صحیفہ دانیال علیہ السلام از مبین قریشی

بخت نصر (Nebuchadnezzar ) نے جب یہوداہ ریاست پر حملہ کرکے ھیکل سلیمانی کو نیست و نابود کردیا تو جتنے لوگ وہ قتل کرسکتا تھا اتنے قتل کردئیے، باقی بچ جانے والوں کو قیدی بنا کر بابل (Babylon) لے گیا۔ ان قیدیوں میں شباب کی عمر کو پہنچتا یہوداہ قبیلے کے شاہی خاندان میں سے یوسف علیہ سلام کی خوبصورتی کی مثل حسین و جمیل لڑکا دانیال بھی تھا۔ انھیں بعد ازاں اللہ نے نبوت سے نوازا اور یہ دانی ایل ( دانیال) نبی کے طور پر مشہور ہوئے۔ انکے مکاشفات پر مبنی صحیفہ عہد نامہ عتیق میں دانیال کے نام سے موجود ہے۔ یہ صحیفہ دینیات کے ضمن میں بہت ہی منفرد صحیفہ ہے۔ اسکی کچھ خصوصیات جو مجھے بار بار محسوس ہوتی ہیں وہ درج ذیل ہیں ؛
۱: انبیاء پر دوران مکاشفات گزرنے والے کیفیت کیسی ہوتی ہے اسکا ایک نقشہ آنکھوں کے سامنے گھوم جاتا ہے۔
۲: جب پیغمبروں پر مستقبل کی خبریں ظاہر کی جاتی ہیں تو وہ اسکی بابت مزید تفصیل جاننے کے لئے مزید وحی کے انتظار میں بے چینی کی کن کیفیات سے گزر رہے ہوتے ہیں ۔ اس صحیفے میں حضرت دانیال کی اس کیفیت کی بہت عمدہ منظر کشی کی گئی ہے۔
۳: اولالعزم رسولوں کے برعکس ایک عام نبی کے منصب کے دائرہ ء کار کو سمجھنے میں مدد گار صحیفہ ہے۔
۴: سورہ بنی اسرائیل میں بنی اسرائیل کے جن دو فسادوں کا ذکر ہے اور ساتھ میں یہ بھی خبر ہے کہ یہ بنی اسرائیل کے بارہ قبائل کو موسی علیہ سلام نے بتایا بھی تھا اور اسے کتاب کا حصہ بھی بنا دیا تھا وہ کہیں پہلی پانچ کتابوں میں نظر نہیں آتا ۔ لیکن اس صحیفے کے باب ۹ کی آیت ۱۱ میں حضرت دانیال اس واعدے کا ذکر فرماتے ہیں ۔

دانیال علیہ سلام جب قیدیوں کیساتھ قیدی بن کر بابل پہنچے تو اپنی وجاہت و جمال کی وجہ سے انھیں اور یہوداہ قبیلے کے تین اور لڑکوں کو مستقبل میں شاہی محل میں خدمتگار بننے کے لئے منتخب کرلیا گیا۔ شاہی خدمتگاری کی اس نوکری کے لئے تیار ہونے کے لئے انھیں شاہی درسگاہ میں تین سال کی ٹریننگ دی گئی جسمیں انھیں آرامی زبان کے لکھنے ،پڑھنے اور بولنے کے علاوہ مختلف علوم بھی سکھائے گئے۔ جیسے مصر کے بادشاہ نے ایک خواب دیکھا تھا جسکی وجہ سے حضرت یوسف کو بادشاہ کے قریب آنے کا موقعہ ملا بعینہ بخت نصر نے بھی ایک سچا خواب دیکھا تھا جسکی وجہ سے حضرت دانیال کو ٹریننگ کے دوران ہی بادشاہ تک رسائی حاصل ہوگئی اور بادشاہ نے ان سے متاثر ہوکر انھیں پورے بابل کے صوبے کا گورنر مقرر کردیا۔ بنی اسرائیل کو بابل میں غلام بنا کر لانے کے ستر سال بعد بابل کو حضرت ذوالقرنین نے فتح کرلیا۔ اس دوران پورے ستر سال تک حضرت دانیال بابل میں گاہے گاہے اعلی شاہی عہدوں پر فائز رہے۔ حضرت ذوالقرنین نے بھی حضرت دانیال کو قوم کیساتھ یروشلم لوٹنے کی بجائے اپنے ساتھ بطور مشیر رہنے کی گزارش کی جسے حضرت دانیال نے خدا کی اجازت سے قبول فرمالیا۔
صحیفہ دانیال عہدنامہ عتیق کی واحد کتاب ہے جو اصلا عبرانی کی بجائے اس دور کی سفارتی زبان یعنی آرامی میں لکھی گئی تھی۔ یہ صحیفہ بخت نصر کے دو خوابوں اور حضرت دانیال کے چار مکاشفات پر مشتمل ہے۔ حضرت دانیال کے چار مکاشفات بھی دراصل بخت نصر کے خواب کی تعبیر کی مزید تفصیل سے ہی متعلق ہیں ۔ اس خواب کی تعبیر میں پانچ سلطنتوں کا ذکر ہے جنھوں زریت ابراھیم کے علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لینا تھا، لیکن ان پانچوں سلطنتوں میں بنی اسرائیل کی کوئی سلطنت موجود نہیں تھی اسلئے اس صحیفے میں حضرت دانیال کی کیفیت شدید غم سے گزرتی نظر آتی ہے۔ ان پانچوں ریاستوں میں سے پانچویں ریاست حضرت ابراھیم کی اولاد کو عطاء کردہ امامت کے منصب کے تحت خدائی بادشاہت قائم ہوجانی تھی مگر یہ بنی اسرائیل کے ہاتھوں نہیں ہونی تھی ۔ زریت ابراھیم میں سے بنی اسرائیل کے اس مقصد کے لئے بطور منتخب قوم کے ہوتے ہوئے انھیں نظر انداز کرکے خدائی بادشاہت قائم ہونے کی خبر پر حضرت دانیال غم کیساتھ نڈھال ہوکر کھانا پینا ترک کرکے بیمار ہوجاتے ہیں اور بار بار خدا سے اس پانچویں ریاست ( یعنی خدائی بادشاہت) میں بنی اسرائیل کے کردار پر سوال کرتے ہیں جس کے درج ذیل الہامی جواب پر اس صحیفے کا اختتام ہوتا ہے۔
” اے دانیال ! تو اپنی زندگی گزارتا رہ ۔ یہ پیغام پوشیدہ ہے اور جب تک آخری وقت نہیں آئے گا پوشیدہ ہی بنا رہے گا۔ بہت سے لوگ اپنے آپ کو پاک کریں گے لیکن برے لوگ برے ہی بنے رہیں گے اور برے لوگ ان باتوں کو نہیں سمجھیں گے، لیکن دانش مند لوگ ان باتوں کو سمجھ جائیں گے۔ اے دانیال جہاں تک تیری بات ہے، جا اور آخری وقت تک اپنی زندگی گزار کر آرام کر۔ آخرت میں تو اپنا حصہ پانے کے لئے موت سے اٹھ کھڑا ہوگا”۔

بخت نصر کے مذکورہ بالا خواب ، جسکی شرح و وضاحت پورے صحیفے میں پھیلی ہوئی ہے، کی تعبیر میں پانچویں ریاست جوکہ محمد رسول اللہ ﷺ کے ہاتھوں قائم ہوئی کے متعلق مسیحی و یہود علماء ایسی ایسی تاویلیں کرتے ہیں کہ جو نہ اس تعبیر کے الفاظ سے میل کھاتی ہیں اور نہ ہی تاریخ سے۔ میں بخت نصر کے اس خواب اور حضرت دانیال علیہ سلام کی تعبیر کے متعلق لکھنا چاہ رہا تھا لیکن اس پہلے سوچا کہ یہ تعارفی پوسٹ لکھ کر پس منظر کو واضح کردیا جائے۔

صحیفہ دانیال میں بخت نصر کا خواب (۲) از مبین قریشی

 
Dr. Muhammad Hamidullah
Visit Website of Dr. Muhammad Hamidullah
ماخذ فیس بک

You might also like More from author

تبصرے

Loading...