سود (الربا) تحریر رانا محمد عاشق

اللہ تعالیٰ نے  قرآن پاک میں الربا کو حرام کیا ہے۔ربا سے مراد  بڑھوتری ہے۔انسان کو جس  بڑھوتری سے منع فرمایا ہے  وہ مالی  بڑھوتری ہے کی ایک قسم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو قرآن پاک میں   ربا سے پہلے  ال لگاکر مخصوص کردیا گیا ہے  یعنی الربا ۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ  الروم   کی آیت نمبر 39 میں اسی الربا کیتعریف(Definition)  یوں بیان  کی ہےکہ “وَمَآ   اٰتَیْتُمْ مِّنْ  رِّ بًا لِّیَرْبُوَا فِیْٓ اَمْوَالِ النَّاسِ  “وہ جوتم دیتے ہو بڑھنے کےواسطے کہ  بڑھے وہ لوگوں کے اموال میں ۔ یعنی جب تم  اموال(اشیا ء   و خدمات کی صورت میں) لوگوں کواس لئے دیتے (یا بیچتے یافراہم کرتے ) ہو تاکہ    لوگوں کے جائز اموال  میں سے اپنے اموال میں اضافہ کرو تو یہ اضافہ یا بڑھوتری حرام اور منع ہے ۔ گویا الربا وہ مالی  بڑھوتری  ہےجو خود کما کر نہیں بلکہ دوسرے  لوگوں کے اموال سے حاصل کی جائے۔ اس کی مثال یوں دی جاسکتی ہے کہ ایک شخص  یا چند اشخاص چور بازاری  کرکے یا اشیاء کا سٹاک کرکے  بازار  میں اپنی اجارہ داری  قائم  کر لیتے ہیں اور پھر قیمت بڑھاکر  صارفین  کو لوٹتے ہیں اور ان کی جیبوں سے ان کے جائز اموال نکلواکر  اپنے منافعوں میں  ناجائز طور پراضافہ  کرتے ہیں ۔ اس صورت میں ان کے یہ ناجائز  منافع جات  الربا کے  ذمرے میں آئیں گے۔یا اس کی مثال یوں  لےلیجئے کہ ایک کاشتکار کی  فصل میں کیڑا لگ چکا ہے  اگرا یک یا دو دن میں اس پر کیڑے مار ادویات کا سپرے نہیں کیا گیا تو ساری فصل تباہ و برباد ہوجائے گی لیکن کیڑے مار ادویات خریدنے کے لئے اس کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ اس صورت حال میں وہ ایک ادویہ فروش دوکاندار کے پاس جاتا ہے اور اسے کہتا ہے کہ مجھے فلاں فلاں  کیڑے مار ادویات  ادھار دے دو۔ ایک دوماہ میں فصل پک کر تیار ہوجائے گی  تو اسے بیچ کر میں تمہاری ادائیگی کردوں گا ۔ اب دوکان دار اس کاشتکار کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتا ہے  اور سو کی دوائی اس کو دو سو میں فروخت کردیتا ہے۔ یہ سو فی صد منافع اس دوکان دار  کا حق نہیں ہے  بلکہ وہ  کاشتکار کی مجبوری سے فائدہ اٹھاکر اپنا منافع کاشت کار کے مال میں سے وصول کر رہا ہے۔جائز منافع وصول کرنا دوکاندار  کا حق تھا لیکن اس حق سے زیادہ وصول کرکےوہ  الربا لینے کا مرتکب ہو رہا ہے۔

الربا کی مثال   محنت  کے شعبہ سے بھی دی جاسکتی ہے۔ ایک مزدور  یا ملازم اپنی محنت ایک کاروبار کو فراہم کرتا ہے لیکن مزدوری یا تنخواہ پوری وصول کرنے کے باوجود وہ  مطلوبہ حد تک اس  کام   میں اپنی محنت صرف نہیں  کرتا جس کے لئے اسے ملازم رکھا گیا تھا۔ اس صورت میں وہ الربا لینے کا مرتکب ہورہا ہےکیونکہ کام  کو مطلوبہ حد تک سرانجام  نہ دے کر وہ اپنے مال میں اضافہ،  اپنے مالک کے جائز مال میں سےکر رہا ہے۔دوسری طرف اگر ملازم رکھنے والا  مالک کام تو پورا لیتا ہے لیکن  اجرت یا تنخواہ پوری ادا نہیں کرتا  یا معاہدے کے مطابق وقت پر ادا نہیں کرتا تو  اس صورت میں مالک اپنے مال میں اضافہ مزدور یا ملازم کی اجرت یا تنخواہ (جو ان کا مال ہے)میں سے نکال رہا ہے اسلئے وہ الربا لینےنے کا مرتکب ہورہا ہے۔اسی طرح ایک زمیندار اگر اپنے مزارع سے زمین کاشت کرنے کے کا  لگان اتنا زیادہ وصول کرتا ہے کہ غریب مزارع  کی محنت بھی پوری نہیں ہوتی تو وہ زمیندار اس مزارع  کی محنت  میں سے اپنے مال میں اضافہ کرکے الربا لینے کا مرتکب ہورہا ہے۔   لیکن افسوس ہم نے الربا کا ترجمہ سود کرکے ساری امت کی توجہ بنکاری کے کاروبار کو حرام کرنے پہ لگادی۔افسوس صد افسوس۔تفصیل کے لئے دیکھیئے “الربا اور سود” ترجمہ از رانا محمد عاشق

اور پھر  اس قوم کی  شومئی قسمت  دیکھیئے، اسی حرام کئے ہوئے بنکاری  نظام  کو” حلالے” کے ذریعے “اسلامی بنکاری ”  کا نام دے کر اپنے لئے  حلال بھی کرلیا۔ سور کا نام گائے رکھ دیا جائے تو کیا وہ حلال ہوجائے گا؟ہماری اتنی عقل صلب کر لی گئی ہے ہم اتنا بھی نہیں سوچتے۔ اے اللہ اس قوم کو صحیح فکر عطا فرما! آمین۔

Dr. Muhammad Hamidullah
Visit Website of Dr. Muhammad Hamidullah

You might also like More from author

تبصرے

Loading...