سنت وحدیث کافرق وامتیاز اور ان کا حقیقی مقام:ایک تنقیدی جاٸزہ تحریر:ڈاکٹر خضریاسین

سنت وحدیث کافرق وامتیاز اور ان کا حقیقی مقام:ایک تنقیدی جاٸزہ
تحریر:ڈاکٹر خضریاسین
محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ھم تک انسانوں نے پہنچائی ھے ۔ماضی کی خبریں حال تک دو ذرائع سے پہنچتی ہیں۔ ایک ذریعہ “تہذیب” ھوتی ھے اور دوسرا ذریعہ “فرد” ھوتا ھے۔ جن اخبار، اعمال کے انتقال کا وسیلہ medium of transmission “تہذیب” ھوتی ھے، اسے “تہذیبی روایت” cultural tradition کہا جاتا ھے اور جن اخبار و اعمال کے انتقال کا وسیلہ “فرد” ھوتا ھے، اسے “شخصی روایت” individual report کہا جاتا ھے۔ مسلمانوں کی علمی روایت میں “تہذیبی روایت” کو “نقل الكافة عن الكافة” اور “شخصی روایت” کو “نقل الفرد المشخص عن الفرد المشخص” کہا گیا ھے۔
“تہذیبی روایت” کا راوی متعین و مشخص فرد particular and identified narrator نہیں ھوتا بلکہ خود تہذیب cultural itself اس کی راوی ھوتی ھے۔ تہذیبی مرویات کے لئے کسی متعین و مشخص راوی کی طرف اشارہ کرتے ھوئے آپ نہیں کہہ سکتے؛ اس آدمی نے یہ کہا ھے یا یہ کیا ھے۔ “تہذیب خود” اس کی راوی ھوتی ھے اور “تہذیبی وجود” اس کا مدار اعتبار ھوتا ھے۔ صرف اس تہذیب کی طرف اشارہ کرتے ھوئے آپ کہہ سکتے ہیں؛ اس تہذیب میں یہ کہا جاتا ھے اور یہ کیا جاتا ھے۔ گویا “تہذیبی روایت” تہذیبوں میں ہر تہذیب کی شناخت ھوتی ھے۔
“تہذیبی روایت” کے برعکس “شخصی روایت” آتی ھے۔ “شخصی روایت” کا راوی متعین و مشخص فرد ھوتا ھے۔ جس روایت کا راوی متعین و مشخص فرد نہ ھو، علم الروایة میں “روایت” کا درجہ اسے کبھی نہیں دیا جاتا۔ شخصی روایت کا راوی ہی متعین و مشخص نہیں ھوتا بلکہ اس کا راوی اس روایت کے مستند ھونے کا واحد ذریعہ بھی ھوتا ھے۔ مسلمانوں کی علمی روایت میں “کتاب و سنت” تہذیبی روایت ہیں اور حدیث “شخصی روایت ہے۔حدیث متعین و مشخص راوی کی روایت ہے۔
حدیث جو کہ شخصی روایات ہیں کے برعکس”سنت” اسلام اور مسلمانوں کی “تہذیبی ثقافت” ھے۔ ثقافت کی نسبت جس طرح زبان، علاقے، قبیلے اور مذھب کی طرف ھوتی ھے مثلا علاقائی ثقافت، قبائلی ثقافت، مذھبی ثقافت، اسی طرح “تہذیب” کی طرف ھوتی ھے یعنی کہا جائے گا یہ “تہذیبی ثقافت” ھے۔ اگر مختلف تہذیبوں کا آپ مشاھدہ نہیں رکھتے یا مشاھدہ ھے مگر تقابل کے شعور سے آپ عاری ھیں تو ھم آپ کو نہیں سمجھا سکتے کہ “سنت” اسلام اور مسلمانوں کی “تہذیبی ثقافت” کیونکر ھے؟
“سنت” مسلمانوں کے “تہذیبی وجود” کی ضامن بھی ھے اور ضمانت بھی ھے۔ “سنت” اگر محو ھو جائے تو مسلمانوں کا وجود دنیا کے منظر نامے سے غائب ھو جائے۔
جب ایک مسلمان یہ سوال کرتا ھے؛
“سنت” کہاں ھے؟ “سنت” کہاں سے ملے گی؟ تو یقین مانیئے میں خود کو بالکل لاچار اور بے بس پاتا ھوں ۔کیاامت کی پندرہ سو سال کی تاریخ کسی کو نظر نہیں آرہی؟۔سنت امت کے تواترعملی سے منتقل ہوتی آٸ ہے۔حدیث کو اشخاص نے روایت کیا ہے جبکہ سنت کو امت نے من حیث الامت منتقل کیا ہے۔سنت اللہ تعالیٰ نے ملت ابراہیم کی متابعت میں نازل کیا ہے۔
یہ بھی یاد رکھیۓ کہ “سنت” کا فقہی مدلول significant اور ھے اور دینی مدلول اور ھے۔ روایتی علماء “سنت” کا لفظ جب بولتے ہیں تو ان کی مراد منزل من اللہ عمل نہیں ھوتا ۔ روایتی علماء کے نزدیک “سنت” فرض اور واجب سے کم تر درجے کا عمل ھے جو مستحب اور مباح سے درجے کے اعتبار سے بڑا ھیں۔
فقہ میں اعمال کی جو درجہ بندی کی گئی ھے اس کی رو سے سب سے زیادہ ضروری فرض ھے اس سے کم واجب ھے۔ “سنت” وہ عمل ھے جو اوپر والی دونوں کیٹیگریز یعنی فرض اور واجب سے کم اور نیچے کی دونوں کیٹیگری مستحب و مباح سے افضل درجے کا عمل ھے۔
یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاھیے کہ روایتی علماء کے ہاں “سنت” رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر واجب الایمان و العمل “منزل عمل” کا نام نہیں ھے، فرض اور واجب سے کم درجے کے عمل کا نام ھے۔
“سنت” کا دینی مدلول وہ ہرگز نہیں جو روایتی علماء میں متعارف و مروج ھے۔ “سنت” کا دینی مفہوم الأمة من حيث الأمة کا مجمع علیہ ھے۔ ہر وہ فعل جس کا مبداء و معاد رسول اللہ علیہ السلام کی “نبوت” یا تنزیل ھے، “سنت” کہلاتا ھے۔ آپ کہیں یہ کام “سنت” ھے، مسلمان بلاتردد سمجھے لے گا کہ یہ رسول اللہ علیہ السلام کی نبوت کے محتویات میں شامل ھے۔ “سنت” کا مبداء و معاد رسالت مآب علیہ السلام کی نبوت ھے اور الأمة من حيث الأمة کا مجمع علیہ ھے۔ “سنت” کا مبداء و معاد آپ علیہ السلام کی “نبوت” سے قبل ممکن ھے اور نہ بعد میں کسی عمل کو “سنت” بنانا ممکن ھے۔
“سنت” کا دینی مفہوم رخصت کا نہیں ھے جیسا کہ فقہی علماء نے بنا رکھا ھے۔ “سنت” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر واجب الایمان و العمل ھے اور امت پر آپ علیہ السلام کی اطاعت و اتباع میں واجب الایمان و العمل ھے۔
تہذیبی اور شخصی روایت میں ایک اور فرق ان کی تشکیل اور مراحل تشکیل پر واضح ھوتا ھے۔ مسلم امت کے تناظر میں صورت حال کا جائزہ لیں تو معلوم ھو گا؛ “منزل قول و عمل” پہلے ہی مرحلے میں تہذیبی روایت ھوتا ھے پھر مروج، متواتر اور متعمل ھو جاتا ھے اور پوری تہذیب کی شناخت بن جاتا ھے، جیسے “کتاب و سنت” ھے۔ نزول وحی کے ساتھ ہی پوری مسلم امت (جو ابتدائی دور میں چند، پھر چند سو افراد پر مشتمل ایک برادری community کی شکل میں رونما ھوئی تھی) ان کی حامل و عامل تھی اور ان میں کسی ایک جز کا مدار اعتبار کوئی متعین و مشخص فرد نہیں تھا سوائے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اس منصب پر دوسرا کوئی کبھی فائز نہیں رھا اور نہ ھو سکتا ھے۔
“شخصی روایت” پہلے مرحلے میں نہ مروج ھوتی ھے، نہ متواتر ھوتی ہے اور نہ متعمل ھوتی ھے۔ سب سے پہلے وہ “مروی قول و عمل” کا درجہ حاصل کرتی ھے۔ اس مرحلے کے لئے متعین و مشخص راوی کا ھونا ضروری ھے اور اس راوی کو مدار اعتبار بنا کر کسی متعین و مشخص گروہ کا قول و عمل بنتی ھے۔ اس کی مثال ادب حدیث ھے۔
“حدیث” کیا ھے اور کیا نہیں ھے؟اس سوال کا ایک جواب تو وہ ھے جو بعض لوگوں نے گھر بیٹھ کر تیار کیا ھے۔ ان لوگوں کو آپ کچھ سمجھا سکتے ہیں ۔ مثلا “ جس نے یہ فرض کر لیا ھے؛ حدیث درحقیقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول و عمل ھے، آپ اسے کچھ نہیں سمجھا سکتے ہیں اور نہ کچھ سمجھنے کے وہ موڈ میں ھوتا ھے۔ بیشتر فرقہ پرست علماء اور ان کے گونگے اور بہرے پیروکار یہی موقف رکھتے ہیں۔ ایسے علماء اور ان کے پیروکار درحقیقت ایک ہی کیٹگری کے جہلاء ہیں۔ ایسے علماء نے علم حدیث نہ خود پڑھا ھے اور نہ سیکھا ھے اور نہ ہی ان کے جاہل پیروکاروں نے اس علم کو چھوا ھے۔ اندھی عقیدت سے علمیت کا کام لیتے ہیں۔ جہالت بری شے ھے لیکن ایسی جہالت صرف بری نہیں ھوتی، دنیا و آخرت میں ذلت و رسوائی کا سامان بھی ھوتی ھے۔
حدیث کیا ھے؟ اس سوال کا ایک جواب وہ ھے جو فن حدیث کے ائمہ نے دیا ھے۔ یہ جواب بہت سادہ ھے اور واضح ھے۔ لیکن فرقہ پرست علماء کو پسند نہیں ھے، لہذا ائمہ حدیث کے جواب پر وہ مطمئن نہیں ھوتے اور نہ عامة المسلمين کو اس سے آگاہ کرتے ہیں۔ ان کی کوشش ھوتی ھے؛ عامة المسلمين اس جواب واقف بھی نہ ھوں۔ علم حدیث کی رو سے “حدیث” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول نہیں ھے بلکہ متعین و مشخص راوی کا قول ھےجس میں راوی رسول کی طرف کوٸ قول وفعل ”منسوب“ کرتا ہے۔ آپ اس جملے پر غور کریں؛ “قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم” ہر حدیث کا آغاز اسی جملے سے یا اس معنی کے جملے سے ھوتا ھے۔ اس جملے سے ہی ظاہر ھے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول مبارک نہیں ھے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب قول و عمل کا بیان ھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب قول و عمل راوی کے قول کا مقولہ ھے۔ چنانچہ حدیث کیا ھے؟ راوی کا قول ھے کہ رسول اللہ نے یہ کہا ھے اور یہ کیا ھے اور کہانی ختم! راوی کے کہے کو آپ سچ مانتے ہیں تو یہ اسی طرح کا سچ ھو گا جیسا انسانی سچ ھوتا ھے۔ “انسانی سچ” اور “الوہی سچ” میں کوئی نسبت نہیں ھے۔ “نبوت” اور “محتویات نبوت” انسانی درجے کا سچ نہیں ہیں۔ یہ الوہی سچ ہیں جس کا انکار کفر سے کم کوئی شے نہیں ھے۔ انسانی سچ کا انکار کفر نہیں ھوتا۔ اسے الوہی سچ کا درجہ دینا ھے تو نبی اور غیرنبی کا فرق ختم کرنا پڑے گا جو ظاہر ھے ایک مسلمان کے لئے ممکن نہیں ھے۔
فلاں حدیث سچ ھے اور فلاں جھوٹ ھے، یہ فیصلہ ایک غیرنبی نے کرنا ھے اور قیاس آرائی سے کرنا ھے۔ چنانچہ “حدیث” کو سچ اور جھوٹ ثابت کرنے کا سخت سے سخت معیار بھی نتیجے کے اعتبار سے صرف ظن و تخمین ھوتا ھے، اس سے زیادہ کچھ نہیں ھوتا۔ میں راوی کو سچا مان رھا ھوں تو یہ راوی کے متعلق حسن ظن ھے اور اسے جھوٹا مانتا ھوں تو بھی ایک ظن ہی ھے۔
ایک خیال میں ایک اور خیال شامل کر لینے سے صرف ایک خیال ہی بنتا ھے، حقائق بیان نہیں ھو سکتے۔ راوی سچا ھے یا جھوٹا ھے، امام فن کا یہ ایک ظنی فیصلہ ھے، جس کے درست ھونے کے چانسس اتنے ہی ہیں، جتنے غلط ھونے کے ہیں۔
میرا فرض یہ نہیں ھے؛ حدیث اور محدث کی بابت خیال در خیال سے کھیلتا رھوں۔ ائمہ محدثین نے اس فن میں جو عرق ریزی کرنی تھے کر چکے ھیں۔ اس فن پر اب مزید جان فنا کرنے کی ضرورت نہیں ھے۔
میرا دینی فرض ھے؛
٣ – غیرنبی سے نبوت کا مفاد قبول نہ کروں۔
٢ – راوی کے کہنے پر منزل من اللہ اخبار و احکام میں ترمیم و تنسیخ نہ کروں۔
١ – غیرنبی کو نبوت میں موثر نہ مانوں۔
نبوت و غیرنبوت اور نبی و غیرنبی کا فرق ضائع کر دیا جائے تو اسلام بطور “دین حق” ختم ھو جاتا ھے۔ اس طرح راوی کے کہے پر “محتویات نبوت” میں ترمیم و اضافہ یا کمی بیشی نبی اور غیرنبی کے فرق کو فنا کرنے کے بعد ممکن ھوتی ھے۔
“محتویات نبوت” میں ترمیم و اضافہ کا حق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں تھا اور نہ آپ علیہ السلام کو ایسا کرنے کی اجازت تھی۔ آنجناب علیہ السلام نزول وحی کا انتظار فرماتے تھے اور قرآن مجید میں آپ کو حکم دیا گیا ھے؛
فتعالى الله المٰلك الحق و لاتعجل بالقران من قبل أن يقضى إليك وحيه و قل رب زدنى علما.
طه، ايه- ١١٤
مسلمانوں کی علمی روایت میں “حدیث” کی وہ حیثیت کبھی نہیں رہی جس پر آج کے نام نہاد مذہبی دانشور شدید اصرار کر رھے ہیں۔ “حدیث” میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول و عمل حکایتا“ بیان ھوتا ھے۔ جس کے قابل اعتبار ھونے کا انحصار ایک غیرنبی پر ھوتا ھے۔ علماء جب دین و ایمان کا انحصار “حدیث” پر رکھتے ہیں تو وہ دراصل غیرنبی کو نبوت میں موثر ماننے کا گناہ کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ھے کہ “حدیث” اور “متعلقات حدیث” کے علوم میں آج بیشتر علماء کا فہم و ادراک حد درجے تک عامیانہ layman’s vision ھے بلکہ بعض اوقات تو سوقیانہ ھو جاتا ھے۔ اس سے زیادہ کبھی نہیں اٹھ پاتا، الا ما شاء اللہ۔ اس صورت حال کا نتیجہ ظاہر ھے ؛
زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشمن۔
علم حدیث اور ائمہ حدیث کے نزدیک “حدیث” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و عمل کا نام نہیں ھے بلکہ متعین و مشخص راوی جب کسی قول و عمل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتا ھے تو اسے “حدیث” کہا جاتا ھے۔ جو حضرات “حدیث” کو کسی معنی میں بھی دین یا دینی حجت مانتے ھیں، دراصل نبی اور غیرنبی میں فرق کو فنا کرنا چاھتے ھیں۔
“حدیث” دین ھے اور نہ دینی حجت ھے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوگوں کے منسوب قول و عمل ھے اور بس۔حدیث سے دین میں کسی نٸ بات کا اضافہ نہیں ہوتا۔ “حدیث” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال نہیں ہے بلکہ رسول اللہ ﷺ کے اقوال و افعال کے متعلق لوگوں کی “خبر” ھے۔ خبر دینے والا “راوی” کہلاتا ھے۔ “حدیث” قال قال رسول اللہ کے بغیر ممکن نہیں ھے۔ “قال رسول اللہ” پہلے “قال” کا مقولہ ھے۔ پہلا “قال” نہ ھو تو دوسرا “قال” جھوٹ ھے، موضوع ھے کذب و افتراء ھے۔ دوسرا “قال” الگ وجود رکھتا اور نہ مستقل حیثیت رکھتا ھے۔ اس کی حیثیت ھے تو پہلے “قال” کا مقولہ ھونے میں ھے۔علم حدیث کی رو سے “سند مع متن” “حدیث” کہلاتا ھے۔ تنہا سند حدیث کبھی نہیں کہلائی اور نہ تنہا متن کبھی حدیث کہلایا ھے۔
“حدیث” کے متعلق ائمہ فن نے جو معیار مقرر کیا ھے، ہم اس کو سو فیصد درست مانتے ہیں۔ اس معیار کے مطابق “حدیث” باعتبار سند صحیح، حسن، ضعیف اور موضوع ھوتی ھے۔ سند کی قوت اور ضعف، متن کو متاثر کرتا ھے۔ یہی وجہ ھے؛ ھم کہتے ھیں؛ “حدیث” سے نبوت کا مفاد ممکن نہیں ھے چونکہ اس کا “مدار اعتبار” نبی نہیں ھے بلکہ غیرنبی ھے۔ غیرنبی نبوت کی وجہ اعتبار نہیں ھو سکتا۔ جبکہ حدیث کا “وجہ اعتبار” غیرنبی ھے۔
علم حدیث سے آگاہی رکھنے والا جانتا ھے کہ حدیث قولِ رسول نہیں بلکہ قولِ راوی ہے۔ حدیث “قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم” نہیں بلکہ “قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم” ھوتی ھے۔ہر حدیث میں دو قال ہوتے ہیں۔ان میں سے پہلا قال راوی کےلیۓ ہے۔ پورا علمِ حدیث اسی پہلے قال کی تحقیق وتفتیش پر مبنی ہے۔اگر آپ حدیث میں سے پہلے “قال” کو ہٹا دیں تو دوسرا قال قابلِ اعتماد نہیں رہتا۔
“قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم” کو “قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم” کی حیثیت سے قبول کرنے کا مطلب ھے؛ غیرنبی کو نبوت میں موثر ماننا یا غیرنبی سے نبوت کا مفاد قبول کرنا۔ سوال یہ ہے کہ کیا غیرنبی سے نبوت کا مفاد قبول کیا جا سکتا ھے ؟۔
میں حدیث کی بابت یہ فیصلہ نہیں سنا رھا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے نکلے ھوئے یا نہ نکلے ھوئے الفاظ ھیں۔ میں عرض کر رھا ھوں جو کچھ حدیث کے نام پر ھمارے پاس موجود ھے وہ سب غیرنبی یعنی متعین و مشخص راوی کی سند پر معتبر ھے، اس لئے نبوت اور محتویات نبوت میں شامل کئے جانے کا اھل نہیں ھے۔
آپ بات کو سمجھنے کی کوشش کریں، حدیث کو “الوھی تنزیل” کا درجہ دینا اور بات ھے اور اسے سچ ماننا دوسری بات ھے۔ “الوھی تنزیل” کا content رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر واجب الایمان و العمل ھے جس طرح امت پر واجب الایمان و العمل ھے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مقدما واجب الایمان و العمل ھے اور امت پر آپ کی اتباع میں واجب الایمان و العمل ھے۔
جب آپ قرآن مجید کو حدیث کی سند کی کیٹیگری میں لے آتے ھیں تو آپ ایک غلطی نہیں کرتے بلکہ ملٹی پل غلطیاں کرتے ھیں۔ قرآن مجید کی سند متعین و مشخص راوی نہیں ھے، حدیث کے راوی ھونے کی اھلیت کی پہلی شرط یہ ھے کہ وہ قرآن پاک پر اسی طرح ایمان رکھتا ھو جیسے ھم رکھتے ھیں، تب ھم راوی کی بات کو قابل التفات سمجھتے ھیں۔ آپ کہہ رھے ھیں کہ جس کی وجہ (قرآن پاک پر ایمان بالغیب) سے ایک شخص حدیث کا راوی بننے کا اھل ھوتا ھے، وہ قرآن پاک کو قرآن مجید کا یہ درجہ بھی دینے کا اھل ھے کہ وہ اس کی وجہ سے قرآن مجید معتبر ٹھہرے۔
“منزل اخبار” کی فہرست میں غیرنبی (راوی) کے کہے پر کمی بیشی کرنے والوں کو چاہیے؛ “نبوت” کا احترام سیکھیں اور اس پر قانع رھیں۔
ھم پوچھتے؛
کیا آپ کا ایمانی شعور آپ کو یہ نہیں بتاتا کہ “قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم” کو “قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم” کی حیثیت دینا، نبی اور غیرنبی کا فرق فنا کرنا ھے؟ منکر حدیث، منکر حدیث کی رٹ لگانے والے درحقیقت چور مچائے شور کے مصداق ہیں۔ ایک غیرنبی کے کہنے پر نبوت کے محتویات میں کمی بیشی کرنا، صاحب ایمان کا بھلا کام ھو سکتا ھے؟ ہرگز نہیں۔
حدیث کیا ھے؟ ایک غیرنبی کہتا ھے؛ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہا ھے اور یہ کیا ھے۔ غیرنبی کے بیان کو تم جھوٹ نہ سمجھو، لیکن نبوت کا اسے حصہ مان لینا، غیرنبی کو نبی کے برابر کھڑا کئے بغیر ممکن نہیں ھے۔
دین کے طفیلی مفکروں کی حالت قوال کے ہمنواوں کی سی ھے۔ قوال کہتا ھے؛ میری توبہ میری توبہ۔ پیچھے تالیاں بجاتے ہیں اور اسی کو دہراتے جاتے ہیں؛ میری توبہ میری توبہ، میری توبہ میری توبہ۔ طفیلی مفکروں کا مقصد سوچنا سمجھنا اور پھر بولنا کبھی نہیں ھوتا۔ کسی نے کہہ دیا؛ فلاں منکر حدیث ھے تو وہ بس تالیاں بجاتے ھوئے منکر حدیث، منکر حدیث بولے جاتے ہیں۔
جہاں تک مستشرقین اور ان کے پیروکاروں کا تعلق ھگگے تو ان کا مسئلہ نبوت کا احترام کبھی نہیں رھا۔ دین کے دشمن، مستشرقین سے بہت پہلے وہ کام کر چکے تھے جس کے نتائج نبوت اور ختم نبوت کے عقیدے کی بیخ کنی ھو چکی تھی۔
ہم یہ نہیں کہتے ؛
“حدیث” پر عمل ترک کر دیا جائے یا “حدیث” پر ایمان لے آیا جائے، ہم کہتے ہیں؛ ائمہ حدیث نے علم حدیث میں “حدیث” کی جو حیثیت متعین کر دی ھے، اس بہتر کوئی اور نہیں کر سکتا۔ علم حدیث میں “حدیث” کے جو مدارج مقرر کئے گئے ہیں جیسے صحیح، حسن، ضعیف اور موضوع، قول رسول یا متن حدیث کو بنیاد بنا کر نہیں کئے گئے۔ حدیث کی مذکورہ اقسام “سند” کو بنیاد بنا کر کی گئی ہیں۔ متن حدیث الگ سے نہ صحیح ہے، نہ حسن ہے، نہ ضعیف ہے اور نہ موضوع ہے۔ متن حدیث پر سند کی قوت اور ضعف اثرانداز ھوتا ھے جس کی بنیاد پر وہ صحیح، حسن، ضعیف اور موضوع ہوتا ہے۔ علم حدیث میں رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نہ سند میں شامل ہیں اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول مبارک سند کا حصہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول بیان ہونے سے پہلے حدیث کی سند ختم ہو جاتی ہے لیکن حدیث کی سند کا اثر قول رسول یا متن حدیث پر پڑتا ہے، سند کا ضعف متن کو ضعیف اور سند کی قوت متن کو قوی بناتی ہے۔ گویا علم حدیث کی رو سے حدیث کی حیثیت کا تعین، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول سے نہیں ہوتا بلکہ راوی سے ہوتا ہے۔ علم حدیث”حدیث” کو راوی کا بیان مانتا ہے اور راوی کے بیان کی حیثیت سے متن کو رد یا قبول کرتا ہے۔حدیث کے بارے میں ہمارا موقف وہی ہے جو اٸمہ حدیث کا موقف ہے۔
“احادیث” کا انکار حماقت ھے اور انہیں نبوت میں شامل کرنا، حماقت نہیں ھے، “کفر” اور “منافقت” ھے. نبی علیہ السلام کی زندگی اور مصروفیات کا واحد اور قابل اعتماد وسیلہ احادیث ھیں. سیرت پاک کے عرفان کا مستند ذریعہ بھی “کتب احادیث” ھیں. ہم کتب احادیث سے یہی استفادہ کرتے ہیں اور اسی کو ممکن سمجھتے ہیں۔ کتب احادیث نبی اور نبوت کے متعلق قابل اعتبار معلومات ہیں۔ جہاں تک “نبوت” اور “محتویات نبوت” کا تعلق ھے تو وہ سرتاسر الوھیت ھیں، انسانی استعداد کا زائیدہ علم نہیں ھے بلکہ صرف اور صرف علم بالوحی ھے۔
“صحیح حدیث” کا مطلب یہ نہیں ھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف انتساب صحیح ھے۔
“صحیح حدیث” کا مطلب ھے کہ سند میں سقم نہیں ھے۔
علم حدیث آپ کو بیان شدہ “سند” کے صحیح، حسن، ضعیف اور موضوع ھونے کی ضمانت دیتا ھے۔ وہ یہ ضمانت نہیں دیتا اور نہ دے سکتا ھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف انتساب درست ھے یا غلط ھے۔علم حدیث سے بالکل نابلد، “حدیث” کے متعلق جذباتی رویہ اختیار کرے اور رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف بلاواسطہ انتساب پر مطمئن رھے تو اسے بھی معاف کرنے کو جی نہیں چاہتا، چہ جائیکہ علم حدیث کا ماہر کی مجرمانہ خاموشی اور چشم پوشی نظرانداز کی جائے؛
احادیث غیرنبی (ائمہ حدیث) کی سند کے بعد قابل اعتبار ھوتی ھیں. غیرنبی کو “نبوت” میں سند ماننا نبوت کا انکار نہیں ھے تو کیا ھے؟
اے علمائے امت
لاتغلوا فی دینکم و لا تقولوا علی اللہ الا الحق . . . . .
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Dr. Muhammad Hamidullah
Visit Website of Dr. Muhammad Hamidullah

You might also like More from author

تبصرے

Loading...