قرآن مجید کے ٹن کمانڈمنٹس ، تحریر: مبشر نذیر

جس طرح اللہ تعالی نے تورات میں 10 Commandments ارشاد فرمائی ہیں، بالکل یہی قرآن مجید میں ارشاد فرمائے ہیں جن کا تعلق ہم سب کے ساتھ ہے۔ اس کا مطالعہ ہمیں کرنا چاہیے تاکہ ہم اپنی اصلاح کر سکیں۔ اس کے لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی ذات کا تجزیہ خود کر لیں کہ ہم کس حد تک اس پر عمل کرتے ہیں۔ اگر اس میں ہم کوئی غلطی کرتے ہوں تو ہمیں اس سے دور رہنا چاہیے۔
اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:
بسم الله الرحمن الرحيم
وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ۚ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا (23)
وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا (24)
رَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَا فِي نُفُوسِكُمْ ۚ إِنْ تَكُونُوا صَالِحِينَ فَإِنَّهُ كَانَ لِلْأَوَّابِينَ غَفُورًا (25)
وَآتِ ذَا الْقُرْبَىٰ حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا (26)
إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ ۖ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِرَبِّهِ كَفُورًا (27)
وَإِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْهُمُ ابْتِغَاءَ رَحْمَةٍ مِنْ رَبِّكَ تَرْجُوهَا فَقُلْ لَهُمْ قَوْلًا مَيْسُورًا (28)
وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُولَةً إِلَىٰ عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُومًا مَحْسُورًا (29)
إِنَّ رَبَّكَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ ۚ إِنَّهُ كَانَ بِعِبَادِهِ خَبِيرًا بَصِيرًا (30)
وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ ۖ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُمْ ۚ إِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْئًا كَبِيرًا (31)
وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا ۖ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا (32)
وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ ۗ وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا فَلَا يُسْرِفْ فِي الْقَتْلِ ۖ إِنَّهُ كَانَ مَنْصُورًا (33)
وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ حَتَّىٰ يَبْلُغَ أَشُدَّهُ ۚ وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ ۖ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا (34)
وَأَوْفُوا الْكَيْلَ إِذَا كِلْتُمْ وَزِنُوا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيمِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا (35)
وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ۚ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا (36)
وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا ۖ إِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْأَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُولًا (37)
كُلُّ ذَٰلِكَ كَانَ سَيِّئُهُ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوهًا (38)
ذَٰلِكَ مِمَّا أَوْحَىٰ إِلَيْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ ۗ وَلَا تَجْعَلْ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ فَتُلْقَىٰ فِي جَهَنَّمَ مَلُومًا مَدْحُورًا (39)
أَفَأَصْفَاكُمْ رَبُّكُمْ بِالْبَنِينَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِنَاثًا ۚ إِنَّكُمْ لَتَقُولُونَ قَوْلًا عَظِيمًا (40)
’’آپ کے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ :
۱۔ آپ کو کسی کی عبادت نہ کیجیے گا، مگر صرف اس (اللہ) کی۔
۲۔ والدین کے ساتھ نیک سلوک کیجیے۔ اگر آپ کے پاس ان میں سے کوئی ایک، یا دونوں، بوڑھے ہو کر رہیں تو انہیں اف تک نہ کہیے گا، نہ انہیں جھڑک کر جواب دیجیےگا، بلکہ ان سے احترام کے ساتھ بات کیجیے گا، اور دعا کیجیے گا کہ ’اے میرے رب! ان پر رحم فرمائیے گا جس طرح انہوں نے رحمت اور شفقت کے ساتھ مجھے بچپن میں پالا تھا۔‘‘ آپ کا رب جانتا ہے کہ آپ کے دلوں میں کیا ہے۔ اگر آپ صالح بن کر رہیں تو وہ ایسے سب لوگوں کے لیے درگزر کرنے والا ہے جو اپنے قصور پر متنبہ ہو کر بندگی کے رویے کی طرف پلٹ آئیں۔
۳۔ رشتہ دار کو اس کا حق دیجیے گا اور اسی طرح غریب اور مسافر کو اس کا حق دیجیے۔ فضول خرچی نہ کیجیے۔ فضول خرچ لوگ شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ اگر ان (رشتے داروں، غریب اور مسافروں سے) آپ کو کترانا ہو، اس بنا پر کہ ابھی آپ اللہ تعالی کی اس رحمت کی تلاش کر رہے ہوں، تب انہیں نرم جواب دے دیجیے۔
۴۔ نہ تو اپنا ہاتھ گردن سے باندھ رکھیے اور نہ اسے بالکل ہی کھلا چھوڑ دیجیے کہ ملامت زدہ اور عاجز بن کر رہ جائیں۔ آپ کا رب جس کے لیے چاہتا ہے، رزق کزادہ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے۔ وہ اپنے بندوں کے حال سے باخبر ہے اور انہیں دیکھ رہا ہے۔
۵۔ اپنی اولاد کو افلاس کے اندیشے سے قتل نہ کر دیجیے گا۔ ہم انہیں بھی رزق دیں گے اور آپ کو بھی۔ درحقیقت انہیں قتل کرنا ایک بہت بڑا گناہ ہے۔
۶۔ بدکاری کے قریب نہ جائیے۔ وہ بہت برا فعل ہے اور بڑا ہی برا راستہ۔
۷۔ قتل نفس کا ارتکاب نہ کیجیے جسے اللہ تعالی نے حرام کر دیا ہے، سوائے حق (یعنی قانونی عدالت) کے ذریعے۔ اور جو شخص مظلومانہ قتل کیا گیا ہو، اس کے ولی کو ہم نے اختیار دے دیا ہے۔ پس چاہیے کہ وہ قتل میں حد سے نہ گزرے، اس کی مدد کی گئی ہے۔
۸۔ آپ کتیم کے مال کے قریب نہ جائیے گا۔ ہاں، مگر اچھے طریقے سے، یہاں تک کہ وہ اپنی پختگی کو پہنچ جائے۔
۹۔ عہد کو پورا کیجیے، اس لیے کہ عہد کے بارے میں آپ سے پوچھا جائے گا۔ جب آپ پیمانے سے(کوئی اشیا یا سروسز) دینا ہوں تو ٹھیک ترازو سے کیلکولیٹ کیجیے گا۔ یہی بہتر ہے اور انجام کے لحاظ سے بھی یہی اچھا طریقہ ہے۔ کسی ایسے امور کے پیچھے نہ لگیے گا جس کا آپ کو علم نہ ہو۔ یقیناً آنکھ، کان اور دل سب ہی کی باز پرس ہونی ہے۔
۱۰۔ زمین میں اکڑ کر نہ چلیے گا، آپ نہ زمین کو پھاڑ سکتے ہیں ، نہ پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکتے ہیں۔
ان امور میں سے ایک کا برا پہلو آپ کے رب کی نزدیک ناپسندیدہ ہے۔ یہ وہ حکمت کے ارشادات ہیں، جو آپ کے رب نے آپ تک وحی کر دی ہے۔ اور دیکھ لیجیے! اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ بنا بیٹھیے گا ورنہ تو جہنم میں ڈال دیا جائے گا ملامت زدہ اور ہر بھلائی سے محروم ہو کر۔‘‘ (سورۃ بنی اسرائیل)
اس میں اگر کوئی سوال ہو تو بلاتکلف آپ مجھے ای میل کر دیجیے گا۔

[email protected]

سورس

ماخذ فیس بک