سوره الاحزاب اور اللہ کا وعدہ از ابن آدم

سوره احزاب کی آیت ١٢ میں الله تعالیٰ فرماتے ہیں :
یاد کرو وہ وقت جب منافقین اور وہ سارے لوگ جن کے دلوں میں روگ تھا صاف صاف کہہ رہے تھے کہ الله اور اس کے رسول نے جو وعدہ ہم سے کیا تھا وہ فریب کے سوا کچھ نہ تھا.(١٢)

سوره احزاب ٥ ہجری میں نازل ہوئی اور اس کی آیات ٩ تا ٢٧ غزوہ خندق اور اس کے نتائج سے متعلق ہیں. آیت ١٢ اس وقت کی منظر کشی کر رہی ہے جب مشرکین مکہ، خیبر سے یہودی (بنو نضیر) اور نجد سے غطفان کا قبیلہ بیک وقت مدینہ منورہ پر حملہ آور ہونے آ رہے تھے. مدینہ کے مسلمانوں کے لئے جہاں یہ انتہائی شدید آزمائش کا وقت تھا وہیں منافقین کو یہ خدشہ ہو چلا تھا کہ اب ریاست مدینہ کے نابود ہو جانے کا وقت آ چکا ہے. اور اس صورت حال میں انھوں نے یہ بات برملا کہی کہ الله اور اس کے رسولؐ نے جو وعدہ کیا تھا وہ محض ایک دھوکہ تھا. سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہاں الله کے کیے ہوئے کس وعدے کا ذکر ہو رہا ہے؟ اس اہم سوال کے ساتھ ان آیات کو پڑھتے ہوئے ایک دوسرا سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ جنگ سے فرار کی پوری خواہش کے باوجود بھی منافقین کو کس چیز نے بھاگنے سے روکے رکھا تھا. حالانکہ جنگ سے گریز یا فرار کا کام تو وہ غزوہ بدر اور غزوہ احد میں کر ہی چکے تھے؟ (حوالہ سوره الانفال آیت ٤٩ برائے غزوہ بدر، سوره ال عمران ١٦٧، ١٦٨ برائے غزوہ احد.)

ساتھ ہی مدینہ کے تیسرے اور آخری یہودی قبیلے بنو قریظہ کا عبرت ناک انجام بھی اسی غزوہ سے متعلق ہے. آخر کیوں وہ اپنے پیشرو دونوں یہودی قبائل بنو نضیر اور بنو قینقاع کے برخلاف ایک انتہائی سخت انجام سے دوچار ہوئے یعنی جلا وطنی کی بجائے تمام مردوں کو قتل کی سزا سنائی گئی. اگرچہ روایات میں بھی یہ موضوع موجود ہے تاہم اگر قرآن کا مطالعہ کیا جائے تو بات روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے. دراصل غزوہ بدر صغریٰ (٤ ہجری) کے بعد سوره مائدہ نازل ہوئی، جس کی آیت ٣٣ (آیت محاربہ) میں الله اور اس کے رسولؐ سے لڑائی کرنے والوں یا زمین میں فساد کی کوشش کرنے والوں کے لیے انتہائی سزاؤں کا اعلان کر دیا گیا تھا. اور آیت ٣٤ میں اس سزا سے استشنیٰ صرف انہی لوگوں کے لئے بیان ہوا تھا جو اسلامی ریاست کے زیرنگیں آنے سے پہلے ہی اپنے ان اقدامات سے رجوع کر چکے ہوں. کیونکہ بنو قریظہ مدینہ کے شہری تھے اور انھوں نے تورات کے ساتھ ساتھ قرآن کی اس واضح تنبیہ کے باوجود عین دوران جنگ حملہ آور افواج کے ساتھ ساز باز کر کے مدینہ کے اندر بلوا کرنے کی سازش کر کے ریاست سے غداری اور فساد پھیلانے کا ارتکاب کیا. اس لئے وہ آیت محاربہ کی رو سے موت کے حقدار ٹھہرے.

دوسری جانب منافقین بھی آیت محاربہ کی سزا سے آگاہ تھے اور یہی وجہ تھی کہ وہ بادل ناخواستہ اس مہم میں شامل ہو رہے تھے. تاہم انکے دل اس لازمی مہم سے فرار چاہ رہے تھے اور اسی لئے وہ طرح طرح کے بہانے بنا رہے تھے جن کا تذکرہ سوره احزاب کی آیت نمبر ١٣ میں موجود ہے. جب کہ آیت نمبر ١٥ میں الله تعالیٰ واضح کرتا ہے کہ اگر وہ پیٹھ پھیر جاتے تو ان سے باز پرس ضرور ہوتی، گویا ایسی صورت میں وہ بھی بنو قریظہ والے انجام سے دوچار ہو جاتے.

اب آتے ہیں اپنے اصل موضوع کی طرف کہ منافقین نے سوره احزاب کی آیت ١٢ میں الله اور رسولؐ کے کس وعدے کے غلط ہونے کا تذکرہ کیا تھا. عمومی طور پر بعض روایات کی رو سے یہ بیان کیا جاتا ہے کہ رسول الله نے فرمایا تھا کہ قیصر و کسریٰ کی سلطنتیں مسلمانوں کے قدموں تلے ہوں گی. لیکن سوال یہ ہے اگر یہ عمومی فرمان تھا تو بدر و احد کے موقعہ پر منافقین کی طرف سے یہ اعتراض کیوں نہ اٹھا، حالانکہ غزوہ بدر کے موقعہ پر تو پہلی باقاعدہ جنگ ہونے والی تھی جس میں اہلیان مدینہ بھی شریک ہونے جا رہے تھے اور منافقین بھی انہی میں شامل تھے.

غزوہ احد میں اتنا شدید نقصان ہوا لیکن اس کے فوری بعد بھی منافقین کی طرف سے یہ اعتراض نہیں اٹھا کہ الله اور اس کے رسولؐ نے ہم سے جھوٹا وعدہ کیا تھا. سوره انفال اور سوره آل عمران انہی دو جنگوں کے احوال سے متعلق ہیں.

ظاہر ہے یہ جس بھی وعدہ کا ذکر ہے یہ غزوہ احد (٣ ہجری) اور غزوہ خندق (٥ ہجری) کے درمیان کسی وقت کیا گیا ہے. اس حوالے سے سنن النسائی کی وہ روایت جو اکثر تفاسیر کی زینت بنی ہے، کے مطابق عیسیٰ بن یونس کا کہنا ہے کہ جس وقت خندق کھودی جا رہی تھی تو ایک سخت چٹان رکاوٹ بن گئی اور وہ رسول الله کے ہاتھوں ٹکڑے ٹکڑے ہوئی. اس چٹان پر کدال مارنے کے دوران رسول الله اور حضرت سلمان فارسی کو چمک نظر آئی (جو کہ باقی صحابہ کو معلوم نہیں کیوں نہ نظر آ سکی). حضرت سلمان کے استفسار پر رسول الله نے بیان کیا کہ ان کو ایران، روم اور حبشہ کے شہر دکھائے گئے اور پھر مسلمانوں کے ہاتھوں روم اور ایران کے تاراج ہونے کی خبر دی جبکہ حبشہ کو چھوڑے رہنے کا عندیہ دیا. اگرچہ کہ یہ روایت حسن کہی جاتی ہے لیکن پھر بھی تمام تفاسیر اس آیت کے حوالے سے اسی روایت کے ارد گرد گھوم رہی ہوتی ہیں. ایک دوسری روایت کے مطابق انصاریوں نے کہا سلمانؓ ہم میں سے ہیں اور مہاجرین نے کہا کہ سلمانؓ ہم میں سے ہیں جب کہ رسول الله نے ان کو اہل بیت میں شامل بتایا. واضح رہے کہ قرآن میں اہل بیت کا لفظ خندق کھودے جانے کے وقت تک نازل ہی نہیں ہوا تھا اور یہ قرآنی اصطلاح سوره احزاب ہی کی آیت ٣٣ میں آئی جو کہ غزوہ خندق کے بعد نازل ہوئی.

دراصل حضرت سلمان فارسیؓ ان چار صحابیوں میں سے ایک ہیں جو کہ شیعوں کے ہاں قابل قبول ہیں لہٰذا حضرت علیؓ، حضرت عمارؓ، حضرت مقدادؓ اور حضرت ابوذرؓ کی طرح ان کے نام کے ساتھ بھی کئی دیو مالائیں پھیلائی گئی ہیں. اس پہلو کو نظر انداز بھی کر دیا جائے تو بھی اس روایت پر کئی سوالات اٹھتے ہیں. ازروئے روایت جب رسول الله نے حبشیوں کو چھوڑ دینے کا حکم دے دیا تھا تو ان کے شہروں کو دکھائے جانے کا مقصد ہی کیا تھا؟ مزید یہ کہ کیا اسلام سارے عالم کا دین بن کر نہیں آیا؟ جو حبشیوں کو اس سے استشنیٰ دے دی گئی؟ قیصر و کسریٰ کو اسلام کی باقاعدہ دعوت بذریعہ خطوط غزوہ خندق کے دو سال بعد ٧ ہجری میں دی گئی تھی اور اسلام قبول کرنے کی صورت میں ان سے ان کی سلطنتیں بھی نہیں مانگی گئیں تھیں.

قیصر و کسریٰ کی سلطنتوں پر فتوحات کا کنایتاً ذکر سوره فتح (نزول ٦ ہجری) کی آیت ٢١ میں آیا ہے. جب مسلمانوں کا مشرکین کے ساتھ دس سال کے لئے جنگ بندی کا معاہدہ (صلح حدیبیہ) طے پا گیا تھا. لیکن اس کو اس طرح بیان کیا گیا تھا کہ الله ایسے غنائم کا بھی وعدہ کرتا ہے جن پر مسلمان ابھی قدرت نہیں رکھتے. یہ بھی اس بات کی دلالت ہے کہ جس بات کا اشارتاً ذکر الله نے سوره فتح (نزول ٦ ہجری) میں پہلی دفعہ کیا ہو اس قیصر و کسریٰ کی تاراجی کا ذکر نبی کریمؐ ٥ ہجری میں قرآنی طرز بیان کے برخلاف اتنی بلند آہنگی سے کیوںکر کرتے.

سیاسی لحاظ سے بھی دیکھا جائے تو یہ انتہائی غیر مدبرانہ بات ہے کہ جس وقت پورا عرب دشمنی پر تلا ہو وہاں بلا ضرورت مزید دشمنوں کا اضافہ کیا جائے. ان سب سوالات کی کمزور تاویلات کر لینے کے باوجود آیت پر غور کیا جائے تو وہ تو نبی کریمؑ کے ساتھ ساتھ الله کے بھی کسی وعدے کی بات کر رہی ہے جو کہ کم از کم اس روایت کی صورت میں سامنے نہیں آتی. اس کے لئے تو کوئی قرآن کی آیت ہی درکار ہے.

دراصل مشرکین مکہ کے خلاف اس وعدے کا ذکر تب ہوا تھا جب مسلمان غزوہ احد کی شدید چوٹ کھانے کے بعد بھی مشرکین مکہ کے چیلنج پر اگلے سال ٤ ہجری میں بدر کے مقام پر مقابلہ کرنے کے لئے نبی کریمﷺ کی معیت میں میدان جنگ میں پہنچ گئے تھے. تاہم مکے والوں نے خود ہی مقابلے سے فرار اختیار کر لیا. اس غزوہ جس کو غزوہ بدر صغریٰ بھی کہتے ہیں سے واپسی پر سوره مائدہ نازل ہوئی اس کی آیت ٣ میں الله تعالیٰ نے مسلمانوں سے خوش ہو کر فرمایا:

… اَلۡيَوۡمَ اَكۡمَلۡتُ لَـكُمۡ دِيۡنَكُمۡ وَاَ تۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِىۡ … (٣)
… آج میں نے تمہارے غلبے کو تمہارے لیے مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے … (٣)

سوره مائدہ میں جہاں ایک طرف مسلمانوں کا کفار مکہ پر حتمی غلبے کا اعلان ہوا یعنی غزوہ احد کی مانند مشرکین مکہ آئندہ مسلمانوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے. سامنا ہونے کی صورت میں حتمی غلبہ مسلمانوں کو ہی حاصل ہو گا. ساتھ ہی سوره مائدہ (نزول ٤ ہجری) کی آیت ٣٣ (آیت محاربہ) کے نزول نے منافقین مدینہ کے لئے آئندہ لازمی شرکت والی جنگوں سے فرار کی راہیں مسدود کر دیں. لہٰذا اب جب مکے کے لوگ مدینہ پر حملہ آور ہونے آ رہے تھے تو منافقین اس وعدے پر اعتراض لگا رہے تھے کہ یہ کیسا حتمی غلبہ الله نے عطا کیا ہے کہ مشرکین مکہ اور بنو نضیر (مدینہ کا یہودی قبیلہ جو کہ مدینہ بدر ہو چکا تھا اور اب خیبر میں مقیم تھا) اس بار مل کر پچھلی تمام جنگوں کے مقابلے میں کئی گنا بڑا لاؤ لشکر لے کر آ رہے ہیں. اور غلبہ تو درکنار اس سے بچ جانے کا بظاھر کوئی امکان نظر نہیں آ رہا. اسی وقت منافقین نے یہی اعتراض اٹھایا تھا جس کا تذکرہ سوره احزاب کی آیت ١٢ میں آیا ہے.

لیکن الله نے ایک مہینہ کے محاصرے کے بعد بالاخر دشمنان اسلام کو ناکام و نامراد واپس لوٹا دیا. اور مسلمانوں کو بلا مقابلہ ہی کامیابی سے ہمکنار کیا اور اس کا ذکر آیت ٢٥ میں یوں آتا ہے کہ
اللہ نے کفار کا منہ پھیر دیا، وہ کوئی فائدہ حاصل کیے بغیر اپنے دل کی جلن لیے یونہی پلٹ گئے، اور مومنین کی طرف سے اللہ ہی لڑنے کے لیے کافی ہو گیا، اللہ بڑی قوت والا اور زبردست ہے ﴿۲۵﴾

یعنی سوره مائدہ میں بتائے گئے غلبے کے وعدے کی بدولت (آیت ٣) ان کے خلاف محض الله ہی کافی ہو گیا اور اسی چیز کا اعادہ صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کے موقعہ پر بھی ہوا.

سوره مائدہ کے اس وعدے کو سمجھنے میں سب سے بڑی دشواری اس لئے پیش آئی کہ اس امت نے محض ایک شان نزول کی بنا پر سوره مائدہ کو ٤ ہجری کی بجائے ١٠ ہجری کی نازل شدہ سورت سمجھ لیا. لہٰذا سوره احزاب کی آیت ١٢ میں جب اس وعدے کا ذکر ہوا تو اس کو ایک غیر منطقی شان نزول سے جوڑ دیا گیا. دوسری جانب بنو قریظہ کے سخت انجام کی بھی تاویلیں کر دی گئیں حالانکہ ان کو اس انجام کا سامنا سوره مائدہ ہی کی آیت محاربہ کی وجہ سے دیکھنا پڑا تھا. اور اس انجام کی تنبیہ ان کو ١ سال پہلے کر دی گئی تھی.

سیرت و دعوت نبویﷺ کی مستند ترین کتاب خود قرآن مجید ہے. سورتوں کی اندرونی شہادتیں ان کے زمانہ نزول کا تعین کر دیتی ہیں اور مختلف سورتوں کا باہمی ربط نبی کریمﷺ کی تحریک کے ارتقاء اور حالات اور واقعات کی مناسبت سے مختلف احکامات کی حکمتیں واضح کر دیتا ہے.

Dr. Muhammad Hamidullah
Visit Website of Dr. Muhammad Hamidullah
ماخذ فیس بک

You might also like More from author

تبصرے

Loading...