قتل انبیاء کی حقیقت تحریر: محمد نعیم خان

قتل انبیاء کی حقیقت

تحریر: محمد نعیم خان

تل انبیاء کے حوالے سے یہ عقیدہ پایا جاتا ہے کہ انسانوں کی ہدایت کے لیے اللہ نے جن انسانوں کو منتخب کیا ان میں سے کچھ تو انبیاء تھے اور کچھ رسول ۔ انبیاء کے متعلق یہ تصور ہے کہ وہ قتل بھی ہو جاتے تھے لیکن کیوں کہ رسول ، اللہ کی عدالت بن کر اِس زمین پر آتے تھے اِس لیے ان کے منکرین پر عذاب آتا تھا . اِس لیے یہ قتل نہیں ہو سکتے تھے .

لیکن جب قران کا مطالعہ کیا جائے بغیر کسی عقیدہ کو ذہن میں رکھتے ہوئے تو قران کا ادنی سا قاری بھی یہ بات بخوبی جان جائے گا کہ قران نے جن کو انبیا کہہ کر مخاظب کیا ہے ان ہی کو رسول کہہ کر بھی پکارا ہے۔ جس طرح قران کی چھ آیات میں انبیا کے قتل کا ذکر ہے وہیں تین آیات میں رسولوں کے قتل کا بھی ذکر ملتا ہے۔

اس حوالے سے وہ آیات جن میں انبیاء کے قتل کا ذکر ہے ان میں سورہ بقرہ کی آیات 61 ، 91 ، سورہ آل عمران کی آیات 21 ، 112 ، 181 ، سورہ نسا کی آیت 155 شامل ہیں . پِھر وہ آیات جن میں رسولوں کے قتل کا ذکر ہے ان میں سورۃ بقرہ کی ایت 87 ، سورہ ال عمران کی ایت183 ، سورۃ المائدہ کی ایت 70 شامل ہیں . کیوں کہ زیادہ تر مفسرین نے رسول اور نبی میں فرق کیا ہے اِس لیے قتل انبیا پر کلام کرنے سے پہلے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ نبی اور رسول میں قران کی رو سے فرق ہے یا نہیں .

اس سلسلے میں اپنے ایک بہت ہی محترم دوست محمد حنیف صاحب کی نبی اور رسول میں فرق کی تحریر سے کچھ اقتباسات یہاں منتقل کر رہا ہوں ۔ جو اس سلسلے کی بہترین کاوش ہے۔ محمد حنیف صاحب لکھتے ہیں :

”آئیے سب سے پہلے ھم ، قرآن کریم سے اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ھیں کہ کیا نبی و رسول ، دو مختلف شخصیات ھوتی ھیں یا یہ ایک ھی بات ھے ۔۔۔

نبی

عربی زبان میں لفظ ” نبی ” کا مادہ ” نباء ” ھے ۔۔ جس کے معنی خبر دینا ھے ۔۔ ابن فارس ۔۔ تاج العروس ۔۔۔۔

قرآن کریم میں ارشاد ھے ۔۔۔۔

نَبِّئْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ [15:49] میرے بندوں کو اطلاع دے کہ بےشک میں بحشنے والا مہربان ہوں [احمد علی]

مزید ارشاد فرمایا ۔۔

وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ إِبْرَاهِيمَ [26:69] اور انہیں ابراھیم کی خبر سنا دے [احمد علی]

چنانچہ آیات بالا سے اس مادہ ” نباء” کے معنی خبر دینے کے ھیں ۔۔ اس جہت سے نبی ، خبر دینے والے کو کہتے ھیں ۔۔

اس کے ساتھ ھی اس لفظ نبی کا ایک اور مادہ ” نبو ” بھی ھے جسکہ معنی بلندی کے ھیں “النبی ” بلند جگہ کو کہتے ھیں ، نیز بلند نشان راہ ، جس سے راھنمائی حاصل کی جائے ۔۔(تاج العروس)

چنانچہ کوئی انسان جس سے اس کا رب مخاطب ھو ، اسے وحی کا علم عطا فرمائے ، وہ اپنے علم کی وجہ سے بلند و بالا مقام پر کھڑا ھوتا ھے ۔۔ وہ دوسرے انسانوں کے لیے نشان راہ ھوتا ھے ۔۔ اس عظیم المرتبت انسان کو قرآن ” نبی ” کہتا ھے ۔۔۔۔

رسول

عربی زبان کے مطابق ” رسول ” کا مادہ ” ر س ل ” ھے ۔۔ اس کے معنی اطمینان و سکون کے ساتھ چل پڑنا ھے ۔۔ (تاج العروس )

الارسال کے معنی بھیجنے کے ھیں ۔۔ الرسول ۔۔۔ جو شخص خدا کی طرف سے بندوں کی طرف بھیجا جائے ، خود وہ شخص بھی رسول کہلاتا ھے ، اور اس کا پیغام بھی رسول کہلاتا ھے ۔۔ یعنی لفظ رسول ۔۔ “رسالۃ ” اور” مرسل ” دونوں معنوں میں آتا ھے ( تاج العروس )

اس جہت سے رسول اس انسان کو کہیں گے ، جو اپنے بھیجنے والے کی طرف سے مسلسل بتدریج ،نہایت نرم روی سے پیغام دے ۔۔ نیز اس کا پیغام خود بھی رسول ھوتا ھے ۔۔ اس جہت سے ھر نبی و رسول کی کتاب بھی ” رسول ” ھوتی ھے ۔۔۔

وہ انسان جسے وحی خداوندی عطا فرما دی گئ ھو ، علم یقینی کا مالک ھو جاتا ھے ۔۔ وہ کائنات میں خدائے بزرگ و برتر ، علیم و خبیر کے بعد ، سب سے زیادہ علیم و خبیر ھوتا ھے ۔۔ اور اپنی اس جداگانہ حیثیت کی بناء پر ، دوسرے انسانوں کے مقابلے میں سب سے بلند و بالا مقام پر فائز ھو جاتا ھے ۔۔

سوال یہ ھے کہ اس بلند و بالا حیثیت کو پا لینے کے بعد وہ کیا کرتا ھے ۔۔

کیا وہ انسان محض لوگوں تک اپنے رب کی بات پہنچانے تک ھی محدود رھتا ھے ؟؟

کیا وہ پیغام ربانی کو لوگوں تک پہنچا کر ، اس مقصد کو حاصل کر لیتا ھے ، جس کے لیے اس کا انتخاب ، مشیت اپنے لامحدود علم کی بناء پر کرتی ھے ؟؟

اس سوال کے جواب میں قرآن کریم کا یہ بیان کہ اس منصب جلیلہ کے لیے مشیت نے اپنے بندوں میں ،صرف اور صرف مردوں کا ھی انتخاب کیا ۔۔ ایک ایسی چشم کشا حقیقت کو آشکار کرتا ھے کہ نبی و رسول کا منصب محض پیغام ربانی کو دوسرے لوگوں تک پہنچانے کا ھی نام نہیں ۔۔

بلکہ اس منصب کا تقاضہ ، ربانی ھدایت کی روشنی میں ، ایک ایسے معاشرے کا قیام ھے ، جو مقصود پروردگار ھے ۔۔ اور یہ مرحلہ کس درجہ کٹھن اور جاں گسل ھوتا ھے ، قرآن کریم میں تمام انبیاء و رسل کے واقعات میں اس کا بیان ، رونگٹے کھڑے کر دینے والا ھے ۔۔

اور ظاھر ھے کہ اپنی جسمانی ساخت اور نازکی ، کی وجہ سے کوئی خاتون اس مشکل اور کٹھن راہ کا مسافر بن ھی نہیں سکتی تھی ۔۔

چنانچہ اس مقام پر ، ھمیں اس بلند و بالا شخصیت کے حقیقی مقام کا ادراک ھو جاتا ھے ۔۔ ایک طرف وہ اپنے مرتبہ عظیم کی بناء پر اللہ کا نبی ھوتا ھے ، تو اس کے ساتھ ھی وحی ربانی کو لوگوں تک پہنچانے ، اور اس وحی کی روشنی میں ایک معاشرے کی تشکیل، اور اللہ کریم کے عطا کئے ھوئے ضابطہ حیات کے عملی نفاذ کی جدوجہد کرنے کی جہت سے ایک رسول ھوتا ھے ۔۔

وہ نہایت ھی آھستہ خرامی سے ، بتدریج ، ایک ایسی ٹیم کی تشکیل کرتا ھے جو بعد میں اس دنیا میں ، دین کے تمکن اور عملی نفاذ کو ممکن بنا دیتی ھے ۔۔

نبی و رسول ایک ھی شخصیت کے دو عہدے ھیں ۔۔ جو ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ھیں ۔

یہ ممکن ھی نہیں کہ کوئی انسان رسول ھو ، لیکن وہ بلند و بالا حیثیت کا مالک نہ ھو ۔ اس ھی طرح یہ بھی ناممکن ھے کہ اللہ کریم کسی انسان کو وحی جیسے عظیم المرتبت نعمت سے نوازے ، اور وہ ایک بلند و بالا مرتبہ کے مالک بن جانے کے بعد ، اس وحی ربانی کو دوسروں تک منتقل نہ کرے ۔۔

قرآن کریم نے تمام انبیاء علیہ سلام کو ، رسول بھی کہا ھے ۔۔ جس طرح وہ تمام انبیاء علیہ سلام پر ایمان کا تقاضہ کرتا ھے ، اس ھی طرح وہ تمام مرسلین پر ایمان کا مطالبہ بھی کرتا ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ارشاد باری تعالٰی ھے ۔۔۔۔۔۔

آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ ۔۔۔ 2/177 اللہ پر ایمان ، روز قیامت پر ایمان ، اللہ کے ملائکہ پر ایمان ، اللہ کی نازل کی ھوئی کتابوں پر ایمان ، اللہ کے بھیجے ھوئے انبیاء پر ایمان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید ارشاد فرمایا ۔۔۔۔۔۔۔۔

آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ ۔۔۔ ٢:٢٨٥] اللہ پر ایمان ، اللہ کے ملائکہ پر ایمان ، اللہ کی نازل کی ھوئی کتابوں پر ایمان ، اللہ کے بھیجے گئے رسولوں پر ایمان ۔۔۔

کسی مومن کا ایمان مکمل ھو نہیں سکتا ، اگر وہ ان میں سے کسی ایک سے بھی انکار کر دے ۔۔ یا کسی ایک کو اپنے ایمان کا جز نہ قرار دے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قرآن کریم اس گمراہ کن عقیدے کو جڑ سے کاٹ پھینکتا ھے جب وہ ان ھی اصحاب کو جنھیں وہ نبی کہہ کر پکارتا ھے ، اپنے رسول بھی قرار دیتا ھے ۔۔ چنانچہ ارشاد فرمایا ۔۔۔

وَوَهَبْنَا لَهُۥٓ إِسْحَـٰقَ وَيَعْقُوبَ ۚ كُلًّا هَدَيْنَا ۚ وَنُوحًا هَدَيْنَا مِن قَبْلُ ۖ وَمِن ذُرِّيَّتِهِۦ دَاوُۥدَ وَسُلَيْمَـٰنَ وَأَيُّوبَ وَيُوسُفَ وَمُوسَىٰ وَهَـٰرُونَ ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ ﴿84﴾ وَزَكَرِيَّا وَيَحْيَىٰ وَعِيسَىٰ وَإِلْيَاسَ ۖ كُلٌّ مِّنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ﴿85﴾ وَإِسْمَـٰعِيلَ وَٱلْيَسَعَ وَيُونُسَ وَلُوطًا ۚ وَكُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى ٱلْعَـٰلَمِينَ﴿86﴾ وَمِنْ ءَابَآئِهِمْ وَذُرِّيَّـٰتِهِمْ وَإِخْوَٰنِهِمْ ۖ وَٱجْتَبَيْنَـٰهُمْ وَهَدَيْنَـٰهُمْ إِلَىٰ صِرَٰطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿87﴾ ذَٰلِكَ هُدَى ٱللَّـهِ يَهْدِى بِهِۦ مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ ۚ وَلَوْ أَشْرَكُوا۟ لَحَبِطَ عَنْهُم مَّا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ﴿88﴾ أُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَـٰهُمُ ٱلْكِتَـٰبَ وَٱلْحُكْمَ وَٱلنُّبُوَّةَ ۚ فَإِن يَكْفُرْ بِهَا هَـٰٓؤُلَآءِ فَقَدْ وَكَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّيْسُوا۟ بِهَا بِكَـٰفِرِينَ ﴿89﴾ أُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ هَدَى ٱللَّـهُ ۖفَبِهُدَىٰهُمُ ٱقْتَدِهْ ۗ قُل لَّآ أَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا ۖ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرَىٰ لِلْعَـٰلَمِينَ ۔۔ 6/90

اور ہم نے ان کو اسحاق دیا اور یعقوب ہر ایک کو ہم نے ہدایت کی اور پہلے زمانہ میں ہم نے نوح کو ہدایت کی اور ان کی اولادمیں سے داؤد کو اور سلیمان کو اور ایوب کو اور یوسف کو اور موسیٰ کو اور ہارون کو اور اسی طرح ہم نیک کام کرنے والوں کو جزا دیا کرتے ہیں (84) اور (نیز) زکریا کو اور یحيٰ کو اور عیسیٰ کو اور الیاس کو، سب نیک لوگوں میں سے تھے (85) اور نیز اسماعیل کو اور یسع کو اور یونس کو اور لوط کو اور ہر ایک کو تمام جہان والوں پر ہم نے فضیلت دی (86) اور نیز ان کے کچھ باپ دادوں کو اور کچھ اولاد کو اور کچھ بھائیوں کو، اور ہم نے ان کو مقبول بنایا اور ہم نے ان کو راه راست کی ہدایت کی (87) اللہ کی ہدایت ہی ہے جس کے ذریعے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے اس کی ہدایت کرتا ہے اور اگر فرضاً یہ حضرات بھی شرک کرتے تو جو کچھ یہ اعمال کرتے تھے وه سب اکارت ہوجاتے (88) یہ لوگ ایسے تھے کہ ہم نے ان کو کتاب اور حکمت اور نبوت عطا کی تھی سو اگر یہ لوگ نبوت کا انکار کریں تو ہم نے اس کے لئے ایسے بہت سے لوگ مقرر کردیئے ہیں جو اس کے منکر نہیں ہیں (89) یہی لوگ ایسے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی تھی، سو آپ بھی ان ہی کے طریق پر چلیئے آپ کہہ دیجیئے کہ میں تم سے اس پر کوئی معاوضہ نہیں چاہتا یہ تو صرف تمام جہان والوں کے واسطے ایک نصیحت ہے ۔۔ ترجمہ جناب محمد جونا گڑھی صاحب

آیت بالا میں ، ان تمام حضرات علیہ سلام کو اللہ کا نبی کہا گیا ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مزید ارشاد فرمایا ۔۔۔

وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ ۚ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ ۚ مَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا [4:157] اور ان کے اس کہنے پر کہ ہم نے مسیح عیسیٰ مریم کے بیٹے کو قتل کیا جو الله کا رسول تھا حالانکہ انہوں نے نہ اسے قتل کیا اور نہ سولی پر چڑھایا لیکن ان کو اشتباہ ہو گیا اورجن لوگوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا ہے وہ بھی دراصل شک میں مبتلا ہیں ان کے پا س بھی اس معاملہ میں کوئی یقین نہیں ہے محض گمان ہی کی پیروی ہے انہوں نے یقیناً مسیح کو قتل نہیں کیا [احمد علی]

مزید فرمایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِسْمَاعِيلَ ۚ إِنَّهُ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَكَانَ رَسُولًا نَّبِيًّا [19:54]

اور اس کتاب میں اسماعیلؑ کا ذکر کرو وہ وعدے کا سچا تھا اور رسُول نبی تھا [ابوالاعلی مودودی]

مزید فرمایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

إِنَّا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ كَمَا أَوْحَيْنَا إِلَىٰ نُوحٍ وَالنَّبِيِّينَ مِن بَعْدِهِ ۚ وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَعِيسَىٰ وَأَيُّوبَ وَيُونُسَ وَهَارُونَ وَسُلَيْمَانَ ۚ وَآتَيْنَا دَاوُودَ زَبُورًا [4:163]

اے محمدؐ! ہم نے تمہاری طرف اُسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نوحؑ اور اس کے بعد کے پیغمبروں کی طرف بھیجی تھی ہم نے ابراہیمؑ، اسماعیلؑ، اسحاقؑ، یعقوبؑ اور اولاد یعقوبؑ، عیسیٰؑ، ایوبؑ، یونسؑ، ہارونؑ اور سلیمانؑ کی طرف وحی بھیجی ہم نے داؤدؑ کو زبور دی [ابوالاعلی مودودی

وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنَاهُمْ عَلَيْكَ مِن قَبْلُ وَرُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَيْكَ ۚ وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًا [4:164]

ہم نے اُن رسولوں پر بھی وحی نازل کی جن کا ذکر ہم اِس سے پہلے تم سے کر چکے ہیں اور اُن رسولوں پر بھی جن کا ذکر تم سے نہیں کیا ہم نے موسیٰؑ سے اِس طرح گفتگو کی جس طرح گفتگو کی جاتی ہے [ابوالاعلی مودودی]

رُّسُلًا مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا [4:165]

یہ سارے رسول خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجے گئے تھے تاکہ اُن کو مبعوث کردینے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلہ میں کوئی حجت نہ رہے اور اللہ بہرحال غالب رہنے والا اور حکیم و دانا ہے [ابوالاعلی مودودی]

آیات بالا میں ، ان ھی حضرات علیہ سلام کو ، جنھیں ان سے پہلے کی آیات میں انبیاء علیہ سلام کہا گیا ھے ، اللہ کے رسول کہا گیا ھے ۔۔۔

چنانچہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ھے کہ نبوت و رسالت ایک ھی شخصیت کے دو عہدے ھیں ۔۔

ھمارے قرآنی فکر کے دعوے دار احباب کا یہ عقیدہ ( حالانکہ یہ عقیدہ درحقیقت ” بہائی ” فرقہ کا عقیدہ ھے ) بھی سامنے آیا ھے کہ نبی صاحب کتاب ھوتا ھے ۔۔ لیکن رسول ، صاحب کتاب نہیں ھوتا ۔۔ چنانچہ اس جہت سے وہ نبی و کتاب کے خاتمے کو تو مانتے ھیں لیکن ھر دور میں کسی رسول کے ھونے کے قائل ھیں ، جو کتاب آخر یعنی قرآن کریم کی تعلیمات کو عام کرے اور دین کے عملی نفاذ کی جدوجہد کرے ۔۔

لیکن قرآن کریم اس باطل عقیدے کو بھی تسلیم نہیں کرتا ۔۔ چنانچہ ایک طرف وہ تمام انبیاء علیہ سلام کی طرف کتاب کے نزول کو بیان کرتا ھے ، تو تمام رسولوں کی طرف بھی وحی خداوندی کا پتہ بھی دیتا ھے ۔۔۔

چنانچہ ارشاد باری تعالٰی ھے ۔۔۔

لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ۖ وَأَنزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ ۚ إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ [57:25] بیشک ہم نے اپنے رسولوں کو واضح نشانیوں کے ساتھ بھیجا اور ہم نے اُن کے ساتھ کتاب اور میزانِ عدل نازل فرمائی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہو سکیں، اور ہم نے (معدنیات میں سے) لوہا مہیّا کیا اس میں (آلاتِ حرب و دفاع کے لئے) سخت قوّت اور لوگوں کے لئے (صنعت سازی کے کئی دیگر) فوائد ہیں اور (یہ اس لئے کیا) تاکہ اللہ ظاہر کر دے کہ کون اُس کی اور اُس کے رسولوں کی (یعنی دینِ اسلام کی) بِن دیکھے مدد کرتا ہے، بیشک اللہ (خود ہی) بڑی قوت والا بڑے غلبہ والا ہے، [طاہر القادری]

آیت بالا میں تمام رسولوں پر کتاب کے نزول کا بیان ھے ۔۔۔۔ مزید فرمایا ۔۔

كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً فَبَعَثَ اللَّهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ وَأَنزَلَ مَعَهُمُ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِيمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ ۚ وَمَا اخْتَلَفَ فِيهِ إِلَّا الَّذِينَ أُوتُوهُ مِن بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ ۖ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِهِ ۗ وَاللَّهُ يَهْدِي مَن يَشَاءُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ [2:213]

سب لوگ ایک دین پر تھے پھر الله نے انبیاء خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے بھیجے اور ان کے ساتھ سچی کتابیں نازل کیں تاکہ لوگوں میں اس بات میں فیصلہ کرے جس میں اختلاف کرتے تھےاور اس میں اختلاف نہیں کیا مگر انہیں لوگوں نے جنھیں وہ (کتاب) دی گئی تھی اس کے بعد کہ ا ن کے پاس روشن دلیلیں آ چکی تھیں آپس کی ضد کی وجہ سے پھر الله نے اپنے حکم سے ہدایت کی ان کو جو ایمان والے ہیں اس حق بات کی جس میں وہ اختلاف کر رہے تھے اور الله جسے چاہے سیدھے راستے کی ہدایت کرتا ہے [احمد علی]

آیت بالا میں ، تمام انبیاء پر کتاب اللہ کے نزول کا بیان ھے ۔۔۔

بات تو عقل و شعور کی ھے ۔۔ کوئی بھی پیام بر ، کیا کرنے آئے گا اگر اس کے ساتھ ھدایت ھی نہ ھو ۔۔ وہ کس شئے کی تبلیغ و ترویج کرے گا ؟؟

دلائل بالا اور آیات قرآنی کی روشنی میں یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ھے کہ نبی یا رسول ، ایک ھی شخصیت کے دو روپ ھیں ۔۔ وحی خداوندی کے حصول کی وجہ سے وہ ھی شخصیت اپنے بلند و بالا عظیم منصب پر ایک نبی کے نام سے فائز ھوتی ھے ، تو اس وحی خداوندی کو دوسرے انسانوں تک پہنچانے اور اس وحی کی روشنی میں دین کے نفاذ کی عملی جدوجہد کرنے کا عمل رسالت کہلاتا ھے ۔۔

ھر نبی رسول ھوتا ھے ۔۔ اور ھر رسول نبی ھوتا ھے ۔۔

وحی ربانی کی عدم موجودگی میں کوئی انسان نہ تو نبوت کا دعویٰ کر سکتا ھے اور نہ ھی رسالت کا ۔۔

یہ تصور کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بعد ، انبیاء کی آمد کا سلسلہ تو ختم ھوگیا ھے ۔۔ نزول وحی کا سلسلہ تو ختم ھو گیا ھے ۔۔ لیکن اس کتاب آخر کی تعلیم ، اس کے نفاذ کے لیے رسولوں کی آمد جاری و ساری ھے ۔۔ مکمل طور پر غیر قرآنی عقیدہ ھے ۔۔

کسی نبی و رسول کے جانے کے بعد ، اس کی کتاب پر عمل درآمد کے لیے کسی رسول کی آمد تو بہت دور کی بات ھے ، کسی دور میں دو رسولوں کی ایک ھی وقت بعثت بھی ، الگ الگ وحی خداوندی کے بغیر ممکن نہ تھی ۔۔

حضرت موسیٰ علیہ سلام ، اور حضرت ھارون علیہ سلام ایک ھی وقت میں اللہ کے رسول تھے ۔۔ قرآن ھمیں موسٰی علیہ سلام کی کتاب کا بتاتا ھے ۔۔ تو پھر حضرت ھارون علیہ سلام پر کسی اور کتاب کے نزول کی کیا ضرورت تھی ۔۔ لیکن قرآن اس حوالے سے واضح بیان فرماتا ھے ۔۔۔۔ ارشاد ھے ۔۔

وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَىٰ وَهَارُونَ الْفُرْقَانَ وَضِيَاءً وَذِكْرًا لِّلْمُتَّقِينَ [21:48]

اور البتہ تحقیق ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فیصلہ کرنے والی اور روشنی دینے والی اور پرہیز گاروں کو نصیحت کرنے والی کتاب دی تھی [احمد علی]

سوال یہ ھے کہ ایک ھی وقت میں ، ایک ھی قوم پر دو رسول موجود ھوں ، تب بھی ان دونوں کی رسالت مکمل نہیں ھوتی ، اگر ان پر اللہ کریم کی طرف سے وحی نازل نہ ھوتی ھو ۔۔ بغیر وحی کے نہ نبوت کا تصور ھے اور نہ ھی رسالت کا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“

 اوپر کی تحریر کے بعد تو یہ روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ نبی اور رسول ایک ہی شخصیت کے دو عہدے ہیں ۔ جو بھی تعریف علماء نبی اور رسول کے فرق کی پیش کرتے ہیں اس کی کوئ سند کتاب و سنت میں نہیں ملتی۔ اپ قران شروع سے اخر تک پڑھتے جائیں آپ کو ایسی کوئی بات نہیں ملے گی جو ہمارے علماء یا مفسرین بیان کرتے ہیں ۔ لیکن آگے بڑھنے سے پہلے ایک اعتراض کا ازالہ ضروری ہے جو غامدی مکتبہ فکر کی طرف سے اٹھایا جاتا ہے جو سورہ الحج کی ایت 52 دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں اور یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس آیت میں رسول اور نبی مطلق جمع اور مغایرات کے استعمال ہوا ہے یعنی دو چیزوں کو جمع کیا گیا ہے اور ان دونوں میں فرق ہے اور دونوں میں حرف ”و“ اس بات کی دلیل ہے کہ ان میں فرق ہے۔ آیت کچھ یوں ہے:

وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّىٰ أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ فَيَنسَخُ اللَّـهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللَّـهُ آيَاتِهِ ۗ وَاللَّـهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ﴿52﴾

اور ہم نے آپ سے پہلے کوئی ایسا رسول یا نبی نہیں بھیجا ہے کہ جب بھی اس نے کوئی نیک آرزو کی تو شیطان نے اس کی آرزو کی راہ میں رکاوٹ ڈال دی تو پھر خدا نے شیطان کی ڈالی ہوئی رکاوٹ کو مٹا دیا اور پھر اپنی آیات کو مستحکم بنادیا کہ وہ بہت زیادہ جاننے والا اور صاحبِ حکمت ہے(52)

یہ ضروری نہیں کہ حرف ”و“ ہمیشہ جمع اور مغایرات کے لئے استعمال ہوتا ہو۔ حرف ”و“ کے متعلق یہ بات سمجھ لیں کہ یہ متعدد معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ جیسے ”اور“ کے معنوں میں (سورہ السجدہ آیت 27). یہ ”ساتھ“ کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے (سورہ یونس آیت 71)۔ اس کے علاوہ یہ“ یا“ کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے (سورہ ال عمران کی آیت 112)۔ آخر میں یہ“ یعنی“ کے معنوں میں ، جسے واو تفسیری کہتے ہیں (سورہ انبیا آیت 69) .

قران کے متعدد مقامات پر رسول و نبی مترادف معنوں میں استعمال ہوئے ہیں جیسے کہ سورہ مریم کی آیت 51 اور 54 میں حضرت موسئ اور حضرت اسماعیل کو رَسُولًا نَّبِيًّا کہہ کر مخاطب کیا ہے۔ اس کے علاوہ اگر سورہ المائدہ کی آیت 15 پر غور کریں

يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِّمَّا كُنتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ ۚ قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّـهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ ﴿15﴾

اے اہل کتاب، ہمارا پیغمبر تمھارے پاس آگیا ہے جو کتاب الٰہی کی وہ بہت سی باتیں تمھارے لیے کھول رہا ہے جنھیں تم چھپاتے رہے ہو اور بہت سی باتیں نظرانداز بھی کر رہا ہے۔ تمھارے پاس یہ اللہ کی طرف سے ایک روشنی آگئی ہے، یعنی ایک ایسی کتاب جو (دین و شریعت سے متعلق ہر چیز کو) واضح کر دینے والی ہے۔

 ترجمہ جاوید احمد غامدی

اس آیت میں پیش ہونے والے الفاظ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ قابل غور ہیں ۔ اب کوئی بتائے کہ اس آیت میں نور کیا ہے؟ اور کتاب کیا ہے؟۔ کیا دونوں الگ الگ چیزیں ہیں؟ ان دونوں کے درمیان بھی حرف ”و“ موجود ہے۔

اس کو سمجھنے کے لئے کہ نور کیا ہے سورہ النساء کی آیت 174 پر غور کریں جہاں اللہ قران کو نور قرار دے رہا ہے۔

 يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُم بُرْهَانٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَأَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ نُورًا مُّبِينًا ﴿174﴾

لوگو! تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس دلیل روشن آ گئی ہے اور ہم نے تمہاری طرف ایسی روشنی بھیج دی ہے جو تمہیں صاف صاف راستہ دکھانے والی ہے۔(174)

اس آیت سے بلکل واضع ہے کہ یہاں نور قران مجید کو کہا گیا ہے۔ اس لئے سورہ الماعدہ کی آیت 15 میں حرف“ و“ جمع اور مغیرات کے لئے استعمال نہیں ہوا ۔ اس لئے غامدی مکتبہ فکر کی یہ دلیل کہ سورہ الحج کی ایت 52 میں رسول و نبی الگ الگ استعمال ہوئے ہیں ۔ درست نہیں۔ اس ایت میں بھی یہ ان ہی معنوں میں استعمال ہوا ہے جیسے سورہ الماعدہ میں ہوا ہے۔

اس تفصیل کے بعد کہ رسول و نبی میں کوئی فرق نہیں اب ہم لفظ قتل کی تحقیق کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اس کے کیا معنی ہیں.

 تاج العروس کے مطابق اس کے معنی ہتھیار یا پتھر یا زہر وغیرہ سے کسی کو مار ڈالنا، ایک نے دوسرے کو قتل کرنا چاہا یعنی قتل کا ارادہ کرنا یا جان کے درپے ہوجانا۔

راغب نے کہا ہے کہ اس کے معنی ذلیل و حقیر کرنے اور جھکادینے کے بھی آتے ہیں ۔

ابن فارس نے کہا ہے کہ اس کے معنی ذلیل کرنے اور مار ڈالنے کے ہیں ۔

اس کے ایک معنی جنگ کرنے کے بھی ہیں۔

ذلیل و حقیر کرنے کے معنوں میں یہ سورہ توبہ کی آیت 30 اور سورہ عبس کی آیت 17 میں استعمال ہوا ہے۔

جان سے مار ڈالنے کے معنوں میں سورہ البقرہ کی آیت 72 اور متعدد آیات میں استعمال ہوا ہے

کسی کے جان کے درپے ہونا یا کسی کو قتل کا ارادہ کرنے کے معنوں میں سورہ غافر کی آیت 28 میں استعمال ہوا ہے

 جنگ کے معنوں میں یہ لفظ سورہ البقرہ کی آیت 216 میں استعمال ہوا ہے۔

قران میں یہ لفظ ان تمام معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ ان معنوں میں جو معنی سب سے زیادہ غور طلب ہے وہ قتل کا ارادہ یا کسی کے جان کے درپے ہوجانا ہے۔ ان تمام ایات جن میں نبی یا رسول کے قتل کا بیان ہے اس میں جان سے مار ڈالنا نہیں بلکہ ان کے جان کے درپے ہوجانا ہے۔

سورہ غافر کی آیت 28 پر غور کریں۔

وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ إِيمَانَهُ أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَن يَقُولَ رَبِّيَ اللَّـهُ وَقَدْ جَاءَكُم بِالْبَيِّنَاتِ مِن رَّبِّكُمْ ۖ وَإِن يَكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ ۖ وَإِن يَكُ صَادِقًا يُصِبْكُم بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ ۖ إِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ ﴿28﴾

 اور فرعون کے لوگوں میں سے ایک مومن شخص جو اپنے ایمان کو پوشیدہ رکھتا تھا کہنے لگا کیا تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا پروردگار خدا ہے اور وہ تمہارے پروردگار (کی طرف) سے نشانیاں بھی لے کر آیا ہے۔ اور اگر وہ جھوٹا ہوگا تو اس کے جھوٹ کا ضرر اسی کو ہوگا۔ اور اگر سچا ہوگا تو کوئی سا عذاب جس کا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے تم پر واقع ہو کر رہے گا۔ بےشک خدا اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو بےلحاظ جھوٹا ہے(28)

 اب ظاہر ہے یہاں ارادہ یا چاہنے کے علاوہ اور کوئی مطلب لیا نہیں جا سکتا کیوں کہ حضرت موسی اس وقت حیات تھے اور فرعون کے سامنے موجود تھے۔ بلکل یہی معنی ان آیات میں استعمال ہوئے ہیں جن میں نبی یا رسول کے قتل کا ذکر ہے۔ پھر اس کے علاوہ سورہ آل عمران کی آیت 21 پر غور کریں جہاں مولانا مودودی صاحب انبیاء کے قتل کے تو قائل ہیں لیکن جب وہی لفظ مصلحین و مجددین ( الَّذِينَ يَأْمُرُونَ بِالْقِسْطِ ) کے لئے استعمال ہو تو اس بات کا ترجمہ جان کے درپے ہوجانا کرتے ہیں ۔ دونوں کے لئے ایک ہی لفظ يَقْتُلُونَ استعمال ہوا ہے۔

إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّـهِ وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَيَقْتُلُونَ الَّذِينَ يَأْمُرُونَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ ﴿21﴾

جو لوگ اللہ کے احکام و ہدایات کو ماننے سے انکار کرتے ہیں اور اس کے پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کی جان کے درپے ہو جاتے ہیں، جو خلق خدا میں عدل و راستی کا حکم دینے کے لیے اٹھیں، ان کو درد ناک سزا کی خوش خبری سنا دو(21)

اوپر کی وضاحت کے بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ قتل کے معنی صرف جان سے مار ڈالنا نہیں ہیں بلکہ مفسرین نے اس کے ایک معنی جان کے درپے ہوجانا یا قتل کا ارادہ بھی کئے ہیں ۔ اس لئے یہ کوئی ایسے معنی نہیں ہیں جو میں نے اپنی طرف سے بنا کر پیش کئے ہوں بلکہ اس کی دلیل کے طور پر اوپر سورہ غافر کی ایت بھی پیش کی ہے۔

یہ بات یاد رکھئے کہ انبیاء یا رسول اللہ کی خاص حفاظت میں ہوتے تھے ۔ وہ زمین پر اللہ کے نمائندے اور اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچانے کے ذمہ دار ہوتے تھے ۔ جب اللہ اپنے ہی نمائندوں کی حفاظت نہ کر سکے پھر اہل ایمان کا بھروسہ اللہ پر کیسے ہو سکتا تھا؟۔ ایک ایسا انسان جو اللہ سے براہ راست وحی حاصل کرتا ہو اور اپنی قوم کے لئے مشعل راہ ہو اگر اللہ اس ہی کی حفاظت نہ کر سکے تو باقی اہل ایمان کی کیا حیثیت ؟۔

اس پر احباب یہ اعتراض اٹھاتے ہیں کہ اس طرح تو اللہ اپنے کلام کی بھی حفاظت نہیں کر سکا اس لئے ایک کے بعد ایک کتاب اتارتا رہا۔ یہ بات درست ہے کہ سابقہ قوموں نے اپنے انبیاء کو جھٹلایا بلکہ پیغام میں بھی اپنی مرضی کی تبدیلیاں کردیں لیکن یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ جب تک نبی یا رسول ان کے درمیان رہا وہ کلام کا ایک لفظ بھی اس میں تبدیل نہ کر سکے لیکن نبی یا رسول کے بعد پھر یہ قوم اس پیغام کو بھلا دیتی اور جب بھی تبدیلی کی ایک اور رسول نے آکر اس کو درست کیا۔ پھر اللہ نے خود ان کتابوں کی حفاظت کا بھی کوئ ذمہ نہیں لیا تھا ۔ ان کتابوں میں ایسی کوئی بات بھی نہیں ملتی اور اس کی ضرورت بھی نہیں تھی کیوں کہ رسول اللہ سے پہلے تمام انبیاء ایک مخصوص قوم اور ایک مخصوص زمانہ کے لئے بھیجے گئے تھے۔ لیکن جب قران کی حفاظت کا ذمہ اٹھایا تو آج تک قران اس ہی حالت میں ہمارے پاس محفوظ ہے جس طرح رسول اللہ نے ہمیں دیا تھا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ اللہ کی کہی ہوئی بات تبدیل نہیں ہوتی۔ آج اس دنیا میں کوئی مذہب یہ دعوی نہیں کرسکتا کہ اس کی کتابوں میں سے کوئ کتاب اپنی اصلی حالت میں محفوظ ہو۔

سورہ الحجر میں اللہ نے اس کا اظہار یوں کیا ہے

إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ﴿9﴾ رہا یہ ذکر، تو اِس کو ہم نے نازل کیا ہے اور ہم خود اِس کے نگہبان ہیں(9)

دوسری بات خود قران نے یہ بات واضع انداز میں بیان فرما دی کہ اس کے رسول ہی غالب رہیں گے۔ سورہ المجادلہ کی آیت ہے۔

 كَتَبَ اللَّـهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي ۚ إِنَّ اللَّـهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ ﴿21﴾

اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب ہو کر رہیں گے فی الواقع اللہ زبردست اور زور آور ہے(21)

یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی اس سنت کااعلان فرمایا ہے جو ازل سے اس نے لکھ رکھی ہے کہ جو کش مکش اللہ و رسول اور حزب الشیطان کے درمیان برپا ہو گی اس میں غلبہ اللہ اور اس کے رسولوں کو حاصل ہو گا، شیطان کی پارٹی ذلیل و خوار ہو گی۔ اب اگر انبیاء یا رسولوں کو مقتول مان لیا جائے تو اللہ کا وعدہ غلط ہوجاتا ہے۔ مشاہدہ گواہ ہے کہ اللہ کے انبیاء یا رسول غالب آئے۔ مثال کے طور پر حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت لوط ، حضرت موسی ، رسول اللہ وغیرہ سب غالب آئے۔

 یہاں پر غامدی مکتبہ فکر کے احباب یہ اعتراض اٹھاتے ہیں کہ جناب یہاں رسول کا لفظ استعمال ہوا ہے اور کیوں کہ رسول و نبی میں فرق ہے اس لئے ہمیشہ رسول غالب آئے ہیں اور سورہ الحج کی آیت رسول یا نبی کے فرق میں دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں جس کی وضاحت میں اوپر دے چکا ہوں۔ پھر جب ان کے سامنے ان  آیات کو پیش کیا جاتا ہے جن میں رسولوں کے قتل کا ذکر ہے تو یہ احباب غامدی صاحب کے قریبی رفیق ریحان احمد یوسفی کا روزنامہ اشراق کا ایک مضمون جو مئی 2010 میں شائع ہوا تھا اس کا حوالہ دیتے ہیں جس میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ ان آیات میں لفظ رسول کا کیا مطلب ہے۔

اگر آپ اس مضمون کا مطالعہ کریں جو ابھی بھی المورد کی ویب سائٹ پر ہے تو آپ کو بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ جو عقیدہ غیر قرانی ہو قران خود اس کو مسترد کر دیتا ہے اور کیوں کہ ان آیات سے غامدی صاحب کے عقیدے پر ضرب پڑتی ہے اور اتمام حجت کی پوری عمارت اس عقیدہ پر کھڑی ہے، اس لئے بجائے یہ کہ اپنے عقیدہ کو قران کے مطابق درست کیا جائے ان آیات کی ایسی تاویل کی گئی جو قران کی تعلیمات اور آیات کے مطابق نہیں۔ اب یوسفی صاحب کے مضمون پر نظر ڈالتے ہیں کہ کس طرح انہوں نے اپنے ایک غیر قرانی عقیدہ کو ثابت کرنے کے لئے ان آیات کی من مانی تاویل کی ہے۔ اپنے مضمون میں جن تین آیات میں رسولوں کے قتل کا ذکر ملتا ہے اس کے بارے میں چار نقطے پیش کرتے ہیں ۔

  1. یہ لفظ عام پیغام پہنچانے والے نامہ بروں اور قاصدوں،جو کہ عام انسان ہوتے ہیں، ان کے لیے استعمال ہوا ہے۔اس کی مثال سورہ یوسف آیت 50میں ملتی ہے جس میں لفظ ’رسول ‘ بادشاہ کے اس قاصد کے لیے استعمال ہوا جو جیل میں حضرت یوسف کے پاس آیا تھا۔
  2. یہ لفظ اللہ کا پیغام لانے والے فرشتوں کے لیے قرآن میں کئی جگہ استعمال ہوا ہے
  3. منصب رسالت پر فائز انبیا علیہم السلام کے لیے جو اپنی قوموں کے لیے اللہ تعالیٰ کی عدالت بن کر آتے ہیں اور ان کی زندگی اور موت کا فیصلہ اسی دنیا میں کردیتے ہیں
  4. ان انبیائے کرام کے لیے جو منصب رسالت پر مامور نہیں ہوتے لیکن تبعاًاس لفظ کا اطلاق ان پر اس لیے کردیا جاتا ہے کہ وہ بہرحال خدا کے بھیجے ہوئے اور اسی کا پیغام لوگوں تک پہنچانے والے ہوتے ہیں۔اور اس حیثیت میں ان کے لیے رسول کے لفظ کا استعمال بالکل درست ہے۔

جیسا کہ میں نے پہلے بھی یہ بات کہی تھی کہ اگر کوی بھی عقیدہ غیر قرانی ہو تو قران اس عقیدے کو مسترد کردیتا ہے اور اس کے بعد انسان ایسی ہی تاویلیں پیش کرتا ہے جیسے یوسفی صاحب پیش کر رہے ہیں ۔ یوسفی صاحب کے نزدیک یہ چوتھا نقطہ ہے جس کے بیان کے لیے اس لفظ کو ان آیا ت میں استعمال کیا گیا ہے ۔ پھر آگے لکھتے ہیں کہ اس کے علاوہ اور کوئی مطلب لینے کی گنجائش نہیں ہے۔

یوسفی صاحب نے جو پہلا نقطہ بیان کیا ہے ۔ اس میں لفظ رسول اصطلاحی معنوں میں استعمال ہو ہی نہیں سکتا۔ کیوں کہ یہ رسول ، خدا کی طرف سے نہیں پھیجا گیا ہے اس پر اصطلاحی معنے لاگو ہو ہی نہیں سکتے۔یہ رسول کسی انسان کی طرف سے بھیجا ہوا ہے۔ اس لئے سوائے لغوی معنی کے یہاں اور کوئی معنی جگہ نہیں لے سکتے۔

اس کے علاوہ نقطہ نمبر دو اور تین میں یہ لفظ سوائے اصطلاحی معنوں کے اور کوئی معنی لے ہی نہیں سکتا۔ کیوں کہ اللہ اپنا پیغام پہنچانے کے لئے فرشتوں میں سے بھی رسول چن لیتا ہے اور انسانوں میں سے بھی۔ اس لئے اس اعتبار سے وہ دونوں رسول اللہ کہلائیں گے ۔ اس کی جتنی بھی تاویل کر لیں یہ لفظ سوائے اصطلاحی معنوں کے اور کوئی معنے اس کا نہیں ہوسکتا۔ یہی دلیل ہم ایک مکتبہ فکر کے لوگوں کو پیش کرتے ہیں جب وہ یہ استدلال پیش کرتے ہیں کہ اب دنیا میں کوئ نبی نہیں ائے گا لیکن رسول آتے رہیں گے۔ اب جتنے بھی رسول آجائیں کیوں کہ اب وحی کا سلسلہ قیامت تک رک گیا ہے اس لئے جو بھی اب رسول آئے گا (ان کے عقیدہ کے مطابق) اب وہ رسول اللہ نہیں ہوسکتا۔ اپ اس کو چاہے جو نام دے دیں لیکن وہ رسول اللہ نہیں ہوگا۔ بلکل یہی صورتحال یوسفی صاحب کے نقطہ دو اور تین میں ہے۔

اب جو یہ چوتھا نقطہ پیش کیا ہے یہ اتنا بودہ ہے کہ اس پر انسان کیا کلام کرے۔ اللہ کا کلام ایسا نہیں ہے کہ تبعاً اس پر اس لفظ کا اطلاق ہو جائے۔ اللہ بغیر کسی قاعدہ کے بس یوں ہی ایک لفظ کا اطلاق لفظوں پر کرتا چلا جاتا ہے۔ کسی انسانی مصنف سے ایسی بات کی توقع نہیں رکھتے کہ چہ جائنکہ کہ علیم و حکیم اللہ سے ایسی بات کی توقع رکھیں ۔ اس لفظ کا اطلاق اصطلاحی معنوں میں ہی اس وقت ہوگا جب وہ اللہ کی طرف سے پیغام لے کر انسانوں کی ہدایت کے لئے نکلے۔ ان ہستیوں پر یہ لفظ لغوی معنوں میں استعمال ہو ہی نہیں سکتا۔ جب آپ کسی کو بیان کرتے ہیں تو پہلا مطلب جو ایک انسان کے ذہن میں آتا ہے وہ رسول اللہ ہی ہے۔ نہ تو رسول ملک، نہ رسول ہند، رسول الناس وغیرہ۔ جب آپ کہتے ہیں کہ یہ فرشتہ اللہ کی طرف سے  آیا ہے یا یہ انسان اللہ کی طرف سے بھیجا گیا ہے تو ہر انسان اس کو رسول اللہ اصطلاحی معنوں میں خیال کرتا ہے۔

یہی مطلب رسول اللہ کے مخاطبین نے لیا جس کو غامدی صاحب اور ان کے قریبی رفیق اپنے خود ساختہ عقیدہ کو ثابت کرنے کے لئے اپنی طرف سے تاویلیں بیان کر رہے ہیں ۔ یوسفی صاحب کا یہ اعتراف اس بات کو واضع کرنے کے لئے کافی ہے کہ اللہ نے جن کو نبی کہہ کر پکارا ہے ان ہی کو قران میں رسول کہا ہے ۔ پھر ان آیات کا نہ کوئی قرینہ ایسا ہے کہ ان کا یہ مطلب لیا جائے جو یوسفی صاحب بیان فرما رہے ہیں۔ آخر اس لفظ کو اس کے اصطلاحی معنی سے ہٹانے کا کیا قرینہ ہے، اس کا کیا سیاق و سباق ہے۔ ان آیات کے مخاطبین ان
آیات میں استعمال ہونے والے لفظ رسول کے لغوی معنی صرف اس لئے لیں کیوں کہ غامدی صاحب کے خود ساختہ عقیدہ کو تائید مل سکے؟۔ قران میں استعمال ہونے والا ایک ایک لفظ خالق کائنات کا منتخب کیا ہوا ہے۔ یہ ایسے ہی الل ٹپ نہیں کہ بغیر کسی قانون و قاعدہ کے ان الفاظوں کا استعمال کیا گیا ہو۔ اس قران کو اتارنے والی ذات حکیم و علیم ہے۔ اس لئے میرے نزدیک یوسفی صاحب کی یہ تاویل سوائے اپنے عقیدہ کو ثابت کرنے کی کوشش کے اور کچھ نہیں۔

جب ان آیات کا مطالعہ کیا جائے جن میں انبیاء اور رسولوں کے قتل کا ذکر ہے تو قران یہودیوں پر انبیاء کے قتل کا فرد جرم عائد کرتا ہے جو کہ ایک سنگین جرم ہے لیکن جب قران کا مطالعہ کریں تو ہمیں ایک بھی مثال یا ایک بھی نام نہیں ملتا انبیاء میں سے جن کا قتل ہوا ہو۔ پھر جب ہم بائبل کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس میں ہمیں بقول مفسرین کے دو نام ملتے ہیں ایک حضرت زکریا کا اور ایک حضرت یحیٰ کا۔ مودودی صاحب نے بھی ان ایات کی تفسیر مین یہودیوں کی تاریخ سے جو اقتباس پیش کئے ہیں ان میں کوئی آٹھ ریفرنس پیش کئے ہیں جن میں سے صرف دو انبیاء کے نام ہیں ایک زکریا اور ایک یحیٰ جن کے قتل کا ذکر ہے ورنہ باقی تمام جن انبیاء کا ریفرنس مودودی صاحب نے پیش کیا ہے ان سب کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی لیکن قتل نہیں کیا گیا۔ یوسفی صاحب بھی اپنے مضمون میں ان ہی دو کا ذکر کرتے ہیں بلکہ یوسفی صاحب کے نزدیک جن زکریا کا ذکر بایبل میں ہے وہ حضرت یحیٰ کے والد نہیں ۔ اس کے بعد لکھتے ہیں کہ یہ دونوں نبی تھے۔

 اب اگر بائبل کا مطالعہ کیا جائے تو جس زکریا کے قتل کا ذکر ہمیں بائبل میں ملتا ہے وہ نبی نہیں بلکے ایک پادری تھے(2 تاریخ باب 24 آیت 21) جن کو عین ہیکل سلیمانی میں مقدس اور قربان گاہ کے درمیان سنگسار کردیا گیا۔ اس کا ذکر مودوی صاحب نے بھی اپنی تفسیر میں کیا ہے اور وہاں بھی جو ریفرنس مودوی صاحب دیتے ہیں وہ یہی ہے۔ حضرت ذکریا جو کہ یحیٰ کے والد تھے، کے قتل کا ذکر پورے بائبل میں کہیں نہیں ملتا۔

اب لے دے کر صرف ایک ہی نام بچتا ہے یعنی حضرت یحیٰ کا ،جن کا قتل اس وقت کے بادشاہ کے حکم سے ہوا تھا اور ایک ناچنے والی کے کہنے کی وجہ سے ان کا سر قلم کر کے ایک تھالی میں رکھ کر پیش کیا جاتا ہے۔جس کا ذکر ہمیں بائبل میں ملتا ہے۔ ویسے تو صرف ایک یہی واقعہ ہمیں پوری تاریخ میں ملتا ہے انبیاء کے قتل کے حوالے سے جبکہ خود قران اس واقعہ کی تصدیق نہیں کرتا۔ یہ بھی زیادتی ہوگی کہ صرف ایک اس واقعہ کی بنیاد پر یہودیوں پر یہ فرد جرم عائد کی جائے جبکہ رسول اللہ کے دور میں یہودیوں نے کسی رسول کو قتل نہیں کیا تھا اور اگر یہ کام ان کے آباو اجداد نے کیا ہو تو اس کی بنیاد پر ان کو مورد الزام نہیں ٹھیرایا جاسکتا جب تک کہ یہ لوگ خود اس ہی جرم میں مبتلا نہ ہوں۔ خود قران یہ بات فرماتا ہے کہ کوئ نفس کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ جرم آباو اجداد نے کیا ہو اور مورد الزام موجودہ نسل ہو۔ یہ صرف اس ہی صورت میں ممکن ہے جیسا کہ میں نے کہا کہ جب موجودہ نسل بھی اس ہی جرم میں ملوث ہو۔

قران اپنی تفسیر کے لئے کسی خارجی کتاب کا محتاج نہیں ہے وہ تو خود اپنے اپ کو أَحْسَنَ تَفْسِيرًا کہتا ہے۔ ہمارے مفسرین کی ستم ظریفی یہ کہ انہوں نے قران کو سمجھنے کے لئے بائبل کا سہارا لیا جس کے بارے میں خود قران یہ بات بیان کرتا ہے کہ ان میں تحریف ہو چکی ہے۔ ان میں انبیاء کے متعلق ایسے بیانات ہیں جو ان کے پاک دامنی اور ان کی شخصیت کے مطابق نہیں۔ لیکن پھر بھی قران کی آیات کو قران سے سمجھنے کے بجائے ہم بائبل کا سہارا لیتے ہیں اور غلطی کھاتے ہیں۔

 بائبل میں جہاں حضرت یحیٰ کے قتل کا بیان ہے وہیں پر حضرت عیسیٰ کے بھی قتل کا بیان ملتا ہے۔ اگر ایک کو قبول کرتے ہیں تو پھر دوسرے کو بھی قبول کرنا چاہیے۔ اس کے جواب میں احباب کہتے ہیں کہ حضرت عیسی کے بارے میں تو قران بلکل صاف الفاظوں میں اس کی نفی کرتا ہے لیکن حضرت یحیٰ کے بارے میں ایسی کوئی بات نہیں۔ کیا واقعی ایسا ہے؟ یا ہم نے کبھی تحقیق ہی نہیں کی۔

 قران میں حضرت یحیٰ اور حضرت عیسی کے حالات میں بہت مماثلت پائی جاتی ہے۔ سورہ مریم کی ایت 15 اور ایت 33 کا مطالعہ کریں تو دونوں کے لئے بلکل ایک جیسے الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے۔ حضرت یحیحی کے متعلق بیان ہے۔

 وَسَلَامٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ وَيَوْمَ يَمُوتُ وَيَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّا ﴿15﴾

سلام اُس پر جس روز کہ وہ پیدا ہوا اور جس دن وہ مرے اور جس روز وہ زندہ کر کے اٹھایا جائے(15)

پھر یہی سلامتی حضرت عیسی کے لئے بھی بیان ہوئی ہے۔

وَالسَّلَامُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدتُّ وَيَوْمَ أَمُوتُ وَيَوْمَ أُبْعَثُ حَيًّا ﴿33﴾ سلام ہے مجھ پر جبکہ میں پیدا ہوا اور جبکہ میں مروں اور جبکہ زندہ کر کے اٹھایا جاؤں۔(33)

 قتل ہوئے تھے تو اللہ کو یہاں لکھنا چاہیے تھا کہ سلام اُس پر جس روز کہ وہ پیدا ہوا اور جس دن وہ قتل یا شہید ہو اور جس روز وہ زندہ کر کے اٹھایا جائے۔ لیکن یہاں کسی قتل یا شہادت کا بیان نہیں۔ پھر بلکل یہی الفاظ حضرت عیسی کے لئے بیان ہوئے ہیں۔ جب حضرت عیسی قتل نہیں ہوئے تو پھر حضرت یحیٰ کیسے ہوگئے؟۔ اللہ نے یہاں صاف الفاظوں میں اس بات کی تردید کردی کہ حضرت یحیٰ کا قتل ہوا تھا۔

 یہاں پر احباب یہ اعتراض اٹھا سکتے ہیں کہ قتل بھی تو موت ہی ہے اس لئے موت چاہے جیسی بھی ہو صرف یہاں ان کی موت کا ذکر ہے لیکن قران کا کمال یہ ہے کہ وہ کسی قسم کے اشکالات کو رہنے نہیں دیتا اور اس ہی لئے اپنے اپ کو أَحْسَنَ تَفْسِيرًا کہتا ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لئے کہ یہاں موت ، قتل کے معنوں میں نہیں ہے سورہ ال عمران کی ایت 144 پر غور کریں جہاں رسول اللہ کے متعلق یہ بات بیان کی جارہی ہے۔

وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ ۚ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّـهَ شَيْئًا ۗ وَسَيَجْزِي اللَّـهُ الشَّاكِرِينَ ﴿144﴾

 محمدؐ اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول ہیں، اُن سے پہلے اور رسول بھی گزر چکے ہیں، پھر کیا اگر وہ مر جائیں یا قتل کر دیے جائیں تو تم لوگ الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟ یاد رکھو! جو الٹا پھرے گا وہ اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا، البتہ جو اللہ کے شکر گزار بندے بن کر رہیں گے انہیں وہ اس کی جزا دے گا(144)

ایک آیت اور لیں ۔ سورہ الزمر کی آیت30

 إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُم مَّيِّتُونَ ﴿30﴾

(اے نبیؐ) تمہیں بھی مرنا ہے اور اِن لوگوں کو بھی مرنا ہے(30)

دیکھا دوستوں اللہ نے یہ بات بھی ان دو آیات میں بلکل صاف کردی کہ یہاں موت اور قتل کے لفظ الگ الگ استعمال کر کے اس اشکال کا بھی ازالہ کردیا۔ اس لئے اگر قتل بھی موت ہے تو پھر یہاں صرف موت کا لفظ لا کر بات پوری کردی جاتی لیکن قتل کا لفظ بتا رہا ہے کہ انبیاء و رسل کا قتل ایک بہت بڑاا حادثہ ہے اس لئے الگ سے اس کا بیان کرنا لازمی ہے۔ اس لئے قران حضرت یحیٰ کے قتل کا تائید نہیں کرتا بلکہ صاف الفاظوں میں اس کی نفی کرتا نظر آتا ہے۔ اب یہ پڑھنے والوں پر منحصر ہے کہ وہ قران کی بات کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں یا بائبل کی بات کو۔

اس کے علاوہ یہاں ایک بات کی مزید وضاحت کرتا جاؤں کہ حضرت یحیٰ کے قتل کی نفی کا اسلوب قران کا وہی ہے جو شراب کی ممانعت کا ہے۔ اکثر احباب یہ اعتراض اٹھاتے ہیں کہ شراب کی کلی ممانعت قران میں نہیں ہے لیکن قران کے اس اسلوب کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ جب قران اس عمل کو گندا شیطانی عمل قرار دیتا ہے تو پھر اور کس ممانعت کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے۔ بلکل اس ہی طرح یہی اسلوب حضرت یحیٰ کی آیات کے ساتھ ہے۔ جب اللہ نے قتل کا لفظ استعمال نہیں کیا اور بلکل یہی اسلوب حضرت عیسی کے لئے استعمال کرکے دونوں کے قتل کی نفی کردی ۔

یہاں ایک بات رہ گئی کہ سورہ ال عمران میں تو رسول اللہ کے قتل کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے پھر میرے استدلال کے مطابق کوئی رسول قتل نہیں ہوسکتا تو پھر اللہ یہاں امکان کیوں ظاہر کر رہا ہے؟

 سورہ المائدہ کی آیت 67 کا مطالعہ کریں تو یہ بات بلکل صاف معلوم ہوتی ہے کہ رسول اللہ ، اللہ کی حفاطت میں تھے اور کفار ان کو قتل کر ہی نہیں سکتے تھے ۔

يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ۚ وَاللَّـهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۗ إِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ ﴿67﴾

اے (برگزیدہ) رسول! جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے (وہ سارا لوگوں کو) پہنچا دیجئے، اور اگر آپ نے (ایسا) نہ کیا تو آپ نے اس (ربّ) کا پیغام پہنچایا ہی نہیں، اور اﷲ (مخالف) لوگوں سے آپ (کی جان) کی (خود) حفاظت فرمائے گا۔ بیشک اﷲ کافروں کو راہِ ہدایت نہیں دکھاتا،(67)

اس لئے سورہ ال عمران کی ایت 144 ایک خاص تناظر میں نازل کی گی تھی ۔ وہ پس منظر یہ تھا کہ جنگِ احد میں مسلمانوں کے لشکر کے علمبردار حضرت مصعب بن عمیرؓ کو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم شکل تھے، کفار نے شہید کردیا اور پھر مسلمانوں کا حوصلہ پست کرنے کے لیے میدانِ جنگ میں یہ افواہ پھیلادی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کردیا گیا ہے۔ یہ خبر میدانِ کارزار میں مسلمانوں پر ایک بجلی بن کر گری اور وہ پست حوصلہ ہوکر بیٹھ گئے۔ مسلمانوں کی اس غلطی پر اس آیت میں انہیں توجہ دلائی جارہی ہے کہ ان کی وابستگی دراصل اُس اللہ کے ساتھ ہونی چاہیے جو زندہ ہے اور جسے کبھی موت نہیں آنی۔ باقی رہے رسول تو خواہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں یا دوسرے رسول، انہیں بہرحال ایک روز اس دنیا سے چلے جانا ہے،وہ ہميشہ باقی رہنے والے خدا نہيں ہيں۔ مسلمانوں کے علم اور عمل کا انحصار رسول کے ہونے یا نہ ہونے پر نہیں ہونا چاہیے۔ انھيں اگر موت آگئی يا جس طرح تم نے سمجھا تھا کہ وہ قتل ہوگئے، سواگر ايسا ہواتوکيا تم دين سے پھر جاؤگے۔

اب اوپر کی تمام بحث کے بعد اب ان آیات پر غور کرتے ہیں جس میں بعض انبیاء کو جھٹلانے اور بعض کو قتل کا ذکر ملتا ہے۔ اگر قران کا مطالعہ کریں تو یہ بات بلکل صاف معلوم ہوتی ہے کہ جب بھی کسی قوم نے اپنے رسول پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی اللہ کا عذاب اس قوم پر آیا۔ چاہے قدرتی عذاب ہو یا مسلمانوں کی تلواروں کے ذریعے۔ اس ہی بات کو سورہ غافر کی ایت 5 میں یوں بیان کیا ہے۔

 كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَالْأَحْزَابُ مِن بَعْدِهِمْ ۖ وَهَمَّتْ كُلُّ أُمَّةٍ بِرَسُولِهِمْ لِيَأْخُذُوهُ ۖ وَجَادَلُوا بِالْبَاطِلِ لِيُدْحِضُوا بِهِ الْحَقَّ فَأَخَذْتُهُمْ ۖ فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ ﴿5﴾

’ان سے پہلے نوح کی قوم نے تکذیب کی اور ان کے بعد کے گروہوں نے بھی۔ اور ہر امت نے اپنے رسول پر ہاتھ ڈالنے کا ارادہ کیااور باطل کے ذریعے سے کج بحثیاں کیں تاکہ ان سے حق کو پسپا کردیں تو میں نے ان کو پکڑ لیا۔ تو دیکھو میرا عذاب کیسا ہوا‘‘،

وہ کون سے انبیاء یا رسول تھے جن کی مخالفت میں ان کی قوم اتنی اگے بڑھی کہ پھر ان کی جان کے درپے ہوگئے۔

حضرت صالح کی قوم نے ان کو قتل کرنا چاہا (نمل 49-50:27)

 حضرت لوط کی قوم نے ان کے گھر پر حملہ کیا (ھود78-83:11)

 حضرت ابراہیم کو ان کی قوم نے جلانا چاہا (انبیا68-70:21)

حضرت موسی کو فرعون نے قتل کرنا چاہا (غافر ایت 40)

 حضرت عیسی کو قتل کرنے کی کوشش (سورہ النساء ایت 157)

رسول اللہ کو قتل کرنے کی سازش (سورہ الانفال ایت 30)

وہ بات جو میں نے اوپر بیان کی تھی کہ رسول اللہ کے دور میں یہودیوں نے کسی رسول کو قتل نہیں کیا تھا اور رسول اللہ حضرت عیسی کے 6سو سال بعد مبعوث ہوئے تھے(اگر میں غلطی پر ہوں تو میری اصلاح ضرور کریں) اتنے عرصہ میں تو نہ جانے کتنی نسلیں تبدیل ہو چکی ہوں گی۔ قران کا یہودیوں پر یہ فرد جرم عائد کرنا اس ہی وجہ سے تھا کیوں کہ رسول اللہ کے دور میں بھی یہودی رسول اللہ کے جان کے درپے تھے اس ہی لئے اللہ نے رسول اللہ کے دور کے یہودیوں پر بھی یہی جرم عائد کیا۔

یہ میری تحقیق ہے اس خیال سے پیش کر رہا ہوں کہ اس میں غلطی کی گنجائش ہے۔

ختم شد

٭٭٭٭٭

اس تحریر کے رد میں محمد حنیف صاحب کے جوابات۔

برادر محترم محمد نعیم خان صاحب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سلام و رحمت 

تفہیم القرآن کے ضمن میں وہ اُصول ، قواعد و ضوابط جو خود قرآن کریم نے پیش کئے ہیں ، اُن کے دائرے میں رہتے ہوئے تفکر و تدبر کرنا چاہیے ۔ 
آیات قرآنی کو سمجھنے کا بہترین طریقہ ، تصریف آیات ہے ۔ 
اس کے ساتھ ساتھ آیات مبارکہ کے سیاق و سباق اور آیات مبارکہ میں استعمال ہونے والے الفاظ کا قرینہ بھی اہمیت کا حامل ہے ۔ 
اگر ہم کسی مخصوص نظریہ یا عقیدہ کو ذہن میں رکھ کر پھر قرآن کریم پر غور کریں گے تو کبھی بھی درست راہ کو نہ پا سکیں گے۔ 
اس کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ قرآن کریم انسانوں کی ہدایت کی کتاب ہے ۔ کوئی بھی ایسی کتاب جو اپنی معنی ومفہوم میں آسان نہ ہو، عام فہم نہ ہو، ہدایت کی ذمہ داری پُورا ہی نہیں کر سکتی ۔ 
لُغت کسی بھی زُبان کو سمجھنے کے لئے بُنیاد کی حیثیت رکھتی ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں لیکن تغیرات زمانہ کے نتیجہ میں بعض اوقات کچھ الفاظ کسی ایسے معنی و مفہوم میں عام اور رائج ہو جاتے ہیں جو لُغت کے اُصول پر پورے نہیں اُترتے ۔ 
چنانچہ قرآن کریم کی آیات مبارکہ پر غور و فکر کرتے ہوئے اس بات کا بھی بہت خیال رکھنا چاہیے کہ دور نزول قرآن میں کوئی خاص لفظ کن معنوں میں مروج تھا ۔ عرب اپنی روزمرہ کی زندگی میں کس لفظ سے کیا مفہوم لیا کرتے تھے ۔
قرآن کریم کے اولین مخاطب ، بہت زیادہ تعلیم یافتہ لوگ نہ تھے ۔قرآن کریم نے اُن لوگوں سے اس ہی زبان میں خطاب کیا ہے جو وہاں کے لوگ بخوبی جانتے تھے ۔ قرآن کریم نے الفاظ کے چُناو میں اس حقیقت کو پیش نظر رکھا ہے کہ اس کا بیان ہر سطح کے انسان کی سمجھ میں آ جائے ۔ عمومی طور پر وہ الفاظ استعمال کئے ہیں جو دور نزول قرآن میں عرب بولا کرتے تھے ۔ جیسا مفہوم لیا کرتے تھے۔

یہ بات بہت اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ قرآن کریم نے خود اپنے بیان میں دو طرح کی آیات کا ذکر کیا ہے ۔ محکمات اور متشابہات ۔ 
انسانی ہدایت جس پر انسانی جنت و جہنم کا مدار ہے ، اللہ کریم نے انہیں محکم آیات میں بیان کیا ہے ۔ تاکہ کوئی ابہام نہ رہے اور نہ ہی کوئی عام انسان اس بنیاد پر اپنی جنت سے محروم رہ جائے کہ وہ پیغام اس کی سمجھ میں نہ آ سکا۔ 
البتہ زندگی کچھ ایسے بسیط حقائق جن کا تعلق کائنات کی وسعتوں ، حیات بعد الممات ، جنت ، جہنم وغیرہ سے ہیں ، کو محکم آیات میں بیان کیا ہی نہیں جا سکتا تھا ،انہیں متشابہات کی شکل میں بیان کیا گیا ہے ۔ وہاں الفاظ کے مجازی معنی بھی ہیں ، استعارے بھی اور تشبیہات بھی ۔
ہر دور کا انسان اپنے دور کے دیگر علمی ذرائع اور اپنے شعور کی بنیاد پر ان متشابہات کو سمجھنے کی کوشش کرے گا ۔ کوئی دُرست طور پر سمجھ جائے گا اور کوئی کمی بیشی کا شکار ہو جائے گا ۔ لیکن دونوں صورتوں میں ، اس سے انسان کی جنت یا جہنم پر کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔
چنانچہ ہمیں اس بات کا بہت خیال رکھنا ہوگا کہ اگر ہم کسی آیت مبارکہ کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں توکیا وہ محکم آیت ہے یا متشابہ!!!

مزید یہ کہ قرآن کریم کے ہر لفظ کو خواہ مخوا، لغت کے بکھیڑوں میں اُلجھانے سے گریز کرنا چاہیے ۔ دیکھنا یہ چاہیے کہ اس مخصوص آیت میں استعمال ہونے والے الفاظ کے عمومی معنی و مفہوم دور نزول قرآن میں کیا تھے اور آج کیا ہیں ۔ 

قتل انبیاء کے ضمن میں آپ کے پوچھے گئے سوال کا جواب بہت آسان ہے ۔ 

سب سے پہلے اس حقیقت کا ادراک ضروری ہے کہ اللہ کریم انسانوں کی ہدایت کے لئے ہمیشہ ان ہی میں سے ان ہی کے جیسا نبی مبعوث فرماتے تھے ۔ وہ نبی اُن ہی کے جیسا انسان ہوتا تھا ۔ ان ہی کی زبان بولنے اور سمجھنے والا ۔ 
بحیثیت انسان نبی بھی ان تمام خوبیوں اور کمزوریوں کا مجموعہ ہوتا تھا جو کسی عام انسان میں ہو سکتی ہیں ۔ بس اگر کوئی فرق ہوتا تھا تو صرف یہ کہ اُس پر وحی نازل ہوتی تھی ۔ 

وقت کا نبی سب سے پہلے خود پر نازل ہونے والی وحی پر ایمان لاتا تھا ، اس کے مطابق خود اپنی اصلاح کرتا تھا ، خود کو اس وحی کی اتباع میں چلاتا تھا ۔ پھر اس پیغام کو دوسرے لوگوں تک پہنچاتا تھا ۔ اس کے بعد اس وحی کے مطابق ایک معاشرہ قائم کرنے کی جدوجہد کرتا تھا ۔ 
اگر ہم قرآن کریم پر غور کریں تو دیکھیں گے کہ وقت کے ہر نبی پر اسے کے مخاطبین نے ایک ہی اعتراض کیا کہ تم تو ہمارے جیسے انسان ہو۔جواب میں اُن سے یہ ہی کہا جاتا تھا کہ ہاں میں تمہارے جیسا انسان ہوں ۔ جب ہی تو میں تمہارے سامنے نہ صرف یہ کہ اپنے نازل کرنے والے کا پیغام پہنچا رہا ہوں بلکہ اس پر عمل کر کے بھی دکھا رہا ہوں تاکہ اتمام حجت ہو جائے کہ جو کچھ وحی کا تقاضا ہے ، وہ ناقابل عمل نہیں ۔ نہ ہی اس کے لئے فوق البشر کسی صلاحیت کی ضرورت ہے ۔ 
ہر دور کے نبی کے مخاطبین نے ہمیشہ اس نبی سے معجزات کا مطالبہ کیا ۔ ان لوگوں کا یہ گمان تھا کہ نبی چونکہ خدا کا نمائندہ ہوتا ہے اس لئے اسے عام انسانوں کے مقابلے میں خصوصی صلاحیتوں کا مالک ہونا چاہیے ۔ 

اب ذرا عقل و شعور کی کسوٹی پر اس ایک بات پر غور فرمائیں کہ اگر نبی اور عام انسانوں میں صلاحیت کے اعتبار سے کوئی ایسا فرق ہو جو انسانی اعمال کا نتیجہ ہی بدل دے تو پھر وہ نبی کس طرح کسی انسان کے لئے نمونہ ہدایت ہو سکتا ہے ؟؟ 

مخالفین سے تصادمات کی صورت میں اگر نبی کو پتہ ہو کہ اسے تو مارا ہی نہیں جاسکتا اور یہ سہولت تو عام انسان کو دستیاب نہیں تو پھر کس طرح مجھے جیسا عام انسان اس کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتا ہے جو نبی کرتا تھا ؟؟؟

قرآن کریم تو واضح الفاظ میں بیان کرتا ہے ۔

وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ [٢:١٥٥]الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ [٢:١٥٦]أُولَٰئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ [٢:١٥٧]
اور ہم ضرور تمہیں خوف و خطر، فاقہ کشی، جان و مال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کر کے تمہاری آزمائش کریں گے۔ اِن حالات میں جو لوگ صبر کریں اور جب کوئی مصیبت پڑے، تو کہیں کہ: “ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے” 
انہیں خوش خبری دے دو ان پر ان کے رب کی طرف سے بڑی عنایات ہوں گی، اُس کی رحمت اُن پر سایہ کرے گی اور ایسے ہی لوگ راست رَو ہیں [ابوالاعلی مودودی]

کیا اس آیت مبارکہ کا مخاطب خود اللہ کا پیغمبر نہیں ہے ؟؟ 
پیغمبر سے زیادہ ہدایت یافتہ کون انسان ہو سکتا ہے ؟؟

خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے خصوصی طور پر ارشاد فرمایا گیا ۔ 

وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ ۚ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا ۗ وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ [٣:١٤٤]
محمدؐ اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول ہیں، اُن سے پہلے اور رسول بھی گزر چکے ہیں، پھر کیا اگر وہ مر جائیں یا قتل کر دیے جائیں تو تم لوگ الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟ یاد رکھو! جو الٹا پھرے گا وہ اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا، البتہ جو اللہ کے شکر گزار بندے بن کر رہیں گے انہیں وہ اس کی جزا دے گا [ابوالاعلی مودودی] 

ذرا غور فرمائیں ، کیا کہا جارہا ہے ؟؟

اگر اللہ کے پیغامبر قتل کئے ہی نہ جا سکتے تھے تو اللہ کریم نے ایسے امکان کا اظہار بھی کس طرح کر دیا ۔ اس آیت مبارکہ میں یہ لفظ ” قُتِلَ ” سوائے اس مفہوم کے جو اس لفظ کا زبان زد عام مفہوم ہے ، کوئی اور مفہوم لیا ہی کس طرح جا سکتا ہے ؟؟؟

ہجرت کی رات جب کفار آپ ﷺ کے تعاقب میں تھے ، آپ ﷺ تین روز تک غار ثور میں چھپے رہے ۔ کیوں ؟؟؟ جب نبی قتل ہی نہیں کیا جا سکتا تھا تو اس کا علم نبی سے زیادہ کسے ہوگا ؟ تو کیوں چُھپ کر تین راتوں کی صعوبت برداشت کی ؟؟؟

چنانچہ یہ تصور کہ اللہ کا پیغامبر قتل نہیں کیا جاسکتا تھا اس لئے وہ آیات مبارکہ جہاں قتل انبیاء کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ، ان کو مفہوم کے نام پر کچھ سے کچھ بنا دیا جائے ، درست عمل نہیں ۔

خدا کا پیغامبر ہماری طرح ایک انسان ہی ہوتا تھا ۔ 
اسے بھی دکھ درد ہوتا تھا ،بھوک لگتی تھی ، گرمی سردی لگتی تھی ، بیمار ہوتا تھا ، شادی بیاہ ، بیوی بچے ، جسمانی خواہشات ، سب کچھ ہوتا تھا ۔ 

وہ ان تمام اوصاف انسانی کے ساتھ ، وحی خداوندی کا اتباع کرتا تھا ۔ 

اس کے پاس کوئی مافوق الفطرت قوتیں نہیں ہو تی تھیں ۔ نہ ہی خرد عادت کوئی کرشمہ یا معجزہ۔یہ ہی وجہ ہے کہ نبی کے اسوہ کا اتباع مومنین پر فرض ہے ۔ 

یہ بات نہ تو اخلاق کے تقاضوں پر پورا اُترتی ہے اور نہ ہی انصاف کے اعلیٰ اصولوں کےمطابق ہے کہ نبی کو تو اس بات کی گارنٹی ہو کہ اگر تمہارا تصادم کفار سے ہو جائے تو تمہیں مارا ہی نہیں جا سکتا ۔اور عام مومنین سے تقاضا کیا جائے کہ تم نبی کی پیروی کرتے ہوئے کفار سے جنگ کرو۔ ان سے لڑو۔

کیا اس ہی کو اسوہ رسول کہا جائے گا ؟؟؟

اس ضمن میں جو آیات مبارکہ آپ نے بیان کی ہیں ، اگر ان کے سیاق و سباق اور الفاظ کے قرینوں پر غور کریں تو ان آیات میں ” قُتِلَ ” کا لفظ مارے دئیے جانے کے علاوہ کسی اور مفہوم کا حامل ہو ہی نہیں سکتا ۔ 
میں اسکے لئے صرف ایک مثال ہی پیش کرنے پر اکتفا کروں گا ۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ 

فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَاقَهُمْ وَكُفْرِهِم بِآيَاتِ اللَّهِ وَقَتْلِهِمُ الْأَنبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَقَوْلِهِمْ قُلُوبُنَا غُلْفٌ ۚ بَلْ طَبَعَ اللَّهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًا [٤:١٥٥]
آخر کا ر اِن کی عہد شکنی کی وجہ سے، اور اس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا، اور متعدد پیغمبروں کو نا حق قتل کیا، اور یہاں تک کہا کہ ہمارے دل غلافوں میں محفوظ ہیں حالانکہ در حقیقت اِن کی باطل پرستی کے سبب سے اللہ نے اِن کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا ہے اور اسی وجہ سے یہ بہت کم ایمان لاتے ہیں [ابوالاعلی مودودی] 

آیت بالا میں ” وَقَتْلِهِمُ الْأَنبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ ” میں ” بِغَيْرِ حَقٍّ ” کے الفاظ حقیقت کو روز روشن کی طرح واضح کر دیتے ہیں ۔ قتل برحق اور بغیر حق کے فرق کو سمجھنے کے لئے اس آیت مبارکہ پر غور فرمائیں ۔

ارشاد فرمایا ۔ 

مِنْ أَجْلِ ذَٰلِكَ كَتَبْنَا عَلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنَّهُ مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا [٥:٣٢]
اسی وجہ سے بنی اسرائیل پر ہم نے یہ فرمان لکھ دیا تھا کہ “جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اُس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی” [ابوالاعلی مودودی]

کسی انسانی جان کے بدلے میں ، یا فساد فی الارض کے علاوہ کسی انسان کی جان لینا ” بغیر حق” ہے ۔ اس کے معنی ایسے ہی ہیں جیسے ساری انسانیت کو قتل کر دیا گیا ۔ 

چنانچہ آیت مبارکہ” [٤:١٥٥]” میں ” وَقَتْلِهِمُ الْأَنبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ ” کے معنی حقیقی معنوں میں قتل انبیاء ہے ۔ 

اس موضوع پر حرف آخر کے طور پر اس آیت مبارکہ پر غور فرمائیں ۔ 

ارشاد فرمایا ۔

إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَىٰ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ ۚ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ ۖ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ وَالْقُرْآنِ ۚ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّهِ ۚ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُم بِهِ ۚ وَذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ [٩:١١١]
خدا نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لیے ہیں (اور اس کے) عوض ان کے لیے بہشت (تیار کی) ہے۔ یہ لوگ خدا کی راہ میں لڑتے ہیں تو مارتے بھی ہیں اور مارے بھی جاتے ہیں بھی ہیں۔ یہ تورات اور انجیل اور قرآن میں سچا وعدہ ہے۔ جس کا پورا کرنا اسے ضرور ہے اور خدا سے زیادہ وعدہ پورا کرنے والا کون ہے تو جو سودا تم نے اس سے کیا ہے اس سے خوش رہو۔ اور یہی بڑی کامیابی ہے [فتح محمد جالندہری] 

یہ تو مومن کی شان ہے اس کے ایمان کی معراج ہے کہ وہ میدان جنگ میں کفار کو مارتے بھی ہیں اور خود بھی جام شہادت نوش فرماتے ہیں۔ 

اب مجھے نہیں پتہ کہ ایک نبی کس طرح ایمان کی اس منزل سے مستثنیٰ ہو سکتا ہے ؟؟؟

جہاں تک اللہ اور اس کے رسول کے غلبہ کا تعلق ہے ، تو خدا اس کے لئے کسی نبی کی زندگی کا محتاج نہیں ۔ 
اس کا پروگرام جاری و ساری ہے ۔ 
ارشاد فرمایا ۔

وَإِن مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ [١٣:٤٠]
اور اے نبیؐ، جس برے انجام کی دھمکی ہم اِن لوگوں کو دے رہے ہیں اُس کوئی حصہ خواہ ہم تمہارے جیتے جی دکھا دیں یا اس کے ظہور میں آنے سے پہلے ہم تمہیں اٹھا لیں، بہر حال تمہارا کام صرف پیغام پہنچا دینا ہے اور حساب لینا ہمارا کام ہے [ابوالاعلی مودودی]

کہا کہ جس نظام کی تم جدوجہد کر رہے ہو، ممکن ہے اس کی تکمیل آپ کی زندگی میں ہو جائے ، اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس کی تکمیل سے پہلے آپ اس دُنیا سے رُخصت ہو جائیں ۔ اس کا فیصلہ ہماری صوابدید پر ہے ۔ آپ کا کام تو صرف پیغام پہنچا دینا ہے ۔

کسی نبی کے قتل ہوجانے سے غلبہ خداوندی کے وعدے میں کوئی فرق نہیں پڑتا ۔

ایک نبی آتا تھا ، اپنے حصے کا کام کرتا تھا ۔ کبھی کامیاب ہو جاتا تھا کبھی ناکام ۔ اللہ کریم پھر کسی اور نبی کو مبعوث فرما دیتے تھے ۔ 

ارشاد فرمایا ۔ 

وَاضْرِبْ لَهُم مَّثَلًا أَصْحَابَ الْقَرْيَةِ إِذْ جَاءَهَا الْمُرْسَلُونَ [٣٦:١٣]إِذْ أَرْسَلْنَا إِلَيْهِمُ اثْنَيْنِ فَكَذَّبُوهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوا إِنَّا إِلَيْكُم مُّرْسَلُونَ [٣٦:١٤]
اِنہیں مثال کے طور پر اُس بستی والوں کا قصہ سناؤ جبکہ اُس میں رسول آئے تھے [ابوالاعلی مودودی] 
ہم نے ان کی طرف دو رسول بھیجے اور انہوں نے دونوں کو جھٹلا دیا پھر ہم نے تیسرا مدد کے لیے بھیجا اور ان سب نے کہا “ہم تمہاری طرف رسول کی حیثیت سے بھیجے گئے ہیں” [ابوالاعلی مودودی] 

غور فرمائیں ، پہلے دو کو بھیجا، لیکن وہ دونوں کامیاب نہ ہو سکے ۔ پھر تیسرے کو بھیجا ۔

سوال یہ ہے کہ اگر غلبہ خداوندی کے معنی یہ ہی لئے جائیں کہ اس کے پیغامبر ناکام نہیں ہوتے تھے تو پھر خدا کو ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرے پیغمبر کو بھیجنے کی ضرورت کیوں پڑتی تھی ؟ 
اس اصول کے مطابق تو پہلے سے بھیجے گئے انبیاء ہی کو کامیاب ہو جانا چاہیے تھا ۔

اس مقام پر اس حقیقت کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے کہ کیا واقعی لمحہ موجود تک دین کو غلبہ مل گیا ؟؟
کیا کسی ایک بستی یا خطہ میں نبی کی موجودگی یا اس کے بعد چند دہائیوں تک دین کے قائم ہونے کو غلبہ کہا جائے گا؟؟
کیا ہم نہیں جانتے کہ نبی اکرم ﷺ کے جانے کے محض پچیس تیس سالوں کے بعد اسلام کو اس پوری دنیا میں کہیں بھی غلبہ حاصل نہیں رہا ؟؟
دور نبوی ﷺ میں بھی کیا دین کو ساری دنیا پر غلبہ مل گیا تھا ؟؟؟
تو کیا خدا کا وعدہ صرف دس بیس سالوں کے لئے کسی خاص بستی یا مقام پر اس نظام کے قیام تک ہی محدود ہے ؟؟

ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ 

هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ [٩:٣٣]
اس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے تاکہ اسے سب دینوں پر غالب کرے اور اگرچہ مشرک نا پسندکریں [احمد علی] 

اب نہ تو رسول رہا ، اور نہ ہی اس کا دین دنیا کے تمام ادیان پر غالب آ سکا ۔ تو کیا معاذ اللہ ثم معاذ اللہ ، اللہ کا وعدہ یا دعویٰ غلط ثابت ہو گیا ؟؟؟

یقیناً ایسا نہیں ہے ۔ 

یہ اس رب کا وعدہ ہے جو اس ساری کائنات کا مالک ہے ۔جو دین اس نے بھیجا ہے اس نے بہر صورت غالب آنا ہے ۔ وہ رب اپنے دین کے تمکن و غلبہ کے لئے نبیوں کی زندگی کا محتاج نہیں ۔ 
اس نے اپنے انبیاء علیہ سلام بھیجے تاکہ لوگوں تک پیغام پہنچ جائے ۔ وہ پہنچ گیا ۔ اب یہ دین اپنے نافذ کرنے والے کی مشیت کے مطابق بتدریج غلبہ کے مدارج طے کر رہا ہے ۔اس میں کسی طرح کا شبہ نہیں ہونا چاہیے ۔ 

ایک اور نقطہ نظر نگا ہ سے گزرا ۔ 
کہا کہ جناب اگر خدا اپنے انبیاء کی زندگی کی حفاظت نہ کر سکا تو وہ خدا کس کام کا ۔ اس پر کیا تبصرہ کیا جائے ؟؟
ایک بار اس ہی طرح کا سوال مجھ سے ایک ملحد نے کیا ۔ 

اس نے مجھے کہا کہ حنیف صاحب کیا آپ جانتے ہیں کہ 2005 کے زلزلہ میں ، بالا کوٹ مکمل طور پر برباد ہوگیا تھا ۔جس وقت زلزلہ آیا ، سیکنڑوں معصوم بچے جن کی عمریں پانچ ، سات ، دس سالوں کے درمیان تھیں ، اسکول کی عمارت کے ملبے تلے دب گئے ۔ ان کے لواحقین اس ملبے پر کھڑے آہ و بکاہ کرتے رہے ۔ دو دنوں تک اس ملبے سے بچوں کی دلدوز چیخیں سنائی دیتی رہیں لیکن وسائل نہ ہونے کے وجہ سے ان کو نکالا نہیں جا سکا۔ 

پھر اس نے اچانک مجھ سے سوال کیا ، حنیف صاحب اگر اس وقت آپ پاس کوئی ایسا طریقہ یا طاقت ہوتی جس سے ان معصوم بے گناہ بچوں کو بچایا جا سکتا ہوتا ، تو آپ کیا کرتے ؟؟

میں نے جواب میں کہا کہ اگر مجھے اختیار حاصل ہوتا تو میں لازماً ان بچوں کی مدد کرتا انہیں بچاتا ۔ 
اس پر اس نے مسکرا کر کہا ۔ تو پھر آپ کے خدا نے انہیں کیوں نہیں بچایا ؟؟

آپ کے خدا کو تو بس ” کُن” کہنا تھا ۔

اس کے بعد اس نے کہا جناب ، سچ تو یہ ہی ہے کہ اگر کوئی خدا ہوتا تب ہی تو بچاتا نہ ؟؟

میں نے اسے جو جواب دیاوہ ایک لمبی بحث ہے جس کا یہ موقعہ نہیں ۔ لیکن اس طرح کی طفلانہ بات کہ جناب اگر خدا کے پیغامبر قتل ہوسکتے ہوتے تو پھر وہ خدا کس بات کا خدا ہے، مجھے تو حیرت ہوئی ۔

ایک بچہ معمولی سا زخمی ہوجائے ، تواس کے ماں باپ اسپتال میں ڈاکٹروں سے اس طرح اُلجھ رہے ہوتے ہیں جیسے ساری دُنیا ہی لُٹ گئی ہو۔ 

کیونکہ ان کے لئے ان کے بچے کی چوٹ سے بڑا کوئی صدمہ نہیں ہوتا ۔

لیکن ایک ماہر سرجن روزانہ کی بُنیاد پر برین سرجری کر رہا ہوتا ہے ۔ 

ہارٹ سرجری کر رہا ہوتا ہے ۔ گرئینڈر اور کٹر سے کھوپڑی کی ہڈی کاٹ رہا ہوتا ہے ۔ پسلیوں کو کاٹ رہا ہوتا ہے ۔ وہ کبھی کسی صدمہ کا شکار نہیں ہوتا ۔ وہ جانتا ہے کہ یہ ایک پروسیجر ہے ۔اس کے بعد زندگی آسان ہو جائے گی ۔

موت و حیات ہم انسانوں کے لئے بہت بڑی بات ہے ۔

لیکن خدا کے نزدیک اس کی کیا حیثیت ہے کہ جو ہر لمحہ ، زندگی سے موت اور موت سے زندگی کی تخلیق کئے چلا جا رہا ہے ۔ 

اس کے لئے اس طرح کی جذباتی بات کہ کسی نبی کے مارے جانے پر اس کی خدائی پر سوالیہ نشان بن جاتا ہے ، سوائے ایک لاعلمی کے کچھ نہیں ۔

تین خلفاء راشدین ، جو نبی کے مخلص ساتھی ، سچے اور پکے عبد مومن ، جن سے اُن کی زندگی میں ہی جنت کا وعدہ کر لیا گیا ہو، جن کو گارنٹی دے دی گئی ہو کہ تم اللہ سے راضی اور اللہ تم سے راضی ۔ وہ یکے بعد دیگر قتل ہوتے رہے اور خُدا خاموش رہا ، تو پھر معاذ اللہ اس کے خدا ہونے کا کیا فائدہ ؟؟

یہ سوچ ہی طفلانہ ہے ۔ 

مومن کی ساری زندگی عملی جدوجہد پر مشتمل ہوتی ہے ۔وہ دین حق کا ایسا سپاہی ہوتا ہے جسے نہ مال کے جانے کا غم ہوتا ہے اور نہ جان سے جانے کی پرواہ۔ 

نبی سب سے پہلا مسلم ہوتا ہے ۔ مومن ہوتا ہے ۔ وہ اپنے مشن کی تکمیل میں یا تو کامیاب ہو تا ہے یا اپنی جان سے جاتا ہے ۔ وہ سمجھوتا کر کے بیٹھ نہیں جاتا ۔ 

ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔

قِيلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ ۖ قَالَ يَا لَيْتَ قَوْمِي يَعْلَمُونَ [٣٦:٢٦]بِمَا غَفَرَ لِي رَبِّي وَجَعَلَنِي مِنَ الْمُكْرَمِينَ [٣٦:٢٧]
(آخرکار ان لوگوں نے اسے قتل کر دیا اور) اس شخص سے کہہ دیا گیا کہ “داخل ہو جا جنت میں” اُس نے کہا “کاش میری قوم کو معلوم ہوتا ،کہ میرے رب نے کس چیز کی بدولت میری مغفرت فرما دی اور مجھے با عزت لوگوں میں داخل فرمایا” [ابوالاعلی مودودی]

جس کا جان و مال ، جنت کے عوض خریدا جا چکا ہو ، وہ تو جنت کے حصول کے لئے دوڑتا چلا جاتا ہے ۔ 

نہ قتل ہونے سے ڈرتا ہے اور نہ قتل کرنے سے ۔اور وہ رب کائنات اس کا منتظر ہوتا ہے یہ کہتے ہوئے ۔۔

يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ [٨٩:٢٧]ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً [٨٩:٢٨]فَادْخُلِي فِي عِبَادِي [٨٩:٢٩]وَادْخُلِي جَنَّتِي [٨٩:٣٠]
(دوسری طرف ارشاد ہوگا) اے نفس مطمئن! چل اپنے رب کی طرف، اِس حال میں کہ تو (اپنے انجام نیک سے) خوش (اور اپنے رب کے نزدیک) پسندیدہ ہے ۔ شامل ہو جا میرے (نیک) بندوں میں، اور داخل ہو جا میری جنت میں [ابوالاعلی مودودی] 

اللہ کریم سے دست بہ دعا ہوں کہ مجھے آپ کو اور دیگر تمام احباب دین خالص کو سیکھنے ، سمجھنے اور اس پرعمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ 
سلامت رہیں

سورس

Dr. Muhammad Hamidullah
Visit Website of Dr. Muhammad Hamidullah

You might also like More from author

تبصرے

Loading...