قصص الانبیاء-(پوسٹ 4) حضرت ادریسؑ ، تحریر کومل شہاب

حضرت ادریس علیہ السلام اللّه کے پیغمبر ہیں ۔
آپکا ذکر قرآن پاک میں دو جگہ ہے،ایک جہاں انبیاء کرام کے ساتھ آپ کے نبی ہونے کا ذکر ہے:

“اور اسمٰعیل اور ادریس اور ذوالکفل (کو بھی یاد کرو) یہ سب صبر کرنے والے تھے”
(سورہ الانبیآء:86-85)

اور دوسرا سورہ مریم میں:

“اور کتاب میں ادریس کا بھی ذکر کرو وہ بھی نہایت سچّے نبی تھے اور ہم نے ان کو اونچی جگہ اٹھا لیا۔”
(مریم: 56_57)

آپکا اصل نام خنوخ بن یرد بن مہلائیل بن قینان بن انوش بن شیث بن آدم علیہ السلام ہے۔

آپکا نام ادریس اسلئے پڑا کیونکہ آپ نے سب سے پہلی وحی کا درس دیا۔ ادریس کا لفظ درس سے نکلا ہے۔ آپ کے علم اور تدریس کی بدولت آپ کو آپ کے اصل نام کے بجائے ادریس کے نام سے ہی جانا جاتا۔

ادریس علیہ السلام کی مختلف فنون میں مہارت:

آپ نے دنیا میں کپڑے سی کر پہنّنے کا فن، قلم سے لکھنے کا فن سب سے پہلے متعارف کروایا، آپ سب سے پہلے مجاہد تھے۔ آپ پہ اللّٰہ تعالیٰ نے تیس صحیفے بھی اتارے ۔ آپ نے سب سے پہلے ترازو کا استعمال کیا، باٹ بنایا،اسلحہ بنایا۔ علم ِنجوم کے موجد ِاوّل بھی آپ ہیں۔

حضرت ادریس علیہ السلام کا اونچی جگہ پہ اٹھایا جانا:

معراج کی حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپکی ملاقات حضرت ادریس علیہ السلام سے چوتھے آسمان پہ ہوئی۔
اس سے متعلق بہت سے مفروضے ہی، کچھ جگہوں پر ہے کہ آپکی خواہش پر اللّٰہ نے ملک الموت کے زریعے آپکو آسمانوں پہ بلایا،دوزخ اور جنّت کی سیر کروائی آور پھر آپ کے اسرار پر جنّت میں آپکی روح قبض کرلی۔
بعض روایات میں ہے کہ ملک الموت آپکی روح قبض کرنے جارہے تھے تو آپکی ملاقات حضرت ادریس علیہ السلام سے چوتھے آسمان پر ہوئی جیسا کہ اللّٰہ نے فرمایا تھا،لحاضہ ان کی روح وہاں قبض کرلی گئی۔لیکن قرآن و حدیث سے ایسا کچھ ثابت نہیں ہے صرف یہ زکر ہےکہ ہم نے انہیں اونچی جگہ اٹھا لیا۔ کچھ مفّسرین ِ اسلام اس بات کے قائل ہیں کہ اونچی جگہ سے مراد “نبوت” ہے۔کیونکہ نبی اللّٰہ کے سب سے برگزیدہ بندے ہیں،اور اِس سے اونچا کوئی درجہ نہیں۔
واللہ اعلم

قصّہ ادریس علیہ السلام میں سیکھنے کی باتیں:

1.اللہ کے دیے ہوئے علم کا صحیح استعمال۔

*انہوں نے دین کے علم کو سمجھا اور اس کی اتنی تدریس کی کہ انکا نام ہی ادریس پڑھ گیا۔ تو ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بھی اللّٰہ کے اتارے ہوئے علم سے مستفید ہوں اور اُسے دوسروں تک پہنچائیں۔

* گو کہ انہوں نے اسلحہ ایجاد کیا لیکن اس کا استعمال دین کی بقاء کے لئے کیا۔

*علم ِنجوم، جس کو آج کے دور میں انتہائی غلط استعمال کیا جارہا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

کہ غیب کا علم صرف اللہ کو ہے اور جو لوگ کاہنوں کے پاس جاتے ہیں وہ شرک کے مرتکب ہوئے۔ لہٰذا اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ، انبیاء کرام علیہم السلام کے پاس بھی صرف اتنا ہی علم تھا جتنا اللّٰہ نے عطاء فرمایا تو روئے زمین پر علم ِ نجوم اور علم ِ غیب کے دعویدار کس زمرے میں آتے ہیں؟
اللّٰہ تعالیٰ ہمیں ان تمام فتنوں سے بچتے ہوئے صحیح دین پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین

(میری اصلاح،اپنی رائے اور سوالات کے لیے کمنٹ کریں، اور املا کی کوئی غلطی ہو تو اصلاح ضرور فرمائیں۔ شکریہ)

دعاؤں کی طالب:

Posted by | View Post | View Group

You might also like More from author

تبصرے

Loading...