قصص الانبیاء-(پوسٹ 2,3) حضرت آدمؑ ، تحریر کومل شہاب

لقب: صفی اللّٰہ یعنی اللّٰہ کا خالص یا اللہ کا چنا ہوا

حضرت آدم علیہ السلام ساری انسانیت کے باپ ہیں اور سب سے پہلے پیغمبر بھی۔ زمین پر زندگی کی ابتداء اس بزرگ ہستی کے وجود سے ہی ہوئی۔ یہ بات اس چیز کا واضح ثبوت ہے کہ ابتداء کے بارے میں جو باطل مفروضے ہیں کہ انسان بندر سے وجود میں آیا وغیرہ وغیرہ، سب بے بنیاد ہیں۔

یہ نام اس بات کی دلیل ہے کہ اس کائنات کو وجود بخشنے والی ذات اللّٰہ تعالیٰ کی ہے۔ وہی اس کائنات کا رب ہے اور ہمارا معبود برحق ہے۔ یہیں سے ایک مؤمن کی حیثیت سے ہمیں یہ یقین حاصل ہوتا ہے کہ آدم علیہ السلام ہی ساری انسانیت کے باپ ہیں جن کو اللہ نے اپنے ہاتھ سے تخلیق کیا اور ان میں اپنی روح پھونکی۔ اس کے بعد ہی زندگی کی تمام تر سرگرمیاں وجود میں آئیں۔

اللہ پاک فرماتا ہے:
“ہم نے انسان کو بہت اچھی صورت میں پیدا کیا، پھر (رفتہ رفتہ) اس کی حالت کو (بدل کر) پست سے پست کر دیا مگر جو لوگ ایمان لاتے اور نیک عمل کرتے رہے ان کے لیے بے انتہا اجر ہے۔”

تخلیق آدم کی ابتدا:

سورہ البقرہ کی آیت نمبر 30 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرشتوں کو خبر دی کہ وہ زمین میں آدم کو اپنا خلیفہ بنا رہے ہیں۔ فرشتوں نے سمجھا کہ یہ خلیفہ زمین میں دنگا فساد کرے گا اس لیے بارگاہ الہٰی میں عرض کیا:
“(اے رب)! تو زمین میں ایسے شخص کو خلیفہ بنانا چاہتا ہے جو خرابیاں کرے اور کشت و خون کرتا پھرے، ہم تیری تعریف کے ساتھ تیری تسبیح و تقدیس کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا، جو باتیں میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔” (البقرۃ:30)

آدم کے معنی:
اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام کو مٹی سے بنایا۔ اس بنا پر آپ کا نام آدم رکھا گیا کیونکہ آدم کو “عدیم الارض” سے پیدا کیا گیا۔ سعید بن جبیر سے مروی ہے “عدیم الارض زمین کی اوپری سطح کو کہتے ہیں۔”

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اللّٰہ نے آدم علیہ السلام کو مٹی کی ایک مٹھی سے بنایا جس کو زمین کی سب سطحوں سے لیا گیا۔ اس لیے اولاد آدم کی رنگتوں یا فطرتوں میں فرق ہے (یعنی سرخ، سفید یا نرم اور سخت طبیعت وغیرہ)۔

بعض روایات میں ہے کہ آدم علیہ السلام کا خمیر مٹی سے بنا کر 40 دن تک رکھا۔ کچھ کا کہنا ہے کہ 40 سال تک رکھا پھر اس میں روح پھونکی۔

مسند احمد کے مطابق آدم علیہ السلام کو جمعہ کے دن تخلیق کیا گیا۔
قرآن کریم میں ان کی تخلیق سے متعلق جو باتیں بیان ہیں:
1) آدم علیہ السلام کو مٹی سے بنایا گیا۔
2) آپ کو طین یعنی پانی میں گندھی مٹی سے بنایا گیا جوکہ لیس دار اور چپچپی تھی۔
3) پھر یہ مٹی صلصال بن گئی۔ صلصال اس مٹی کو کہتے ہیں جو جو خشک ہوکر کھنکھناتی ہے۔
ارشاد فرمایا:
“اس نے انسان کو ٹھیکرے کی طرح کھنکھناتی مٹی (صلصال) سے پیدا کیا۔” (الرحمن:14)
4) پھر اللّٰہ نے ان کی تخلیق کو پورا کر کے اس میں روح پھونکی۔

سعدی نقل کرتے ہیں جب آدم علیہ السلام میں روح پھونکی گئی تو روح ان کے سر سے داخل ہوئی جس سے آپ کو چھینک آئی تو اللہ نے کہا “الحمدللہ کہو”۔ آپ نے ایسا ہی کہا۔ جواب میں اللہ نے “یرحمک اللہ” (اللہ آپ پر رحمت فرمائے) کہا۔
جب روح آنکھوں پہ پہنچی تو آپ کو جنت کے پھل نظر آنے لگے، جب پیٹ میں پہنچی تو بھوک جاگ اٹھی اور جب روح پاؤں میں پہنچی تو جنت کےمیووں کی طرف لپکنا چاہا۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
“انسان کچھ ایسا جلدباز ہے گویا جلدبازی سے ہی بنایا گیا ہے۔” (الانبیاء:37)

حضرت آدم علیہ السلام کو اسما (ناموں) کی تعلیم:
حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کے بعد اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو سب چیزوں کے اسم سکھائے۔ ارشاد ہوا:
“اور اس نے آدم کو ہر چیز کے نام سکھائے۔” (البقرۃ:31)

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو ہر خاص و عام، چھوٹی اور بڑی چیز کی تعلیم فرمائی، ہر چیز کا نام آپ کو یاد کروایا۔ غرض کہ جب آپ کو سب چیزوں کے نام سکھا دیئے تو آپ کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور کہا “اگر تم جانتے ہو تو مجھے ان چیزوں کے نام تو بتاؤ؟” فرشتے نہ بتا سکے اور کہنے لگے، “تو پاک ہے، جتنا علم تو نے ہمیں بخشا ہے اس کے سوا ہم کچھ نہیں جانتے، بیشک تو دانا اور حکمت والا ہے۔” (البقرۃ:32)

اس پر اللہ نے آدم علیہ السلام کو یہ حکم دیا، “اے آدم! تم ان (فرشتوں) کو ان (چیزوں) کے نام بتاؤ۔” جب انہوں نے ان چیزوں کے نام بتا دیے تو فرشتوں سے کہا: “کیوں، میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی سب پوشیدہ باتوں کو جانتا ہوں اور جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو مجھے سب معلوم ہے۔” (البقرۃ:33)
غرض اللّٰہ تعالیٰ نے یہاں یہ بات ثابت کر دی کہ ہر چیز کا علم صرف اللہ کو ہے اور اللہ ہی نے حضرت آدم علیہ السلام کو ہر چیز کی تعلیم فرمائی۔ اس سے یہ بات بھی ظاہر ہو گئی کہ سب سے پہلی مخلوق ہرگز بھی بے علم نہ تھی اور انسان ابتدا سے ہی رب کی توحید و معرفت سے آگاہ ہے۔

فرشتوں کا آدم کو سجدہ کرنا:
اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام کو تعظیم بخشنے کے لیے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ ان کو سجدہ کریں۔ یہ سجدۂ عبادت ہرگز نہ تھا کیوں کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے لیے کرنا جائز ہے، یہ محض سجدۂ تعظیم تھا۔
“تو فرشتے تو سب سجدے میں گر گئے سوائے شیطان کے، اللہ تعالیٰ نے کہا، “اے شیطان! تجھے کیا ہوا جو تو سجدہ کرنے والوں میں نہ ہوا؟” وہ بولا، “میں ایسا نہیں ہوں انسان کو سجدہ کروں جسے تو نے مٹی کے سڑے ہوئے گارے سے بنایا۔ اللہ نے کہا، “تو پھر نکل جا یہاں سے، بیشک تو مردود ہے اور قیامت تک کے لیے تجھ پر لعنت برسے گی۔” (الحجر:30-35)
اس نے دعویٰ کیا کہ میں آدم سے بہتر ہوں: “کہا، میں آدم سے بہتر ہوں۔ تو نے مجھے آگ سے بنایا ہے اور اسے مٹی سے۔” (الاعراف:12)

سجدۂ تعظیمی پہلے ایک عام بات تھی، قصہ یوسف علیہ السلام میں بھی اس کا ذکر ہے لیکن امت محمد صلی اللہ علیہ وسلّم تک ہی جائز تھا۔ اسکے بعد اس سے منع فرما دیا گیا۔

اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو چار طرح سے عزت بخشی۔
1) اپنے ہاتھوں سے بنایا
2) ان میں خود روح پھونکی
3) ان کو ہر چیز کی تعلیم فرمائی
4) ان کو فرشتوں سے سجدۂ تعظیم کرایا

حضرت بی بی حوا:
حوا عربی زبان کا لفظ ہے، جو لفظ “حی” سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں ‘زندہ’۔
کیونکہ حضرت حوا علیہ السلام کو آدم علیہ السلام کی پسلی (یعنی ایک زندہ چیز سے تخلیق کیا گیا) اس لیے ان کا یہ نام رکھا۔

حضرت آدم علیہ السلام جب ایک دن سوئے ہوئے تھے، اٹھنے پر انہوں نے دیکھا ان کے سرہانے ایک عورت موجود تھی۔ آپ نے دریافت کیا “تم کون ہو؟” جواب ملا “عورت”۔ پھر پوچھا “تمہیں کیوں پیدا کیا گیا ہے؟” کہا: “تاکہ آپ مجھ سے سکون پا سکیں۔”
بی بی حوا کی تخلیق کے متعلق مختلف روایات ہیں۔ کچھ کا کہنا ہے کہ آپ کو آدم علیہ السلام کے ساتھ ہی تخلیق کیا گیا۔ کچھ کا کہنا ہے کہ آپ کو ان کے جنت میں جانے کے بعد تخلیق کیا گیا۔ لیکن یہ آیت اس بات کی تائید کرتی ہے کہ آپ کو ان کے جنت میں جانے سے پہلے بنایا گیا۔ ارشاد ہوا:
“تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو اور جہاں سے چاہو کھاؤ، مگر اس درخت کے پاس نہ جانا ورنہ گنہگار ہو جاؤ گے۔ (الاعراف:19)

حضرت آدم علیہ السلام کا جنت میں داخل ہونا اور وہاں سے نکلنا:
خدا نے شیطان کو دھتکار دیا اور آدم علیہ السلام کو جنت میں بھیج دیا لیکن فرمایا کہ شیطان سے ہوشیار رہیں کہ وہ ان کا کھلا دشمن ہے۔ ارشاد ہوا:
“اے آدم! یہ ابلیس تمہارا اور تمہاری بیوی کا کھلا دشمن ہے۔ تو کہیں تم کو جنت سے نکلوا نہ دے اور پھر تم تکلیف میں پڑ جاؤ۔” (ال پہ:117)
اب آدم علیہ السلام جنت میں بھیج دیے گئے۔ وہاں وہ جہاں چاہتے گھومتے، جو چاہتے کھاتے سوائے اس درخت کے پھل کے جس سے اللّٰہ نے منع فرمایا تھا۔
شیطان اس تاک میں تھا کہ کیسے موقع ملے اور آدم علیہ السلام کو بہکائے۔ چنانچہ اس نے انہیں وسوسے میں ڈالتے ہوئے کہا:
“تم کو تمہارے پروردگار نے اس درخت سے اس لیے منع کیا ہے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ اور ان سے قسم کھائی کہ میں تمہارا خیرخواہ ہوں۔” (الاعراف:20-21)
غرض شیطان کے بہکاوے میں آ کر آدم علیہ السلام اور ان کی بیوی نے اس درخت سے کھا لیا۔ “اور آدم علیہ السلام نے اپنے پروردگار کے حکم کے خلاف کیا اور اپنے مطلوب سے بے راہ ہوگئے۔” (طہ:121)

اب آدم علیہ السلام اور شیطان دونوں کو اللّٰہ نے زمین پر اتار دیا اور اب یہ دونوں ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔

حضرت آدم علیہ السلام اور بی بی حوا کا زمین پہ اترنا

ابن اثیر —- کی روایت ہے جب شیطان زمین پر اترا تو کہنے لگا:
“اے اللّٰہ! تو نے آدم علیہ السلام کی وجہ سے مجھے جنت سے نکالا اور تیری مدد کے بنا میں اس پر قوی نہیں ہو سکتا۔”
اللہ نے فرمایا: “تمہیں اس پر مسلط کر دیا، اس نے مزید اضافہ مانگا، کہا “جب بھی آدم کے ہاں اولاد ہوگی ویسے ہی تیرے ہاں بھی ہوگی۔۔” اس نے مزید اضافہ مانگا، اللہ نے کہا،”ان کے سینے تیرے ٹھکانے ہیں تو ان میں خون کی طرح دوڑے گا” اس نے مزید اضافہ مانگا تو اللہ نے کہا “ان پر اپنے گھوڑوں اور پیادوں سے چڑھ دوڑ اور ان کے مال اور اولاد میں شریک ہوجا۔”

آدم علیہ السلام نے کہا، “اے اللہ! تو نے شیطان کو لمبی مہلت دی اور اسے مجھ پر مسلط کیا اور میں تیری مدد کے بنا اس سے نہیں بچ سکتا”۔ اللہ نے فرمایا، “جب بھی تیرے ہاں اولاد ہوگی میں اس کی حفاظت پہ ایک فرشتہ مقرر کر دوں گا جو اس کی حفاظت اس کے برے ساتھی(شیطان) سے کرے گا۔” آدم نے مزید مانگا تو اللہ نے کہا، “ایک نیکی کے بدلے دس گنا اجر ملے گا اور اس میں بھی اضافہ کر دوں گا اور ایک برائی کے بدلے ایک ہی ملے گی اور وہ بھی کسی نہ کسی طرح مٹا دوں گا۔” آدم نے مزید اضافہ مانگا تو اللہ نے کہا، “اے میرے بندو! اگر اپنی جانوں پہ زیادتی کر بیٹھے ہو تو اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہونا، میں تمہیں معاف کر دوں گا۔” آدم نے مزید اضافہ مانگا تو کہا،”جب تک اولاد آدم زندہ ہے میں اس کو توبہ کرنے سے نہیں روکوں گا۔” آدم نے مزید مانگا تو کہا،”میں بے شک دوں گا اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔” اس پر آدم نے کہا “بس”۔ پس شیطان انسان پر بہت مسلط ہوگا مگر اللہ کی رحمت و مغفرت کا دروازہ بہت کشادہ اور آسان ہے اور انسان شیطان سے دھوکا کھانے کی وجہ سے شکست کھاتا ہے اور استغفار کر کے اس پر غالب آ جاتا ہے۔” سبحان اللہ (الکامل بن اثیر)

جنت سے نکلنے کی ذمہ داری:
بہت دفعہ یہ بات کہی جاتی ہے کہ آدم علیہ السلام نے بی بی حوا کے کہنے پہ وہ پھل کھایا۔ اسی مفروضے کی بنیاد پر لوگوں نے یہ نظریہ بھی ایجاد کر لیا کہ عورت ہر برائی کی جڑ ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ قرآن میں صرف بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دونوں کو مخصوص درخت کا پھل کھانے سے منع فرمایا۔ لہٰذا جنت سے بے دخل ہونے کی ذمہ داری دونوں پر ہی عائد ہوتی ہے۔
فرمایا: “تم دونوں اس درخت کے پاس مت جانا ورنہ گنہگار ہو جاؤ گے۔” (البقرۃ:35)
اور فرمایا، “اے آدم! یہ شیطان تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے، خیال رکھنا یہ تمہیں جنت سے نہ نکلوا دے۔” (طہ:117)
ان آیات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اماں حوا اس بات سے بری ہیں۔ وہ تو خود آدم علیہ السلام کی بیوی کی حیثیت سے ان کے تابع تھیں۔ بہرکیف اپنے عمل کے لیے ہر شخص خود ذمہ دار ہے۔

حضرت آدم علیہ السلام کی نبوت:
آپ دنیا میں سب سے پہلے بندے بھی ہیں اور پیغمبر بھی۔قرآن کریم میں آپ کو صاف لفظوں کے ساتھ پیغمبر تو نہیں کہا گیا لیکن دوسرے پیغمبروں کی نبوت بتانے کے لیے اللہ نے جو “اصطفی” کا لفظ استعمال کیا ہے وہی آپ کے لیے بھی استعمال کیا۔ فرمایا: “خدا نے آدم اور نوح کو چن لیا۔” (آل عمران:33)
اسی طرح آپ کے بارے میں “اجتبی” کا لفظ بھی استعمال ہوا ہے۔غرض یہ کہ آپ کی نبوت کے بارے میں بے شمار دلائل ہیں جو قرآن و حدیث سے واضح ہیں۔

ایک سوال یہ بھی ہے کہ آپ کی نبوت کے بارے میں قرآن میں صراحت کیوں نہیں؟
اس کا جواب یہ ہے کہ جن باتوں میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہ ہو وہاں صراحت کی ضرورت نہیں ہوتی۔

آدم علیہ السلام وجود میں آنے کے لحاظ سے بھی پہلے انسان ہیں اور آپ نے اللہ سے جو علم حاصل کیا وہ بالواسطہ ‘وحی’ ہے۔ لہٰذا آپ کی نبوت میں ہرگز بھی کوئی شبہ نہیں۔

اولاد آدم علیہ السلام:
اللہ نے آدم علیہ السلام اور بی بی حوا کو زمین پر اتار دیا۔ اب ان کی نسل کو آگے بڑھانا تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو روز ایک بیٹے اور بیٹی کی نعمت سے نوازا۔ پہلے دن پیدا ہونے والے بیٹے کا نکاح دوسرے دن پیدا ہونے والی بیٹی سے ہوتا اور اسی طرح پہلی دن پیدا ہونے والی بیٹی کا نکاح دوسرے دن پیدا ہونے والے بیٹے سے کیا جاتا۔ اس کا مقصد دنیا میں انسان کی نسل کو بڑھانا تھا۔ آپ کی اولاد میں سے جن کا ذکر قرآن میں آیا ہے ان میں ہابیل علیہ السلام، قابیل اور شیث علیہ السلام شامل ہیں۔

روئے زمین پر پہلا قتل:
ہابیل کی بہن سے قابیل کی شادی ہونا تھی اور قابیل کی بہن سے ہابیل کی۔ لیکن چونکہ قابیل کی بہن خوبصورت تھی تو قابیل کے دل میں حسد پیدا ہوا۔ اس نے ہابیل سے کہا کہ میں تمہیں قتل کر دوں گا۔ آدم علیہ السلام کو ڈر تھا لہٰذا انہوں نے کہا، “تم دونوں اللہ کی راہ میں قربانی پیش کرو،غرض جس کی قربانی قبول ہوگئی اسی کی شادی اس (قابیل کی بہن) سے ہوگی۔”
ہابیل جو کہ بکریاں چراتا تھا اپنے ریوڑ سے سب سے اچھا بچھڑا چن کر لایا اور اللہ کی راہ میں قربان کیا جبکہ قابیل جوکہ کھیتی باڑی کرتا تھا، سب سے سوکھی گھاس قربانی کے لیے اٹھا لایا۔اس دور کے طریق کے مطابق آسمان سے ایک آگ کا شعلہ آیا اور بچھڑے کو لے گیا جس سے ثابت ہوا کہ ہابیل کی قربانی قبول ہو گئی۔ قابیل طیش میں آ گیا۔شیطان نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کو مزید بہکایا۔غرض اس نے ایک پتھر مار کر سوتے ہوئے بھائی (ہابیل) کو قتل کر دیا۔

حضرت آدم علیہ السلام کی وفات:
حضرت آدم علیہ السلام کی وفات کے متعلق مختلف روایات ہیں۔ کچھ کا کہنا ہے کہ ان کی عمر 960 برس تھی۔ کچھ کے مطابق آپ کی عمر 957 سال تھی۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب قرض کے حکم والی آیت اتری تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“سب سے پہلے انکار آدم علیہ السلام نے کیا تھا۔ جب اللہ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو ان کی پیٹھ پہ ہاتھ مارا جس سے روز قیامت تک پیدا ہونے والی ان کی ساری اولاد باہر نکل آئی۔ ان میں سے ایک چہرہ بے حد روشن تھا۔ آپ نے پوچھا، “یہ کون ہے؟” اللہ نے فرمایا، “یہ آپ کے بیٹے حضرت داؤد علیہ السلام ہیں۔حضرت آدم علیہ السلام نے اللہ سے پوچھا کہ ان (داؤد علیہ السلام) کی عمر کتنی ہے؟ اللہ نے فرمایا: “ساٹھ سال”۔ تو آپ نے فرمایا کہ اللہ پاک آپ ان کی عمر بڑھا دیں ۔ تو اللہ تعالیٰ نے کہا “نہیں۔ البتہ آپ کی عمر میں کچھ حصہ لگنے دے دیتا ہوں۔” لہٰذا حضرت آدم علیہ السلام کی عمر سے 40 سال کم کر کے ان کی عمر میں شامل کر لیے گئے۔ اس کو لکھ کر اللہ نے فرشتوں کو اس پہ گواہ بنا لیا۔ جب آدم علیہ السلام کی موت کا وقت قریب آیا تو انہوں نے کہا کہ ابھی میری عمر کے چالیس سال باقی ہیں۔ کہا گیا وہ تو آپ کے بیٹے کو دے دی۔ پوچھا کہ کب؟ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے کتاب کر دی۔ (تاریخ طبری)

ابن کثیر سے روایت ہے کہ ابی کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، حضرت آدم علیہ السلام نے موت کے وقت جنت کے پھلوں کی خواہش کی، ان کے بیٹے تلاش میں نکل گئے۔راستے میں فرشتے ملے انہوں نے کہا، اس کی ضرورت نہیں،ان کی موت کا وقت آ گیا ہے۔ آپ واپس آئے اور حضرت آدم علیہ السلام سے چمٹ کر رونے لگے تو انہوں نے فرمایا، “پیچھے ہٹو، مجھے پہلے ہی میری عمر سے زیادہ مہلت دے دی گئی ہے۔” چنانچہ فرشتوں نے ان کی روح قبض کر لی۔ان کو غسل دیا، کفن پہنایا اور دفن کیا اور فرمایا کہ یہ تمہارے مردوں کو دفن کرنے کا طریقہ ہے۔

ایک اور روایت میں ہے، حضرت شیث علیہ السلام نے جبرائیل علیہ السلام سے نماز جنازہ پڑھنے کو کہا تو انہوں نے کہا، آپ اپنے والد کی نماز جنازہ پڑھائیے تو شیث علیہ السلام نے 30 رکعتوں کے ساتھ نماز پڑھائی اور ان کی تدفین کی گئی۔ کہتے ہیں کہ آپ کو جبل ابی قبیس کے گھر “غار کنز” میں دفن کیا گیا۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے بقول حضرت نوح علیہ السلام نے طوفان کے بعد کشتی سے اتر کر آپ کو بیت المقدس میں دفن کیا۔
حضرت حوا کے بارے میں بھی بہت سی روایات ہیں کہ آپ بھی آدم علیہ السلام کی وفات کے ایک سال بعد ہی انتقال فرما گئیں اور ان کے ساتھ ہی دفن ہوئیں۔
واللہ اعلم

قصہ آدم میں سبق آموز باتیں:
حضرت آدم علیہ السلام کی زندگی سے ہمیں بہت سی باتوں کا سبق ملتا ہے۔

1- سلام کرنا
جب آدم علیہ السلام کو اللہ نے بنایا تو ان کو فرشتوں کے پاس بھیجا۔ انہوں نے جا کے کہا، “السلام علیکم” (تم پر سلامتی ہو)۔ فرشتوں نے جواب دیا “وعلیکم السلام ورحمت اللہ” (سلامتی کے ساتھ ساتھ اللہ کی رحمت بھی ہو)

2– شکر، الحمد للہ
چھینکنے کے وقت الحمدللہ کہنے کی سنت، جس کا پہلے ذکر کر دیا گیا ہے

3– علم کی قدر
اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو ہر چیز کے علم سے آراستہ کیا اور پھر دنیا میں اتارا، علم شیطان کو بھی تھا لیکن اس نے تکبر کیا اور اللہ کے دیئے ہوئے علم کا صحیح استعمال نہ کیا۔ لہٰذا ہمیں صحیح طریقے سے علم حاصل کرنا ہے اور اس کی قدر کرتے ہوئے اس کا صحیح استعمال کرنا ہے۔

4- مسائل کا حل اللہ کی مدد سے چاہنا
جب آدم علیہ السلام نے ہابیل کے متعلق قابیل کے ارادے جانے تو انہوں نے اس مشکل وقت میں صرف اللہ سے رجوع کیا اور اللہ کے حضور قربانی کا حل تجویز کیا۔ اس سے ثابت ہوا کہ ہمیں زندگی میں کوئی بھی چھوٹی بڑی مشکل پیش آئے تو اس کے حل کے لیے صرف اور صرف اللہ سے رجوع کریں۔

5- تباہی اور نجات کے راستے

شیطان تباہ ہوا کیوں کہ
-اس نے اپنے گناہ کا اقرار نہیں کیا
-اپنے گناہ سے توبہ نہیں کی
-اپنی اصلاح نہیں کی
-اللہ سے معافی نہیں مانگی
اور
-اللہ پہ بھروسہ/امید نہیں رکھی کہ اس کو معافی بھی مل سکتی ہے۔

جبکہ آدم علیہ السلام نے نجات کے پانچ طریقے اپنائے۔
-اپنے گناہ کا اقرار کیا۔
-گناہ پہ نادم ہوئے اور توبہ کی۔
-اپنی اصلاح کی۔
-اللہ سے معافی مانگی۔
-اللہ پہ بھروسہ اور امید رکھی کہ معافی ضرور ملے گی۔

یہی وہ طریقے ہیں جن پہ عمل کر کے ہمیں بھی نجات مل سکتی ہے۔ ان شاءاللہ

آخر میں حضرت آدم علیہ السلام کی دعا جو ہمیں اپنی روزمرہ زندگی میں شامل رکھنی چاہیے۔

ربنا ظلمنا انفسنا و ان لم تغفرلنا و ترحمنا لنکوننا من الخاسرین
(الاعراف:23)
اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پہ ظلم کیا، اور اگر آپ ہمیں معاف نہیں کریں گے تو ہم خسارہ پانے والوں میں ہو جائیں گے۔

(میری اصلاح،اپنی رائے اور سوالات کے لیے کمنٹ کریں، اور املا کی کوئی غلطی ہو تو اصلاح ضرور فرمائیں۔ شکریہ).

دعاؤں کی طالب:

Posted by | View Post | View Group

You might also like More from author

تبصرے

Loading...