مسلمانوں کو بے خدا کیسے کیا گیا ،،، از قاری حنیف ڈار

احباب ایک زمانہ تھا کہ مسلمان سے زیادہ خدا خوف کوئی انسان نہیں تھا ،
یہ لوگ اللہ کو بالکل اپنے پاس ، اپنے قریب ، شاہ رگ سے بھی قریب محسوس کرتے تھے لہذا اللہ سے حیاء بھی کرتے تھے ، وہ کبھی کوئی ایسی حرکت بھی نہیں کرتے تھے یہانتک کہ اپنی کسی ایسی سوچ سے بھی لرزاں و ترساں رہتے تھے کہ جس کی وجہ سے ان کی نظریں اپنے رب کے سامنے شرم سے جھک جائیں ،، انہیں معلوم تھا کہ ان کے رب نے اپنی تمام مخلوق میں کیا مقام عطا کیا ھے ، لہذا وہ اس مقام سے گرتے نہیں تھے ، ھر نقصان برداشت کر لیتے تھے مگر کبھی وہ کام نہیں کرتے تھے کہ جس کی وجہ سے وہ رب کی نظروں میں گر جائیں ،، وہ ھر اس کام کے لئے آگے بڑھ کر جان و مال لٹاتے اور اپنے رویئے سنوارتے تھے کہ جس کے نتیجے میں ان کا رب فرشتوں کے سامنے ان کے بارے میں فخر کا اظہار کرے ،، یہی وہ انسان تھے کہ جن کے بارے میں حالی نے کہا تھا کہ ؎
فرشتوں سے بہتر ھے انسان بننا ،،
مگر اس میں پڑتی ھے محنت زیادہ ،،
مگر جب اسلام جزیرۃ العرب سے نکل کر عراق و شام جیسے علاقوں میں پہنچا تو رومن فلسفیانہ بحثوں کا جواب دیتے دیتے مسلمان خدا کے تصور سے ھی ہاتھ دھو بیٹھے ، اس کے بعد پھر جو کارنامے انہوں نے کیئے ان سے انسانیت بھی شرمندہ ھے ، یہاں تک کہ مکے ،مدینے کی حرمت بھی اپنی گرفت کھو بیٹھی ،، انہوں نے فی الواقع خدا کے گھر کو بھیڑیوں کے بھٹ مین تبدیل کر کے رکھ دیا ،، قرآن عربوں میں نازل ھوا ، عربی میں نازل ھوا ، اور عربی مبین میں نازل ھوا کہنے والے کو معلوم تھا کہ وہ کیا کہہ رھا ھے ، اور کس سے کہہ رھا ھے ، سننے والوں کو بھی پتہ تھا کہ کون کہہ رھا ھے اور کس سے کہہ رھا ھے اور کیا کہہ رھا ھے ، خدا ان کو اپنے قبیلے کا لگتا تھا کیونکہ وہ ان کے قبیلے کی زبان بولتا تھا ، ان کی جدی پشتی استعمال ھونے والی ضرب الامثال استعمال کرتا تھا ، وہ ان کی بستی کی بات کرتا تھا اور اس بستی کے بسنے والوں کی عادات و صفات بیان کرتا تھا ، ان میں سے کچھ کی تعریف کرتا تھا تو کچھ پر تنقید کرتا تھا ،، وہ خوش بھی ھوتا تھا اور خوشی کے اظہار کے لئے وہ تمام استعارے اور اشارے استعمال کرتا تھا جو وہ کیا کرتے تھے ، اور ناراض ھوتا تھا تو ناراضی کے اظہار کے وہ تمام اسلوب اختیار کرتا تھا جو وہ اپنے بیوی بچوں اور دوست و احباب سے ناراض ھوتے تھے تو اختیار کرتے تھے ، وہ دیتا تھا تو دونوں ھاتھوں سے دیتا تھا ،، وہ جب کسی چیز کو قبول فرماتا تھا تو ھاتھوں پہ ھاتھ رکھ دیتا تھا ،، لہذا وہ اس کی رضا کے خواھاں رھا کرتے تھے اور اس کی ناراضی انہیں اپنی جاں پر بار گزرتی تھی اور وہ جان دے کر بھی اسے راضی کرتے تھے ، اپنی پولیس وہ خود ھی تھے ،وہ خود ھی خود کی نگرانی کیا کرتے تھے اور خود ھی خدا کی عدالت میں پیش ھو کر اپنی خطا کا اقرار کرتے تھے اور ” اے اللہ کے رسول ﷺ مجھے پاک کیجئے ” کا مطالبہ کیا کرتے تھے ،
آپ مندرجہ ذیل تحریر میں سے وہ خدا برآمد کر کے دکھا دیجئے کہ وہ قرآن والا خدا کہاں ھے ؟

(( کوٹ )

ﺍﺏ ﺍٓﺝ ﮐﮯ ﻏﯿﺮﻣﻘﻠﺪﯾﻦ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﯾﮩﯽ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﺘﮯﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﮯ ؟
ﺗﻮ ﺍﺱ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺳﺘﻮ ﮐﻮ ﯾﮧ ﻣﻠﺤﻮﻅ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺳﻮﺍﻝ ﮨﯽ ﺍﺱ ﻓﺎﺳﺪ ﺧﯿﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﺍﻋﺘﻘﺎﺩ ﺳﮯ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺴﯽ ﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﺟﮕﮧ ﯾﻌﻨﯽ ﻣﮑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ ۔۔۔ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﻥ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﻣﮑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﻗﻊ ﮨﻮﻧﺎ ﻣﺘﻌﯿﻦ ﮨﮯ ﺗﺐ ﮨﯽ ﺗﻮ ﯾﮩﯽ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﻨﺎﻗﺸﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﻣﻨﺎﻇﺮﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﺩﻻﺋﻞ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﺳﺐ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺟﻦ ﻣﮑﺎﻧﺎﺕ ﯾﺎ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﮐﯽ ﻧﺴﺒﺖ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﺍﻥ ﺳﺐ ﺳﮯ ﯾﮩﯽ ﺑﺎﺕ ﺍﺧﺬ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﯾﮩﺎﮞ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﻗﻊ
ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺍٓﯾﺎﺕ ﻭ ﻧﺼﻮﺹ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮐﺎ ﻣﺤﻞ ﻭﻗﻮﻉ ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮐﯿﺸﻦ ﻣﺘﻌﯿﻦ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻟﻌﯿﺎﺫ ﺑﺎﻟﻠﮧ،،
ﺟﺒﮑﮧ ﺍﮨﻞ ﺳﻨﺖ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﺴﯽ ﺟﮕﮧ ﮐﺎ ﺗﻌﯿﻦ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﯽ ﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﻏﻠﻂ ﮨﮯ،،
ﺗﺐ ﮨﻢ ﺍٓﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﻃﺮﻑ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻋﻘﯿﺪﮦ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺟﻮﺍﺏ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺴﺎ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ ،
ﺗﻮ ﺟﻨﺎﺏ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻋﻘﯿﺪﮦ ﯾﮩﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﺒﺤﺎﻧﮧ ﻭﺗﻌﺎﻟﯽ ﻻﻣﮑﺎﻥ ﮨﮯ ۔۔۔ﯾﻌﻨﯽ ﻭﮦ ﺟﮕﮧ ﻭ ﻣﮑﺎﻥ ﺳﮯ ﭘﺎﮎ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺟﮕﮧ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﺤﺘﺎﺝ ﮨﻮﻧﺎ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﺟﺴﻢ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ
ﮨﮯ ﺟﻮ ﮐﮧ ﻣﺤﺪﻭﺩ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﮩﺎﮞ ﺟﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﺟﺴﻢ ﮐﯽ ﺣﺪ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﺍﻻ ﺣﺼﮧ ﺍﻭﺭﻋﻼﻗﮧ ﺍﺱ ﺟﺴﻢ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﮑﺎﻥ ﮐﮩﻼﺗﺎ ﮨﮯ ﯾﻌﻨﯽ ﻣﮑﺎﻥ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﮑﯿﻦ ﭘﺮ ﻣﺤﯿﻂ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ۔۔۔ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﺣﺪ ﺳﮯ ﭘﺎﮎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺫﺍﺕ ﻻﻣﺤﺪﻭﺩ ﮨﮯ ﻟﮩﺬﺍ ﻭﮦ ﻧﮧ ﺟﺴﻢ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﻣﮑﺎﻥ ﮐﺎ ﻣﺤﺘﺎﺝ ﻧﮧ ﻣﮑﺎﻥ ﺳﮯ ﻣﺘﺼﻒ ۔ ﯾﻌﻨﯽ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻏﯿﺮﻣﻘﻠﺪ ﯾﮩﯽ ﮐﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻣﮑﺎﻥ ﺳﮯ ﻣﺘﺼﻒ ﮨﮯ ﺍﮔﺮﭼﮧ ﻣﮑﺎﻥ ﮐﻮ ﻣﺤﺘﺎﺝ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﯾﮩﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﻐﯿﺮ ﺍﺣﺘﯿﺎﺝ ﮐﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﮑﺎﻥ ﺳﮯ ﻣﺘﺼﻒ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ
ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺍﺟﺴﺎﻡ ﮐﯽ ﺻﻔﺖ ﮨﮯ ۔۔۔ ﻣﮑﺎﻥ ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﻣﯿﮟ ﯾﮩﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﮩﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻓﺮﺍﻍ ﯾﺸﻐﻠﮧ ﺍﻟﺠﺴﻢ ۔۔۔ ﮐﮧ ﻣﮑﺎﻥ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﮯ ﺧﻼ ﮐﻮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﮐﺴﯽ ﺟﺴﻢ ﮐﻮ ﮔﮭﯿﺮﮮ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ،، ((ﯾﺎﺩ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻻﻣﮑﺎﻥ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻌﻨﯽ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻻ ﻣﮑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ ﯾﻌﻨﯽ ﻻﻣﮑﺎﻥ ﮐﺴﯽ ﺟﮕﮧ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﮨﺎﮞ ہے العیاذ باللہ ، بلکہ ہمارا مطلب یہ ھے کہ اللہ کسی جگہ بھی موجود نہیں ہے ـ ))

ﺍﺏ ﺍٓﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﺟﻤﻠﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮨﺮﺟﮕﮧ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺗﻤﺎﻡ ﺩﻭﺳﺖ ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺟﻤﻠﮯ ﺳﮯ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻣﺮﺍﺩ ﯾﮩﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ (( ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻗﺪﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﺎ ﻋﻠﻢ ﮨﺮﺟﮕﮧ ﮨﮯ ﺭﮨﯽ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺫﺍﺕ ﮨﺮﺟﮕﮧ ﮨﮯ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺗﻮ ﮨﻢ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻧﮧ ﺍﺛﺒﺎﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻧﮧ ﻧﻔﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ))
ﮨﻢ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﺛﺒﺎﺕ ﻭ ﻧﻔﯽ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﮐﮧ ﺧﺪﺍ ﮐﻮمﺑﺎﻟﺬﺍﺕ ﮨﺮ ﺟﮕﮧ ﻣﺎﻧﻨﮯ ﺳﮯ ﺫﮨﻦ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮐﺎ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﻣﯿﮟ ﺣﻠﻮﻝ ﮐﺮﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮐﮧ ﺟﮩﻤﯿﮧ ﮐﺎ ﻋﻘﯿﺪﮦ ﮨﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻋﻘﯿﺪﮦ ﯾﮩﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﻣﯿﮟ ﺣﻠﻮﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺳﮑﺘﺎ ﺣﻠﻮﻝ ﮐﺮﻧﺎ
ﮐﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﯾﺎ اﺱ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﮨﻮﻧﺎ ﺍﺟﺴﺎﻡ ﮐﯽ ﺧﺎﺻﯿﺖ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﺰﻭﺟﻞ ﺟﺴم ﺳﮯ ﭘﺎﮎ ﮨﮯ ۔۔۔۔
ﺍﻭﺭ ﮨﺮﺟﮕﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻧﻔﯽ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﻮ ﮐﺴﯽ ﺟﮕﮧ ﻣﺎﻧﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﺟﮕﮧ ﻧﮧ ﻣﺎﻧﻨﺎ ﺟﯿﺴﺎ کہ ﻏﯿﺮﻣﻘﻠﺪﻭﮞ ﮐﺎ ﻋﻘﯿﺪﮦ ﮨﮯ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﺰﻭﺟﻞ ﮐﮯﻟﯿﮯ ﺣﺪ ﺍﻭﺭ ﻟﯿﻤﯿﭧ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻟﮯ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﻮ ﻋﺮﺵ ﭘﺮ ﻣﺎﻥ ﮐﺮ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺟﮕﮩﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﻔﯽ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﺱ ﻋﻘﯿﺪﮮ ﮐﯽ ﻧﺸﺎﻧﺪﮨﯽ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮩﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮧ ﮨﺎﮞ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺍﯾﮏ ﺧﺎﺹ ﺟﮩﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮐﮧ ﺍﻭﭘﺮ ﮐﯽ ﺟﮩﺖ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺍﮨﻞ ﺳﻨﺖ ﮐﮯ ﻋﻘﯿﺪﮮ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﮨﮯ ۔۔۔ ﻟﮩﺬﺍ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻋﻘﯿﺪﮦ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻻﻣﮑﺎں ﮨﮯ ﻭﮦ ﻧﮧ ﺩﺍﺧﻞ ﻋﺎﻟﻢ ﮨﮯ ﻧﮧ ﺧﺎﺭﺝ ﻋﺎﻟﻢ ﮨﮯ
ﯾﻌﻨﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﯽ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﮨﮯ ﻭﺭﻧﮧ ﺣﻠﻮﻝ ﻻﺯﻡ ﺍٓﺋﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﮐﮩﯽ ﺟﺎﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺧﺎﺭﺝ ﻋﺎﻟﻢ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﮐﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﺳﮯ ﺧﺎﺭﺝ ﮨﻮﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﺟﺴﻢ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﺪﻭﺩ ﭼﯿﺰ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮨﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺣﺪ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮐﮧ ﺍﮨﻞ ﺳﻨﺖ ﮐﮯ ﻋﻘﯿﺪﮮ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﮨﮯ،،
( ان کوٹ )
خلاصہ یہ ھے کہ اللہ کا کوئی وجود نہیں ،، وہ نہ مکاں میں ھے نہ لا مکاں میں ھے ، نہ مکان کے اندر ھے نہ مکان کے باھر ھے ،، نہ جہاں کے اندر ہے نہ ہی جہاں کے باہر کہیں ہے ، اس کا نہ جسم ھے ، نہ چہرہ ھے ، اور نہ وہ کسی جگہ موجود ھے،،، اس کا کوئی وجود نہیں + وہ کہیں موجود نہیں،،

یہیں پھنس کے ساغر صدیقی نے کہا تھا کہ ؎

اتنی دقیق شے کوئی کیسے سمجھ سکے ؟
یزداں کے واقعات سے گھبرا کے پی گیا ،،

فلسفیو جس قسم کا خدا تم انسانوں کے پلے باندھ رھے ھو، وہ تو ان کی سمجھ اور تصور سے ھی بالا ھے ،، وہ نظروں سے اوجھل تو تھا ھی تم نے تو انسان کے خیال کو بھی خدا سے خالی کر دیا ،، لہذا جب خیال بے خدا ھو گیا تو عمل بھی بے خدا ھو گیا ، میں اسی بےخدائی کی کیفیت میں گناہ کا مرتکب ھو گیا ،،
اب سوال یہ پیدا ھوا کہ صفت تو وجود کی ھوتی ھے ،جب کوئی چیز وجود ھی نہیں رکھتی تو اس کی صفت کیونکروجود رکھتی ھے ؟ لہذا خدا صفات سے بھی گیا ،، نہ وہ خوش ھوتا ھے نہ ناراض ھوتا ھے ،نہ اسے غصہ آتا ھے نہ پیار آتا ھے ، کوئی ساری عمر اس کے سامنے سجدے میں پڑا رھے تو بھی وہ خدا بے حس رھتا ھے اور کوئی ساری زندگی فسق و فجور اور معصوموں کا قتلِ عام کرتا رھے تو بھی وہ بے حس رھتا ھے اس کی کیفیت میں کوئی تغیر پیدا نہیں ھوتا ،،
اس قسم کا عقیدہ رکھنے والے ھی داعشی اور طالبانی مظالم کر سکتے ھیں جنہیں یہ یقین ھے کہ ھمارے مظالم پر کوئی خدا نارض نہیں ،، وہ سسکا سسکا کر اور تڑپا تڑپا کر ، ڈبو ڈبو کر اور جلا جلا کر مارتے ھیں ،، اور کسی مرد ،عورت ،بچے ، بوڑھے کی تخصیص نہیں کرتے ،،

نظر تو خدا پہلے ھی نہیں آتا تھا ، جب اسے احساسات سے عاری ایک ایسا تصور قرار دیا گیا جو نہ تو وجود رکھتا ھے ،نہ کہیں موجود ھے ،، جو اس کا وجود مانے وہ بھی کافر ،جو اس کو کہیں موجود مانے وہ بھی کافر ، جو اس کی سمت بتائے وہ بھی کافر ، وہ نہ مشرق میں ھے نہ مغرب میں ،، نہ شمال میں ھے نہ جنوب میں نہ نیچے ھے نہ اوپر ، نہ زمین میں ھے نہ آسماں میں ، نہ خلا میں ھے نہ فضا میں ، نہ مکاں میں ھے نہ لامکاں میں ،، نہ عرش پہ نہ فرش پہ اور پھر یہ کہا جائے کہ اس کو مانو مگر اس ایمان کے ساتھ کہ وہ کہیں نہیں ھے ،، جب خدا کا تصور بھی محال ھو جائے تو الحاد بس ایک بالشت دور ھوتا ھے ،، یہ وہ رونا ھے جہاں شاعر بے بس ھو کر گلہ کرتا ھے کہ ؎
ھو بھی نہیں اور ھر جا ھو ،،
تم ایک گورکھ دھندہ ھو ،،
گورکھ دھندا کا مطلب پزل ھوتا ھے ،،
ان حالات میں جب شاہ ولی اللہ دہلوی نے قرآن کا ترجمہ کرنے کا فیصلہ کیا تو تہلکہ مچ گیا ،،کلام اللہ کی ترجمانی انسانی کلام کیسے کر سکتا ھے ؟ جب انہوں نے یداللہ کا ترجمہ اللہ کا ہاتھ کیا اور کل شئ ھالک الا وجہہ کا ترجمہ ھر چیز ختم ھو جائے گی سوائے اس کے چہرہ اقدس کے ،، لکھا تو کہا گیا کہ انہوں نے خدا کو جسم دے دیا یوں زندیق ھو گئے ھیں ،، اللہ کی توھین کے فتوے اور پھر لوگوں کو ان کے قتل کی دعوت  اور قاتلانہ حملے ہوئے بھی ،، مگر یہ اسی ترجمے کی کرم فرمائی ھے کہ آج مسلمانوں میں اللہ کے نام لیوا موجود ھیں اور جیسے تیسے بھی لوگ توحید کے ساتھ جڑے ھوئے ھیں ،،
قرآن کا خدا ،،،،،،،،
1- هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ [الحديد: 3]
وھی پہلا ھے اس سے پہلے کوئی نہ تھا ، وھی آخر ھے اس کے بعد کوئی نہ ھے ، وہ اتنا ظاھر ھے کہ اس سے زیادہ کھُلی اور باثبوت اور کوئی شے نہیں ،، اور وہ اتنا پوشیدہ ھے کہ کوئی چیز اس سے پوشیدہ تر نہیں ،، اور وہ ھر چیز کا دائمی علم رکھتا ھے ،
ا
إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ ۚ فَمَن نَّكَثَ فَإِنَّمَا يَنكُثُ عَلَىٰ نَفْسِهِ ۖ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِمَا عَاهَدَ عَلَيْهُ اللَّهَ فَسَيُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا ( الفتح -10)
بے شک جن لوگوں نے آپ کی بیعت کی ھے انہوں نے اللہ کی بیعت کی ھے ، ( صرف نبی ﷺ کا ھی نہیں ) اللہ کا ہاتھ بھی ان کے ہاتھوں کے اوپر ھے ، پس اب جس نے اس عہد کو توڑا تو اس کا وبال اپنی جان پر ھی جھیلے گا اور جس نے اللہ سے کئے گئے عہد کو پورا کیا تو اللہ اس کو اجرِ عظیم عطا فرمائے گا ،،
3- وَقَالَتِ الْيَهُودُ يَدُ اللهِ مَغْلُولَةٌ غُلَّتْ أَيْدِيهِمْ وَلُعِنُوا بِمَا قَالُوا بَلْ يَدَاهُ مَبْسُوطَتَانِ يُنفِقُ كَيْفَ يَشَاءُ [المائدة: 64]
اور یہود کہتے ھیں کہ اللہ کا ہاتھ بندھ گیا ھے ،، ہاتھ ان کے باندھ دیئے گئے ھیں اور لعنت کی گئ ھے ان پر ان کے اس قول کی وجہ سے، بلکہ اللہ کے دونوں ہاتھ کھلے ھوئے ھیں ، خرچتا ھے جیسے چاھتا ھے ،،
4- مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ [ص: 75]
اے ابلیس تجھے کس بات نے اس کو سجدہ نہ کرنے دیا جس کو میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ھے ،،
5- یَمۡحُوا اللّٰہُ مَا یَشَآءُ وَ یُثۡبِتُ ۚۖ وَ عِنۡدَہٗۤ اُمُّ الۡکِتٰبِ ﴿الرعد – ۳۹﴾.
اللہ مٹا دیتا ھے جو چاھتا ھے اور باقی رکھتا ھے جسے چاھتا ھے اور سب آسمانی کتابوں کی ماں اسی کے پاس ھے ،، یا سب نوشتوں کی ماں جہاں سب کی تقدیریں لکھی ھیں اسی کے پاس ھے ،جب چاھتا ھے جس کی چاھتا ھے تقدیر بدل دیتا ھے ،،
6- أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۖ مَا يَكُونُ مِنْ نَجْوَىٰ ثَلَاثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَلَا أَدْنَىٰ مِنْ ذَٰلِكَ وَلَا أَكْثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَهُمْ أَيْنَ مَا كَانُوا ۖ ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ( مجادلہ – 7 )
کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ جانتا ھے جو کچھ کہ آسمانوں میں ھے اور جو زمین میں ھے ، نہیں ھوتے تین سرگوشی کرنے والا کہ چوتھا وہ ھوتا ھے ، اور نہ پانچ سرگوشی والے ھوتے ھیں کہ چھٹا وہ ھوتا ھے ، اور نہ اس سے کم یا زیادہ ھوتے ھیں کہ وہ ھوتا ھے ساتھ ان کے جہاں کہیں وہ ھوتے ھیں ،، پھر جتلائے گا ان کو جو انہوں نے کیا قیامت کے دن ، بے شک اللہ ھر چیز کا دائمی علم رکھتا ھے
7- وجوہ یومئذ ناضرہ الی ربھا ناظرہ ( القیامہ)
اس دن بہت سارے چہرے تر و تازہ ھونگے ،اپنے رب کی طرف دیکھ رھے ھونگے ،،
8- ولقد خلقنا الإنسان ونعلم ما توسوس به نفسه ونحن أقرب إليه من حبل الوريد( ق )
حق بات یہ ھے کہ ھم نے انسان کو بنایا ھے اور ھم اس کے نفس کے ڈالے گئے وسوسوں سے بھی آگاہ ھیں،، اور ھم اس کی رگِ جاں سے بھی زیادہ قریب ھیں ،،
اس کے علاوہ احادیث میں بھی اللہ پاک کی مختلف صفات اور آخرت میں اپنے بندوں کے ساتھ کریمانہ مکالمے بیان کئے گئے ھیں کہ جن سے آنکھیں بہہ نکلتی ھیں اور دل رواں ھو جاتے ھیں ،،
عرب اسی خدا سے واقف تھے ، اور آج بھی ھیں وہ جب کلام اللہ پڑھتے ھیں تو انہیں اللہ اپنی زبان میں جو کہتا ھے وہ اس کا مطلب وھی لیتے ھیں ،یعنی ید کا مطلب ھاتھ ھی لیتے ھیں ، وجہ کا مطلب چہرہ ھی لیتے ھیں ،،
اھل حجاز کا عقیدہ ،،
جب الإيمان بأسماء الله وصفاته الواردة في القرآن الكريم والسنة النبوية الصحيحة ، من غير تشبيه ، ولا تعطيل ، ومن غير تكييف ولا تمثيل .
والتشبيه : أن يقول لله يد كأيدينا ، أو سمع كأسماعنا ، أو علم كعلمنا .
والتعطيل : أن ينفي الصفة ، أو يؤولها ، ويدعي أنها على سبيل المجاز وليست حقيقة ، كمن يقول: اليد بمعنى القدرة ، والاستواء على العرش : بمعنى الاستيلاء .
وقد اشتهر هذا التعطيل ، أو التأويل المجازي في باب الصفات ، عن بعض الفرق المبتدعة ، كالجهمية والمعتزلة ومن تبعهم .
والتكييف في باب الصفات : أن يقول : إن كيفية صفة الله كذا ، وكذا .
وهذا هو معنى ” الهيئة ” التي ذكرها السائل ، فنحن لا نقضي على شيء من صفات الله بأن كيفيتها كذا وكذا ، أو هيئتها كذا وكذا ، بل علم الكيفية والهيئة مرفوع ، لم يبين لنا ، ولم يدركه العباد بعقولهم ؛ كما قال الإمام مالك رحمه الله في صفة ” الاستواء ” :
” مَالك الإِمَام الاسْتوَاء مَعْلُوم يَعْنِي فِي اللُّغَة والكيف مَجْهُول وَالسُّؤَال عَنهُ بِدعَة “. انتهى من “العلو” للذهبي (167) .
ثانيا :
من صفات الله الثابتة : الرِّجل والقَدم .
ودليل ذلك : ما روى البخاري (6661)، ومسلم (2848) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ( لَا تَزَالُ جَهَنَّمُ تَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ ، حَتَّى يَضَعَ رَبُّ الْعِزَّةِ فِيهَا قَدَمَهُ ، فَتَقُولُ قَطْ قَطْ وَعِزَّتِكَ ، وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ ).
وروى البخاري (4850)، ومسلم (2847) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ( تَحَاجَّتْ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ ، فَقَالَتْ النَّارُ : أُوثِرْتُ بِالْمُتَكَبِّرِينَ وَالْمُتَجَبِّرِينَ ، وَقَالَتْ الْجَنَّةُ : مَا لِي لَا يَدْخُلُنِي إِلَّا ضُعَفَاءُ النَّاسِ وَسَقَطُهُمْ ؟ قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لِلْجَنَّةِ : أَنْتِ رَحْمَتِي ، أَرْحَمُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي ، وَقَالَ لِلنَّارِ : إِنَّمَا أَنْتِ عَذَابِي ، أُعَذِّبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي ، وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا مِلْؤُهَا ، فَأَمَّا النَّارُ فَلَا تَمْتَلِئُ حَتَّى يَضَعَ رِجْلَهُ ، فَتَقُولُ : قَطْ قَطْ ، فَهُنَالِكَ تَمْتَلِئُ وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ ، وَلَا يَظْلِمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ خَلْقِهِ أَحَدًا وَأَمَّا الْجَنَّةُ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُنْشِئُ لَهَا خَلْقًا ) .
فهذا يدل على إثبات صفة ” القدم” ، أو ” الرجل “، لله تعالى ، على الوجه اللائق بكماله وجماله وجلاله .
وقال ابن عباس رضي الله عنهما : ” الكرسي موضع القدمين ، والعرش لا يقدر أحد قدره ” رواه ابن خزيمة في “التوحيد” (1/ 248 رقم : 154) ، وابن أبي شيبة في “العرش” (61) ، والدارمي في “الرد على المريسي” ، وعبد الله ابن الإمام أحمد في “السنة” ، والحاكم في “المستدرك” (2/ 282) ، وصححه على شرط الشيخين ، ووافقه الذهبي ، وصححه الألباني في “مختصر العلو” ص 102 ، وأحمد شاكر في “عمدة التفسير” (2/ 163).
وقال أبو موسى الأشعري رضي الله عنه : ” الكرسي موضع القدمين، وله أطيطٌ كأطيطِ الرَّحْل ” رواه عبد الله ابن الإمام أحمد في “السنة” ، وابن أبي شيبة في “العرش” (60) ، وابن جرير ، والبيهقي، وغيرهم ، وصحح إسناده ابن حجر في الفتح (8/ 47) والألباني في “مختصر العلو” ص 123-124
ومن كلام علماء السلف ، وأئمة السنة في إثبات القدمين :
قال الإمام ابن خزيمة رحمه الله في “كتاب التوحيد” (2/ 202) : ” باب ذكر إثبات الرِّجل لله عز وجل ، وإن رغمت أنوف المعطلة الجهمية ، الذين يكفرون بصفات خالقنا عز وجل التي أثبتها لنفسه في محكم تنزيله وعلى لسان نبيه صلى الله عليه وسلم “.
وقال الإمام أبو عبيد القاسم بن سلام رحمه الله : ” هذه الأحاديث التي يقول فيها : ضحك ربنا من قنوط عباده وقرب غِيَره ، وأن جهنم لا تمتلئ حتى يضع ربك قدمه فيها ، والكرسي موضع القدمين ، وهذه الأحاديث في الرواية هي عندنا حق ، حملها الثقات بعضهم عن بعض ، غير أنا إذا سئلنا عن تفسيرها : لا نفسرها ، وما أدركنا أحدا يفسرها ” رواه البيهقي في “الأسماء والصفات” ( 2/ 198)، وابن عبد البر في “التمهيد” (7/ 149).
المختصر یہ کہ ھم اللہ پاک کی طرف سے بیان کردہ اعضاء پر ایمان رکھتے ھیں بغیر اس کی کییفت کا سوال کئے کہ وہ کیسے ھیں ، یعنی اللہ کا ھاتھ کیسا ھو گا یا چہرہ کیسا ھو گا ، اللہ پاک خود فرماتا ھے کہ اس کی مثل کوئی نہیں لہذا اس کی مثال بھی کوئی نہیں ،، امام مالک فرماتے ھیں کہ وہ عرش پر مستوی ھے ، یہ خود اللہ کی دی گئی خبر ھے ،مگر کیسے مستوی ھے اس کے لئے لیس کمثلہ شئ پر ھم ایمان رکھتے ھیں ،کہ اس کے استواء کی مثال نہیں دی جا سکتی بس اس کی تصدیق کی جا سکتی ھے ، اس کی مثل بھی نہیں مگر وہ سنتا بھی ھے اور دیکھتا بھی ھے ، جبکہ اللہ خود جانتا ھے کہ جن کو وہ ید کی خبر دے رھا ھے وہ اس سے ھاتھ ھی مراد لیں گے اور وہ یہ بھی جانتا ھے کہ ید سے ھاتھ اور وجہہ سے چہرے کا خیال آئے بغیر رہ بھی نہیں سکتا ، اس کے باوجود وہ ان کو استعمال کرتا ھے تو کسی حکمت کے تحت ھی استعمال کرتا ھے تا کہ لوگ اس کے قریب آئیں ،،،

 
 
Dr. Muhammad Hamidullah
Visit Website of Dr. Muhammad Hamidullah
ماخذ فیس بک

You might also like More from author

تبصرے

Loading...