عظمت قرآن۔۔۔۔ ابو یحیٰ

عظمت قرآن

ِ
قرآن مجید کے حوالے سے اس خاکسار نے پچھلے دنوں ایک مضمون لکھا(اس کا لنک کمنٹس میں موجود ہے) جس میں قرآن مجید کا قطعی الدلالت ہونا زیر بحث آیا تھا۔ بعض احباب نے اس ضمن میں کچھ مزید توضیحات طلب کی ہیں۔متفرق گفتگو ؤں میں ان باتوں کو کئی دفعہ دہرانے کے بعد اب اس کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ اس معاملے میں اپنا نقطہ نظر ایک دفعہ تحریری طور پر بیا ن کردیا جائے تاکہ بار بار سوالات کے جواب نہ دینے پڑیں۔
اس مسئلے کو یہ طالب علم ایک علمی نہیں بلکہ ایمانی پس منظر میں دیکھتا ہے۔قرآن مجید گرچہ آسمانی کتابوں میں سے ایک کتاب ہونے کی بنا پر ہمارے ایمانیات کا ایک حصہ ہے،

لیکن اس خاکسار کے نزدیک اس کا معاملہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی صفتِ کلام کا وہ ظہور ہے جو نہ کبھی پہلے ہوا نہ کبھی آئندہ ہوگا۔ عام وحی اور سابقہ کتب کے برعکس قرآن مجید کی شان یہ ہے کہ تاریخ نبوت میں پہلی اور آخری دفعہ اللہ تعالیٰ نے کسی نبی کے منہ میں اپنا کلام ڈالا۔ اس سے قبل انبیا پر وحی اترتی تھی جو ان کے الفاظ میں کتابوں میں مرتب ہوجاتی تھی۔ مگر قرآن مجید کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے الفاظ کاانتخاب بھی خود کیا ہے۔ پھر لوح محفوظ سے نبی علیہ السلام کے قلب اطہر اور پھر آپ کی زبان مبارک سے آج کے دن تک قرآن کی حفاظت کا بھرپور انتظام کیا گیا ہے۔

یہی وہ پس منظر ہے جس میں نبوت کا ادارہ جو انسانیت کے آغاز سے شروع کیا گیا تھا ، انسانی تاریخ کے ایک اہم ترین دور کے آغاز سے پہلے ہی ختم کردیا گیا۔ اب تاقیامت اللہ اور اس کے آخری نبی کی نسبت سے جو مستند ترین متن ہمارے پاس موجود ہے وہ یہی قرآن مجید ہے جو گویا اب خدا اور اس کے پیغمبر کے قائم مقام ہے۔
اسی پر بس نہیں ، قرآن مجید اپنے بارے میں جو کچھ کہتا ہے وہ اس کو مذہب کی پوری روایت میں انتہائی منفرد اور ممتاز کردیتا ہے۔ چند اہم مقامات ملاحظہ فرمائیے۔
11۔قرآن مجید کلام الہی ہے اور اس کے کلام الہی ہونے میں کوئی شک نہیں۔یہ اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے ہدایت ہے۔(البقرہ 2:2)

2۔ اس کلام کو اللہ نے نازل کیا ہے اور وہی اس کی حفاظت کرے گا۔(الحجر 9:15)

3۔اس کلام میں کوئی ٹیڑھ نہیں جو بالکل سیدھی بات کرنے والا کلام ہے(الکہف 1-2:15)۔
اسی کو دوسری جگہ واضح عربی کتاب کہا گیا کہ لوگ سمجھ سکیں(یوسف 1-2:122)۔

4۔باطل نہ اس کلام کے آگے سے آسکتا ہے نہ پیچھے سے۔(الفصلت 42:41)

5۔ کتاب الہی لوگوں کے اختلافات کا فیصلہ کرنے کے لیے اتاری گئی ہے۔ (البقرہ 213:2)

6 ۔یہ کتاب میزان ہے۔ یعنی وہ ترازو ہے جس میں رکھ کر ہر دوسری چیز کی قدر وقیمت طے کی جائے گی۔ (الشوریٰ 17:42)

7۔ یہ کتاب فرقان یعنی وہ کسوٹی ہے جو کھرے اور کھوٹے کا فیصلہ کرتی ہے ۔(الفرقان 1:25)

8- یہ کتاب تمام سلسلہ وحی پر مہیمن یعنی نگران ہے۔(المائدہ48:5)

9- ۔یہی وہ کتاب ہدایت جس کو ترک کردینے کا مقدمہ روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کے حضور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مخاطبین کے حوالے سے پیش کریں گے۔(الفرقان 30:25)
اللہ تعالیٰ نے دو ٹوک الفاظ میں قرآن مجید کی یہ حیثیت بیا ن کی ہے۔اس لیے جو کوئی بھی قرآن کے بارے میں قلم اٹھائے تو وہ سوچ لے کہ وہ اس شان کے کلام الہی کی بارگاہ میں کلام کرنے کی جرات کررہا ہے۔

اس تمہید کے بعد آئیے قرآن مجید کے قطعی الدلالہ ہونے کی طرف۔قطعی الدلالہ کا مطلب یہ ہے کہ الفاظ کی دلالت ان کے مفہوم پر قطعی نہیں ہے۔ اس بات کو ماننے کے دو بدیہی نتائج نکلتے ہیں۔ ایک یہ کہ زبان و بیان کے سارے اصولوں کو پامال کرکے قرآن مجید کی کسی آیت کا وہ مطلب نکالاجاسکتا ہے جو اس کے ظاہری الفاظ سے نہیں نکلتا۔ دوسرا یہ کہ کسی آیت کے بیک وقت کئی متضاد مفاہیم بیان کیے جائیں اور ان سب کو ٹھیک بھی مانا جائے۔یہ کلام کا اتنا بڑا عیب ہے کہ قرآن مجید کو تو چھوڑیے، اس عاجز جیسا ایک حقیر مصنف بھی اپنی تحریروں کی طرف اس طرح کے عیب کی نسبت کو اپنے لیے باعث ذلت سمجھے گا۔
واضح رہے کہ قرآن مجید کسی موقع پر قطعی الدلالہ کے الفاظ استعمال کرکے اسے کہیں براہ راست زیرِ بحث نہیں لایا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے یہ صفت ہر اس کلام کا لازمی جز ہے جس میں متکلم کے پیش نظر اپنی بات کا ابلاغ اور درست بات بتانا ہوتا ہے۔کسی متکلم کے پیش نظر اگر کلام کا ابلاغ ہی نہیں یا اسے اسالیب کلام پردسترس نہیں تو یہ دوسری بات ہے ۔

ورنہ اس مسلمہ کو مانے بغیر انسان کے علم بیان کی کوئی حیثیت ہے، نہ کوئی گفتگو، مکالمہ، معاہدہ بامعنی ہوسکتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کے پیش نظر اگر ہدایت کا ابلاغ ہے اور ساتھ میں وہ ساری حقیقتیں پیش نظر رہیں جو اوپر بیان ہوئیں تو یہ کیسے مانا جاسکتا ہے کہ قرآن قطعی الدلالہ نہیں۔یہ کیسے مان لیا جائے کہ قران کے ظاہری الفاظ سے جو مفہوم زبان وبیان کے مسلمہ اصولوں کی روشنی میں نکل رہاہے ، اسے چھوڑ کر خارج سے ڈالے گئے کسی مفہوم کو قبول کرلیا جائے۔یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک وقت میں چارمتضاد معنی کلام میں پائے جارہے ہوں۔

تاہم جیسا کہ ہم نے پچھلے ایک مضمون میں بعض مثالوں سے یہ عرض کیا تھا کہ اہل علم کے سامنے مسئلہ یہ آگیا تھا کہ بعض مسلمہ حقائق قرآن مجید کے بیانات کے برعکس بات سامنے لاتے ہیں۔تاہم اُس مضمون میں ہم نے یہ بات بھی واضح کردی تھی کہ امام فراہی نے قرآن مجید کی روشنی میں علم کی دنیا کی حد تک اس مسئلے کو حل کردیا ہے۔ گرچہ تعصبات کی دنیا میں کوئی مسئلہ ختم نہیں ہوتا۔ یہی بات (البقرہ 513:2) میں بھی بیان ہوئی ہے کہ لوگ تو کتاب الہی کے آنے کے بعد بھی ایک دوسرے کی ضد میں آکر اختلاف کرتے رہتے ہیں۔

اس دنیا میں لوگوں کا یہ حق ہے کہ وہ جس بات کا چاہے انکار کردیں اور جو چاہیں اختلاف کریں۔ان کا یہ حق یہ سر آنکھوں پر۔ مگر پھر دیانت داری کا تقاضہ یہ ہے کہ قرآن مجید کے ان صریحی بیانات کے بعد اگر قرآن قطعی الدلالہ نہیں تو پھر دنیا کے کسی بھی کلام کو قطعی الدلالہ نہیں مانا جاسکتا۔حتیٰ کہ ان چیزوں کو بھی نہیں جن چیزوں کو قرآن پر حاکم بنانے کے لیے قرآن کے قطعی الدلالہ ہونے کا انکار کیا جاتا ہے۔ اس طرح کی صورتحال پر سب سے اچھا تبصرہ مولانا مودودی نے کیا ہے کہ جو کچھ یہ حضرات قرآن مجید کے ساتھ کرتے ہیں، وہ اگر ان کی تحریروں کے ساتھ کیا جائے تو یہ لوگ چلا اٹھیں گے۔

ایک دلچسپ بات یہ کہی جاتی ہے کہ قرآن کا کچھ حصہ قطعی ہے اور کچھ نہیں۔ہم دیانت داری سے یہ سمجھتے ہیں اس طر ح کی رائے لوگ اس لیے قائم نہیں کرتے کہ انھیں قرآن سے اس کا کچھ اشارہ ملا ہے۔ بلکہ جیسا کہ امام فراہی کے حوالے سے عرض کیا گیاکہ ان کے کچھ مسائل ہیں جو حل نہیں ہوتے۔ ان کی خدمت میں صرف یہی درخواست ہے حضورکچھ زاویہ نظر بدلیں۔ ذہن کو وسیع کریں۔ مسئلہ ہوجائے گا۔اوپر ہم نے اللہ کا فیصلہ صاف الفاظ میں سنایا ہے کہ کتاب الہی لوگوں کے اختلافات کا فیصلہ کرنے آتی ہے،(البقرہ213:2) ۔اگر قرآن ظنی الدلالہ ہے اورایک وقت میں چار متضاد مفاہیم نکلنے کی گنجائش ہے تو پھر کتاب الہی کسی اختلاف کا فیصلہ کیسے کرسکتی ہے؟اگر آپ اپنے مقاصد کے لیے یہ کریں گے تو پھر جان لیں کہ بات یہاں تک نہیں رکے گی ، پھر باقی لوگ اپنے اپنے مقاصد کے لیے یہی کام کریں گے۔ آپ فقہی احکام میں یہ کام کریں گے دوسرے ایمانیات میں یہ کام کردیں گے۔

اب یہ بھی دیکھ لیجیے کہ جب الفاظ کی دلالت اپنے مفہوم پر قطعی نہیں مانی جاتی تو اس اصول کو اپنا کر لوگ قرآن مجید کے ساتھ کیا کچھ کرتے ہیں۔ ایک گروہ کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حاضر و ناظر ہیں۔غیر اللہ کو پکارنا، مدد مانگنا، دعا کرنا یہ سب قرآن سے ثابت ہے۔ایک گروہ کے نزدیک ایک نئی نبوت کا اعلان خود قرآن میں موجود ہے۔ ایک گروہ کے نزدیک صحابہ کرام کا ارتداد اور نبوت کے بعد امامت کے سلسلے کا بیان خود قرآن سے ثابت ہے۔ایک گروہ کے نزدیک معجزات قرآن اور تمام خارق العادات واقعات جو قرآن مجید میں بیان ہوئے ہیں وہ معنی ومفہوم نہیں رکھتے جو ظاہری الفاظ سے ثابت ہوتا ہے۔ سب سے بڑھ کر مستشرقین کا گروہ ہے جو قرآن مجید سے کبھی گرامر کی غلطیاں نکالتا ہے اور کبھی اسے ساتویں صدی عیسوی کی سائنس کا ناقص بیان کہتا ہے۔

یہ سارے نقطہ ہائے نظر اصل میں قرآن مجید کے انھی بیانات کو نظر انداز کرنے سے پھوٹے ہیں جو اوپر خود قرآن مجید کے حوالے سے بیان ہوئے ہیں۔اس حوالے سے جو کچھ بھی سطحی باتیں کی جاتی ہیں، ہم قارئین کی خدمت میں صرف یہی عرض کریں گے کہ اگر وہ ان باتوں کو درست سمجھتے ہیں تو قرآن کو تختہ مشق بنانے سے قبل پہلے یہ تحریریں لکھنے والوں کے کلام پر انھی اصولوں کو منطبق کرکے ذرا وہ سب کچھ کریں جو لوگ قرآن کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارے پاس نہ اتنا وقت ہے نہ یہ کرنے کا کوئی کام ہے کہ ہم قطعی الدلالہ کے بدیہی وصف کو نہ مان کر دوسروں کی کسی تحریرکا پوسٹ پارٹم ایسے ہی کریں جیسا سلوک وہ قرآن مجید کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں۔ ہم اپنے قارئین پر صرف ایک حقیقت واضح کرنا چاہ رہے ہیں۔ وہ یہ کہ اوپر جو کچھ قرآن مجید کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے کہا ہے وہ انھوں نے کسی اور دوسری چیز کے بارے میں نہیں کہا۔ قرآن مجید کے سواکسی اور مذہبی کتاب، کسی پیغمبرسے منسوب کلام،کسی عالم اور محقق کی رائے کے بارے میں اللہ تعالیٰ اس طرح کی کوئی بات نہیں کہتے۔اگر قرآن قطعی الدلالہ نہیں تو کچھ اور بھی نہیں ہوسکتا۔

یہاں یہ بات واضح رہے کہ کسی کویہ غلط فہمی نہ ہو کہ ہم سرکار دوعالم کے منصب یا حیثیت کو کسی پہلو سے کم کرنے کی جرات کررہے ہیں۔ رسول کی ہستی دین کا ماخذ ہے۔ سرکار دوعالم کی عطا کی ہوئی ہر چیز قرآن ہی کی طرح حجت ہے۔ لیکن آپ نے جو دین قرآن کی طرح اجماع و تواتر سے ہم تک منتقل کیا ہے وہ سنت یا دین کا عملی ڈھانچہ ہے۔ باقی جو ذخیرہ حدیث ہمارے سامنے موجود ہے وہ بڑا قیمتی ہے مگر اسے لوگوں نے اپنی صوابدید پر جتنا چاہا اور جس نے چاہا آگے منتقل کیا۔ اس کی حفاظت کا وعدہ اور اہتمام نہ اللہ نے کیا، نہ سرکار دوعالم نے کوئی اہتمام کیا نہ خلفائے راشدین نے خود یہ کام باہتمام کیا نہ اپنی حکومت کے ذریعے سے اس حوالے سے ایسا کوئی کام کیاجیسا انھوں نے حفاظت قرآن کے لیے کیا تھا۔یہ ایک ناقابل ترید تاریخی مسلمہ ہے۔ اس کے بعد جو کچھ منتقل ہوا وہ ہمارے آقا علیہ السلام سے منسوب ہونے کی بنا پر سرآنکھوں پر، لیکن اسے قرآن مجید ہی کی روشنی میں دیکھاجائے گا۔ یہی وہ طریقہ ہے جس سے ہم انسانی آمیزش سے در آنے والی خرابیوں سے بچتے ہوئے اس ذخیرے سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔

چنانچہ اصولی بات وہی ہے کہ اگرقرآن قطعی الدلالہ نہیں ہیں تو پھر کوئی اور چیزبدرجہ اولیٰ نہیں ہیں۔ اس لیے طریقہ یہی ہے کہ قرآن مجید کی وہ حیثیت مان لی جائے جو اللہ تعالیٰ نے خود بیان کی ہے۔ یعنی یہ حکم ہے جو ہر اختلاف کا فیصلہ کرنے آئی ہے، یہ میزان ہے، فرقان ہے، کتاب محفوظ ہے، باطل کی دراندازی سے پاک ہے،تمام سلسلہ وحی پر نگراں ہے، صاف ، واضح ، سیدھی اور روشن ہدایت ہے۔اس کے بعد ہر مذہبی چیز قرآن کی روشنی میں سمجھی جائے گی۔ اس کا امکان پھر بھی رہے گا کہ چار لوگ قرآن کی بات کے چار مختلف مفاہیم بیان کریں۔ مگر سب لوگ بیک وقت ٹھیک نہیں ہوسکتے ۔زبان وبیان کے مسلمہ دلائل کی روشنی میں غلطی کو واضح کیا جاسکتا ہے۔ کسی کو اپنی غلطی کا ادراک نہیں ہوپاتا اور وہ اپنے نقطہ نظر پر قائم رہتا ہے تو گرچہ اس کی غلطی پھر بھی غلطی ہی رہے گی ، مگر قیامت کے دن وہ غلطی کے باوجود ایک اجر پائے گا۔

لیکن اگر قرآن کو اصول ہی میں وہ حیثیت نہیں دی گئی جو قرآن مجید کے اپنے بیانات سے واضح ہے تو پھر ایک طرف تو بنیادی ایمانیات اور بنیادی دینی مطالبات میں بھی قرآن کے ہوتے ہوئے گمراہی کا راستہ ہم خود کھول دیں گے اور دوسری طرف قیامت میں اللہ کے حضور اس حال میں پیش ہوں گے کہ قرآن مجید کی اس حیثیت کے انکار کا الزام ہم پر عاید ہوگا جو صریح ترین الفاظ میں اللہ تعالیٰ نے خود بیان کی ہے۔اب جس میں ہمت ہے وہ روزِ قیامت اللہ کے سامنے کھڑے ہوکر اس صریح انکار کی وضاحت کرتا پھرے۔اس فقیر میں کم از کم یہ جرات نہیں ہے۔

پس نوشت

ہماراکام کسی بحث کو ختم کرنا نہیں۔ جیسا کہ قرآن مجید کے حوالے سے اوپر بیان ہواکہ لوگ تو کتاب الہی کے آنے کے بعد بھی ضد میں آکر بحث کرتے رہتے ہیں۔ ہمارا کام صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بات کو سامنے لایا جائے۔اس کے بعد لوگ جانیں اور ان کا پروردگار۔

ابویحی ، Abu Yahya

Dr. Muhammad Hamidullah
Visit Website of Dr. Muhammad Hamidullah

You might also like More from author

تبصرے

Loading...