لاجیکس (آمد مسیح کے حوالے سے) از قاری حنیف ڈار

یہود کو دجال کا انتظار اس لئے ھے کہ وہ نعوذ باللہ حضرت عیسی علیہ السلام کو دجال یعنی فریبی کہتے تھے، روایات میں دجال اور حضرت عیسی علیہ السلام کے معجزات کی تفصیل ایک جیسی ھے بلکہ دجال کو حضرت عیسی علیہ السلام سے بڑھ کر صاحب معجزات قرار دیا گیا ھے کہ اس کے دائیں بائیں زمین کے خزانے چلیں گے ، وہ جہاں چاھے گا بارش برسا دے گا اور جہاں چاھے گا قحط بپا کر دے گا ، اس کے ماننے والوں کی کھیتیاں ھری بھری ھونگی جبکہ اس کے منکروں کی کھیتیاں خاک اڑائیں گی، دجال کا کھوتا بڑا بھی ھو گا اس کے کان ستر ہاتھ یعنی ستر فٹ ھونگے ، اور رفتار بھی اتنی تیزی ھو گی کہ جھٹ سے دنیا گھوم لے گا جبکہ حضرت عیسی علیہ السلام کا گدھا چھوٹا اور بہت ماٹھا تھا وغیرہ وغیرہ ،،نعوذ باللہ یہود کے دجال آ کر گزر گئے اب وہ اصلی والے عیسی ( دجال) کے منتظر ہیں ،، ان کے یہاں تو ایک بندہ مسننگ پرسن ھے ،، مسلمانوں کے عیسی علیہ السلام تو اصلی تھے ،، یہ دجال کے لئے ریڈ کارپٹ ڈالے کیوں منتظر ہیں ؟ کوئی لاجک ؟

نبئ رحمت کی امت مرحومہ کو اپنے نبی ﷺ کی عدم موجودگی میں اللہ پاک خدائی صفات کا حامل ایک شخص بھیج کر بھلا کیوں فتنے میں ڈالے گا ؟ جبکہ رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق سب سے بڑے فتنے اور مشکلیں نبی کی موجودگی میں آتی ہیں ـ

سورس

عیسائیوں کو حضرت عیسی علیہ السلام کا انتظار اس لئے ھے کہ انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ زمین پر اللہ کی عدالت لگے گی ، لہذا وہ منتظر ہیں کہ عیسی علیہ السلام واپس آ کر وہ عدالت لگائیں گے ،، جبکہ ھمارا عقیدہ ھے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی صورت میں اللہ کی وہ عدالت زمین پر لگ کر فیصلے سنا کر برخواست ھو گئ ھے ، مسلمانوں کو عیسی علیہ السلام کا انتظار کیوں ھے ؟ صرف اس لئے کہ وہ آ کر ان کو ایک کریں گے؟ اور تب تک انہوں نے بھٹے کی اینٹوں کی طرح فرقوں کے ڈھیر لگانے پر کمر کس رکھی ھے ـ قرآن تو رسول اللہ ﷺ کو تسلی دیتا ھے کہ انسانیت قیامت تک اختلاف میں مبتلا رھے گی اور یہ اختلاف ان کو دی گئ مہلت اور اختیار کا حصہ یا بیک فائر ھے ، [ وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً ۖ وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ (118) إِلَّا مَن رَّحِمَ رَبُّكَ ۚ وَلِذَٰلِكَ خَلَقَهُمْ ۗ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ (119) ھود ] اگر تیرا رب چاھتا تو تمام انسان( سوچ سمجھ فکرمیں)ایک جیسے ھوتے مگر یہ اختلاف کرتے رہیں گے سوائے اس کے کہ جس پر تیرا رب رحم کر دے اور اسی طور پر( آزادانہ سوچ کے ساتھ ) ان کی تخلیق کی گئ ھے اور اس آزادئ رائے کے نتیجے میں تیرے رب کی بات پوری ھو گی کہ جھنم جنوں اور انسانوں سے بھری جائے گی ،،[ اگر رائے کی آزادی نہ دی جاتی تو حساب کتاب بھی نہ ھوتا اور انسان دیگر جانوروں کی طرح مر کھپ کر ختم ھو جاتا ] جب آزادی دی تو پھر محاسبہ اس کا لازمی نتیجہ ھے ، اور جنت یا جھنم اس محاسبے کا لازمی نتیجہ ھے ورنہ محاسبہ ایک مخول ھی بن جاتا ـ

سورس

قرآن اپنے دعوے میں کلیئر کٹ ھے کہ عیسی علیہ السلام اپنے حصے کا کام کر کے فارغ ھو گئے ، عیسی علیہ السلام کی واپسی کی روایات نے قادیانی کو مثیل عیسی بننے پر اکسایا ،، کہ جب قرآن میں عیسی علیہ السلام ” قد خلت ” ھو گئے ہیں تو روایات لازم کسی عیسی سے مشابہ شخص کی بات کر رھی ہیں ، یوں اس نے اپنا ڈول ڈالا ،، قیامت کے دن جب مقدمہ چلے گا تو بڑے بڑے نام کٹہرے میں ھونگے جنہوں نے قادیانی اور اس کے ماننے والوں کو بھٹکانے میں کردار ادا کیا ـ نہ یہ کہانیاں گڑھی جاتیں اور نہ قادیانی اور اس کا ٹولہ جھنم کی راہ لیتا الغرض بڑے بڑے تراہ نکلیں گے قیامت کے دن ،، اتنا لمبا عرصہ ذرا دلچسپ ھو جائے گا ،،

سورس

روایات کا تضاد !
۱ـ حضرت عیسی میری زندگی میں آ جائیں گے!ابی ھریرہؓ
۲ـ اگر نہ آئے تو تم میں سے جس کو ملیں میرا سلام دے دینا !حضرت ابی ھریرہؓ
۳ ـ فتح قسطنطنیہ پر دجال کا خروج ، امام مھدی کا ظہور اور حضرت عیسی علیہ السلام نازل ھو جائیں گے ـ

اب اھلسنت اس انتظار میں ہیں کہ قرب قیامت میں قسطنطنیہ ایک بار پھر کافروں کے قبضے میں چلا جائے گا اور پھر جب فتح ھو گا تب دجال نکلے گا !

سورس

 
 
Dr. Muhammad Hamidullah
Visit Website of Dr. Muhammad Hamidullah

You might also like More from author

تبصرے

Loading...