شہربانو کی کہانی

اہل تشیع کے ہاں بالعموم اور اہلسنت کے ہاں بالخصوص سیدنا علی بن حسینؒ کو فخر عرب و العجم کہا جاتا ہے۔ سیدنا علی بن حسین بن علی بن ابی طالب کا فخر عرب ہونا تو پھر بھی سمجھ میں آتا ہے کہ چلو آپ ؓ نبی ﷺ کے نواسے سیدنا حسین ؓ کی اولاد تھے سو جیسے نبی ﷺ کے دوسرے نواسے یعنی عبداللہ بن عثمانؓ اور علی بن ابی العاصؓ نبی ﷺ سے نسبت کی وجہ سے عرب کے لئے فخر ہوسکتے ہیں ، بالکل ویسے ہی سیدنا حسین ؓ اور ان کی اولاد کو بھی یہ شرف مل سکتا ہے۔ لیکن سیدنا علی بن حسین جن کو کہ زین العابدین کہا جاتا ہے کا فخر عجم ہونا چہ معنی دارد۔ تھوڑی سی تحقیق کی تو پتہ چلا کہ جناب انکی والدہ کو ایران کے بادشاہ یزدگرد کی بیٹی شہر بانو بتایا جاتا ہے جن کو سیدنا حسین ؓ کی باندی ہونے کا شرف ملا تھا سو اس نسبت سے علی بن حسینؒ والد کی طرف سےعرب کے ممتاز خاندان اور والدہ کی طرف سے ایران کے ممتاز خاندان کے فرد تھے یعنی گویا ’’نجیب الطرفین‘‘ تھے۔

مقام حیرت ہے کہ جو کوئی بھی تاریخ کا معمولی طالبعلم رہا ہو اس کے اوپر شہربانو صاحبہ کے اس قصہ کے وضعی ہونے کی حقیقت کیسے نہ آشکارہ ہوئی۔ ارے تاریخ کی دیگر کتب تو چھوڑئیے، کسی نے اگر صرف شبلی کی ’’الفاروق‘‘ کا ہی مطالعہ کیا ہو تو وہ شہر بانو صاحبہ کے خیالی ہونے کے بارے میں کسی شبہ کا شکار نہ رہا ہوگا۔ علامہ شبلی نعمانی اپنی مشہور زمانہ تالیف ’’الفاروق ‘‘ میں رقم طراز ہیں:

’’ حضرت شہر بانو کا قصہ جو غلط طور پر مشہو ر ہو گیا ہے۔ اس کا ذکر کر نا ضروری ہے ۔ عام طور پر مشہور ہے۔ جب فارس فتح ہوا۔ تو یزدجرد کی بیٹیاں گرفتار ہو کر مدینہ آئیں۔حضرت عمرؓ نے لونڈیوں کی طرح بازار میں بیچنے کا حکم دیا۔ لیکن حضرت علیؓ نے منع کیا کہ شاہی خاندان کے ساتھ ایسا سلوک جائز نہیں۔ ان لڑ کیوں کی قیمت کا اندازہ کر لیا جائے۔ پھر یہ لڑکیاں کسی کے اہتمام اور سپرد گی میں دیدی جائیں۔ اور اُن کی قیمت اعلیٰ سے اعلیٰ شرح پر لی جائے۔ چنانچہ حضرت علیؓ نے خود اُن کو اپنے اہتمام میں لیا۔ ایک امام حسینؓ کو ، ایک محمدؓ بن ابی بکر کو اور ایک عبداللہ بن عمرؓ کو عنایت کی۔ اس غلط قصہ کی حقیقت یہ ہے کہ زمحشری نے جس کو فن تاریخ سے کچھ بھی واسطہ نہیں ربیع الابرارمیں لکھا ہے۔ ابن طولون نے امام زین العابدین کے حالات میں یہ روایت اس کے حوالہ سے نقل کر دی۔ لیکن یہ محض غلط ہے۔

اولاً تو زمخشری کے سوا طبری ، ابن الاثیر ، یعقوبی، بلا ذری اور ابن قتیبہ وغیرہ نے تاریخی قرائن بالکل اس کے خلاف ہیں۔ حضرت عمرؓ کے عہد میں یزد جرد اور خاندان شاہ پر مسلمانوں کو مطلق تسلط حاصل نہیں ہوا،۔ نیز مجھے یہ بھی شبہ ہے کہ زمخشری کو یہ معلوم تھا یا نہیں کہ یزد جرد کا قتل کس کے عہد میں ہوا ہے۔ اس کے علاوہ جس وقت کا یہ واقعہ ہے حضرت حسینؓ کی عمر دس برس تھی ۔ کیونکہ جناب ممدوح ہجرت کے پانچویں سال پیدا ہوئے اور فارس ۱۷ ؁ میں فتح ہوا۔ اس سے یہ امر مستعبد ہے کہ حضرت علیؓ نے نا بالغی میں اُن پر ایسی عنایت کیوں کی۔‘‘ (الفاروق صفحہ ۲۸)

ویسے تو علامہ شبلی کا یہ بیان اس قصہ کے غلط ہونے کے لئے کافی معلوم ہوتا ہے لیکن قارئین کی تھوڑی دلچسپی کے لئے اس واقعہ پر تھوڑا سا تبصرہ اور کئے دیتے ہیں۔ شہر یار کا بیٹا یزدگرد ۱۳ ؁ میں تخت نشین ہوا ۔ اس کی عمر اس وقت سولہ سال تھی (اخباء الطوال ۱۴۵ص) ۔ یہی سال سیدنا عمر فاروق ؓ کی خلافت کا پہلا سال ہے ۔ جب ۱۵ ؁ میں اس کی عمر اٹھارہ سال تھی ۔ قادسیہ کا معرکہ لڑا گیا۔ یزدگرد یہ سنتے ہی مدائن چھوڑ کر بھاگ نکلا اور حلوان پہنچ گیا۔ (ملخص فتوح البلدان بلا ذری ۲۵ص اخبار الطوال ۱۳۳ص ) اسلامی لشکر نے جب حلوان کا رُخ کیا۔ تو وہ مع اپنے اہل و عیال کے ۔ خانقان، قُم اور قاشان بھاگتا پھرا۔ آخر ۲۹ ؁ میں جب اس کی عمر بتیس سال تھی خراسان پہنچا اور ۳۰ ؁ میں بعہد خلافت عثمانی اس کا خا تمہ ہو گیا۔ غرضیکہ یزد گرد پر اسلامی لشکر نے کہیں بھی قابو نہیں پایا ۔ پھر شہر بانو کہا ں گرفتار ہوئی اور کس نے گرفتار کیا؟

اصل میں اس قصہ کےخالق زمخشری ہیں جنکا تاریخ میں کوئی مقام نہیں۔ ابن خلکا ن نے بھی اس قصہ کو زمخشری سے نقل کیا ہے۔ زمخشری کے سوا طبری ، ابن الاثیر ، یعقوبی، بلا ذری اور ابن قتیبہ وغیر ہ کسی نے اس واقعہ کو نہیں لکھا( گویا یہ چھٹی صدی کی پیداوار ہے)۔ اور لکھتے بھی کیسے، جب کہ یزدگردمع اہل و عیا ل آگے آگے بھاگتا رہا۔ اور کسی مقام پر مسلمانوں کے قابو میں نہیں آیا۔ اگر اس کے عیال میں سے کوئی گرفتار ہو کر آیا ہو گا تو وہ زمانہ خلافت عثمانی کا تھا۔ نہ کہ خلافت فاروقیہ کا۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ زین العابدین کی والدہ کا نام سلافہ تھا جو ایک باندی تھیں۔ ہاں اس میں ضرور ختلاف ہے کہ یہ کہاں کی باشندہ تھیں البتہ اس پر اتفاق ہے کہ یہ افریقہ سے گرفتار ہو کر آئی تھیں۔ اسی لئے کوئی بربری اور کوئی سوڈانی قرار دیتا ہے ۔ ابن حزم نے جمہرہ الانساب میں ایک قول یہ نقل کیا ہے کہ عبداللہؓ بن سعد بن ابی سرح نے جب حضرت عثمانؓ کے زمانہ میں افریقہ پر حملہ کیا تو یہ سوڈان سے گرفتار ہو کر آئیں ۔ لیکن نسلاً یہ سندھی تھیں۔

سورس

Dr. Muhammad Hamidullah
Visit Website of Dr. Muhammad Hamidullah

You might also like More from author

تبصرے

Loading...