سات قرأتیں اور راویوں کی وارداتیں تحریر قاری حنیف ڈار

سات قرأتیں اور راویوں کی وارداتیں

تحریر: قاری حنیف ڈار

سات قرأتوں کا فسانہ تو آپ سب نے سنا ھو گا ، اب تو لوگوں نے اس فسانے کو ایمانیات میں داخل کر دیا ھے اور یوں نام لے کر فتوی دیتے ھیں کہ فلاں سات قرأتوں کو نہیں مانتا حالانکہ امت کا اس پر ” اجماع ” ھے – آج ھم اس ڈھول کا پول بھی کھولے دیتے ھیں کہ اللہ جل جلالہ اور اس کے رسول ﷺ پر کس طرح بہتان باندھا گیا ، قرآن کریم کی حقانیت پر کس طرح وار کیا گیا اور یہ وار اسلامی لٹریچر کے فور سٹار جرنیلوں نے کیا ، اگرچہ کسی کے نزدیک قرآن معجزہ نہ ھو مگر میرے نزدیک قرآن کا سب سے بڑا معجزہ یہ ھے کہ اتنے بڑے بڑے اور انتہائی کاری وار ھونے کے باوجود امت اس پر مجتمع ھے اور حاسدین اسلام کے تمام عزائم خاک میں مل گئے ھیں ، شاید یہ بات مسلمان کے جینز میں ھے کہ وہ ایک قرآن کے سوا کسی اور قسم کے قرآن کا وجود برداشت نہیں کرتا – شیعوں کے خلاف سب سے نفرت انگیز الزام یہ ھے کہ وہ اس قرآن کو مکمل نہیں سمجھتے – مگر آج یہ بات بھی واضح ھو جائے گی کہ اھل سنت کے سرخیل بھی یہی عقیدہ رکھتے ھیں ، شیعہ اگر یہ بات کہتا بھی ھو گا تو اس کا سورس لازماً ھم اھل سنت کی معتبر کتابیں ھیں –

اس مضمون میں جب میں حدیث میں آنے والے الفاظ اور ان کی روشنی میں اس کے مضمرات پر بات کرونگا تو برائے مہربانی اس میں ( بقول ان کے ) شامل سمجھئے گا ، کہیں مجھے اس حدیث کو ماننے والا مت سمجھ لیجئے گا ،،

یہ حدیث تقریباً حدیث کے تمام مجموعوں میں وارد ھوئی ھے ، حدیث کے آخر میں ” عن عمؓر” یا ” عن ابئ ابن کعؓب ” یا ” عن عائشہؓ لکھا دیکھ کر ھپناٹائز مت ھو جایا کیجئے ، ان حضرات کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں ھو گی کہ ان سے کیا کچھ منسوب کر دیا گیا ھے ، وہ جو سند کے پہلے پانچ چھ سانپ اور اژدھے ھوتے ھیں ان کو ذھن میں رکھئے – جن میں سب سے بڑا اور تمام محدثین کا شیخ ” ابن شہاب زھری شامی باشندہ ھے ،

حدیث کچھ یوں ھے کہ حضرت عمرؓ فرماتے ھیں کہ ھشام ابن حکیم ابن حزام رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رھے تھے مگر وہ سورہ الفرقان میں وہ آیات پڑھ رھے تھے جو کہ مجھے اللہ کے رسول ﷺ نے نہیں پڑھائی تھیں ، میرا جی چاھا کہ میں اس پر پل پڑوں مگر میں نے صبر سے کام لیا اور نماز ختم ھوتے ھی اس کی چادر اسی کے گلے میں ڈالی اور کھینچتا ھوا رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آیا – اللہ کے رسولﷺ کو ماجرا بتایا کہ یہ اس طرح فرقان پڑھ رھا ھے جیسے آپ نے مجھے نہیں پڑھایا – تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کو چھوڑ دو اور پھر اس سے سورہ فرقان سنی اور فرمایا کہ اسی طرح نازل ھوا ھے ، پھر مجھے حکم دیا کہ تم سناؤ ، میں نے جب سنائی تو فرمایا کہ ھاں اسی طرح نازل ھوا ھے، پھر آپ نے فرمایا کہ میں اللہ سے اپنی امت کے لئے آسانی مانگتا رھا اور مجھے سات حروف پر قرآن پڑھنے کی اجازت دی گئ ،،،

اب یہ سات حروف کیا ھیں کونسے ھیں اور سورہ الفرقان میں کہاں واقع ھیں آج تک امت فیصلہ نہیں کر سکی ، ادھر ادھر کی سب نے ھانکی ھیں اور چالیس قول ھیں مگر نتیجہ کسی نے نہیں نکالا ،آخر بے بس ھو کر کہتے ھیں کہ حدیث تو سند کے لحاظ سے صحیح ھے مگر اس کی سمجھ کسی کو نہیں یہ متشابہات میں سے ھے ،،

یہ جو سات لہجوں کی بات کرتے ھیں اس بات کا جواب نہیں دے پاتے کہ حضرت عمرؓ اور ھشام بن حکیمؓ دونوں مکی ھیں اور دونوں قریشی ھیں اور قرآن قریش کی زبان میں نازل ھوا ھے چونکہ اللہ نے خود قرآن میں اس کی صراحت فرمائی ھے کہ ھر قوم میں نبی اس قوم کی زبان میں بھیجا گیا ھے لہذا ظاھر ھے وحی بھی اسی قوم کی زبان میں کی جاتی ھے تا کہ وہ ان کی سمجھ میں خوب لگے-

(( وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ ۖ فَيُضِلُّ اللَّهُ مَن يَشَاءُ وَيَهْدِي مَن يَشَاءُ ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (4) ))

پھر سورہ فرقان کو پڑھنے میں دونوں قریشیوں کے لہجے اور تلفظ میں کونسا ایسا جوھری فرق تھا کہ ایک نے دوسرے کے گلے میں کپڑا ڈال لیا ،، ظاھر ھے معاملہ لہجے کا نہیں تھا ، ان آیات کا تھا جو اضافی پڑھی جا رھی تھیں جو حضرت عمر کو یاد نہیں تھیں ، اور ایسا بھی نہیں کہ سورت ابھی انڈرپراسیس تھی ، نازل ھو رھی تھی ،، یہ سورت پندرہ سال پرانی تھی اور مکے میں نازل ھو چکی تھی ، آج اس کے لہجے اور تلفظ میں کونسا مسئلہ پیدا ھو گیا تھا ؟ سامنے نظر آ رھا ھے کہ راوی یہ جتانا چاھتا ھے کہ خود نبئ کریم ﷺ کو یہ یاد نہیں رھتا تھا کہ کس کو کیا لکھا دیا ھے ، گویا یہ خود نبئ کریم ﷺ کی بنائی ھوئی سورت تھی ، اللہ کا کلام نہیں تھا اور جب آپ ﷺ رنگے ہاتھوں پکڑے گئے تو سات حروف کا وہ فسانہ گھڑ لیا جس پر خود سننے والے نے یقین نہ کیا ،( معاذ اللہ ثمہ معاذ اللہ ) اور امت آج تک ٹرک کی اس بتی کے پیچھے لگی ھوئی ھے کہ بھلا وہ کونسے سات حرف تھے جو مکی اور قریشی دو مسلمان ھی نہیں سمجھ سکے جو کہ نبئ کریم ﷺ کے کلوز صحابیؓ تھے ،، ظاھر یہ بات ملحدین کے ہاتھ میں ایک قوی دلیل ھے قرآن کے خلاف جس کا کوئی جواب اس مسلمان امت کے پاس نہیں ھے سوائے 40 قسم کی کہانیوں کے ،، اگر کوئی جواب ھے تو وہ خود یہ قرآن ھے جو سینہ تان کر کھڑا ھے کہ میں اسی طرح ایک ھوں ،یک رنگ اور یک تلاوت ھوں جس طرح لوح محفوظ پر محفوظ ھوں اگر کسی کو شک ھے تو دوسرا قرآن لا کر دکھا دے –

اب اگلی حدیث دیکھئے ،، ظالموں نے قرآن ہاتھ بھی ڈالا ھے تو قرآن کے دو ماھر صحابہؓ یعنی عمر فاروقؓ اور ابئی ابن کعبؓ کے ذریعے ،، ابئ ابن کعب فرماتے ھیں کہ میں مسجد میں بیٹھا تھا کہ ایک آدمی آیا اور اس نے ایک سورت پڑھنی شروع کی جس کو میں نہیں پہچانتا تھا پھر ایک دوسرا آیا اور اس نے اس سورت کو دوسرے طریقے سے پڑھا ، آپس میں مجادلے کے بعد یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ھوئے ، اور واقعہ بیان کیا ، جس پر اللہ کے رسول ﷺ نے ان سے کہا کہ پڑھو ، پھر سن کر فرمایا کہ تم دونوں نے ٹھیک پڑھی ھے ، جس پر میرے دل میں وہ تکذیب پیدا ھوئی جو زمانہ جاھلیت میں بھی نہیں تھی ، دوسری روایت میں فرمایا کہ میرے دل میں وہ اندھیرا پیدا ھوا جو جاھلیت میں بھی نہیں تھا ، تیسری روایت میں فرماتے ھیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ایک کوفرمایا کہ احسنت اور دوسرے کو بھی فرمایا کہ احسنت ، یہ سن کر میں نے اپنے ہاتھ سے دونوں طرف اشارہ کر کے تعجب سے کہا کہ ” احسنت و احسنت” بھلا یہ کیسے ھو گیا کہ یہ دوسری طرح پڑھ رھا ھے اور وہ بھی ٹھیک ھے جبکہ دوسرا کچھ اور پڑھ رھا ھے اور وہ بھی ٹھیک ھے ؟ ابئ ابن کعب رسول اللہ ﷺ کے اس جواز پر مطمئن نہیں ھوئے کہ تو نے بھی اچھا پڑھا ھے اور اس نے بھی اچھا پڑھا ھے ، وہ فرماتے ھیں کہ میرے دل میں نبئ کریم ﷺ کی وہ تکذیب پیدا ھوئی جو زمانہ کفر میں بھی نہیں تھی ، آپ نے میرے چہرے سے میری کیفیت کو بھانپ لیا اور زور سے میرے سینے پر ہاتھ مارا جس کی دھشت سے میں پانی پانی ھو گیا اور مجھے یوں لگا جیسے میں خدا کے سامنے کھڑا ھوا اس کو دیکھ رھا ھوں ،،،

( مسند احمد ،مسند ابئ بن کعبؓ جلد 7- ص- 101- 107- 111)

آگے چلنے سے پہلے ذرا دیکھ لیجئے کہ راوی آپ کو کیا پیغام دے رھا ھے ، جس واقعے کو نبئ کریم ﷺ کے سامنے دو زانو بیٹھ کر بیعت کرنے والے اور نبئ کریم ﷺ کے دائیں بائیں اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے اور نبئ کریم ﷺ کے پیچھے کھڑے ھو کر نماز پڑھنے والے دو جید صحابہؓ کا ایمان ھضم نہیں کر سکا اور وہ خود حضورﷺ کی رسالت اور قرآن کی حقانیت کے بارے میں شش و پنج میں مبتلا ھو گئے ، اس واقعے کی بنیاد پر صدیوں بعد کا ایک کمزور ایمان والا ایمان گنوا دے تو اس کا کیا قصور ھے ؟ واقعہ تو ایمان چُوس ثابت ھو گیا ، ان کے سینے پر تو ہاتھ مار کر رسول اللہ ﷺ نے شیطان کو بھگا دیا ،ھمارے سینوں کا کیا بنے گا ؟

جناب یہ وہ سات حروف ھیں جن کا آج تک کسی کو پتہ نہیں چلا ، سات لہجوں کی بات کوئی کم عقل ھی کر سکتا ھے، ایک ان پڑھ کو بھی پتہ چل جاتا ھے کہ ” دے خو راشہ” دلے راشہ ” اور دلتہ راشہ ” ایک ھی بات ھے بلکہ اسے اس سے پتہ چل جاتا ھے بولنے والا مردان کا ھے یا پشاور کا ، اسی طرح پیخاور اور پیشاور کا فرق ھے ،، لہجوں کی بات کی جائے تو سارے عرب ممالک کے عربی لہجوں میں فرق ھے ، عمانی ، سعودی اماراتی ، عراقی ،شامی ، لبنانی فسلطینی ،مصری جزائری اور موریتانی اور سوڈانی سب کا لہجہ الگ ھے مگر قرآن سب ایک جیسا پڑھتے ھیں ،، مصری جیم کو گَیم بولتے ھیں ،جنۃ کو گنۃ کہتے ھیں مگر یہ قرآن میں یہی جنۃ پڑھتے ھیں تو کبھی ” گیم کے ساتھ اس کو گنہ ” نہیں پڑھتے ،
اللہ اور رسول ﷺ پر بہتان ھے یہ کہ جن حروف کو اللہ کے رسول ﷺ امت کی آسانی کے نام پر بار بار تکرار کر کے مانگتے رھے اور اللہ پاک بھی اس کو قبول کر کے زیادہ حروف میں نازل کرتا رھا وہ چند سال بعد ھی الٹا نقصان دہ ثابت ھوا اور امت ایک دوسرے سے لڑنے لگ گئ یوں جو سہولت نبئ کریم ﷺ نے اصرار سے مانگی اور خدا نے بھی تسلیم کر کے نازل کر دی وہ الٹا عذاب ثابت ھوئی اور خود امتیوں کو اٹھ کر نبی کریم ﷺ کا منہ مانگا اور خدا کا نازل کردہ منسوخ کرنا پڑا ؟؟؟ حکمت والا خدا ھے یا عثمان غنیؓ نے جنہوں نے بقول ان کے ان سات قرأتوں کو منسوخ کر کے قریش کی زبان میں قرآن لکھوایا ؟ توھین مذھب کا اطلاق یہاں ھوتا ھے ،، کیا کسی کو خدا کے نازال کردہ کو منسوخ کرنے کا حق دیا جا سکتا ھے ؟ یہ ھیں الف لیلہ کے وہ قصے جن کا نہ سر ھے نہ پیر ،مگر ان کو ایمان کا حصہ بنا دیا گیا ھے ،،

انہی سبع حروف کے پس منظر میں صحابہ کو قرآن کی تالیف کا کریڈٹ دیا جاتا ھے کہ انہوں نے پھر قرآن نئے سرے سے قریش کی زبان میں لکھوایا ( جبکہ قرآن خود قرآن کی گواھی کے ساتھ الحمد للہ شروع سے ھی قریش کی زبان میں مدون کیا گیا تھا ، اور جو قرآن ھمارے ہاتھ میں ھے یہ وھی نبئ کریم ﷺ کا مودون کرایا ھوا لوح محفوظ والا قرآن ھے ) اگر یہ خلفائے راشدین والا ھے اور نبئ کریم ﷺ کوئی اور قسم کا قرآن چھوڑ کر گئے تھے تو کیا نبئ کریم ﷺ کے قرآن اور لوح محفوظ کے قرآن میں فرق و تضاد تھا ؟ اور کیا عثمان غنیؓ کی تصحیح کے بعد اللہ پاک نے بھی لوح محفوظ والے قرآن میں رد و بدل کیا ھو گا ؟ کیونکہ اللہ پاک تو گواھی دے رھا ھے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کا دیا ھوا قرآن وھی لوح محفوظ والا قرآن ھے ،، بل ھو قرآن مجید ، فی لوحٍ محفوظ “( البروج ) انہ لقرآن کریم ، فی کتابٍ مکنون ( واقعہ)

مولانا سلیم اللہ خان صاحب اپنی تصنیف کشف الباری عما فی صحیح البخاری کتاب فضائل القرآن میں لکھتے ھیں کہ لوگ حضرت عثمان ؓ کے زمانے تک غیر حتمی قرآن پڑھتے رھے ، انا للہ و انا الیہ راجعون ،، پھر لکھتے ھیں کہ اس ( غیر حتمی ) قرآن میں بہت ساری منسوخ آیتیں بھی شامل تھیں ، جنہیں مصحفِ عثمانی میں نکال کر اس کو حتمی شکل دی گئ –

قرآن کی تدوین کا بہترین موقع رسول کی موجودگی میں ھی ھوتا ھے جن سے ھر چیز کی تصدیق کرائی جا سکتی ھے اور اس کے لئے کسی مزید گواہ کی ضرورت بھی نہیں ھوتی اور پھر خدائی ترتیب وھی کہلا سکتی ھے جو رسول کی موجودگی میں اختیار کی جائے ،مگر اعلی حضرت اس کو بالکل برعکس بیان فرما رھے ھیں کہ رسول اللہ کی موجودگی میں قرآن کو مرتب کرنا اس لئے نامناسب تھا کہ ابھی قرآن نازل ھو رھا تھا اور آیات منسوخ کی جا رھی تھیں لہذا قرآن مرتب کرنا ممکن نہیں تھا ،، جب رسول اللہ ﷺ کا وصال ھو گیا اور قرآن کا نزول رک گیا تو اب قرآن کو حتمی طور پر ترتیب دینا آسان ھو گیا ،، فرماتے ھیں کہ ابوبکر صدیقؓ نے قرآن اکٹھا کر دیا تھا مگر سورتیں ترتیب سے نہیں رکھی تھیں ، حضرت عثمان نے سورتوں کو ترتیب میں جمع کیا ،، گویا یہ الزام سچ ثابت ھو گیا کہ عملی طور پر 22 ، 23 سال تک مسلمان اپنا اپنا من پسند قرآن ھی پڑھتے رھے –

اب اگر شیعہ کہے کہ علیؓ کا قرآن الگ تھا تو وہ کافر اور جب آپ کہیں کہ صدیق کا قرآن الگ تھا عمرؓ کا الگ تھا اور عثمان والا ایک نئ چیز تھا تو آپ پکے ٹھکے مسلمان –

اب یہ منسوخ آیات نکالے جانے کی داستان بھی سن لیں ،، مولانا سلیم اللہ خان صاحب کے نزدیک صدیقی قرآن میں منسوخ آیات بھی شامل تھیں ،عثمانی دور میں منسوخ التلاوت آیات کو نکالے جانے کا اھتمام کیا گیا ،، اور اندازہ کریں کہ کس بےدردی سے نکالا گیا ،،
( ( اس وضاحت کے ساتھ کے میں نبئ کریم ﷺ پر 233 سالوں میں نازل ھونے والے ایک ایک حرف کو اس کی مد اور شد کے ساتھ اس قرآن کا حصہ سمجھتا ھوں ،جو وحی تھا وہ اس قرآن میں موجود ھے اگرچہ حکم تبدیل ھو گیا تب بھی پچھلے حکم کو اس قرآن میں محفوظ رکھا گیا ، اور جو اس قرآن میں موجود نہیں ھے وہ کبھی بھی قرآن تھا ھی نہیں ،صرف قصے کہانیاں ھیں ))

مسند احمد کی روایت میں زر بن حبیش کہتے ھیں کہ مجھے ابئ ابن کعب نے پوچھا کہ تم سورہ الاحزاب کتنی آیت میں پڑھتے ھو ؟ میں نے کہا کہ 73 آیتیں ،، انہوں نے کہا ” باااااس” اتنی سی ،، ایک وقت تھا کہ یہ سورت سورہ البقرہ ( 286 آیات) کے برابر تھی جس میں یہ آیت بھی موجود تھی کہ ” الشیخ والشیخۃ اذا زنیا فأرجموھما البتہ نکالاً من اللہ ، واللہ عزیز حکیم ) گویا 286 میں سے 73 نکالیئے تو 213 آیتیں غائب ھیں ، قرآن میں احکامات منسوخ ھونے کا یہ حشر بھی نہیں تھا جتنی اندھیر نگری ان راویوں نے مچا رکھی ھے – اب اگر یہی بات شیعہ کہیں کہ اھل بیت سے متعلق جو آیات تھیں وہ نکال دی گئ ھیں تو آپ اس کا انکار کیسے کر سکتے ھیں جبکہ آپ اعتراف فرما رھے کہ عثمان غنی نے منسوخ آیات کو نکال کر قرآن کو حتمی شکل دی تھی ؟ پھر اس الشیخ والی آیت کے بھی دیکھ لیجئے کتنے ورژن ھیں ،، عمر فاروقؓ سے بھی اس روایت کو بیان کیا گیا ھے کہ اگر لوگ یہ نہ کہیں کہ عمر نے قرآن میں اضافہ کر دیا ھے تو میں اس آیت کو قرآن میں داخل کر دوں ( مگر داخل اس لئے نہیں کر سکے کیونکہ یہ کبھی قرآن تھی ھی نہیں )

سورس

Dr. Muhammad Hamidullah
Visit Website of Dr. Muhammad Hamidullah

You might also like More from author

تبصرے

Loading...