خلاصہ قرآن پارہ نمبر 3

سورہ بقرہ میں تیسرا پارہ اس اظہاریے سے شروع ہوتا ہے کہ خدا کے بھیجے ہوئے رسولوں میں سے کچھ کو کچھ پر فضیلت حاصل ہے، ان میں سے بعض نے خدائے پاک کے ساتھ کلام کیا اور بعض کے مرتبے دوسرے امور میں بلند فرمائے گئے۔ ارشاد ہوا کہ اے ایمان والو، جو کچھ ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرو مبادا وہ دن آ جائے جس میں نہ اعمال کا سودا ہو سکے گا اور نہ سفارش اور دوستی کام آئے گی۔

اس کے بعد آیت الکرسی ہے جس میں خدا نے اپنی خاص صفات کو ذکر کیا ہے کہ وہ ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے اور اسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند۔ اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے کہ دین میں کوئی جبر نہیں ہے۔ ہدایت گمراہی سے الگ ہو چکی ہے۔ جو بھی شخص طاغوت کا انکار کرتا اور خدا پر ایمان لے آتا ہے وہ ایک ایسی مضبوط رسی کو تھام لیتا ہے جو کبھی ٹوٹنے والی نہیں۔ جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کا دوست اللہ ہے، کہ اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لے جاتا ہے۔ اور جو کافر ہیں ان کے دوست شیطان ہیں کہ ان کو روشنی سے نکال کر اندھیرے میں لے جاتے ہیں۔

اس پارے میں کئی اہم واقعات بیان ہوئے ہیں۔ پہلا واقعہ حضرت ابراہیم کا حاکمِ وقت کے ساتھ خدا کی قدرتوں کے بارے میں مناظرے کا ہے۔ حضرت ابراہیم نے کہا کہ میرا رب زندہ بھی کرتا ہے اور مارتا بھی ہے۔ جواب میں اس نے کہا کہ میں بھی مارتا ہوں اور زندہ کرتا ہوں۔ یہ کہہ کر اس نے ایک مجرم کو آزاد کر دیا اور ایک بے گناہ کو مروا دیا۔ اس پر حضرت ابراہیم نے کہا کہ میرا رب وہ ہے جو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، پس تم اس کو مغرب سے نکال کر لاؤ۔ یہ مطالبہ سن کر کفر مبہوت رہ گیا۔

اس کے بعد حضرت عزیر اور حضرت ابراہیم کے واقعات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نبیوں کی وساطت سے انسانوں کو یہ بات سمجھاتا ہے کہ اس کے لیے قیامت کے دن مردوں کو زندہ کرنا چنداں مشکل نہیں ہے اور جب وہ قبروں میں پڑے انسانوں کو زندہ ہونے کا حکم دے گا تو مردے بالکل صحیح سالم میں اٹھ کھڑے ہوں گے۔ حضرت عزیر کا واقعہ ہے کہ وہ ایک اجڑی بستی کے پاس سے گزرے اور بولے کہ یہ بستی کیونکر دوبارہ زندہ ہوگی۔ خدا نے عزیر کو سو برس کے لیے سلا دیا اور پھر ان کو دوبارہ زندہ کر دیا اور پوچھا کہ تم کتنا عرصہ مرے یعنی سوئے رہے، تو انھوں نے کہا کہ ایک دن یا اس سے بھی کم۔ ارشاد ہوا کہ نہیں بلکہ سو برس مرے رہے ہو، اور اپنے کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھو کہ اس عرصے میں خراب نہیں ہوئی ہیں اور اپنے گدھے کو دیکھو کہ مرا پڑا ہے۔ یوں اللہ نے ان کو اپنی قدرت دکھائی کہ ان کے مرے ہوئے گدھے کی ہڈیوں کو جوڑا اور ان پر گوشت اور پوست چڑھا دیا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کا واقعہ بیان کیا ہے کہ کس طرح چار مردہ پرندوں کے چار پہاڑوں پر رکھے گوشت کو دوبارہ زندہ پرندوں میں تبدیل کر دیا۔

اس کے بعد انفاق فی سبیل اللہ کی فضیلت کا ذکر ہے کہ خدا اپنے راستے میں خرچ کیے گئے مال کو سات سو گنا کر کے پلٹائے گا اور کئی لوگوں کو اس سے بھی زیادہ بدلہ ملے گا۔ آگے سود کی مذمت کی گئی ہے اور ارشاد ہے کہ جو لوگ سود کھانے سے باز نہیں آتے ان کا اللہ اور اس کے رسول کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔

نیز یہ شاندار سماجی اور معاشی اصول ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اگر قرض لینے والا تنگ دست ہو تو اسے کشائش حاصل ہونے تک مہلت دو۔ ارشاد ہے کہ اگر تم آپس میں کسی معیّن میعاد کے لیے قرض کا معاملہ کرنے لگو تو اس کو لکھ لیا کرو، اور بڑی تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ قرض لینے والا بے عقل یا ضعیف ہو تو لکھنے والا کسی کا نقصان نہ کرے بلکہ انصاف سے لکھے۔ ارشاد ہے کہ ایسے معاملے میں دو مرد گواہ کر لیا کرو، اور اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں، کہ ان میں سے ایک اگر بھول جائے تو دوسری اسے یاد کرا دے۔ یہ نصیحت بھی کی گئی ہے کہ قرض تھوڑا ہو یا بہت، اس کی دستاویز لکھنے لکھانے میں کاہلی نہ کرنا۔

آخرِ سورت میں ارشاد ہے کہ خدا کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ جو اچھا کرے گا فائدہ پائے گا، اور جو برا کرے گا نقصان اٹھائے گا۔

سورہ بقرہ کے بعد سورہ آلِ عمران ہے۔ اس کے شروع میں ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید کو حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے جو کہ سابقہ کتابوں کی تصدیق کرتا ہے اور اس سے قبل اس نے تورات اور انجیل کو نازل فرمایا ہے۔ اس کے بعد ارشاد ہے کہ خدا رحمِ مادر میں انسانوں کو جس طرح کی چاہتا ہے صورت عطا فرما دیتا ہے۔

ارشاد ہے کہ قرآنِ مجید میں دو طرح کی آیات ہیں: محکم اور متشابہات۔ فرمایا کہ محکم آیات کتاب کی اصل ہیں اور متشابہات کی تاویل کا علم صرف اللہ کے پاس ہے۔ جن لوگوں کے دلوں میں مرض ہوتا ہے وہ متشابہات کی تاویل کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں اور اہلِ ایمان کہتے ہیں کہ جو کچھ بھی ہمارے رب نے اتارا ہے ہمارا اس پر کامل ایمان ہے۔

ارشاد ہے کہ اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔ اس لیے جو آخرت کی فلاح و بہبود کا خواہشمند ہو اس کو اسلام کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ ارشاد ہے کہ بادشاہی کا مالک اللہ ہے جو جسے چاہتا ہے بادشاہی عطا فرما دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے بادشاہی چھین لیتا ہے۔ وہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کرے۔ وہی رات کو دن میں داخل کرتا اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ وہی بے جان سے جاندار اور جاندار سے بے جان پیدا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔ ارشاد ہے کہ مومنوں کو چاہیے کہ مومنوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بنائیں۔

اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے جنابِ عمران کی اہلیہ کا ذکر کیا ہے کہ انھوں نے منت مانی کہ وہ اپنے نوزائیدہ بچے کو خدا کے لیے وقف کریں گی لیکن بچے کے بجائے بچی پیدا ہوئی۔ اس خاتون نےاپنی منت کو بچی ہونے کے باوجود پورا کیا اور بچی کا نام مریم رکھ کر آپ کو جنابِ زکریا کی کفالت میں دے دیا۔ بارگاہِ الٰہی سے آپ کے لیے یہ کرامت بھی ظاہر ہوئی کہ آپ کے پاس بے موسم کے پھل آنے لگے۔ حضرت زکریا نے مریم سے پوچھا کہ آپ کے پاس یہ بے موسم پھل کہاں سے آتے ہیں تو انھوں نے کہا کہ اللہ کی طرف سے۔

اس کے بعد جنابِ مریم صدیقہ کے ہاں سیدنا عیسیٰ کی معجزاتی ولادت کا ذکر کیا گیا ہے۔ سیدہ مریم کا دل اس بات کو قبول نہیں کر رہا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو بن شوہر کے ایک بیٹا عطا کیا جو اللہ کے حکم سے کوڑھ اور برص کے مریضوں پر ہاتھ پھیرتا تو وہ شفایاب ہو جاتے۔ حضرت عیسیٰ کی معجزاتی پیدائش کی وجہ سے عیسائی ان کو خدا کا بیٹا قرار دینے لگے۔اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بے شک عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم جیسی ہے جن کو اللہ نے بن باپ اور بن ماں کے مٹی سے پیدا کیا اور کہا ہوجا تو وہ ہوگئے۔

یہودی حضرت عیسیٰ کی جان کے درپے تھے اور ان کے قتل کی چال چل رہے تھے۔ اللہ نے بھی عیسیٰ کو بچانے کے لیے چال چلی اور اللہ بہترین چال چلنے والا ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ اے عیسیٰ، میں تمھیں موت دوں گا اور اپنی طرف اٹھا لوں گا اور کفار آپ کا بال بھی بیکا نہیں کر سکیں گے۔

اس کے بعد ذکر ہے کہ جو لوگ اللہ کے اقراروں اور اپنی قسموں کو بیچ ڈالتے ہیں اور ان کے عوض تھوڑی سی قیمت حاصل کرتے ہیں ان کا آخرت میں کچھ بھی حصہ نہیں۔

اس سورت میں دین فروش علمائے سُوء کا بھی ذکر ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ اہلِ کتاب میں سے بعض ایسے ہیں کہ کتاب یعنی تورات کو زبان مروڑ مروڑ کر پڑھتے ہیں تاکہ تم سمجھو کہ جو کچھ وہ پڑھتے ہیں وہ کتاب میں سے ہے حالانکہ وہ کتاب میں سے نہیں ہوتا، اور وہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے نہیں ہوتا بلکہ یہ لوگ جانتے بوجھتے ہوئے اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں۔

اس کے بعد ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عالمِ ارواح میں انبیا کی روحوں سے اس بات کا عہد لیا تھا کہ اگر ان کی زندگی میں حضرت محمد علیہ السلام آ جائیں تو ان پر ایمان لانا اور ان کی حمایت کرنا گروہِ انبیا پر لازم ہوگا۔ آگے ارشاد ہے کہ کفر پر مرنے والے اگر زمین کی مقدار کے برابر سونا بھی لے کر آئیں تو اللہ تعالیٰ اس سونے کے بدلے انھیں معاف نہیں کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہوگا۔

دعا ہے کہ خدا تعالیٰ ہمیں قرانِ مجید پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین

 
 
Dr. Muhammad Hamidullah
Visit Website of Dr. Muhammad Hamidullah
ماخذ فیس بک

You might also like More from author

تبصرے

Loading...