زمانہ بہترین استاد ہے ! از قاری حنیف ڈار

زمانہ بہترین استاد ہے !

از قاری حنیف ڈار

لوگ کہتے ہیں کہ تاریخ ھمیشہ اپنے آپ کو دہراتی ھے تا کہ کسی نسل یا جنریشن کو یہ شکایت نہ رھے کہ اس کو تھیوری تو پڑھائی گئ مگر پریکٹیکل نہیں کرایا گیا ـ مشاجرات صحابہؓ یعنی صحابہؓ کے آپس کے جھگڑوں کے بارے میں ملحدین تو سوالات اٹھاتے ھی ہیں خود اپنے بھی انباکس پوچھتے ہیں کہ اتنی بہترین جماعت پہلے بحران میں ھی کیسے فیل ھو گئ اور حکومت کی تبدیلی جیسے معمولی عمل میں کہ جو بعض دفعہ جاپان میں ایک سال میں چار بار بھی دھرایا جاتا ھے ، اپنے وزراءِ اعظم کی لسٹ پڑھیں ایک ایک دو دو سال کے وقفے سے بیچارے آتے جاتے رھے ہیں یہانتک کہ شاستری کو کہنا پڑا کہ میں اتنے پاجامے نہیں بدلتا جتنے پاکستانی وزیر اعظم بدل لیتے ہیں ـ

آج ھماری جنریشن ٹھیک اسی مقام پر کھڑی ھے جہاں صحابہؓ کھڑے تھے ، اپنے یہاں کا بحران دیکھ لیجئے ، عوام و خواص کا رد عمل دیکھ لیجئے ،، بات بھی صرف حکومت کی ھے ،، ابن سبا سمیت تمام کردار موجود ہیں ، میرے ساتھ ۵۰ ھزار سے زیادہ دوست موجود ہیں ، یہی حال دیگر علماء کرام اور بڑے بڑے لکھاریوں کا بھی ھے مگر جو دوست دین اور ایمان کے معاملے میں آنکھیں بند کر کے ھماری بات مان لیتے ہیں وھی دوست سیاست کے معاملے میں ھمیں گمراہ سمجھتے ہیں ،، جو اپنی آخرت کے بارے میں ھم پر اعتماد کرتے ہیں وھی سیاست کے معاملے میں ھم پر شک کرتے ہیں جھگڑتے ہیں ، بحث مباحثہ ھوتا ھے اور ان فرینڈ بھی ھوتے ہیں اور بلاک بھی ھوتے ہیں ،، کیا یہی کچھ صحابہؓ میں بھی نہیں ھوا تھا ؟ جو نماز حضرت علیؓ کے پیچھے پڑھتے تھے وہ سیاست میں حضرت علیؓ کی رائے کو درست نہیں سمجھتے تھے ، جو بذات خود حضرت عثمانؓ کے فضائل کے گن گاتے تھے ان کی انتظامی تقرریوں پر چیں بچیں تھے ـ
حضرت علیؓ کو خلیفہ برحق ماننے کے باوجود ان کے فوری فیصلوں پر معترض تھے اور ان کے پاس اس کے مضبوط دلائل بھی تھے ، جس طرح پی ٹی آئی والے اپنے لیڈر کو نہایت خلوص کے ساتھ معصوم سمجھتے ہیں ، جس طرح ایک خبر پر گرم جوش دوست ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ھو جاتے ہیں ، جس طرح اپنا ھر مخالف لفافہ صحافی اور بکاؤ مولوی لگتا ھے اسی طرح کی کییفت وھاں بھی تھی اور جو کچھ تاریخ میں لکھا گیا ھے کہ فلاں حکمران نے فلاں کو اتنے دیئے اور فلاں کو اتنے دیئے وہ بھی سب جیو اور اے آر وائی کی بریکنگ نیوز سے زیادہ کچھ بھی نہیں جس کو ھم قرآن سمجھ کر پڑھتے اور صحابہؓ پر انگلیاں اٹھاتے ہیں ، جن خبروں کو آج مسلم لیگ والے اور پی ٹی آئی والے پرکاہ کے برابر سمجھتے ہیں آنے والے وقتوں میں وھی بغدادی قاعدے کی طرح پڑھی جائیں گی ،، صحابہؓ بھی انسان تھے ، ھم جس طرح فورا چینل تبدیل کر کے تصویر کا دوسرا رخ دیکھ سکتے ہیں صحابہؓ کو یہ سہولت دستیاب نہیں تھی ، ان میں سے ھر ایک بس ایک ھی چینل کی خبر کو سچ سمجھ کر اس پر ڈٹ جاتا تھا ،، اور اسی کو حق سمجھ کر جان لڑا دیتا تھا ،

جس طرح ھم یہ کہتے ہیں کہ میاں میں خرابیاں بھی ھونگی مگر جمہوریت کے تسلسل اور بیرون ملک پاکستان کے وقار نیز معاشی ترقی کے لئے اس کا رھنا ضروری ھے ،، اور آپ لوگ کہتے ہیں کہ ملک کی کوئی بات نہیں بس اس کو جانا ھی جانا ھے یہی کچھ وھاں بھی تھا کہ اگرچہ کچھ شکایات بھی ہیں اور ان میں سے کچھ سچی بھی ہیں مگر اسلامی ریاست کو مدینے سے نکال کر یورپ تک اور افریقہ سے برصغیر اور سنٹرل ایشیا تک یہی لوگ لے کر گئے ہیں ، اگر ان کو چھیڑا گیا تو مسلمان آپس میں ھی الجھ کر رہ جائیں گے ،، اور وھی سب کچھ ھوا ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور میں ایک گز زمین بھی کافروں سے واگزار نہ کرائی جا سکی اور نہ ھی کافروں سے کوئی معرکہ درپیش ھوا ، ساری جنگیں آپس میں ھی لڑی گئیں اور بنو امیہ اور بنو عباس نے اپنے بہترین جرنیل جنہوں نے پوری دنیا فتح کر کے دی ،، محمد بن قاسم ، موسی بن نصیر ، طارق بن زیاد خود اپنے ہاتھوں سیاسی بنیادوں پر قتل کر دیئے ،، یہی کچھ ھوتا آیا ھے جو اب ھو رھا ھے اب ھلاک کی بجائے ھمارے پاس بلاک کا آپشن ھے جسے ھم بڑے مخلص دوستوں کے خلاف بھی استعمال کرنے پر مجبور ھو جاتے ہیں ، دھند ھی دھند ھے اور کنفیوژن ھی کنفیوژن ہے ، ابن سبا کی داتسانیں ھیں ججز اور جرنیلوں کی سازشیں ہیں ، الغرض ،،

آگ ہے ، اولادِ ابراھیم ہے، نمرود ہے !
کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ھے !

والی کیفیت بن گئ ھے ،، قرآن و سنت آج بھی موجود ھے اور اس پر ماپنے والے پیمانے بھی دستیاب ہیں مگر ھم میں سے ھر ایک جو ڈسکاؤنٹ اپنے ممدوح سیاستدان کو دیتا ھے وہ دوسرے کے ممدوح کو دینے کو تیار نہیں ، بعض دفعہ بےقصور ھوتے ھوئے بھی ایک خانوادے کا چہرہ دیکھ دیکھ کر طبیعت تنگ آ جاتی ھے اور بلاوجہ اس کو ہٹا دینے کی ضد کرتی ھے ، یہی انسانی فطرت جوھر زمانے میں رھی ھے اور قیامت تک رھے گی ،، یہی کچھ پیچھے بھی ھوا ھے ھم ان کی فتوحات دکھا کر ان کے اقتدار کو جواز بخشتے ہیں جبکہ اس وقت کے لوگ ان چہروں کو تبدیل کرنے کی قسم کھائے بیٹھے تھے ،جمہوریت نے کچھ نہیں کیا بس چہرے بدلنے کا نظام دے کر انسان کی فطرت کی تسکین کا سامان کر دیا ھے جہاں اس اصول پر عمل ھو رھا ھے وھاں جمہوریت بھی چل رھی ھے ، لوگ بھی مطمئن ہیں جہاں جمہوریت کے اس اصول کو پامال کر کے مصنوعی طریقوں سے کچھ چہروں کو نسلوں تک مسلط کرنے کی کوشش کی گئ وھیں انارکی پھیلی اور معاشرے میں ٹکراؤ پیدا ھوا ، کسی کا تقدس اس فطرت سے نہیں لڑ سکتا !!

سورس

Dr. Muhammad Hamidullah
Visit Website of Dr. Muhammad Hamidullah

You might also like More from author

تبصرے

Loading...