خواتین اور اعتکاف از قاری حنیف ڈار

خواتین اور اعتکاف

از: قاری حنیف ڈار

خواتین گھر میں اعتکاف کی نیت سے جگہ مختص کر لیں اور گھر کے ضروری کام کر کے متعلقہ جگہ ذکر اذکار اور نوافل و تلاوت کا اہتمام کریں ،، وہ اعتکاف کی حالت میں کھانا وغیرہ بھی پکا سکتی ہیں ویسے بھی بہتر ھے کہ خواتین گھر میں نماز کے لئے جگہ مختص کر لیں ،، صحابیات جگہ مختص کر کے رسول اللہ ﷺ سے وھاں نفل پڑھوا کر اس کو بابرکت بنوا لیتی تھیں اور اسی جگہ کو گھر کی مسجد کہا جاتا تھا ،عربوں میں آج بھی اس کا رواج موجود ھے ، ویسی ہی مسجد میں حضرت ام ورقہ رضی اللہ تعالی عنہا جماعت کراتی تھیں جن کے پیچھے ان کے محرم مرد اور غلام کھڑے ھوتے تھے ،،

امت کے اکثر علمائے سلف ا س بات کے قائل ہیں کہ عورت کا عورتوں کی جماعت کرانا صحیح اور جائز ہے۔ اگرچہ کچھ حضرات نے اس موقف سے اختلاف کیا ہے،تاہم عورت کا جماعت کرانا صحیح احادیث سے ثابت ہے۔محدثین کرام نے اپنی کتب حدیث میں اس کے متعلق باقاعدہ عنوان بھی بیا ن کئے ہیں،چنانچہ ابوداؤد نے ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے کہ ‘‘عورتوں کی امامت کا بیان۔’’پھر اس عنوان کو ثابت کرنے کےلئے شہیدہ فی سبیل اللہ حضرت ام ورقہ بنت عبداللہ ؓ کا واقعہ نقل کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے انہیں فرمایا تھا کہ ‘‘وہ اپنے اہل خانہ کی نماز باجماعت کےلئے امامت کے فرائض سرانجام دے۔’’اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے مولانا شمس الحق عظیم آبادی ؒ لکھتے ہیں کہ اس حدیث سے عورتوں کی امامت اور ان کی نماز باجماعت کے اہتمام کا جوا ز ثابت ہوتا ہے۔(عون المعبود:۲۳۰/۱)
امام بیہقیؒ نے بھی ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے کہ ‘‘عورتوں کی امامت کےاثبات کا بیان۔’’پھر انہوں نے صدیقہ کائنات حضرت عائشہؓ کا واقعہ بیان کیا ہے کہ انہوں نے ایک دفعہ نما زکےلئے عورتوں کے درمیان کھڑے ہوکر ان کی امامت کرائی تھی۔ (بیہقی:۱۳۰/۳)
حضرت ام حسن ؒ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کی زوجہ محترمہ ام سلمہؓ کو عورتوں کی امامت کراتے دیکھا کہ آپ ان کے درمیان کھڑی تھیں۔(مصنف ابن ابی شیبہ:۵۳۶/۱)
حضرت ابن عباس ؓ فرماتےہیں کہ عورت دیگر عورتوں کی جماعت کراسکتی ہے لیکن وہ آگے کھڑے ہونے کے بجائے عورتوں کے درمیان کھڑی ہو۔(مصنف ابن ابی شیبہ:۵۳۶/۱)
تابعین میں سے حضرت حمید بن عبدالرحمن اور امام شعبیؒ کا بھی یہی فتویٰ ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ حوالہ مذکورہ)
ان احادیث و آثار کے پیش نظر عورت دوسری عورتوں کی جماعت کراسکتی ہے لیکن جماعت کراتے وقت اسے عورتوں کے درمیان کھڑے ہونا چاہیے،بعض روایات میں امام شعبیؒ سےمنقول ہے کہ رمضان المبارک میں عورت دوسری عورتوں کو نماز تراویح پڑھا سکتی ہے۔ (واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدی

سورس

Dr. Muhammad Hamidullah
Visit Website of Dr. Muhammad Hamidullah

You might also like More from author

تبصرے

Loading...