خاندانی منصوبہ بندی تحریر طفیل ہاشمی

زیر بحث موضوع کے حوالے سے ایک اہم سوال یہ سامنے آتا ہے کہ کیا کوئی عورت یا کوئی جوڑا بچوں کے پیدائش کے سلسلے میں کوئی ایسی منصوبہ بندی کر سکتا ہے جو ان کی ضروریات، خواہشات، صحت تندرستی اور بچوں کی تعلیم و تربیت سے ہم آہنگ ہو ، اسلام اس پہلو سے کیا رہنمائی مہیا کرتا ہے؟

اگ اس مسئلے کو عالمی تناظر، تاریخی تسلسل اور جغرافیائی حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ بعض حالات میں مخصوص پس منظر کی وجہ سے آبادی کی کثرت مطلوب ہوتی ہے اور ایسا ان ممالک یا علاقوں میں ہوتا ہے جہاں آبادی کے تناسب سےوسائل بہت زیادہ ہوتے ہیں اور آ بادی میں اضافہ اس شرح سے نہیں ہوتا کہ ملکی ترقی کی ضروریات پوری کی جا سکیں یا ایسے معاشرے جہاں طاقت کا سرچشمہ افرادی برتری کو سمجھا جاتا ہے اورقبائلی معاشروں میں بالخصوص افرادی کثرت مطلوب ہوتی ہے، جب کہ بعض مختلف حالات میں آبادی کو کنٹرول کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ملکی وسائل آبادی کے بوجھ کو نہیں سہار سکتے، لوگوں کے لئے ضروریات زندگی کی فراہمی، بچوں کی پرورش اور تربیت، تعلیم، علاج معالجہ، روزگار اور مکانات کی فراہمی تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے اور آبادی کا بڑا حصہ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہا ہوتا ہے۔

انسانی زندگی کی ان دونوں طرح کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے اسلام نے آبادی میں اضافے اور بچوں کی پیدائش میں کمی دونوں آپشنز (options) کھلے رکھے ہیں۔ البتہ بچوں کی لگاتار پیدائش خواتین کی صحت کے لئے گوناگوں مسائل پیدا کرنے کا موجب ہو سکتی تھی اس لئے اسے منظم کرنے اور ایک منصوبے کے تحت لانے کے لئے کچھ انتظامات قدرت نے خود کر دئے ہیں اور کچھ دوسرے انسانوں کی صوابدید پر چھوڑ دیے گئے ہیں۔

قدرتی منصوبہ بندی:

۱۔ عمر کا تعین:

قدرت نے اس امر کا اہتمام کیا ہے کہ خواتین کی پوری زندگی بار آوری (productivity)كی صلاحیت کی حامل نہیں ہوتی بلکہ ایک عورت تقریباً ۱۵ سال سے ۴۵-۵۰ سال کے درمیان یعنی تیس پینتیس سال کا عرصہ اس صلاحیت کی حامل رہتی ہے اور اس میں بھی ابتدائی پندرہ بیس سال کی بار آوری یعنی بچوں کی پیدائش طبی طور پر محفوظ سمجھی جاتی ہے اور جوں جوں خاتون کی عمر میں اضافہ ہوتا ہے بچے کی پیدائش سے ماں اور بچے کی زندگی کے لئے خطرات میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس کے برعکس مرد طویل عرصے تک اولاد پیدا کرنے کے قابل رہتا ہے۔

۲۔ ماہانہ وقفے:

خواتین کو بار آ وری کی مدت میں ہر مہینے آٹھ دس روز ماہانہ وقفے سے گزرنا پڑتا ہے جس کے دوران قرآن حکیم کے واضح حکم کے مطابق میاں بیوی کے اختلاط اور جنسی عمل کی ممانعت ہے:

ویسئلونک عن المحیض، قل ھو اذی، فاعتزلوالنسأ فی المحیض ولا تقربوھن حتی یطھرن۔ البقرہ، ۲۲۲:۲

(لوگ آپ سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں، انہیں بتا دیں کہ یہ آلودگی ہےل حیض کے دنوں میں بیویوں سے اختلاط سے باز رہو اور جب تک وہ پاک نہ ہو جائیں ان سے صحبت نہ کرو)

۳۔ بچے کی پیدائش کا وقفہ:

جب کسی خاتون کے ہاں بچہ ہوتا ہے تو اس کے بعد وہ نفاس کی حالت میں رہتی ہے جو لگ بھگ چالیس دن کی مدت ہوتی ہے۔ اس عرصے میں میاں بیوی کے لئے ایک دوسرے سے پرہیز ضروری ہے اور یہ پابندی اسلام نے عائد کی ہے۔

۴۔ مخفی قدرتی وقفہ:

قدرت نے حمل قرار پانے کا ایک ایسا انتظام رکھا ہوا ہے کہ ایسا نہیں ہوتا کہ جب بھی میاں بیوی جنسی عمل سے گزریں تو حمل قرار پا جائے بلکہ جو عورتیں بار آوری کی عمر میں ہوتی ہیں، ان کو ہر مہینے صرف چند گھنٹوں کے لئے ایسا ہوتا ہے کہ ان کے رحم سے بیضہ(Egg) سفر کر کے رحم کے منہ پر آ کر رک جاتا ہے اور اگر ان چند گھنٹوں میں میاں بیوی کا اختلاط ہو تو حمل قرار پا جاتا ہے ورنہ نہیں۔ وہ چند گھنٹے کون سے ہیں ؟ بے شمار عورتوں پر طبی تحقیق کرنے کے بعدماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ وہ گھنٹے مختلف عورتوں میں حیض سے پاک ہونے کے بعد مختلف ایام میں آتے ہیں اس لے ان کے لئے کوئی فارمولا نہیں بنایا جا سکتا کہ فلاں فلاں تاریخوں میں آئیں گے، اور یہ قدرت کی طرف سے ایک مخفی منصوبہ بندی ہے۔

۵۔ دودھ پلانے کے ذریعے وقفہ:

قرآن حکیم نے ماؤں کو یہ کہا ہے کہ وہ دو سال تک اپنے بچوں کو دودھ پلائیں:

والوالدات یرضعن اولادھن حولین کاملین لمن اراد ان یتم الرضاعۃ۔ البقرہ، ۲۳۳:۲

(مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں، جو یہ چاہتے ہوں کہ رضاعت کی مدت پوری کریں)

اور یہ معلوم ہے کہ جس عرصے میں مائیں بچوں کو دودھ پلاتی ہیں اس میں بالعموم انہیں ماہواری نہیں ہوتی اور جب ماہواری نہ ہو توحمل نہیں ٹھہرتا، اس لئے جو ماں اپنے بچے کو باقاعدگی سے دودھ پلائے گی اس کے بچوں میں قدرتی طور تین تین سال کا وقفہ ہوجائے گا۔

۶۔ نکاح کی عمر:

قدرت کی طرف سے منصوبہ بندی کا ایک مظہر نکاح کے لئے عمر کا تعین بھی ہے۔ اگرچہ کتاب و سنت نے وضاحت کے ساتھ کہیں یہ نہیں بتایا کہ نا بالغی میں نکاح کرنا جائز نہیں لیکن اگر ہم نکاح کے مقاصد پر نظر ڈالیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مر د اور عورت کے درمیان نکاح کا معاہدہ کرانے کا مقصد یہ بتایا ہے کہ:

بث منھما رجالاً کثیراً و نسأ ۔ النسأ، ۱:۴

(ان دونوں سے آگے بہت سے مرد اور عورتیں پیدا کیں)

یعنی اللہ کا مقصد یہ ہے کہ نسل انسانی کو بقا اور تسلسل حاصل رہے۔

بندے جو نکاح کرتے ہیں ان کے بالعموم دو مقاصد ہوتے ہیں:

۱۔ اولاد کا حصول

۲۔ جنسی آسودگی کا حصول

ان تینوں مقاصد میں سے کوئی مقصد بھی نابالغی کی شادی سے متعلق نہیں ہے۔ نابالغی کی شادی سے نہ تو نسل انسانی کو بقا ملتی ہے نہ اولاد حاصل ہو تی ہے اور نہ جنسی آسودگی۔

اگرچہ اسلام نے نابالغی کی شادی پر قطعی پابندی عائد نہیں کی کیوں کہ بسا اوقات نا گزیر وجوہ کی بنا پر اس کی ضرورت بھی پیدا ہو جاتی ہے لیکن مقاصد کے حوالے سے دیکھا جائے تو نابالغی کی شادی سے نکاح کے مقاصد حاصل نہیں ہوتے اس لئے قرآن حکیم کی ایک آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ نکاح کی کوئی عمر ہوتی ہے اور وہ آیت ہے:

حتی اذا بلغوا لنکاح۔ النسأ، ۴:۴

(تآنکہ وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں)

اور بلا شبہ نکاح کی عمر بلوغ کی عمر ہے۔

۷۔ عقل کا استعمال:

دنیا بھر میں تقریباً تمام جانداروں میں توالد و تناسل کا سلسلہ نر اور مادہ کے باہمی ملاپ سےچلتا ہے لیکن جانوروں میں ہم یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ ان کے نر اور مادہ ہر وقت اور ہر موسم میں جنسی ملاپ کے لئےآمادہ نہیں ہوتے بلکہ انہیں اپنے نر یا مادہ ہونے کا احساس بھی نہیں ہوتا بالعموم مادہ پر خاص موسم میں متعین وقفے سےایک کیفیت طاری ہوتی ہے جس میں اسے نر سے ملاپ کی ضرورت ہوتی ہے اور اس وقت اس کی جنس کے نر کوبھی اس کی خبر ہو جاتی ہے اور وہ دونوں ملاپ کی ضرورت پوری کر کےواپس اپنی نارمل زندگی میں لوٹ جاتے ہیں جبکہ انسان کے لئے اس طرح موسموں کی پابندی، وقفوں کا تعین اور کیفیتوں کے نزول کی صورت حال نہیں ہوتی بلکہ وہ جنسی عمل میں اپنی آزادانہ مرضی کے تابع ہوتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان اور دوسرے جانوروں میں یہ فرق کیوں ہے؟ جب کہ توالدو تناسل کے لئے جنسی ملاپ کا عمل سب کے لئے یکساں ہے۔ تو اس کا واضح جواب یہ ہے کہ اللہ نے جانوروں کو عقل سے نہیں نوازا س لئے انہیں فطرت کی راہنمائی عطا کی اور وہ اس کے مطابق عمل پیرا ہوتے ہیں جب کہ انسان کو عقل و شعور اور آگاہی بخشی گئی جس کی روشنی میں وہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ اسے کب اس عمل سے گزرنا چاہیے اور کب احتیاط کرنی چاہیے، کیا اسے زیادہ بچوں کی ضرورت ہے اور وہ بکثرت جنسی عمل کے ذریعے زیادہ اولاد حاصل کرے یا اسے کم بچوں کی خواہش ہے تا کہ وہ اس کے مطابق احتیاطی تدابیر اختیار کرے۔ عقل ایک ایسا نور ہے جس کی روشنی میں انسان اپنے مستقبل کے لئے بآسانی منصوبہ بندی کر سکتا ہے اور یہ نور اللہ نے صرف انسان کو دیا ہے۔

مانع حمل طریقوں کا استعمال:

اسلام خاص حالات میں منصوبہ بندی سے روکتا نہیں ہے، خواہ اس کے لئے مانع حمل ادویہ استعمال کی جائیں یا حمل روکنے کا کوئی اور مناسب طریقہ اختیار کیا جائے۔

امام غزالی نے اپنی مشہور تالیف ‘‘احیأ علوم الدین’’ (۵۲-۵۱:۱) میں اور مانع حمل احتیاطی تدابیر پر سیر حاصل بحث کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے:

مندرجہ ذیل صورتوں میں مانع حمل احتیاطی تدابیر اختیار کرنا جائز ہیں:

۱۔ جب کسی شخص کے بچے بہت ہوں اور وہ صحیح طریقے سے ان کی تربیت کے فرائض انجام نہ دے سکتا ہو ۔

۲۔ جب عورت کمزور ہو ، وہ مزید حمل کی مشقت نہ برداشت کر سکتی ہو۔ جب کہ ہمارے دور میں جن خواتیں کے بچے بڑے آپریشن سے ہوتے ہیں ان کے لئے یہ ممکن نہیں ہوتا کہ وہ زیادہ بچوں کو جنم دے سکیں اگر وہ مانع حمل تدابیر اختیار نہیں کریں گی اور اس کے نتیجے میں اس امر کا خطرہ ہوتا ہے کہ وہ جان کی بازی ہار جائے اور ان کے بچے ماں کی شفقت اور تربیت سے محروم ہو جائیں۔

۳۔ جب عورت کے مسلسل حمل میں مصروف ہونے کی وجہ سے مرد کے لئے اپنی خواہش پوری کرنے کا راستہ نہ رہتا ہو۔

۴۔ جب خاوند غریب ہو اور بچوں کی کفالت نہ کر سکتا ہو۔

۵۔ جب عورت کو یہ خوف ہو کہ کثرت اولاد کی وجہ سے اس کی خوبصورتی متاثر ہوگی اور خاوند کی توجہ سے محروم ہو جائے گی۔

چونکہ مانع حمل تدابیر اختیار کرنے کے بارے میں کتاب و سنت نے نہ تو حکم دیا ہے اور نہ اس سے روکا ، اس لئے فقہ اسلام اور آئمہ مجتھدین نے اس پر اجتہاد کرتے ہوئے مختلف آرأ اختیار کی ہیں۔ فقہ کی آرأ اور ان کے دلائل حسب ذیل ہیں:

۱۔ کوئی ایسی احتیاطی تدابیر اختیار کرنا جائز نہیں جو مانع حمل ہو ۔ یہ اہل ظاہر کا نقطہ نظر ہے، البتہ اگر کسی شخص کا اپنی باندی کے ساتھ جنسی تعلق ہو تو اس کے بارے میں احتیاطی تدبیر اختیار کرنا جائز ہے، کیوں کہ باندی working ہوتی ہے اور اگر مالک سے اس کی اولاد ہو جائے تو اسے بعض ایسے حقوق حاصل ہوتے ہیں جو مالک کے مفادات سے متصادم ہوتے ہیں ۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایک شخص نے یہ صورت پیش کی کہ اس کی ایک باندی ہے جو اس کے کام کاج کرتی ہے اور اس کے ساتھ اس کے جنسی تعلقات بھی ہیں لیکن وہ یہ نہیں چاہتا کہ اس سے ان کی اولاد ہو ، اس لئے اس سے عزل کر لیتا ہے یعنی جنسی عمل کے دوران منی خارج ہونے سے پہلے ہی اپنا عضو تناسل باہر نکال لیتا ہے تا کہ حمل نہ ٹھہر جائے۔

رسول اللہﷺ نے اس عمل سے روکا نہیں البتہ آپ نے فرمایا کہ جس جان نے وجود میں آنا ہے اس نے آ کر رہنا ہے۔

اس حدیث کی بنا پر اہل ظاہر کی رائے یہ ہے کہ احتیاطی تدابیر کا کوئی فائدہ نہیں ہے ، اس لئے یہ جائز نہیں۔

امر واقع یہ ہے کہ اس حدیث کا یہ مفہوم نہیں کہ عزل یا حمل روکنے کی احتیاطی تدابیر کا کوئی فائدہ نہیں۔ یہ فطری اصول اپنی جگہ قائم ہے کہ انسان جو کام جس طرح کا کرتا ہے اس کے نتائج اس کے مطابق ظہور پزیر ہوتے ہیں۔

رسول اللہﷺ کے ارشاد گرامی کا مفہوم یہ ہے کہ عزل کوئی ایسی قطعی اور حتمی تدبیر نہیں ہے جس کے اختیار کرنے سے سو فیصد اطمینان ہو کہ اب حمل قرار نہیں پائے گا، کیوں کہ اس میں معمولی سی تاخیر، کوتاہی یا بے احتیاطی حمل ٹھہرنے کا سبب بن سکتی ہے اور اگر کبھی ایسا ہو تو یہ ہر گز نہ سمجھنا کہ عورت وہ حمل کہیں باہر سے لائی ہے مبادا اسے بدکار قرار دے دو بلکہ یہ سوچنا کہ ہزار احتیاط کے باوجود بھی تقدیر میں یہی لکھا تھا جو پورا ہو کر رہا۔

احتیاطی تدابیر پر دوسرا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ یہ ایک جان کا قتل ہے اور قرآ ن حکیم میں آتا ہے:

ولا تقتلوا اولادکم خشیۃ املاق۔(الاسرأ، ۳۱:۱۷)

(افلاس کے ڈر سے اپنے اولاد کو قتل نہ کرو)

امام غزالی اس کے بارے میں لکھتے ہیں کہ قتل کا مفہوم متعین ہے کہ کسی زندہ انسان سے اس کی زندگی چھین لینا۔

احتیاطی تدابیر کے باعث اگر کسی شے کو وجود ہی نہیں ملا تو اس کو قتل کرنے یا اس سے زندگی چھیننے کی تعبیر سرے سے غلط ہے۔ اگر کوئی شخص ساری زندگی نکاح نہیں کرتا اور اسے احتلام ہوتا رہتا ہے تو کیا وہ زندگی بھر انسانوں کے قتل کا مرتکب ہوتا رہا ہے یا جب کسی عورت کو حیض آنا بند ہو جاتا ہے، اس کے بعد میاں بیوی کاباہمی ملاپ قتل کے مترادف سمجھا جائے گا، کیوں کہ اس ملاپ کے نتیجے میں اولاد ہونے کا سرے سے کوئی امکان نہیں ہوتا۔ لھٰذا اہل علم و دانش میں سے کسی نے بھی احتیاطی تدابیر کو قتل اولاد قرار نہیں دیا۔

احتیاطی تدابیر پر تیسرا اعتراض یہ ہے کہ قرآن میں ہے :

وما من دآبۃ فی الارض الا علی اللہ رزقھا۔ (ھود، ۶:۱۱ )

(زمین میں کوئی جاندار ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو)

اس لئے فقر و افلاس کی وجہ سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا درحقیقت اللہ کی رزاقیت کے بارے میں ایمان اور یقین کی کمی ہے۔

لیکن مذکورہ آیت کی یہ تفسیر درست نہیں اس لئے رزق اللہ کے ذمے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ تمام وسائل رزق اللہ نے پیدا کئے ہیں۔ یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کمانا ، غلہ کاشت کرنا اور کھانا تیار کر کے دینا سب اللہ نے اپنے ذمے کر لیا ہے اور انسانوں کا کام صرف کھانا تناول کر لینا ہے۔

الغرض احتیاطی تدابیر کے حرام یا بے فائدہ ہونے کے جتنے دلائل ہیں ان میں کوئی وزن نہیں ہے اور وہ آیات ، احادیث کی غلط تعبیر و توجیہ کا نتیجہ ہیں۔

۲۔ خاندانی منصوبہ بندی کے طریقے استعمال کرنا مطلقاً جائز ہے۔ اس کے دلیل صحیح بخاری حدیث نمبر ۵۲۰۸ ہے جس میں ہے:

کنا نعزل والوحی ینزل

صحابہؓ کہتے ہیں کہ ہم عزل کیا کرتے تھے اور اس زمانے میں قرآن کا نزول جاری تھا، یعنی اگر عزل کرنا ممنوع ہوتا تو قرآن کے ذریعے اس کی ممانعت کر دی جاتی نیز رسول اللہﷺ کو بھی اس کا علم تھا، اگر اس میں گناہ ہوتا تو آپﷺ اس سے منع فرما دیتے یہی وجہ ہے کہ امام بہیقی کی تصریح کے مطابق صحابہ کرام میں سے سعد بن ابی وقاص، ابو ایوب انصاری، زید بن ثابت، حضرت عمر اور حضرت علیؓ اسے جائز قرار دیتے ہیں۔ امام مالک اور امام شافعی کا یہی مذہب ہے۔

۳۔ خاندانی منصوبہ بندی جائز ہے لیکن اس صورت میں جب کہ میاں بیوی دونوں اس کے لئے رضا مند ہوں۔ یہ حنفی علمأ کی رائے ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ چونکہ اولاد کا حصول میاں بیوی دونوں کا برابر حق ہے ، اس لئے کسی ایک فریق کے لئے جائز نہیں کہ وہ دوسرے فریق کی رضا مندی کے بغیر اسے اولاد سے محروم کردے۔

دور حاضر کے مجتہدین نے اسی رائے کو ترجیح دی ہے۔

اسقاط حمل:

خواتین کی تولیدی صحت کے حوالے سے ایک اہم سوال یہ سامنے آتا ہے کہ کیا اسقاط حمل جائز ہے؟ اگر جائز ہے تو کن صورتوں میں اور کن حالات میں؟

اسقاط حمل کے جواز اور عدم جواز کے بارے میں علمأ کی دو مختلف آرأ ہیں۔ جمہور علمأ اور ائمہ کرام کی رائے یہ ہے کہ بلا ضرورت اسقاط حمل جائز نہیں البتہ اگر کوئی ضرورت درپیش ہو تو حمل کے ابتدائی ایک سو بیس دن کے اندر حمل گرانا جائز ہے، اس کے بعد جائز نہیں ہے۔

امام غزالی اور امام ابن تیمیہ کی رائے یہ ہے کہ جب عورت کے رحم میں حمل قرار پا جاتا ہے اسی وقت سے اس میں زندگی ہوتی ہے، کیوں کہ زندگی صرف زندگی سے وجود میں آتی ہے لہٰذا اسے کسی بھی وقت گرانا درست نہیں ہوتا۔

جمہور علمأ کی دلیل یہ ہے کہ اگر چہ حمل میں زندگی کے آثار ابتدا سے ہی ہوتے ہیں لیکن اس میں روح جسے قرآن نے نفخت فیہ من روحی ( میں اس میں اپنی روح پھونک دی، ص ۷۲:۳۸) کہا ہے ایک سو بیس دن پورے ہونے پر پھونکی جاتی ہے۔

حضرت علیؓ سے جب اس مسئلے کے بارے میں استفسار کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ قرآن کی رو سے جب حمل ساتویں مرحلے میں داخل ہو جائے تو اسے گرانا جائز نہیں ہے اور وہ سات مرحلے ان آیات میں ہیں:

ولقد خلقنا الانسان من سلالۃ من طین،ثم جعلناہ نطفۃ فی قرارمکین، ثم خلقناالنطفۃعلقۃ فخلقنا العلقۃ مضغۃ فخلقناالمضغۃ عظاماً فکسوناالعظام لحما ثم انشأ ناہ خلقاً اٰخر (المومنون، ۱۴-۱۲:۲۳)

ا۔ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا

۲۔پھر اسے ایک قطرہ بنا کر مستحکم ٹھکانا دیا

۳۔پھر نطفہ کو جما ہوا خون بنایا

۴۔پھر جمے ہوئے خون کو گوشت کا لوتھڑا بنایا

۵۔پھر گوشت کے لوتھڑے کو ہڈیوں میں ڈھالا

۶۔پھر ہم نے ہڈیوں پر گوشت چڑھایا

۷۔پھر ہم نے اسے ایک اور مخلوق بنا کر پیدا کیا

جب اوپر کے چھ مرحلے مکمل ہو جائیں اور پیٹ کا بچہ ساتویں مرحلہ میں داخل ہو جائے تو اس میں روح پھونک دی جاتی ہے اور اس کے بعد اس کا اسقاط جائز نہیں۔ (غزالی، احیأ علوم الدین، ۵۲:۲ )

دور حاضر میں جدید پیش آمدہ مسائل کو حل کرنے کے لئے عالم اسلام میں کئی مؤثر ادارے قائم کئے گئے ہیں جو دنیا بھر سے اہل علم، سکالرز، اور متعلقہ علوم کے ماہرین کی تحقیقات کی روشنی میں اسلامی آرأ پیش کرتے ہیں۔ چنانچہ عالم عرب کے ایک اسی قسم کے ادارے ‘‘مجمع الفقہ الاسلامی’’ نے سالہا سال کی تحقیقات کے بعد مندرجہ ذیل قرارداد جاری کی:

مجمع الفقہ الاسلامی کویت نے ۱۵-۱۰ دسمبر ۱۹۸۸ کے اجلاس میں خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں درج ذیل قرارداد منظور کی:

مجمع الفقہ الاسلامی نے اپنے ارکان اور ماہرین کی طرف سے پیش کردہ تحقیقات کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ:

اسلامی شریعت میں نکاح کا مقصد یہ ہے کہ نوع انسانی کو تحفظ حاصل رہے اور انسانی نسل برقرار رہے۔ اس مقصد کو نظر انداز کرنا درست نہیں، اس لئے:

۱۔کوئی ایسی قانون سازی درست نہیں جو میاں بیوی کو پابند کر دے کہ وہ اتنی تعداد سے زیادہ بچے پیدا نہیں کر سکتے۔

۲۔کسی مرد یا عورت کو مکمل طور پر بانجھ کردینا تا کہ ان کی اولاد نہ ہو سکے اس وقت تک درست نہیں جب تک کہ اسلامی شریعت کے مقرر کردہ معیار کے مطابق اس کی ضرورت نہ ہو۔

۳۔ عارضی طور پر بچوں کی پیدائش کو اس طرح روک دینا درست ہے کہ حمل کے وقفے طویل ہو جائیں یا وقتی طور پر بچوں کی پیدائش رک جائے بشرطیکہ اس کی کوئی جائز وجہ ہو اور میاں بیوی دونوں اس پر راضی ہوں اور اس کی وجہ سے کسی فریق کو کوئی نقصان نہ ہو اور اس کے لئے اختیار کردہ ذرائع جائز ہوں اور اس کی وجہ سے ماں کے پیٹ میں موجود بچے کو کوئی نقصان نہ ہو۔

سورس

Posted by | View Post | View Group

You might also like More from author

تبصرے

Loading...