن پر ایمان لانا ان جنوں کے لیے بھی ضروری ہوتا تو اس میں کچھ نہ کچھ احکامات کی تفصیل ان جنوں کے لیے بھی ہوتی جو کہ قرآن میں نہیں ملتی .

پھر صرف حضرت سلیمان ہی نہیں ہیں جن پر ”جن“ ایمان لاے بلکہ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ(جس کا ذکر سوره احقاف کے حوالے سے ملتا ہے ) اور رسول الله پر بھی جن (الگ نوع کی مخلوق نہیں بلکہ انسانی گروہ کا ایک حصہ ) ایمان لاے جن کا ذکر ہمیں سوره الجن میں ملتا ہے . اس لیے یہ خاص حضرت سلیمان کے ساتھ مخصوص نہیں ہے .

اس کے علاوہ اس بات پر بھی غور کیا جاے کہ رسول الله کس کی طرف رسول بنا کر بھیجے گے تھے . قرآن اس سلسلہ میں سوره نسا کی آیت 79 پر اپنی گواہی پیش کرتا ہے .

…. وَأَرْسَلْنَاكَ لِلنَّاسِ رَسُولًا ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ شَهِيدًا ﴿79﴾

اور (اے محبوب!) ہم نے آپ کو تمام انسانوں کے لئے رسول بنا کر بھیجا ہے، اور (آپ کی رسالت پر) اللہ گواہی میں کافی ہے، (79 )

یہ آیت بلکل صاف بتا رہی ہے کہ رسول الله کو صرف انسانوں ہی کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اس لیے اس قرآن میں جتنے بھی احکامات ہیں وہ صرف اور صرف انسانوں ہی کے لیے ہیں . کسی دوسری مخلوق کے لیے اس قرآن میں کوئی ہدایت نہیں ہے . یہ هُدًى لِّلنَّاسِ ہے . اگر اس میں کسی اور مخلوق کے لیے بھی ہدایت پائی جاتی تو الله ضرور اس کا ذکر قرآن میں کرتا .

اس پر مزید دلائل اس بات پر ہیں کہ ایک نوع کا رسول دوسرے نوع کے رسول کے لیے حجت نہیں ہو سکتا کیوں کہ اس کے حالت ، واقعیات ، معاشرت کا فرق دوسرے سے کہیں زیادہ ہے جس کی تائید اس آیت میں ملتی ہے

قُل لَّوْ كَانَ فِي الْأَرْضِ مَلَائِكَةٌ يَمْشُونَ مُطْمَئِنِّينَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِم مِّنَ السَّمَاءِ مَلَكًا رَّسُولًا ﴿95﴾

کہہ دو اگر زمین میں فرشتے اطمینان سے چلتے پھرتے ہوتے تو ہم آسمان سے ان پر فرشتہ ہی رسول بنا کر بھیجتے (95 )

سوره بنی اسرائیل آیت 95میں انسانوں کو جواب تھا جب وہ یہ کہتے کہ ان پر کوئی فرشتہ رسول کیوں نہیں اتارا گیا . کیوں کہ الله کی سنت یہی ہے کہ جس نوع کے لیے رسول بھیجتا ہے وہ اس ہی نوع میں سے بھیجتا ہے .اس پر مزید دلائل روایات ہیں . جن میں حضرت ابن مسعود کی روایات جن میں وہ خود رسول الله کے ساتھ شریک تھے بیان کرتے ہیں اور اس میں جو باتیں مشترک ہیں وہ صرف اس قدر ہیں کہ ایک نفر یا چند آدمیوں کی ایک جماعت تھی جن کے آنے کی خبر رسول الله کو تھی مگر آپتنہائی میں رات کے وقت ان سے ملے ہیں اور قرآن شریف ان کو پڑھ کر سنایا ہے اور جہاں وہ رہے ہیں وہاں ان کے نشانات اور آگ جلانے کے نشانات بھی ان کے چلے جانے کے بعد بھی ملے تھے اور یہ باہر سے اے تھے اور یہ واقعہ مکہ کا تھا . رسول الله کا مکے سے باہر جا کر ان سے ملاقات کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ کوئی غیر مری ہستیاں نہیں تھیں . اگر ہوتیں تو تو پھر مکے میں ملاقات کرنے میں کون سا امر مانع تھا ؟؟؟؟ تنہائی کی ضرورت ہی اس لیے پیش آئی  کہ کفار انکو تنگ نہ کریں اور پھر ان کے چلے جانے کے بعد ان کے اپنے نشان اور آگ جلانے کے نشان باقی تھے جو انسانوں کو کھانا پکانے وغیرہ کے لیے ضرورت ہوتی ہے.

اس کے علاوہ سوره الانعام کی آیت 128 اور 130 پر غور کریں جہاں جن و انس کے لیے لفظ مَعْشَرَ استعمال ہوا ہے . جس کا اطلاق ایک شخص کے اہل پر ہوتا ہے ، اگر یہاں الگ نوع کے جن مراد ہوتے تو ان کو انسانوں کے ساتھ ایک مَعْشَرَ قرار نہیں دیا جاتا .

اس کے علاوہ سوره الانعام کی آیت 128 میں اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ کے الفاظ اے ہیں . جس کے معنی ہم ایک دوسرے سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں . انسان تو ایک دوسرے انسان سے فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن وہ نظر نہ آنے والی ہستیاں انسانوں سے اور انسان ان سے کیسے فائدہ اٹھاتے ہیں ؟؟؟؟؟. اگر سو لوگوں سے بھی پوچھیں گے تو آپکو ایک انسان بھی نہیں ملے گا جو جنوں سے فائدہ اٹھاتا ہے

ایک آخری دلیل کے بعد میں اپنی بات پوری کرتا ہوں کہ یہ شریعت صرف اور صرف انسانوں کے لیے ہے . سوره احزاب کی آیت72 میں الله کا ارشاد ہے .

إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَن يَحْمِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنسَانُ ۖ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا ﴿72﴾

ہم نے اس امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو وہ اُسے اٹھانے کے لیے تیار نہ ہوئے اور اس سے ڈر گئے، مگر انسان نے اسے اٹھا لیا، بے شک وہ بڑا ظالم اور جاہل ہے (72)

اب جب کہ اس شریعت کا مکلف صرف انسان ہے اور تو پھر رسول الله پر ایمان لانے والے یہ غیر از انسان جن کو الگ نوع کی مخلوق قرار دیتے ہیں پھر ان کا رسول الله پر ایمان لانا کہاں سے نکل آیا .

یہ ہمارا مشاہدہ ہے کہ قبائلی یا پہاڑی علاقوں میں رہنے والے شہری علاقوں میں رہنے والوں سے زیادہ جفاکش اور مضبوط ہوتے ہیں .جنوں کے لشکر کی وضاحت سوره سبا کی آیت 13 نے بھی کر دی ہے

يَعْمَلُونَ لَهُ مَا يَشَاءُ مِن مَّحَارِيبَ وَتَمَاثِيلَ وَجِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَقُدُورٍ رَّاسِيَاتٍ ۚ اعْمَلُوا آلَ دَاوُودَ شُكْرًا ۚ وَقَلِيلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ ﴿13﴾

جو کچھ سلیمان چاہتے وه جنات تیار کردیتے مثلا قلعے اور مجسمے اور حوضوں کے برابر لگن اور چولہوں پر جمی ہوئی مضبوط دیگیں، اے آل داؤد اس کے شکریہ میں نیک عمل کرو، میرے بندوں میں سے شکرگزار بندے کم ہی ہوتے ہیں (١٣ )

یعنی حضرت سلیمان کے بڑے بڑے صنعت کے کام کرتے تھے اور ایسے افراد کی بھی لشکر میں ضرورت ہوتی ہے .

حضرت سلیمان کے لشکر میں یہ لوگ کہاں سے اے ؟ ان انسانوں کی شمولیت ان کے والد حضرت داود کی ان علاقوں میں فتوحات کا نتیجہ تھیں جن کی وجہ سے یہ تمام لوگ ان کی سلطنت میں شامل تھے .

اس ہی بات کا ذکر ہمیں ان آیات میں ملتا ہے جہاں حضرت داود پہاڑوں اور پرندوں کی تسبیح کا ذکر ہے . اس کو سوره انبیا کی آیت 79 میں بیان کیا ہے .

فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ ۚ وَكُلًّا آتَيْنَا حُكْمًا وَعِلْمًا ۚ وَسَخَّرْنَا مَعَ دَاوُودَ الْجِبَالَ يُسَبِّحْنَ وَالطَّيْرَ ۚ وَكُنَّا فَاعِلِينَ ﴿79﴾

اُس وقت ہم نے صحیح فیصلہ سلیمانؑ کو سمجھا دیا، حالانکہ حکم اور علم ہم نے دونوں ہی کو عطا کیا تھا داؤدؑ کے ساتھ ہم نے پہاڑوں اور پرندوں کو مسخّر کر دیا تھا جو تسبیح کرتے تھے، اِس فعل کے کرنے والے ہم ہی تھے (79)

پھر اس ہی بات کو سوره سبا میں مزید کھول کر بیان کیا ہے

وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ مِنَّا فَضْلًا ۖ يَا جِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ ۖ وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ ﴿10﴾ أَنِ اعْمَلْ سَابِغَاتٍ وَقَدِّرْ فِي السَّرْدِ ۖ وَاعْمَلُوا صَالِحًا ۖ إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ ﴿11﴾

ہم نے داؤدؑ کو اپنے ہاں سے بڑا فضل عطا کیا تھا (ہم نے حکم دیا کہ) اے پہاڑو، اس کے ساتھ ہم آہنگی کرو (اور یہی حکم ہم نے) پرندوں کو دیا ہم نے لوہے کو اس کے لیے نرم کر دیا (10) اس ہدایت کے ساتھ کہ زرہیں بنا اور ان کے حلقے ٹھیک اندازے پر رکھ (اے آل داؤدؑ) نیک عمل کرو، جو کچھ تم کرتے ہو اُس کو میں دیکھ رہا ہوں (11 )

ان دونوں آیات میں تین باتوں کا ذکر بلکل ایک ساتھ کیا گیا ہے . پہاڑ ، پرندوں اور لوہے سے زرہیں بنانے کا ذکر . ان تینوں باتوں کو ایک ساتھ لانے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ان کا باہمی تعلق ہے .

جس طرح زرہیں بنانے کے ذکر سے مراد جنگی فتوحات ہیں اور حضرت داود کے زمانے میں بنی اسرائیل کی سلطنت بہت پھیلی تھی . اس ہی طرح پرندوں کا داود کے لیے کام آنا جنگوں میں پیغام رسانی کا کام دینا ہے . جب ان دو باتوں کا تعلق جنگوں اور فتوحات سے ہے تو پھر تیسری بات کا بھی ذکر جنگوں اور فتوحات سے ہونا چاہیے ورنہ ان تینوں باتوں کا ایک ساتھ ذکر بے معنی ہو جاتا ہے .

الله نے انسان کے لیے تمام ہی چیزوں کو اس کے لیے مسخر کردیا ہے اس کا ذکر سوره الجاثیہ کی آیت 13میں ملتا ہے

وَسَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِّنْهُ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ ﴿13﴾

اس نے زمین اور آسمانوں کی ساری ہی چیزوں کو تمہارے لیے مسخر کر دیا، سب کچھ اپنے پاس سے اِس میں بڑی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرنے والے ہیں (13 )

اس کے علاوہ تسبیح بھی ہر چیز کرتی ہے جس کا ذکر ہمیں سوره اسرا کی آیت 44 میں ملتا ہے

تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَن فِيهِنَّ ۚ وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَـٰكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ ۗ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا ﴿44﴾

اُس کی پاکی تو ساتوں آسمان اور زمین اور وہ ساری چیزیں بیان کر رہی ہیں جو آسمان و زمین میں ہیں کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کر رہی ہو، مگر تم ان کی تسبیح سمجھتے نہیں ہو حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا ہی بردبار اور درگزر کرنے والا ہے (44)

اس لیے جب ہر چیز ہی تسبیح کرتی ہے اور تمام کائنات ہی انسان کے لیے مسخر کردی گئی ہے ، اس لیے یہاں ان چیزوں کا ذکر کسی خاص خصوصیت کے تحت کیا گیا ہے .

اوپر دو چیزوں کا ذکر تو میں نے کردیا ہے اس لیے یہاں پہاڑوں کی تسبیح یا ان کا داود کے کام میں لگ جانے سے مراد ان پہاڑوں پر حضرت داود کی حکومت قایم ہونا ہے . عربی میں جبل کے ایک معنی پہاڑ کے ہیں لیکن یہ لفظ قوم کے سرداروں پر بھی بولا جاتا ہے جیسے الجبل سید القوم کے معنی ہیں قوم کے سردار اور طاقتور انسان کے لیے بولا جاتا ہے فلاں جبل من الجبال ، یعنی وہ پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ ہے

پھر جیسے قریہ بول کر اہل قریہ مراد لی جاتی ہے بلکل اس ہی طرح جبل بول کر اس سے مراد اہل جبل ہوتے ہیں .

ایک آخری بات یہاں تسبیح کے حوالے سے بتانا ضروری ہے کہ تسبیح کے معنی تیرنا ، کسی کام کی تکمیل کے لیے پوری پوری جدوجہد کرنا ، ہر وقت سرگرم عمل میں رہنا ہے .

اس لیے تسبیح سے قرآن میں یہ مراد نہیں کہ ہاتھ میں تسبیح لے کر اس پر الله الله کرنا . اس لیے یہاں تسبیح ان ہی معنوں میں استعمال ہوا ہے .

ان تمام دلائل کے بعد یہ بات بلکل صاف اور واضح ہے کہ حضرت سلیمان میں شامل جن سے مراد انسان ہی ہیں .

یہاں اس آیت کے ایک لفظ يُوزَعُونَ کی تشریح رہ گئی . اس کے معنی روکنا کے ہیں. کسی چیز سے باز رکھنے کو بھی کہتے ہیں اور لشکر میں واذعُ اس شخص کو کہتے ہیں جو صفحوں سے آگے پیچھے ہونے والوں کو روکتا ہے

یہاں لشکر جمع کرنے سے مراد یہی ہے کہ کسی جنگ کی تیاری تھی اس لیے فَهُمْ يُوزَعُونَ سے مراد دو طرح کی ہے کہ وہ رک رک کر چلتے تھے یعنی پڑاؤ ڈال کر اور دوسرے معنی یہ ہیں کہ حضرت سلیمان کی فوج کو عام لوگوں پر زیادتی اور لوٹ مار کرنے سے روکا جاتا تھا اور انصاف کا نظام قائم تھا .

نمل کی وضاحت

اگلی آیت پر غور کرتے ہیں .

حَتَّىٰ إِذَا أَتَوْا عَلَىٰ وَادِ النَّمْلِ قَالَتْ نَمْلَةٌ يَا أَيُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوا مَسَاكِنَكُمْ لَا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمَانُ وَجُنُودُهُ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ ﴿18﴾

(ایک مرتبہ وہ ان کے ساتھ کوچ کر رہا تھا) یہاں تک کہ جب یہ سب چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا ““اے چیونٹیو، اپنے بلوں میں گھس جاؤ، کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمانؑ اور اس کے لشکر تمہیں کچل ڈالیں اور انہیں خبر بھی نہ ہو” (18).

یہاں تمام ہی مفسرین نے وادی النمل کو چونٹیوں کی وادی اور نمله کو ایک چونٹی قرار دیا ہے . سب سے زیادہ حیرانی کی بات یہ ہے کہ حضرت سلیمان کو پرندوں کی بولی سکھائی گئی تھی لیکن آیت میں چونٹی کے بولنے کا ذکر ہے اور حضرت سلیمان اس کی زبان بھی سمجھ جاتے ہیں . جب حضرت سلیمان کو چونٹی کی بولی سکھائی ہی نہیں گئی تو پھر انہونے ایک حشرات الارض کی زبان کیسے سمجھ لی ؟

اس پر کچھ احباب کہتے ہیں کہ الطیر سے مراد ہر وہ چیز جو دو پروں سے اڑے الطیر کہلاتی ہے . اس لیے چونٹی بھی الطیر میں آتی ہے . اس پر جب ان سے سوال کیا جاے کہ کیا ایک لال بیگ کو اڑتا ہوا دیکھ کر آپ اپنے بچے سے کہہ سکیں گے کہ ایک پرندہ اڑ رہا ہے ؟. جس کا جواب تو وہ نہیں دیتے البتہ ایک سوال اور کردیتے ہیں کہ اگر کوئی پرندہ نہ اڑے تو کیا آپ اس کو پرندوں کی خاندان سے نکال دیں گے ؟ . حلانکے یہ سوال مجھے کرنا چاہیے تھا کہ خود ان کی دلیل کے مطابق جو بھی دو پر لگا کر اڑے اس کو الطیر کہتے ہیں ، تو کیا جو پرندے نہیں اڑتے ان پر اس لفظ کا اطلاق نہیں ہوگا ؟. کیا شتر مرغ الطیر کے لفظ سے نکل جاے گا ؟.

ان احباب کو میرا ہمیشہ سے یہی جواب ہوتا ہے کہ الطیر ہمیشہ الطیر ہی رہے گا چاہیے وہ اڑ نہ سکے اور ایک حشرات الارض ہمیشہ حشرات الارض ہی رہے گا چاہے وہ اڑنے لگے. اگر کبھی انسان مستقبل میں اڑنے لگے تو وہ الطیر نہیں بن جاتا . مجازی معنوں میں تو بول سکتے ہیں لیکن حقیقی معنوں میں الطیر سے مراد پرندے ہی ہونگے . کیڑے ، مکوڑے الطیر میں شامل نہیں ہوتے .

نمل سے مراد چونٹی ہی لیں تو حضرت سلیمان کا لشکر نہ جانے کتنی چونٹیوں کو اپنے پیروں تلے روندھتا ہوا آیا ہوگا لیکن اس وقت کسی چونٹی نے اپنی زبان نہ کھولی لیکن یہاں داخل ہوتے ہی ایک نمله نے اپنی چونٹیوں کو گھروں میں داخل ہونے کو کہا .

تاج العروس میں ہے کہ وادی النمل جبرین اور عسقلان کے درمیان ہے قتادہ اور مقاتل سے مروی ہے کہ وہ ارض شام میں ہے ، کعب کا قول ہے کہ وہ طائف میں ہے اور بعض کا خیال ہے کہ وہ نواح یمن میں ہے . اور یہ خیال زیادہ قوی ہے کہ یہ نواح یمن میں ہے کیوں کہ یہ چڑھائی حضرت سلیمان کی ملکہ سبا کی طرف تھی .

جس طرح وادی النمل سے مراد کسی قوم کا نام ہے اور قاموس میں ذکر ہے کہ ابرقہ نمله کی پانیوں میں سے ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وادی النمل کسی قوم کی وادی تھی جس میں حضرت سلیمان داخل ہوے .

یہاں ایک اعتراض کا ازالہ بھی کردوں کہ نمله اسم مرفوع ہے یہ بلکل ایسے ہے ، اس کو ایک مثال سے سمجھیں کہ آپ کسی کو قصہ بیان کر رہے ہوں اور آپ کہیں کہ

“میں جیسے ہی مجمعے میں داخل ہوا تو ایک پاکستانی  بولا”

یہاں لفظ پاکستانی اسم مرفوع ہے . یہاں آپ اس کا یہ مطلب نہیں بیان کریں گے کہ ایک پاک زمین والا بولا بلکہ اس کو پاکستانی ہی کہیں گے . بلکل اس ہی طرح یہاں ایک نمل کی قوم کے لیے لفظ نمله استعمال ہوا ہے . اس لیے جو مفسرین یہ اعتراض اٹھاتے ہیں کہ جن عرب قبیلوں کے نام کلب اور اسد وغیرہ ہیں وہاں ایک کلبی (ایک کتا بولا ) یا ایک اسدی ( ایک شیر بولا ) نہیں ہونگے بلکہ اسے کلبی اور اسدی ہی کہیں گے . آپ اپنے ناموں سے ہی پکارے جاتے ہیں نہ کے ان کے مطلب سے .

پھر یہ بھی عجیب سی بات ہے کہ چونٹی حضرت سلیمان کو پہچان گئی اتنے بڑے لشکر میں سے اس کو معلوم تھا کہ حضرت سلیمان کون ہیں .

پھر اس آیت میں لفظ يَحْطِمَنَّكُمْ کا غلط مطلب لینے سے یہ مشکلات ہوئیں . حْطِمَ کے معنی توڑ دینا ہیں . قرآن میں یہ لفظ آگ کے لیے استعمال ہوا ہے . سوره الھمزہ میں ہے .

كَلَّا ۖ لَيُنبَذَنَّ فِي الْحُطَمَةِ ﴿4﴾ وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْحُطَمَةُ ﴿5﴾ نَارُ اللَّـهِ الْمُوقَدَةُ ﴿6﴾

ہرگز نہیں یہ تو ضرور توڑ پھوڑ دینے والی آگ میں پھینک دیا جائے گا (4) اور تجھے کیا معلوم کہ ایسی آگ کیا ہوگی؟ (5) وه اللہ تعالیٰ کی سلگائی ہوئی آگ ہوگی (6)

قحط کو بھی الْحُطَمَةُ کہتے ہیں کیوں کہ وہ ملک کی طاقت کو توڑ دیتی ہے . اس لیے اس کے معنی روندھ ڈالنے مجازی معنوں میں جنگ میں شکست دینے کے ہوتے ہیں . یہ جملے ہم عام معنوں میں بولتے ہیں کہ ہماری افواج دشمنوں کو روندھتی ہوئی ان کے علاقے میں داخل ہو گئی . اب اگر اس سے مراد یہ نہیں لی جاسکتی کہ دشمن کوئی کیڑے مکوڑے تھے.

حضرت سلیمان جس وادی میں داخل ہوے ہیں وہ ان کی سلطنت کا حصہ نہیں تھا لیکن پہاڑوں میں گھری ایک وادی میں ایک قوم آباد تھی جو ان کی سلطنت کے قریب ہی تھی اس لیے اتنے بڑے لشکر کو دیکھتے ہی قوم جان گئی کہ یہ شان و شوکت صرف حضرت سلیمان کو ہی نصیب ہے . ان کی شہرت اس پاس کے علاقوں میں تھی . اگر یہ علاقہ سلطنت میں شامل ہوتا تو ان کو حضرت سلیمان سے کیا خطرہ ہوتا ؟ اور وہ انہیں بے خبری میں کیوں کر روندھتے ؟. اس لیے یہ اس ہی صورت میں ممکن ہے کہ جب وہ یہ سمجھیں کہ کہیں حضرت سلیمان ان کو اپنا دشمن خیال نہ کریں . اس کی وجہ ان کا یہ قول ہے کہ گھروں میں داخل ہو جاؤ .

جب کوئی لشکر کہیں سے گزرتا ہے اور وہاں کے لوگ دروازہ بند کر لیتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ انہونے اپنی شکست تسلیم کر لی ہے بلکل ایسا ہی قول رسول الله نے فتح مکہ کے موقعے پر کہا تھا کہ جو لوگ اپنے گھروں میں رہیں گے ان کو پناہ حاصل ہوگی ورنہ جو باہر ہونگے وہ دشمن شمار ہونگے.

اس لیے ان دلائل کی بنیاد پر یہاں نمل سے مراد چونٹیاں نہیں بلکہ انسان ہی ہیں . اس لیے ان تمام باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوے آگے بڑھتے ہیں

فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّن قَوْلِهَا وَقَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَدْخِلْنِي بِرَحْمَتِكَ فِي عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ ﴿19﴾

اس کی اس بات سے حضرت سلیمان مسکرا کر ہنس دیئے اور کرنے لگے کہ اے پروردگار! تو مجھے توفیق دے کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر بجا لاؤں جو تو نے مجھ پر انعام کی ہیں اور میرے ماں باپ پر اور میں ایسے نیک اعمال کرتا رہوں جن سے تو خوش رہے مجھے اپنی رحمت سے نیک بندوں میں شامل کر لے (19 )

اس ہی لیے حضرت سلیمان اس کی یہ بات سن کر ہنس پڑھے اور الله کا شکر ادا کیا کہ وہ عادل اور انصاف پسند کے نام سے شہرت رکھتے ہیں اور اس کو الله کا فضل قرار دیا . اتنی شان و شوکت کے بعد بھی ان کی گردن جھکی ہوئی تھی اور الله کا شکر بجا لا رہے تھے . نہ کہ فرعون کی طرح کہ ان نعمتوں کے بدلے اس کی گردن اور اکڑگئی اور اپنے اپ کو رب بنا ڈالا . یہی فرق ہے ایک نیک بندے میں اور ایک فرعون جیسے ظالم اور جابر انسان میں .

ہد ہد کون؟

پھر ایک جگہ پڑاؤ ڈالا تو اپنی فوج کا معائنہ کیا

وَتَفَقَّدَ الطَّيْرَ فَقَالَ مَا لِيَ لَا أَرَى الْهُدْهُدَ أَمْ كَانَ مِنَ الْغَائِبِينَ ﴿20﴾

(ایک اور موقع پر) سلیمانؑ نے پرندوں کا جائزہ لیا اور کہا “کیا بات ہے کہ میں فلاں ہُد ہُد کو نہیں دیکھ رہا ہوں کیا وہ کہیں غائب ہو گیا ہے؟ (20)

اب یہاں کیوں کہ معائنہ پرندوں کا کر رہے تھے اور غائب بھی ہد ہد کو پایا تو تمام مفسرین نے یہی خیال کیا کہ ہد ہد پرندہ ہی ہے اور تو کوئی ہو نہیں سکتا .

پہلی بات کہ ہد ہد (میرے علم تک ) کبھی پیغام رسانی کے لیے استعمال نہیں ہوتا .اس میں الله نے یہ صلاحیت ہی نہیں رکھی ہے . میں کبوتروں سے ہی پیغام رسانی کا کام لیا جاتا رہا ہے اس کی کچھ تفصیل اوپر بیان کر چکا ہوں

دوسری بات کہ پرندے اتنا شعور نہیں رکھتے کہ اپنی مرضی سے پیغام رسانی کرتے رہیں . ان کی تربیت کے لیے انسان مامور ہوتے ہیں جو انہیں تربیت دے کر ان سے کام لیتے ہیں . اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ الطیر کے لشکر پر کوئی انسان مامور نہ تھا . جیسا کہ جب گھوڑوں کے لشکر کا معائنہ کیا تو اس کا مطلب نہیں کہ گھوڑے آزاد تھے اور ان پر کوئی انسان ہی مامور نہیں تھے اور وہ اپنی مرضی سے پھرتے رہتے تھے .

اب یہ بات کہ پھر ہد ہد کون تھا ؟. اس کو ایک مثال سے سمجھیں .

اگر شہباز خان پرندوں کے لشکر پر مامور ہو اور اس کی یہ ذمےداری ہو کہ ان پرندوں سے پیغام رسانی کا کام لیا جاے اور اس لشکر کے معائنہ پر اس کو غائب پائیں تو کیا آپ یہ کہیں گے کہ کوئی پرندہ غائب ہے ؟. اگر معائنہ کے وقت کوئی کہے کہ شہباز نظر نہیں آرہا کہاں غائب ہے تو اس سے آپ کا مطلب یہ ہوگا کہ کوئی پرندہ غائب ہے ؟

یہ کوئی اتفاق کی بات نہیں ہے کہ کسی پرندے کے نام پر کسی انسان کا نام ہو اور وہ بھی جو خود ان پر مامور ہو .

جب اس نام کی تحقیق کی جاے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں میں کثرت سے ہدد نام ہوتا تھا اور بائبل میں حضرت اسماعیل کے ایک بیٹے کا نام ہداد بھی ہے (پیدائش باب 28 آیت 12 ) . اس لیے یہ نام جب عبرانی سے عربی میں آیا تو ہد ہد ہوگیا . جیسا کہ عبرانی میں ابراہام کہا جاتا ہے لیکن جب یہ عربی میں آیا تو ابراہیم بن گیا ، اس ہی طرح عبرانی میں موشے اور عربی میں موسیٰ ، عبرانی میں یسوع کہا جاتا ہے لیکن جب یہی لفظ عربی میں آیا تو عیسیٰ بن گیا . اس لیے اس میں اتنی حیرانی کی کیا بات کہ یہ ایک انسان کا نام ہو ؟

اگلی آیت میں حضرت سلیمان کا اس کے غائب ہونے پر غصہ کرنا اور اس کو قتل کرنے کا ارادہ بھی اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ یہ ایک انسان کا نام ہے.

لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذَابًا شَدِيدًا أَوْ لَأَذْبَحَنَّهُ أَوْ لَيَأْتِيَنِّي بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ ﴿21﴾

میں اسے سخت سزا دوں گا، یا ذبح کر دوں گا، ورنہ اسے میرے سامنے معقول وجہ پیش کرنی ہو گی (21 )

ایک پدی سے پرندے کے غائب ہونے پر حضرت سلیمان اتنے غصے میں آتے ہیں کہ اس کو ذبح کرنے یا سخت سزا دینے پر تیار ہو جاتے ہیں . پھر اس سے ایک معقول وجہ بیان کرنے کا بھی کہتے ہیں . ایک معمولی پرندے کے غائب ہونے پر اتنا شدید غصہ ؟. کیا ایک ایسے رسول کو زیب دیتا ہے جو ایک عظیم سلطنت کے سمجھدار بادشاہ ہیں. پھر اپنی مرضی سے کوئی پرندہ اڑ جاے جب کہ الله نے الطیر کو حضرت سلیمان کے لیے مسخر کر دئیے تھے . کسی تعجب سے کم نہیں .

ہاں اگر یہی ہد ہد ایک محکمہ پیغام رسانی اور سراغ رسانی کا ذمےدار افسر ہو تو حضرت سلیمان کا غصہ بجا ہے . اگر فوج کے سراغ رسانی کا ذمےدار افسر بغیر کسی کو بتائے، جس پر آپ کی پوری فوج کی معلومات کا دارومدار ہو اور وہ دشمن کی فوجوں سے جا ملے اور تمام اندر کی فوج کی معلومات فراہم کردے تو اس کی سزا یہی ہے جو حضرت سلیمان نے اندیشہ ظاہر کیا ہے . اس ہی لیے اس کی معقول وجہ بیان کرنے کی بھی بات اپ نے کی جو کہ اس صورتحال میں ایک معقول مطالبہ ہے .

پھر کچھ احباب یہ اعتراض اٹھاتے ہیں کہ یہاں تو لفظ ذبح استعمال ہوا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہاں ایک پرندے ہی کی بات ہو رہی ہے . لیکن نہ جانے یہ احباب یہ اعتراض اٹھاتے ہوے کیوں بھول جاتے ہیں کہ فرعون جب بنی اسرائیل کے بیٹوں کو قتل کرواتا تھا تو قرآن میں اس کے لیے اس ہی لفظ ذبح کا استعمال ہوا ہے .

اگلی ہی آیت میں ہد ہد کا بیان اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ یہ کسی پرندے کا بیان نہیں ہو سکتا

فَمَكَثَ غَيْرَ بَعِيدٍ فَقَالَ أَحَطتُ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهِ وَجِئْتُكَ مِن سَبَإٍ بِنَبَإٍ يَقِينٍ ﴿22﴾ إِنِّي وَجَدتُّ امْرَأَةً تَمْلِكُهُمْ وَأُوتِيَتْ مِن كُلِّ شَيْءٍ وَلَهَا عَرْشٌ عَظِيمٌ ﴿23﴾ وَجَدتُّهَا وَقَوْمَهَا يَسْجُدُونَ لِلشَّمْسِ مِن دُونِ اللَّـهِ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ فَهُمْ لَا يَهْتَدُونَ ﴿24﴾

کچھ زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ اُس نے آ کر کہا میں نے وہ معلومات حاصل کی ہیں جو آپ کے علم میں نہیں ہیں میں سَبا کے متعلق یقینی اطلاع لے کر آیا ہوں (22)میں نے وہاں ایک دیکھی جو اس قوم کی حکمران ہے اُس کو ہر طرح کا ساز و سامان بخشا گیا ہے اور اس کا تخت بڑا عظیم الشان ہے (23) میں نے دیکھا ہے کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کے بجائے سورج کے آگے سجدہ کرتی ہے” شیطان نے ان کے اعمال ان کے لیے خوشنما بنا دیے اور انہیں شاہراہ سے روک دیا، اس وجہ سے وہ یہ سیدھا راستہ نہیں پاتے (24 )

سبا سے یقینی خبر لانا اس بات کا پتا دیتا ہے کہ حضرت سلیمان ان ہی کی طرف آرہے تھے اس لیے ان کے افسروں کا فرض بنتا تھا کہ وہاں کی خبر لا کر دیں کہ وہاں کے معاملات کیسے ہیں اور بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان کو ان کے حملے کی کچھ خبر تھی اس ہی لیے حضرت سلیمان تیاری کرتے ہوے ان کی سرحد تک پہنچے ہیں

وہ یقینی خبر کیا تھی ؟. بظاہر اس کا ذکر یہاں نہیں ہے کیوں کہ جن باتوں کا ذکر کرتا ہے اس میں یہ بتاتا ہے کہ اس کی حکمران عورت ہے ، اس سے ہر طرح کا ساز و سامان بخشا گیا ہے اور تیسری بات یہ کہ اس کا تخت بڑا عالیشان ہے .

بظاہر لگتا ہے کہ یہ کوئی ایسی یقینی خبر نہیں ہے کہ جس کا ذکر ایسی حالت میں ہو جب کہ حضرت سلیمان کا ارادہ اس پر چڑھائی کا ہو . کسی سلطنت کی حکمران عورت ہونا کوئی جرم نہیں ، نہ ہی ہر طرح کا سازو سامان کسی حکمران کے پاس ہونا بھی کوئی گناہ نہیں ، یہ سازو سامان تو حضرت سلیمان کے پاس بھی تھا پھر اس کا تخت عالیشان ہے تو یہ بھی کوئی قابل جرم بات نہیں . پھر آگے کی آیات میں اس کا سورج کے سامنے سجدہ کرنا اور کرنا الله کے نزدیک تو جرم ہو سکتا ہے لیکن اس کی سزا قیامت میں ہی الله دے گا کیوں کہ یہاں انسان کو اختیار ہے کہ جو چاہے راستہ اختیار کرے ، دین میں کوئی زبردستی نہیں ، چاہے تو شکر کرے اور چاہے تو کفر .

اب ایسا الله جو خود انسان کو ارادہ اور اختیار دے کر اس سے زبردستی محکوم بنا کر اپنے دین کو قبول کرواے تو اس سے زیادہ زیادتی کی بات اور کیا ہوگی . وہ الله جس کی بات اٹل ہوتی ہے اور اپنی بات سے بھی نہیں پھرتا .

اصلاحی صاحب ، غامدی صاحب کے مطابق رسول اتمام حجت کرتے ہیں اور اتمام حجت کے بعد ان پر فرد جرم عائد کر دی جاتی ہے اور پھر رسولوں کے توسط سے ان پر عذاب نازل ہوتا ہے لیکن یہاں یہ صورت بھی نہیں کہ اتمام حجت ہوا ہو . رسول نے کب دعوت دی ؟، کب انذار کیا ؟، کب اتمام حجت ہوا ؟. غامدی صاحب ان تمام باتوں کی دھجیاں اڑاتے ہوے فرماتے ہیں کہ رسول زمین پر الله کی عدالت ہوتا ہے اس لیے رسول کی حثیت سے حضرت سلیمان کا یہ فرض تھا کہ شرک کو ختم کیا جاے . اس لیے ان کی چڑھائی اس ہی وجہ سے تھی .

مودودی صاحب تو ایک قدم آگے یہ بات بیان کرتے ہیں کہ نہ صرف رسولوں بلکہ اب ہر اسلامی حکومت کا یہ فرض ہے کہ شرک کی کسی حکومت کو اب زمین پر باقی نہ رکھا جاے . اب ہر شرک کی حکومت کے خلاف جنگ ہوگی اور ان کو محکوم بن کر اسلامی حکومت میں رہنا ہوگا .

یہ وہ باتیں ہیں جو ہمارے مفسرین بیان کرتے ہیں . جیسا کہ میں نے کہا کہ بظاھر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان آیات میں یقینی خبر کا ذکر نہیں تھا لیکن حضرت سلیمان کا خط اس بات کی گواہی پیش کرتا ہے کہ ہد ہد کیا یقینی خبرلایا تھا

پھر اگر یہ پرندہ ہد ہد تھا تو یہ اتنا شعور رکھتا تھا کہ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ یہ لوگ شرک کرتے تھے ، وہاں کی حکمران عورت ہے ، شیطان نے ان کے اعمال کو خوشنما بنا دیا ہے اور ان کو سیدھے راستے سے روک دیا ہے . اتنا کچھ جاننے کے بعد تو اس پرندے ہد ہد پر بھی شریعت نافذ ہونی چاہیے؟. اس لیے یہ کسی طرح بھی ایک پرندے کا بیان نہیں ہے . پھر حضرت سلیمان کو تو پرندوں کی بولی سکھائی تھی لیکن کہیں قرآن میں درج نہیں کہ پرندوں کو بھی انسانوں کی بولیاں سکھائی گئی تھیں . یہ پرندہ ملکہ سبا کی مملکت کی زبان جانتا ہے بلکہ شریعت کے اسرار و رموز سے بھی واقف ہے .

آگے کی دو آیات میں مفسرین کا بیان ہے کہ یہ کلام ہد ہد کا نہیں بلکہ الله کا کلام ہے . اس میں ویسے ایسی کوئی خاص بات تشریح طلب نہیں

أَلَّا يَسْجُدُوا لِلَّـهِ الَّذِي يُخْرِجُ الْخَبْءَ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَيَعْلَمُ مَا تُخْفُونَ وَمَا تُعْلِنُونَ ﴿25﴾ اللَّـهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ۩ ﴿26﴾

کہ اُس خدا کو سجدہ کریں جو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزیں نکالتا ہے اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم لوگ چھپاتے ہو اور ظاہر کرتے ہو (25) اللہ کہ جس کے سوا کوئی مستحقِ عبادت نہیں، جو عرش عظیم کا مالک ہے (26 )

اس کے بعد کی آیات میں صاف ظاہر ہے کہ خبر ایسی تھی کہ اس کے سچ اور جھوٹ ہونے کی یقین دہانی کے لیے حضرت سلیمان نے خط لکھا اور خط میں اس ہی یقینی بات کے معلوم کرنے کے بارے میں لکھا . پھر ایک بات یہ بھی غور طلب ہے کہ صدق اور کذب کے الفاظ انسانوں پر بولے جاتے ہیں

قَالَ سَنَنظُرُ أَصَدَقْتَ أَمْ كُنتَ مِنَ الْكَاذِبِينَ ﴿27﴾ اذْهَب بِّكِتَابِي هَـٰذَا فَأَلْقِهْ إِلَيْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانظُرْ مَاذَا يَرْجِعُونَ ﴿28﴾

سلیمانؑ نے کہا “ابھی ہم دیکھے لیتے ہیں کہ تو نے سچ کہا ہے یا تو جھوٹ بولنے والوں میں سے ہے (27) میرا یہ خط لے جا اور اسے ان لوگوں کی طرف ڈال دے، پھر الگ ہٹ کر دیکھ کہ وہ کیا رد عمل ظاہر کرتے ہیں” (28 )

ابھی بھی ہمیں یہ نہیں معلوم ہو سکا کہ یقینی خبر کیا تھی . ان آیات میں بھی بس اتنا ذکر ہے کہ ملکہ سبا کو خط لکھا گیا ہے اور ہد ہد کی بات کی تصدیق حضرت سلیمان نے چاہی . یہ وہ معقول وجہ اس نے پیش کی جس کا ذکر پچھلی آیتوں میں گزر چکا ہے لیکن خبر ایسی تھی کہ اس کی تصدیق لازمی تھی اور بغیر تصدیق کے اس خبر پے عمل کرنے سے حضرت سلیمان کے عدل و انصاف پر ضرب پڑنے کا اندیشہ تھا

آیت میں ہد ہد کو ہدایت ہے کہ خط لوگوں کی طرف ڈال دے اور پھر الگ ہٹ کر دیکھے کہ وہ کیا رد عمل کرتے ہیں . یہاں لوگوں سے مراد ظاہر ہے کہ ملکہ ہی کی طرف ہے لیکن ملکہ کے دربار میں براہ راست حاضری تو ممکن نہیں ہوتی بلکہ اس کے محل کے لوگوں تک خط دینا ہوتا ہے تاکے وہ ملکہ تک پہنچائیں .

پھر یہاں کچھ لوگ یہ اعتراض اٹھاتے ہیں کہ یہاں لفظ القی استعمال ہوا ہے جس کا مطلب ڈال دینا ، پھینک دینا ہے تو یہ تو بڑا ہی بدتمیز انسان تھا جس نے لوگوں کے آگے خط پھینک دیا یا ڈال دیا . جب انسان کسی پہلے سے عقیدہ ذہن میں رکھ کر قرآن کی آیات کا مطالعہ کرے تو پھر ایسے ہی اعتراضات اٹھتے ہیں . ویسے تو القی کا ایک معنی پیش کرنا بھی ہے لیکن اگر اس کو بھی مدنظر نہ رکھا جاے اور اس ہی بات پراصرار کیا جاے کہ نہیں اس کے معنی یہی دو ہیں پھر بھی آیت پر کچھ فرق نہیں پڑھتا . عام فہم زبان میں خط پیش کرنے کے لیے یہی الفاظ ہم آج بھی استعمال کرتے ہیں

اگلی تین آیات میں ہمیں پتا چلتا ہے کہ وہ یقینی خبر کیا تھی .

قَالَتْ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ إِنِّي أُلْقِيَ إِلَيَّ كِتَابٌ كَرِيمٌ ﴿29﴾ إِنَّهُ مِن سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ ﴿30﴾ أَلَّا تَعْلُوا عَلَيَّ وَأْتُونِي مُسْلِمِينَ ﴿31﴾

اس (ملکہ) نے کہا اے (دربار کے) سردارو! مجھے ایک معزز خط پہنچایا گیا ہے۔ (29) وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور وہ یہ ہے بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ (٣٠) تم میرے مقابلہ میں سرکشی نہ کرو اور فرمانبردار ہوکر میرے پاس آجاؤ۔ (31 )

اب ان آیات میں ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ خبر کیا تھی . عربی کے لفظ تَعْلُو نے پوری بات کھول دی . تَعْلُو کا مطلب ہے غالب آنا . تَعْلُو علا فلاں فلانا کا مطلب ہے کہ وہ اس پر غالب آگیا . یہ وہ یقینی خبر تھی جو ہد ہد لایا تھا . ملکہ سبا کا ارادہ حضرت سلیمان پر غلبہ پانے کا تھا .

یہاں لفظ مسلمین سے مفسرین یہ خیال کرتے ہیں کہ حضرت سلیمان نے رسول ہونے کی حثیت سے ان کو ایک دم مسلمان ہونے کی دعوت دیدی پھر یہی مفسرین اتمام حجت کا اتنا لمبا چوڑا قانون بیان کرتے ہیں اور اس کے مراحل بھی بیان کرتے ہیں لیکن اپنے عقیدہ کو درست ثابت کرنے کے لیے یہ مفسرین اپنے ہی اصولوں کو روندھتے ہوے نکل جاتے ہیں

یہاں لفظ مسلمین اصطلاحی نہیں بلکہ لغوی معنوں میں آیا ہے یعنی مسلمین کا مطلب فرما بردار ہو کر یعنی ہتھیار ڈال کر,غلبہ پانے کا ارادہ ترک کر کے پیش ہونے کے ہیں .

ملکہ نے اس خط کا مشورہ اپنے قوم کے سرداروں سے مانگا

قَالَتْ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ أَفْتُونِي فِي أَمْرِي مَا كُنتُ قَاطِعَةً أَمْرًا حَتَّىٰ تَشْهَدُونِ ﴿32﴾

(خط سُنا کر) ملکہ نے کہا ”اے سردارانِ قوم میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو، میں کسی معاملہ کا فیصلہ تمہارے بغیر نہیں کرتی ہوں“ (32 )

اس کے قوم کے سرداروں نے کیا مشورہ دیا وہ آگے آتا ہے

قَالُوا نَحْنُ أُولُو قُوَّةٍ وَأُولُو بَأْسٍ شَدِيدٍ وَالْأَمْرُ إِلَيْكِ فَانظُرِي مَاذَا تَأْمُرِينَ ﴿33﴾

اُنہوں نے جواب دیا “ہم طاقت ور اور لڑنے والے لوگ ہیں آگے فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے آپ خود دیکھ لیں کہ آپ کو کیا حکم دینا ہے” (33)

قوم کے سرداروں کے جواب سے صاف ظاہر ہے کہ ان کا ارادہ حملے کا تھا . یہ ایک جنگجو قوم تھی لیکن حضرت سلیمان کے زور دار خط نے ملکہ کو کچھ سوچنے پر مجبور کردیا جس کا اظہار اس نے اگلی آیت میں کیا .

قَالَتْ إِنَّ الْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوهَا وَجَعَلُوا أَعِزَّةَ أَهْلِهَا أَذِلَّةً ۖ وَكَذَٰلِكَ يَفْعَلُونَ ﴿34﴾

ملکہ نے کہا کہ “بادشاہ جب کسی مُلک میں گھس آتے ہیں تو اسے تباہ اور اس کے عزت والوں کو ذلیل کر دیتے ہیں یہی کچھ وہ کیا کرتے ہیں (34)

یہاں دخلو سے مراد طاقت کے زور پر کسی بستی میں داخل ہونا ہے .

مولانا مودودی نے اس آیت کی تفسیر میں بادشاہوں اور فاتح قوموں کی جو تصویر کھینچی ہے .مجھے اس سے اتفاق ہے . ان ہی کے الفاظ یہاں منتقل کر رہا ہوں

“بادشاہوں کی ملک گیری اور فاتح قوموں کی داست درازی کبھی اصلاح اور خیر خواہی کے لیے نہیں ہوتی بلکہ اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ دوسروں کو جو خدا نے رزق دیا ہے اور جو وسائل دیے ہیں ان سے وہ خود مستفید ہو سکیں اور اس قوم کو اس قدر بے بس کردیں کہ کبھی وہ سر اٹھا کر اپنا حق نہ مانگ سکیں اس غرض کے لیے وہ اس کی خوشحالی ، طاقت اور استحکام کے تمام وسیلے ختم کردیتے ہیں اور انہیں ذلیل و خوار کردیتے ہیں”

ملکہ کے جواب سے یہ بات تو ظاہر تھی کہ وہ سمجھ گئی تھی کہ اس کے مقابلے میں حضرت سلیمان کی طاقت بہت زیادہ ہے اس لیے ان کے قوم کے سرداروں کا جو یہ خیال ہے کہ لڑ لیں گے تو ایسا ممکن نہیں ہے . اس ہی لیے اس نے اس خدشے کا اظہار کیا جب بادشاہ زبردستی داخل ہوتےہیں تو لوٹ مار کرتے ہیں اورعزت دار کو ذلیل کرنے میں اس ہی طرف اشارہ تھا کہ نہ ملک رہے گا اور نہ ہی جو شان و شوکت اور عزت ہے یہ بھی نہیں رہے گی

اس ہی لیے اگلی آیت میں اس نے ہدیہ بھیجنے کا فیصلہ کیا

وَإِنِّي مُرْسِلَةٌ إِلَيْهِم بِهَدِيَّةٍ فَنَاظِرَةٌ بِمَ يَرْجِعُ الْمُرْسَلُونَ ﴿35﴾

(لہٰذا جنگ مناسب نہیں البتہ) میں ان کے پاس ایک ہدیہ بھیجتی ہوں۔ اور پھر دیکھتی ہوں کہ میرے فرستادے (قاصد) کیا جواب لاتے ہیں؟ (35)

ملکہ سبا نے فیصلہ کیا کہ وہ حضرت سلیمان کی طرف ایک تحفہ بھیجے اور دیکھے کہ اس کے قاصد کیا خبر لاتے ہیں . کیا میرے تحائف سے حضرت سلیمان خوش ہوے یا نہیں ؟. اگر تو ملک گیری اور مال و دولت اکھٹا کرنا ہے تو حضرت سلیمان اس سے خوش ہو جائیں گے . لگتا یہی ہے کہ بہت بڑے پیمانے پر قیمتی مال حضرت سلیمان کی طرف بھیجا گیا اور اتنا بھیجا تھا کہ اس کو اندیشہ تھا کہ حضرت سلیمان اس کو قبول کر لیں گے اور اس کی جان چھوٹ جاے گی .

اس اگلی آیت میں تحفے پہنچنے کا ذکر ہے

فَلَمَّا جَاءَ سُلَيْمَانَ قَالَ أَتُمِدُّونَنِ بِمَالٍ فَمَا آتَانِيَ اللَّـهُ خَيْرٌ مِّمَّا آتَاكُم بَلْ أَنتُم بِهَدِيَّتِكُمْ تَفْرَحُونَ ﴿36﴾

جب وہ (ملکہ کا سفیر) سلیمانؑ کے ہاں پہنچا تو اس نے کہا “کیا تم لوگ مال سے میری مدد کرنا چاہتے ہو؟ جو کچھ خدا نے مجھے دے رکھا ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہے جو تمہیں دیا ہے تمہارا ہدیہ تمہی کو مبارک رہے (36 )

یہاں ایک بات ذہن میں رہے کہ اس آیت میں ایک کا ذکر کیا ہے فَلَمَّا جَاءَ یعنی جب وہ پہنچا . اس کا مطلب نہیں کہ صرف ایک ہی قاصد سارا سامان لے کر گیا تھا بلکہ  جَاءَ اصل میں وفد کے لحاظ سے آیا ہے .

حضرت سلیمان نے دیکھ کر جواب دیا کہ تم مال کے ساتھ میری مدد کرنا چاہتے ہو ؟. یعنی تم لوگوں نے غلط سمجھا ہے کہ ملک گیری یا مال کی محبت مجھے یہاں لائی ہے . الله کا دیا بہت کچھ ہے بلکہ اس سے بہتر ہے جو تمہارے پاس ہے .

ارْجِعْ إِلَيْهِمْ فَلَنَأْتِيَنَّهُم بِجُنُودٍ لَّا قِبَلَ لَهُم بِهَا وَلَنُخْرِجَنَّهُم مِّنْهَا أَذِلَّةً وَهُمْ صَاغِرُونَ ﴿37﴾

(اے سفیر) واپس جا اپنے بھیجنے والوں کی طرف ہم ان پر ایسے لشکر لے کر آئیں گے جن کا مقابلہ وہ نہ کر سکیں گے اور ہم انہیں ایسی ذلت کے ساتھ وہاں سے نکالیں گے کہ وہ خوار ہو کر رہ جائیں گے” (37)

اس آیت میں صَاغِرُونَ ان ہی معنوں میں آیا ہے جو سوره التوبہ کی آیت 29 میں استعمال ہوا ہے . جہاں ان اہل کتاب سے جنگ کرنے کی ہدایت ہے جو اسلامی حکومت کے قانون کے خلاف برسرے پیکار تھے اور ان سے تب تک جنگ کی ہدایت تھی جب تک وہ چھوٹے بن کر نہ رہیں .

یہی حضرت سلیمان نے سفیروں کو جواب دیا . ان کا جواب ایسا تھا کہ ان کو یقین تھا کہ اب کوئی قاصد نہیں اے گا بلکہ اب ملکہ ہی اے گی .

حضرت سلیمان کو اندازہ ہو گیا تھا کہ ملکہ سبا اپنی شکست تسلیم کر چکی ہے اس لیے مال و دولت سے معاہدہ کرنا چاہتی ہے . بیچ میں جیسا کہ قرآن کا اسلوب ہے کہ واقعات کو چھوڑ دیا گیا ہے . وفد واپس جاتا ہے حضرت سلیمان کا پیغام پہنچاتا ہے اور پھر ملکہ کے آنے کی تاریخ مقرر ہوتی ہے . ضروری نہیں کہ یہ تاریخ اگلے دن ہی مقرر ہوگی ہو . ہو سکتا ہے کہ اس میں ایک مہینہ ، دو مہینے بھی لگ سکتے ہیں . پھر حضرت سلیمان نے ملکہ کے انے کی تیاری شروع کر دی .

اگلی آیت پر جانے سے پہلے ایک بات عرض کر دوں کہ رسول بلاوجہ کسی کے ملک پر حملہ نہیں کرتے جب تک وہاں سے کسی سرکشی نہ کی جاے . یہی ہدایت ہمیں قرآن میں رسول الله کی طرف ملتی ہے .

سوره البقرہ کی آیت190 سے 193 تک .

وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا ۚ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ ﴿190﴾ وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ وَأَخْرِجُوهُم مِّنْ حَيْثُ أَخْرَجُوكُمْ ۚ وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ ۚ وَلَا تُقَاتِلُوهُمْ عِندَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتَّىٰ يُقَاتِلُوكُمْ فِيهِ ۖ فَإِن قَاتَلُوكُمْ فَاقْتُلُوهُمْ ۗ كَذَٰلِكَ جَزَاءُ الْكَافِرِينَ ﴿191﴾ فَإِنِ انتَهَوْا فَإِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿192﴾ وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّـهِ ۖ فَإِنِ انتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الظَّالِمِينَ ﴿193﴾

اور تم اللہ کی راہ میں اُن لوگوں سے لڑو، جو تم سے لڑتے ہیں، مگر زیادتی نہ کرو کہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا (190 ) ان سے لڑو جہاں بھی تمہارا اُن سے مقابلہ پیش آئے اور انہیں نکالو جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا ہے، اس لیے کہ قتل اگرچہ برا ہے، مگر فتنہ اس سے بھی زیادہ برا ہے اور مسجد حرام کے قریب جب تک وہ تم سے نہ لڑیں، تم بھی نہ لڑو، مگر جب وہ وہاں لڑنے سے نہ چُوکیں، تو تم بھی بے تکلف انہیں مارو کہ ایسے کافروں کی یہی سزا ہے (191) پھر اگر وہ باز آ جائیں، تو جان لو کہ اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے (192) تم ان سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کے لیے ہو جائے پھر اگر وہ باز آ جائیں، تو سمجھ لو کہ ظالموں کے سوا اور کسی پر دست درازی روا نہیں(193)

یہ صاف ہدایت تمام رسولوں کو دی گئیں تھیں کہ جب تک کوئی نہ لڑے تم بھی زیادتی اور جنگ نہ کرو اس سے اگلی آیت میں تو یہ واضح ہدایت ہے کہ لہٰذا جوتم پر دست درازی کرے، تم بھی اسی طرح اس پر دست درازی کرو البتہ اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ انہیں لوگوں کے ساتھ ہے، جو اس کی حدود توڑنے سے پرہیز کرتے ہیں (194 )

اب اگلی آیت میں اس ہی کا ذکر ہے .

ملکہ سبا کا تخت

قَالَ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ أَيُّكُمْ يَأْتِينِي بِعَرْشِهَا قَبْلَ أَن يَأْتُونِي مُسْلِمِينَ ﴿38﴾

سلیمانؑ نے کہا ““اے اہل دربار، تم میں سے کون اس کا تخت میرے پاس لاتا ہے قبل اس کے کہ وہ لوگ مطیع ہو کر میرے پاس حاضر ہوں؟” (38)

کمال کی بات یہ کہ کہ ابھی ملکہ کا قیمتی تحفہ ٹھکرایا ہے اور پھر دوسری طرف ملکہ کا تخت لانے کی بھی بات کر رہے ہیں . اس لیے اس سے مراد ملکہ کا وہ تخت نہیں جس پر بیٹھ کر وہ حکمرانی کرتی تھی . ویسے بھی اوپر بیان کر چکا ہوں کہ کسی کا مال اس کی بغیر اجازت کے لانا چوری کے زمرے میں آتا ہے . اب آپ اس کی چاہے کتنی بھی تاویلیں دے دیں لیکن وہ چوری ہی رہے گی .

دوسری اہم بات اس آیت میں لفظ مسلمین ہے . یہاں ان کو مسلمان بنا کر پیش ہونے کا نہیں کہا گیا ہے . الله نے ہر کسی کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ جو دین اپنانا چاہے اپناۓ . زبردستی کسی کو دین قبول نہیں کروایا جا سکتا . دین میں جبر نہیں ہے . یہ واضح ہدایت تمام رسولوں کو الله کی طرف سے ملی تھیں .

یہاں مسلمین سے مراد فرمابردار ہو کر چلے آنے کے ہیں .

اب اگلی آیت .

قَالَ عِفْرِيتٌ مِّنَ الْجِنِّ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَن تَقُومَ مِن مَّقَامِكَ ۖ وَإِنِّي عَلَيْهِ لَقَوِيٌّ أَمِينٌ ﴿39﴾

جنوں میں سے ایک قوی ہیکل نے عرض کیا “میں اسے حاضر کر دوں گا قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کی طاقت رکھتا ہوں اور امانتدار ہوں” (39)

یہاں لَقَوِيٌّ أَمِينٌ کے الفاظ خاص غور طلب ہیں . اگر بات اس ہی تخت کے لے آنے کی تھی تو یہ کیسا امانتدار تھا کہ کسی کا تخت اس کی اجازت کے بغیر لے اے . یہی الفاظ حضرت موسیٰ کے لیے بھی استعمال ہوے ہیں سوره القصص کی آیت 26 میں .پھر تخت کوئی کسی جنگل میں نہیں تھا بلکہ ملکہ کے دربار میں رکھا ہوا تھا اور یہ کوئی کاغذ کا تو بنا ہوا نہیں تھا اور پھر اس کے اس پاس پہرے دار بھی یقیناً ہونگے . کوئی بھی اس کو آرام سے تو اٹھانے نہیں دے گا . اس کو چھین کر ہی لے کر آنا ہوگا . اس لیے یہ کیسی امانت داری ہے ؟. اس لیے اس کا مطلب یہ نہیں ہو سکتا کہ وہی والا تخت ہو جس پر ملکہ بیٹھ کر حکومت کرتی تھی .

پھر اس آیت میں ایک بات اور غور طلب ہے کہ “اپنی جگہ سے اٹھنے سے قبل تخت لانے سے مراد محاورہ ہے یعنی جلدی سے لے آؤں گا . اس ہی کو دوسرے انداز میں اس سے اگلی آیت میں بیان کیا ہے

قَالَ الَّذِي عِندَهُ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتَابِ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَن يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ ۚ فَلَمَّا رَآهُ مُسْتَقِرًّا عِندَهُ قَالَ هَـٰذَا مِن فَضْلِ رَبِّي لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ ۖ وَمَن شَكَرَ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ ۖ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ ﴿40﴾

جس شخص کے پاس کتاب کا علم تھا وہ بولا “میں آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے اسے لائے دیتا ہوں” جونہی کہ سلیمانؑ نے وہ تخت اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا، وہ پکار اٹھا “یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا کافر نعمت بن جاتا ہوں اور جو کوئی شکر کرتا ہے اس کا شکر اس کے اپنے ہی لیے مفید ہے، ورنہ کوئی ناشکری کرے تو میرا رب بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ بزرگ ہے” (40)

اب یہ وہ آیت ہے جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے کہ ملکہ کا تخت ایک کتاب کا علم رکھنے والے نے آنکھ جھپکنے سے پہلے ہی حضرت سلیمان کے دربار میں لے آیا . اب ظاہر ہے کہ یہ بھی ایک محاورہ ہے جو سرعت میں مبالغہ ہے اور ایسے محاورے ہم روز مرہ کی زندگی میں بولتے رہتے ہیں .

اس کتاب کے علم کو اصلاحی صاحب تورات کا علم قرار دیتے ہیں . کچھ لوگ حضرت سلیمان کو ہی الله کی کتاب کا علم جاننے والا قرار دیتے ہیں . جو کہ سیاق سباق کے لحاظ سے یہ بات بے معنی ہے . اب سوچنے والی بات ہے کہ یہ کس کا معجزہ ہے ؟. اس کتاب کا علم رکھنے والے کا یا حضرت سلیمان کا ؟. کیوں کہ حضرت سلیمان ایک رسول ہو کر یہ بات نہیں جانتے تھے کہ تورات میں ایسے جنتر منتر ہے کہ ایک چیز میلوں دور سے اٹھ کر ان کے پاس چلی اے گی . اس لیے یہ حضرت سلیمان کے بجاے ایک کتاب کا علم رکھنے والے کا معجزہ ہوا .

یہاں کتاب کے علم سے مراد عام علم ہے کیوں کہ یہ شریعت کا کوئی مسئلہ نہیں تھا. اب یہاں احباب یہ بات بیان کرتے ہیں کہ اس کتاب کا علم جاننے والے کہ کہنے کے اگلے ہی لمحے تخت حضرت سلیمان کے پاس موجود تھا . لیکن یہ احباب یہ بات بھول جاتے ہیں کہ جب الله اس کائنات کو بناتے وقت کن فیکون کہتا ہے تو کیا پوری کائنات دوسرے لمحے وجود میں آجاتی ہے ؟. کیا ان الفاظ کے نکالنے کے بعد یہ کائنات جیسا کہ قرآن اس کو بیان کرتا ہے چھ یوم میں نہیں وجود میں آئی  ؟. کیا حضرت عیسیٰ کی پیدائش کن فیکون کا نتیجہ نہیں تھا ؟. کیا ان الفاظ کی ادائیگی کے بعد حضرت عیسیٰ کو خود نو مہینے نہیں لگے اس دنیا میں آنے کے لیے ؟. کیا جب الله نے بنی اسرائیل کو عزت دینے اور فرعون کے تسلط سے نکالنے کا ارادہ کیا تو کیا دوسرے لمحے وہ اس ظلم سے آزاد ہو گے ؟. یہ اور بہت سی مثالیں قرآن سے دی جاسکتی ہیں .

میرا ان مثالوں کو بتانے کا مقصد یہ ہے کہ یہ زبان کا اسلوب ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ دوسرے لمحے ہی تخت ان کے سامنے تھا بلکہ اس تخت کو بنانے میں وقت لگا بلکل اس ہی طرح جس طرح اس کائنات کو وجود میں آنے کے لیے چھ یوم لگے .

پھر لوگ یہ اعتراض اٹھاتے ہیں کہ اگر یہ کوئی غیر معمولی عمل نہیں تھا تو پھر حضرت سلیمان کا یہ کہنا وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا کافر نعمت بن جاتا ہوں، بے معنی ہے .

حضرت سلیمان کا الله کا شکر ادا کرنا اس وجہ سے تھا کہ حضرت سلیمان نے ملکہ کے تخت سے بھی بہتر تخت بنانے کا حکم دیا .اس ملکہ کا تخت جیسا کہ ہد ہد کی خبر سے بھی ظاہر تھا کہ عظیم الشان تخت تھا اور حضرت سلیمان کو قیمتی مال کی رشوت دینے سے بھی یہی ظاہر تھا کہ ملکہ کو اپنے تخت پر فخر تھا . یہ ایک ایسا تخت تھا جو بظاھر لگتا ہے کہ اس کا مثل اور کوئی نہیں تھا . حضرت سلیمان وہ تھے جن کے ہاں صنعت اتنی ترقی کرگئی  تھی کہ ہواؤں کو مسخر کر کے کشتیوں میں دنوں میں مہینوں کا سفر طے کرتے ، ان کے ہاں لوگ بڑے بڑے مجسمے ، تصویریں ، بڑی بڑی دیگیں وجود میں لاتے . پھر لوہا اور تانبا کے چشمے بہتے تھے . صنعت نے ان کے ہاں بڑی ترقی کی تھی . اس لیے اس ملکہ کا غرور توڑنے کے لیے اس سے بھی بہتر تخت بنانے کو کہا اور جب اس سے بھی بہتراور ہو بہو تخت ان کے کاریگروں نے ان کے سامنے لا کر رکھا تو اس پر گردن سخت ہونے کے بجاے اور جھک گئی کہ الله کا یہ فضل ان پر ہے .

اس ہی کا ذکر اگلی آیت میں ہے .

قَالَ نَكِّرُوا لَهَا عَرْشَهَا نَنظُرْ أَتَهْتَدِي أَمْ تَكُونُ مِنَ الَّذِينَ لَا يَهْتَدُونَ ﴿41﴾

سلیمانؑ نے کہا “انجان طریقے سے اس کا تخت اس کے سامنے رکھ دو، دیکھیں وہ صحیح بات تک پہنچتی ہے یا اُن لوگوں میں سے ہے جو راہِ راست نہیں پاتے” (41 )

یہ اس کا ظاہری ترجمہ ہے جو زیادہ تر مفسرین نے کیا ہے . اگراس آیت کا  یہ ترجمہ لیں تو پھر آگے جا کر یہ ترجمہ بے معنی ہو جاتا ہے . اب جب کہ آپ نے اس کے تخت میں تبدیلی کر کے اس کو ایسا بنا دیا کہ پہچانا نہ جاے تو پھر ملکہ کو کیسے یقین ہوگا کہ یہ وہی تخت ہے جو اس کے دربار میں تھا ؟. پھر جو آگے ملکہ نے بیان دیا ہے وہ درست ہے . وہ اپنے تخت کو پہچان ہی نہیں سکی . اگلی آیت میں اس کا جواب ہے .

فَلَمَّا جَاءَتْ قِيلَ أَهَـٰكَذَا عَرْشُكِ ۖ قَالَتْ كَأَنَّهُ هُوَ ۚ وَأُوتِينَا الْعِلْمَ مِن قَبْلِهَا وَكُنَّا مُسْلِمِينَ ﴿42﴾

ملکہ جب حاضر ہوئی تو اس سے کہا گیا کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے؟ وہ کہنے لگی “یہ تو گویا وہی ہے ہم تو پہلے ہی جان گئے تھے اور ہم نے سرِ اطاعت جھکا دیا تھا (یا ہم مسلم ہو چکے تھے)” (42 )

ملکہ کا جواب كَأَنَّهُ هُوَ یعنی گویا وہی ہے . سب جانتے ہیں کہ کاف حرفے تشبیہ کے لیے استعمال ہوتا ہے . ملکہ نے یہ نہیں کہا کہ یہ تو میرا ہی تخت ہے اور آپ مجھ سے پوچھ رہے ہیں کہ کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے . میرا ہی تخت اٹھا کر لے اے اور مجھ سے ہی پوچھ رہے ہیں کہ تیرا تخت ایسا ہی ہے .

پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ پچھلی آیت میں لفظ قَالَ نَكِّرُو کے کیا مطلب ہوے ؟. ملکہ کا جواب یہ بات پوری طرح کھول دیتا ہے کہ اس کا تخت اٹھا کر نہیں لایا گیا بلکہ اس کے ہو بہو بلکل ویسا تخت بنایا گیا بلکہ اس سے بھی بہتر اور پھر اس سے پوچھا گیا کہ جس تخت پر تم فخر کرتی ہو یہ تو ہمارے ہاں عام سی بات ہے . جو تخت حضرت سلیمان کے کاریگروں نے بنایا تھا اس نے ملکہ سبا کے تخت کو معرفہ سے نکرہ بنا دیا یعنی خاص سے ایک عام سی چیز بنا دی . یہ کوئی ایسا تخت نہیں کہ صرف تمھارے ہی ہاں پایا جاتا ہے یہ تو ہمارے لیے ایک عام سی بات ہے .

ملکہ کو پہلے سے معلوم تھا کہ یہ اس کا تخت ہے لیکن پھر بھی بجاے یہ کہنے کے کہ یہ میرا تخت ہے وہ بولتی ہے کہ گویا یہی ہے . اس کو اتنا جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت پیش آئی ؟

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کس بات کی خبر تھی ؟ مِن قَبْلِهَا کی ضمیر اس ہی تخت کی طرف جاتی ہے جس کو حضرت سلیمان کے کاریگروں نے بنایا تھا . اس ہی سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کی خبر ملکہ تک پہنچی تھی کہ حضرت سلیمان نے اس کے تخت جیسا ہو بہو بنوانا شروع کردیا ہے اور جب اس نے خود اس کا مشاہدہ کیا تو بول اٹھی کہ ہمیں پہلے سے ہی معلوم ہوگیا تھا اس ہی لیے آپ کی شان و شوکت کے قائل ہو گئے تھے اس ہی لیے فرما بردار بن کر آپ کے سامنے حاضر ہوگی .

یہاں بھی مفسرین مسلمین کے لفظ سے یہی تفسیر بیان کرتے ہیں کہ وہ اسلام قبول کر چکی تھی لیکن اس سے اگلی آیت اس بات کو رد کردیتی ہے .

وَصَدَّهَا مَا كَانَت تَّعْبُدُ مِن دُونِ اللَّـهِ ۖ إِنَّهَا كَانَتْ مِن قَوْمٍ كَافِرِينَ ﴿43﴾

اُس کو (ایمان لانے سے) جس چیز نے روک رکھا تھا وہ اُن معبودوں کی عبادت تھی جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجتی تھی، کیونکہ وہ ایک کافر قوم سے تھی (43 )

یہاں تک تو حضرت سلیمان نے اس بات کا جواب دیا تھا جو ملکہ کے قاصد کو واپس بھیجتے وقت اور ملکہ کے قیمتی مال کو رد کرتے ہوے اس ہی سوره کی آیت 36 میں بیان کیا تھا کہ جو کچھ خدا نے مجھے دے رکھا ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہے جو تمہیں دیا ہے. اس ہی بات کا مشاہدہ ملکہ کو کروایا .

اب تابوت میں آخری کیل اس محل نے پوری کردی .جس کو دیکھتے ہی ملکہ نے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا . یہی وہ دلیل و حکمت تھی جس کے بعد پھر کسی اور دلیل کی ضرورت باقی نہ رہی .

یہ بات یاد رکھئے کہ رسول و انبیاء کا کام دلیل سے بات کو دل میں اتارنا ہوتا ہے . معجزات دکھا کر کسی کو ایمان پر مجبور کرنا الله کے رسولوں کا کام نہیں ہوتا . ہر رسول نے یہی بات کی ہے کہ وہ دلیل و برہان سے اپنی بات پیش کریں گے . زبردستی کسی سے کوئی بات منوانا ان کا منشا نہیں تھا .

٭٭٭٭٭

You might also like More from author

تبصرے

Loading...