محمد شیخ کے عقائد ۔۔ الکتاب کے بارے میں ۔۔ تحریر: زاہد حسین

بعض دوستوں نے کہا کہ کے بجائے اس کے لیکچر پر بات کرو سو ان
کے اس مطالبے پرمحمد شیخ کا وہ لیکچر پیش کررہا ہوں جو اس کے تمام لیکچرز کی بنیاد ہے وہ ہے الکتاب کا لیکچر ۔ جس کے خاص خاص نکات یہ ہیں۔
1) محمد شیخ کا کہنا ہے کہ تورات کتاب نہیں ہے بلکہ قران ، تورات ، انجیل اور زبور یہ سب اللہ کی کتاب کے صفاتی نام ہیں الگ سے کتابیں نہیں(2) تورات کا مطلب قانون ہے قران میں جہاں جہاں قانون بیان ہوا ہے وہ الکتاب ہی کی تورات ہے(3) لفظ تورات موسیٰ کے ساتھ نہیں آیا اس لئے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ تورات موسیٰ پر نازل ہوئی ۔(4) ہر نبی کوتورات دی گئ اور ہر نبی نے تورات سے فیصلہ کیا (5) انجیل کا مطلب خوشخبری ہے(6) قران کا مطلب پڑھائ ہےجسے مسلمان قران کہتے ہیں وہ قرآن نہیں بلکہ کتاب موسیٰ ہے (7) اور یہ کتاب موسیٰ اس دن سے زمین پرلوگوں کے لئے موجود ہے جب سے اللہ نے زمین آسمان بنائے ۔
یہ محمد شیخ کے بیان کردہ سات عقائد ہیں جو وہ اپنے کتاب کے لیکچر میں قران کی چند آیات کو سامنے رکھ کراخذ کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن ان آیات اور ان نکات کو پس پشت ڈال دیتا ہے جس سے اس کے انہی نظریات کا بھانڈا پھوٹ جاتا ہے یا ان آیات کا زکر بھی کرتا ہے تو الفاظ کے معنی بدل دیتا ہے ۔ان نظریات کو انشاء اللہ قرانی آیات سے ہی باطل ثابت کیا جائے گابس اپ کی توجہ درکار ہے۔
عقیدہ نمبر 1) تورات الگ سے کوئ کتاب نہیں ہے بلکہ قران ، تورات ، انجیل اور زبور یہ سب اللہ کی کتاب کے صفاتی نام ہیں ۔
جواب: سب سے پہلے سورہ العمران آیت 93 ترجمہ : بنی اسرائیل کے لیے تمام کھانے حلال تھے سوائے ان کے جنہیں یعقوب نے خود اپنے اوپر حرام کر لیا تھا(تورات نازل ہونے سے پہلے) کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو ، تورات لے آو اور اسے پڑھ کر سناو ( سورہ العمران 93)
غور کیجیے کہ اس آیت میں تورات ایک کتاب ہی ثابت ہورہی ہے جسے پہلے تومنگوایا جارہا ہےپھر اسے پڑھ کر سنانے کا حکم دیا جارہا ہے۔ محمد شیخ کی بات اگردرست ہوتی تو کہا جاتا کہ اللہ کی کتاب لے آو اور اس میں سے تورات پڑھو لیکن تورات منگوانے کی بات کر کے اللہ نے یہ ثابت کردیا کہ تورات خود ایک کتاب ہے
اب زرہ سورہ المائدہ ایت 43پر بھی غور کیجیے ترجمہ:اور یہ تم کو کیونکر فیصلہ کرنے والا بنائیں گے جبکہ خود ان کے پاس تورات ہے جس میں خدا کے احکامات موجود ہیں(اور انہیں ان کا پتہ بھی ہے) پھر بھی یہ پلٹ گئے ہیں تو یہ لوگ ایمان ہی نہیں رکھتے ۔
غور کیجیے کہ جس میں اللہ کے احکامات ہوں اسے کتاب نہیں کہیں گے تو پھر کیا کہیں گے اور اللہ نےمحمد رسول اللہ سے یہ نہیں کہا کہ یہ تورات تمہارے پاس ہے بلکہ کہا کہ یہ ان کے پاس ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ کہ توات ان کے پاس ہی تھی جو ان کے لئے ہی نازل کی گئ تھی ۔ اب تیسیری آیت دیکھیے
سورہ الاعراف ایت 157ترجمہ : اوروہ جو رسول (الله) نبی اُمی کی پیروی کرتے ہیں جن کازکر وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔
اس سے بڑا احمق اور کون ہوسکتا ہے جوان آیات کو دیکھ کر بھی کہے کہ تورات اورانجیل کتابیں نہیں ہیں ۔ یہاں یہ نکتہ بھی غور طلب کہ اس آیت میں یہ نہیں لکھا ہوا کہ اس نبی کا زکر وہ تمہارے پا س لکھا ہوا پاتے ہیں بلکہ کہا کہ ان کے پاس تورات اور انجیل میں نبی کا زکر ہے اس سے تو بالکل واضح ہوگیا کہ تورات اور انجیل الگ سے کتابیں تھیں جو یہود اور نصاریٰ کے پاس موجود تھیںپھر ان ہی دو گروہوں کا زکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے سورہ الانعام میں قریش مکہ سے فرمایا کہ ترجمہ: اور (یہ کتاب اس لیے اتاری ) کہ (تم یوں نہ) کہو کہ ہم سے پہلے دو ہی گروہوں پر کتاب اتری تھیں اور ہم تو ان کے پڑھنے سےبےخبر تھے (156) لیجیے بات بالکل صاف ہوگئ کہ تورات اور انجیل کو کتابیں نہ سمجھنا اول درجہ کی حماقت ہے۔
عقیدہ نمبر 2 ) تورات کا مطلب قانون ہے قران میں جہاں جہاں قانون بیان ہوا ہے وہ الکتاب ہی کی تورات ہے
جواب : محمد شیخ کہتا ہے کہ تورات عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی قانون ہے ۔ اس سے بارہا کہا گیا کہ اول تو ، توراۃ عربی زبان کالفظ نہیں ہے یہ عبرانی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہدایت ہے اور اگر یہ عربی زبان کا لفظ ہوتا تو پھر عربی زبان میں اس کا استعمال قانون کے معنی میں ہونا چاہیے تھا یعنی کسی نے یہ کہنا ہو کہ یہ قانون کی کتاب ہے تو وہ کہتاکہ ھٰذا کتاب التوراۃ ۔ لیکن پورے عرب میں قانون کے لئے لفظ توراۃ کا استعمال ہی نہیں ہوتا اس کامطلب کہ نہ یہ عربی زبان کا لفظ ہے اور نہ اس کے معنی قانون ہیں بلکہ قانون خود عربی زبان کا لفظ ہے اگر اللہ تعالیٰ نے اپنے قوانین کے لئے لفظ قانون استعمال کرنا ہوتا تو خود ہی لفظ قانون نازل فرمادیتے۔
عقیدہ نمبر 3) محمد شیخ کا کہنا ہے کہ موسیٰ کے ساتھ لفظ تورات نہیں آیا اس لئے یہ کہنا کہ تورات موسیٰ پر نازل ہوئ غلط ہے۔
اگر یہ دلیل ہے تو پھر قران کا لفظ بھی محمد صلی اللہ علیہ واسلم کے ساتھ نہیں آیا تو کیا یہ مان لیا جائے کہ قران محمد پر نازل نہیں ہوا؟جبکہ محمد شیخ اپنے قران کے لیکچر میں خود اپنے ہی اس قانون کو توڑتے ہوئے کہہ چکا ہے کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم پر قران نازل ہوا۔
عقیدہ نمبر 4 ) ہر نبی کوتورات دی گئ اور ہر نبی نے تورات سے فیصلہ کیا
جواب:یہود یہ کہا کرتے تھے کہ ابراہیم علیہ السلام تورات کے ماننے والے تھے یعنی یہودی تھے اور نصاریٰ کہا کرتے تھے کہ ابراہیم علیہ السلام انجیل کو مانتے تھے یعنی نصاری تھے اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا
ترجمہ:اے اہلِ کتاب تم ابراہیم کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو حالانکہ تورات اور انجیل تو ان کے بعد اتری ہیں تو کیا تم عقل نہیں رکھتے (سورہ العمران آیت نمبر 65) لیکن محمد شیخ یہود و نصاریٰ سے بھی دو ہاتھ آگے ہی نکل گیا اور کہا ہر نبی کو تورات دی گئ ۔ جبکہ اللہ تعالیٰ صاف فرمارہے ہیں کہ تورات ابراہیم علیہ السلام کے بعد نازل ہوئ تھی ۔اتنی واضح آیات کے باوجود شیخ کے پیروکاروں کو شیخ غلط نظر نہیں آتا۔یہاں پر اپ اس سے یہ سوال بھی کرسکتے ہیں کہ کیا پھر تورات محمدصلی اللہ علیہ والسم کو بھی دی گئ تھی ؟۔ پھر اس کے جواب سے اپ کو خود پتہ چل جائے گا کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی مانتا ہے کہ نہیں ۔
اس مضمون کے تین عقیدے باقی رہ گئے مضمون طویل ہوگیا باقی کل ۔ انشاء اللہ ۔

سورس

عقیدہ نمبر 5 ) انجیل کوئ کتاب نہیں بلکہ قران میں موجود خوشخبریاں ہیں ۔
جواب: محمد شیخ تورات ہی کی طرح لفظ انجیل کو بھی عربی زبان کا لفظ بتاتا ہے جس کے معنی کرتا ہے خوشخبری ۔ اس کے لئے بھی میں وہی دلیل دوں گا کہ اگر انجیل عربی زبان کا لفظ ہوتا اور اس کے معنی خوشخبری ہوتے تو یہ آج بھی یہ لفظ عربی زبان میں خوشخبری کے مفہوم میں استعمال ہورہا ہوتا لیکن ایسا نہیں ہے ۔ کسی بھی عربی کے سامنے جب انجیل کا زکر ہوگا تواس کے زہن میں ایک ہی معنی ائیں گے اور وہ ہے کتاب جو عیسیٰ علیہ السلام کو دی گئ ۔میں اپ کے سامنےدو آیات رکھتا ہوں۔
ترجمہ: اور اہل انجیل کو چاہیئے کہ جو اللہ نے اس میں نازل فرمایا اس کے مطابق حکم دیا کریں اور جو اللہ کے نازل کئے ہوئے کے مطابق حکم نہ دے گا تو ایسے لوگ نافرمان ہیں (سورہ المائدۃ آیت47)
ترجمہ : کہو کہ اے اہل کتاب! جب تک تم تورات اور انجیل کو اور جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ان کو قائم نہ رکھو گے کچھ بھی راہ پر نہیں ہو سکتےاور یہ (قرآن) جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے ان میں سے اکثر کی سرکشی اور کفر اور بڑھے گا تو تم قوم کفار پر افسوس نہ کر
(سورہ المائدۃ آیت 68)بھلا بتایے کہ کیا کوئ خوشخبری سے فیصلہ کرتا ہے یا احکامات سے فیصلہ کرتا ہے؟ اور پھر چلیں کہ قانون تو پھر بھی قائم کیا جاسکتا ہے خوشخبری کوکیسے قائم کریں گے الغرض شیخ کا ترجمہ اور اس کے خیالات وہ ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں ۔
عقیدہ نمبر 6) قران کا مطلب پڑھائ ہے اور جسے مسلمان قران کہتے ہیں وہ قرآن نہیں بلکہ کتاب موسیٰ ہے
جواب: قران کامطلب اگر پڑھائ ہو تو بھی اللہ تعالیٰ نے اسے مخصوص کردیا اس کتاب کے لئے جو ہمارے آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئ ۔ اور جب کوئ بھی لفظ کسی شے کے لئے مخصوص ہوجائے تو پھر اس کے معنی نہیں کئے جاتے ۔ جیسے لفظ کمپیوٹر کے لغوی معنی حساب کرنے والا شمار کرنے والا ہے لیکن لفظ کمپیوٹر چونکہ ایک خاص ڈیوائس کے لئے استعمال ہونے لگا ہے لہذہ کوئ اسے اب حساب کرنے والی ڈیوائس کیلکولیٹر کے لئے بھی استعمال کرے گا تو وہ احمق ہی کہلائے گا ۔ اللہ تعالیٰ نے لفظ قران کو اس طرح استعمال کیا کہ اس کے معنی reading کیے ہی نہیں جاسکتے مثال کے طورپر
فاَِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّہ ِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ (سورہ النحل ایت 98) اور جب تو قران پڑھے تو اللہ کی پناہ مانگ لیا کر شیطان مردو د (کے شر) سے
اگر اس آیت میں قران کے معنی پڑھائ کیے جائیں تو جملہ یوں بنے گا کہ “جب بھی تو پڑھے پڑھائ” ، پس ثابت ہوا کہ لفظ قران کو پڑھائ قراردینا نادانی ہے ۔ اس پر میں اپ کو شیخ کے کچھ اپنے تضادات بھی دکھا دیتا ہوں ۔جب کوئ شخص محمد شیخ کو اپنا عقیدہ بتاتا ہے تو محمد شیخ اس سے پوچھتا کہ بتاو قران میں یہ بات کہاں لکھی ہے تو غور کریں کہ اس وقت وہ قران کوکتاب ہی تو کہہ رہا ہوتا ہے کیونکہ لکھا ہوا کتاب میں ہوتا ہے پڑھائ میں نہیں ۔ دوسرا تضاد یہ ہے کہ ویسے تو وہ لوگوں سے کہتا ہے کہ قران کے معنی پڑھائ ہے لیکن اپنے لیکچرز کی بک لیٹ میں جہاں جہاں وہ لفظ القران والی آیت پیش کرتا ہے ان کے ترجموں میں بھی وہ لفظ القران ہی رہنے دیتا ہے اس لئے کہ وہاں پر قران کے معنی پڑھائ فٹ نہیں بیٹھتے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اس طرح مجبور کردیا ہے کہ وہ اللہ کی کتاب کےنام کو بھی نہ بدل سکے مفہوم تو دور کی بات ہے۔
اب زرہ محمد شیخ کے کتاب موسیٰ کے عقیدے کی وجہ جان لیں ۔ یہ آپ لوگ بھی جانتے ہو کہ اللہ کی اس لکھی ہوئ آخری کتاب میں کوئ شخص اپنے جملے نہیں ڈال سکتا۔ اسی لئے اس نے ایسا کرنے کے لئے ایک ہی کتاب کے دو رخ بیان کردیے ایک کو اس نے لکھی ہوئ کتاب کہا اور نام اس کا کتاب موسیٰ رکھ دیا جس میں وہ بھی جانتا ہے کہ تبدیلی نہیں کرسکتا اور دوسرے رخ کو اس نے کتاب کی تفصیل کہا جس میں وہ اپنی مرضی کی چیزیں بھی ڈال دیتا ہے اور اس کا کوئ انکار نہ کرسکے اس لئے اسے قران کا نام دیتا ہے۔ ایک مرتبہ محمد شیخ سےمیں نے کہا کہ شیخ صاحب اپ کہتے ہو کہ لوگ آپ پر الزام لگاتے ہیں کہ اپ نے قران گھڑ لیا ہے جبکہ مجھے ایسا کوئ ایک ادمی بھی نہیں ملا جس نے یہ کہا ہو کہ محمد شیخ نے قران گھڑ لیا ہے اس پر شیخ نے جواب دیا کہ “میں جو کتاب کی تفصیل بیان کرتا ہوں کیا لوگ اس کے متعلق نہیں کہتے کہ وہ میں نے گھڑ لی ہے میں نے کہا جی بالکل کہتے ہیں اس نے کہا کہ وہی تو قران ہے” زرہ سوچیے کہ ایک شخص لوگوں کو قران کے نام پر بلاتا ہے لیکن پھر جو وہ سمجھا ہے اسے قران کا نام اس لے دیتا ہے تاکہ کوئی اس کا انکار نہ کرے ۔ یہ کوئ چھوٹی بات نہیں کہ ایک ادمی کہے کہ دین کے نام پر جو کچھ وہ پیش کرتا ہے وہ اس کا اپنا تدبر نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے نازل کردہ قران ہے ۔ غور کیجیے کہ کیا یہ ایک نبی کا مقام نہیں جس پر وہ خود بیٹھنا چاہتا ہے۔ اس طرح جو مرید اس کے اس جھانسے میں آجاتے ہیں کہ محمد شیخ پر قران نازل ہورہا ہے پھر وہ اسی وجہ سے وہ اس کےساتھ زیادہ زیادہ مظبوطی سے جڑ جا تے ہیں ۔
عقیدہ نمبر 7) اور یہ کتاب موسیٰ ایک ہی کتاب ہے جو پہلے دن سے ہےاور قیامت تک رہے گی
اس عقیدے کی بنیا دکے لئے وہ سورۃ الانعام کی آیات 83 سے 90 تک پڑھ کر سناتا ہےجس میں 18 نبیوں کے ساتھ الکتاب کا لفظ آیا ہے ، اس کا کہنا ہے کہ چونکہ الکتاب واحد کے صیغے میں آیا ہے لہذہ یہ کتاب ایک ہی کتاب سمجھی جائے گی ہے جو سب نبیوں کو دی گئی ۔ وہ ضد کرتا ہے کہ جب لفظ الکتاب واحد میں لکھا ہے تو کتاب بھی ایک ہی مانی جائے گی۔لیکن اللہ کی قدرت کہ محمد شیخ جس اصول پر اتنا اصرار کررہا تھا اس کی خود ہی خلاف ورزی کر بیٹھا اور یوں اس کی بات میں تضاد پیدا ہوگیا ۔ ہوا یوں کہ محمد شیخ نے لوگوں کی لکھی ہوئ کتابوں پر سورہ البقرۃ ایت 79 کو پیش کردیا ترجمہ : اور تباہی ہے ان کے لئے جو اپنے ہاتھ سے کتاب لکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ اسے تھوڑی قیمت پر بیچ دیں پس تباہی ہے ان کے لئے جو انہوں نے لکھا اور برا ہے جو انہوں نے کمایا
وہ اس آیت میں لفظ الکتاب سے مراد وہ تمام مذہبی کتابیں لیتا ہے جن کے بارےمیں یہ دعوہ ہو کہ وہ خدا کی طرف سے ہیں جن میں تورا، انجیل ،گیتا وغیرہ شامل ہیں بلکہ محمد شیخ کے نزدیک کوئ بھی مذہبی کتاب لکھنا اس آیت کی خلاف ورزی ہےاور اسی لئے وہ اور اس کے ساتھی کوئ کتاب نہیں لکھتے ۔ اب قابل غور بات یہ ہے کہ محمد شیخ نے اس ایت میں الکتاب سے مراد زیادہ کتابیں لے کر اپنے ہی بنائے ہوئے اصول کی خلاف ورزی کردی اور یوں اس کا ایک نہایت ہی اہم تضاد سامنے آگیا۔
اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ کتاب عین اسی حالت میں جو اج ہمارے سامنے ہے شروع دن سے زمین پر موجود ہے توفرض کیجیے کہ ہم نوح علیہ السلام کے دور میں موجود ہیں ابھی یوسف علیہ السلام دنیامیں آئے ہی نہیں ہیں اور ہم اللہ کی کتاب میں پڑھ رہے کہ یوسف علیہ السلام لوگوں کو ان کے خوابوں کی تعبیر بتارے ہیں ۔ ابھی وہ پیغمبر آئے نہیں جن کا قران میں نام ہے لیکن قد خلت میں قبلہ الرسل والی آیت موجود ہے کہ محمد کے علاوہ جتنے رسول تھے وہ تو گزر گئے ۔ آپ سوچیے کہ شیخ کے پاس اس کا کیا جواب ہے ۔ ہم اس سے یہ سوال کرچکے ہیں ۔ان سوالوں کا جواب وہ پبلک میں کھل کر نہیں دیتا ۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ جتنے رسول ہیں یہ ہرزمانے کے رسول ہیں یہ کبھی انسانوں کی صورت دنیا میں نہیں آئے ۔ غور کیجیے کہ محمد شیخ ایک رسول کا نہیں بلکہ سارے رسولوں کا انکار کررہا ہے اور اس طرح سے کہ ان کو صرف فرضی کردار بناکر رکھ دیا ہے ۔ اپ اس کے بنی اسرائیل کے انگلش والے لیکچر میں یہ باتیں نوٹ کرسکتے ہیں ۔ اس مکمل مضمون اور محمد شیخ کے متعلق مزید جانکاری کے لئے iipc exposed کے گروپ پیچ کو جوائن کریں یا پھر Zahid Janibe Haq کی آئ ڈی کو ایڈ کیجیے ۔ شکریہ ۔ ہم قاری حنیف ڈار صاحب اور اقبال صدیقی صاحب کے بھی مشکور ہیں جنہوں نے اس فتنے کے خلاف آواز اٹھانے پر ہمارا ساتھ دیا ہے ۔ والسلام

سورس

Posted by | View Post | View Group

You might also like More from author

تبصرے

Loading...