ملتان، برصغیر میں نیل کی کاشت اور تجارت کا قدیم ترین مرکز ، تحریر: احمد رضوان

ملتان شہر قدیم ایام میں نیل کی کاشت اور تجارت کا بہت بڑا مرکز تھا‘ تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ وادی سندھ میں نیل کی کاشت کا آغاز نامعلوم تاریخ کے عہد میں ہی ہو گیا تھا۔ بعض تاریخی روایات کے مطابق وادی سندھ میں 1300 سے 3300 ق م میں بھی نیل کی کاشت ہو رہی تھی۔

ہڑپہ کی تہذیب میں بھی نیل کی کاشت کے آثار پائے گئے ہیں۔ اسی طرح موہنجوداڑو کے لوگ بھی نیلا اور سرخ رنگ دریافت کر چکے تھے۔ اس بات کے تاریخی شواہد موجود ہیں کہ برصغیر ہی نیل کی پیداوار اور رنگائی کا سب سے پرانا مرکز ہے‘ نیل کیلئے انگریزی زبان میں مروج لفظ Indigo بھی اس کے وادی سندھ سے قدیم رشتے کو ظاہر کرتا ہے۔ قدیم یونان اور روم کے لوگ جب نیل سے متعارف ہوئے تو ان کیلئے یہ ایک پرتعیش شے تھی‘ یونانیوں نے ہی سب سے پہلے نیل کیلئے Indikon کا لفظ استعمال کیا جس کا مطلب تھا انڈیا سے آنے والی پیداوار۔

اطالوی زبان میں یہ لفظ Indigon کی شکل اختیار کر گیا‘ بعدازاں اسی اطالوی لفظ سے Indigo کا انگریزی لفظ پیدا ہوا۔ برصغیر میں نیل کا لفظ سنسکرت زبان کے لفظ ’’نیلی‘‘ سے نکلا جس کے معنی گہرا کے ہیں۔ قدیم عہد میں جب لوگ نیل کی پیداوار اور رنگنے کی کرشماتی طاقت سے آشنا ہوئے تو دنیا کے دور دراز خطوں سے تاجر نیل کی تلاش میں ہندوستان آنے لگے۔

مارکوپولو جب تیرہویں صدی کے آخر میں ہندوستان آیا تو اس نے دیکھا کہ یہاں بڑی مقدار میں نیل کی پیداوار ہو رہی تھی‘ مارکو پولو نے اپنی ڈائری میں لکھا ’’نیل معدنی نہیں حقیقت میں یہ پودوں سے حاصل ہوتا ہے‘‘ کہا جاتا ہے کہ واسکوڈے گاما بھی نیل اور مصالحوں کی تلاش میں ہی ہندوستان آیا تھا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے ہندوستان آنے کے پیچھے بھی نیل کی تجارت ہی کارفرما تھی‘ نیل کی یہ انتہائی منافع بخش تجارت ہی تھی جو پرتگالیوں اور برطانوی تاجروں کو ہندوستان لے کر آئی کیونکہ اس دور میں نیل کی پیداوار اور تجارت کی سب سے بڑی منڈی ہندوستان میں تھی اور نیل کی سب سے زیادہ فروخت یورپ اور وسطی ایشیا کے ممالک میں ہوتی تھی۔ ان دنوں نیل کی تجارت کی یہ اہمیت تھی کہ اسے Blue Gold کہا جاتا تھا۔

مغل دور حکومت میں نیل کی پیداوار کے بڑے مراکز میں ملتان‘ لاہور‘ آگرہ‘ الہ آباد‘ دہلی‘ احمد آباد اور سورت شامل تھے‘ جب دنیا کے مختلف خطوں سے لوگ نیل کی تلاش میں ہندوستان آنے لگے تو یہاں اس کی پیداوار بھی بڑھتی چلی گئی۔ قدیم عہد میں یونانی اور رومن نیل کے بہت بڑے تاجر تھے‘ رومن نیل کو مصوری‘ طبی مقاصد اور آرائش کے لئے استعمال کرتے تھے۔ پرتگالیوں نے بھی ایک دور میں برصغیر سے نیل کی بڑی مقدار برآمد کی ان کا کاروبار‘ ملتان‘ لاہور‘ آگرہ اور احمد آباد میں تھا‘ جہاں ان کے ایجنٹ نیل کی خریداری کرتے تھے۔

آئین اکبری میں ملتان میں پیدا ہونے والی ان فصلوں کی فہرست دی گئی ہے جو تین صدیوں سے ملتان میں کاشت ہو رہی تھیں‘ ابوالفضل کی مرتب کردہ اس فہرست کے مطابق ملتان میں ان دنوں گنا‘ چاول‘ جو‘ تل‘ کپاس‘ چنا‘ مسور کی دال‘ میتھرا‘ تمباکو اور نیل کی بہت بڑی مقدار پیدا ہوتی تھی۔ شاہ جہاں نے اپنے ایک شاہی فرمان کے ذریعے نیل کی پیداوار بڑھانے کا حکم بھی دیا تھا۔ سترہویں صدی ہندوستان میں نیل کی پیداوار کے عروج کی صدی تھی‘ نیل اس دور میں بین الاقوامی تجارت کا اہم ترین آئٹم تھا۔ پرتگالی اور برطانوی تاجر نیل کی تجارت سے ہندوستانی تاجروں کو نکالنا چاہتے تھے تاکہ نیل کی تجارت مکمل طور پر ان کے ہاتھ میں آ جائے‘ اسی مقصد کے حصول کے لئے ایسٹ انڈیا کمپنی ہندوستان آئی تھی۔

ملتان جو نیل کی پیداوار کا قدیم ترین علاقہ تھا میں اعلیٰ درجے کا نیل پیدا ہوتا تھا اور تجارتی قافلے دنیا کے مختلف خطوں میں ملتان سے نیل لے جایا کرتے تھے۔ ڈاکٹر مہر عبدالحق کے مطابق ’’حضرت بہاء الدین زکریا ملتانیؒ اپنے عہد میں تجارتی قافلے بیرونی ممالک بھیجا کرتے تھے‘ انہوں نے ملتان شہر میں جہاں تجارت کو فروغ دیا وہاں بہت سے دستکار بھی پیدا کئے۔ غوث بہاء الحقؒ اپنے خرچ پر طالب علموں اور مریدوں کو دنیا کے مختلف خطوں میں کارآمد ہنر سیکھنے کیلئے بھی بھیجا کرتے تھے، یوں ملتان میں دیکھتے ہی دیکھتے ہنرمندوں کے بہت سے محلے آباد ہو گئے جن میں کنگھی محلہ‘ درکھانہ محلہ‘ والوٹ‘ سوتری وٹ‘ ٹھٹھہ پاؤلیاں اور بستی چم رنگ شامل ہیں‘‘۔

یہاں یہ بات خاص اہمیت رکھتی ہے کہ ملتان میں نیل کی پیداوار کا سب سے اہم علاقہ نیل کوٹ بھی حضرت بہاء الدین زکریا ملتانیؒ کے دور میں ہی آباد ہوا۔ نواح ملتان میں نیل کی پیداوار کے علاقے لودھراں‘ شجاع آباد کا علاقہ سردار واہ‘ تلمبہ‘ نیل گڑھ‘ کہروڑپکا اور ٹھٹھہ صادق آباد تھے لیکن ملتان میں نیل کی کاشت کا سب سے بڑا علاقہ نیل کوٹ ہی تھا‘ نیل کی پیداوار کے حوالے سے ہی اس علاقہ کا نام نیل کوٹ رکھا گیا۔

ملتان شہر قدیم عہد میں اپنے جغرافیائی محل وقوع کی نسبت سے تجارت کا اہم ترین مرکز تھا‘ یہاں نہ صرف زمینی راستوں سے تجارت ہوتی تھی بلکہ آبی راستے بھی تجارت کیلئے کھلے تھے۔ مرزا ابن حنیف کے مطابق ’’ملتان شہر نہ صرف دریائے راوی کے کنارے آباد ہے بلکہ دو عظیم الشان دریاؤں راوی اور چناب کا سنگم بھی بالکل پاس ہی تھا‘ ازمنہ قدیم میں افغانستان کے ساتھ جن جن پہاڑی دروں سے تجارت ہوتی تھی‘ ان میں درہ گومل خصوصی حیثیت رکھتا ہے درہ گومل کے ذریعے ملتان اور افغانستان کے درمیان بہت زیادہ تجارت ہوتی تھی یہی اس خطے کا قدیم تجارتی راستہ ہے۔

درہ گومل جو دریائے گومل کی راہ سے گزرتا ہے کا راستہ ڈیرہ جات سے ہوتا ہوا ملتان پہنچتا ہے‘ اسی طرح ایک اور راستہ بھی تھا جو کوہ سلیمان کے سخی سرورؒ درے سے ہوتا ہوا ملتان آتا تھا‘ مغربی جانب یہ درہ قندھار سے جا ملتا تھا اور وہاں سے ایران‘ انہی راستوں سے تاریخی و ماقبل تاریخی ادوار میں تاجروں کے قافلے ملتان آیا کرتے تھے‘‘۔ ملتان سے دنیا کے مختلف خطوں میں نیل برآمد کرنے والے دراصل شکار پوری تاجر تھے‘ شکار پور کے یہ تاجر ہندوستان کے اہم ترین شہروں کے ساتھ ساتھ بخارا‘ سمرقند‘ مسقط‘ افغانستان کے تمام شہر‘ ایران کے کچھ شہر اور چین کے علاقوں میں بھی تجارت کرتے تھے‘ یہ بیوپاری شکار پور اور کوہ سلیمان کے پہاڑی دروں کو خراسان تک کھلنے والا دروازہ کہتے تھے۔

شکارپور سندھ سے تعلق رکھنے والے یہ تاجر تھے تو شکارپور کے رہنے والے لیکن جب یہ دنیا کے مختلف خطوں میں جاتے تھے تو انہیں ’’ملتانی‘‘ کہا جاتا تھا۔ ’’ملتانی‘‘ کا یہ لفظ ہی قدیم عہد میں دنیا کے مختلف خطوں سے ملتان کے تجارتی تعلقات کو ظاہر کرتا ہے‘ یوں بھی ملتان ان دنوں بین الاقوامی تجارت کا بہت بڑا مرکز تھا۔ 13 ویں صدی عیسوی میں معروف مؤرخ ضیاء الدین برنی نے پہلی بار بیرون ملک تجارت کرنے والے تاجروں کیلئے ’’ملتانی‘‘ کا لفظ استعمال کیا۔ ضیاء الدین برنی کے مطابق ’’دہلی کے دھن دولت رکھنے والے ساہوکار (بینکار) بھی دراصل ملتان سے ہی دہلی آئے ہیں‘‘۔

ان دنوں شمال مغربی ہندوستان میں لفظ ’’ملتانی‘‘ زبان زد عام تھا لیکن ان میں بیوپاریوں کے بھانت بھانت کے حلقے شامل تھے۔ سترہویں صدی میں ’’ملتانی‘‘ کا لفظ ان تاجروں کیلئے مخصوص ہو گیا تھا جو وسطی ایشیاء اور روس تک تجارت کرتے تھے۔ ان تاجروں کا کاروبار وسطی ایشیاء اور ایران کے راستے روس تک پھیلا ہوا تھا‘ اس زمانے میں تاجروں کے ملتانی سلسلے وسطی ایشیاء کے کئی ممالک میں موجود تھے۔ ہندوستان کے کسی بھی علاقے کے لوگ جو وسطی ایشیاء کی اسلامی سرزمین پر تجارت کرتے تھے‘ کو ملتانی ہی کہا جاتا تھا حالانکہ ان میں سے بیشتر کا تعلق ملتان تو کیا پنجاب سے بھی نہ تھا‘ ان دنوں مال بردار جہاز ہندوستان سے بڑی مقدار میں نیل لے جاتے تھے۔

موہن لال کاشمیری جو ایک جاسوس تھا‘ کی حیات اور کارناموں پر ہری رام گپتا نے ایک کتاب مرتب کی تھی جو پہلی بار 1943ء میں لاہور سے شائع ہوئی تھی‘ موہن لال کاشمیری (1812ء تا 1877ء) نے اپنے سفر ملتان کے حوالے سے بڑی دلچسپ باتیں لکھی ہیں۔ وہ16 دسمبر 1835ء کو ملتان پہنچا اور اس نے دولت گیٹ کے باہر ایک مکان میں 31 جنوری 1836ء تک قیام کیا۔ موہن لال کاشمیری کے مطابق ’’ملتان میں نیل کی کاشت کثرت سے کی جاتی ہے اور ہر رنگ کا ریشم بھی تیار کیا جاتا ہے‘ ریشم کی تیاری کے شہر میں 150 کارخانے ہیں جن میں ہر سال ہزار گز ریشمی کپڑا اور دو لاکھ گز ریشم اور سوت والا کپڑا تیار ہوتا ہے‘‘۔

قیام ملتان کے دوران موہن لال کاشمیری کے شکارپوری اور لوہانی تاجروں سے تعلقات پیدا ہو گئے‘ ان تاجروں نے 30 جنوری 1836ء کو موہن لال کے اعزاز میں طعام اور رقص کی محفل ترتیب دی‘ موہن لال کے بیان کے مطابق یہ شکارپوری تاجر زیادہ تر بخارا کے ساتھ تجارت کرتے تھے‘ موہن لال نے ان تاجروں کو بمبئی کی اشیاء کی قیمتوں کی فہرستیں مہیا کیں اور ان کی ایک نقل دیوان ساون مل (ملتان کا سکھ گورنر) کو بھی بھجوائی‘ تاجروں کو یہ جان کر بڑی خوشی ہوئی کہ ان دنوں مٹھن کوٹ میں ایک منڈی قائم کی جانے والی تھی لیکن انہیں اس بات کی فکر تھی کہ دریا پر سفر کے دوران ڈاکوؤں سے ان کی حفاظت کا کیا انتظام ہو گا‘ ان تاجروں کو نیل کی قیمتیں معلوم کرنے کا بھی اشتیاق تھا جس کی ملتان کے علاقے میں بڑی فراوانی سے کاشت کی جاتی تھی۔

موہن لال کے مطابق 1831ء میں لوہانی اور شکارپوری تاجروں نے 1500 من نیل خراسان بھیجا تھا جس کی مالیت 82 ہزار 500 روپے تھی‘ انہوں نے یہ مال 55 روپیہ فی من کے حساب سے خریدا اور 60 روپے فی من کے حساب سے فروخت کیا‘‘۔ 1867ء میں مرتب ہونے والی تاج الدین مفتی کی کتاب ’’تاریخ پنجاب‘‘ کے مطابق ’’ملتان کا نیل دوسرے ممالک میں بطور تجارت یا تحفہ کے بھیجا جاتا ہے‘‘ نیل کی پیداوار کے ساتھ ساتھ ملتان ریشم کی رنگائی کا بھی بہت بڑا مرکز تھا‘ ملتان میں اطراف بخارا اور ترکستان سے لوہانی اور شکار پوری تاجر سالانہ قریباً 700 من ریشم لایا کرتے تھے۔

ریشم کی رنگائی کا کام زیادہ تر ہندو کرتے تھے لیکن ملتان کے محلہ آغا پورہ میں بیشتر مسلمان گھرانے بھی ریشم کی رنگائی سے وابستہ تھے‘ خواتین بھی بڑی تعداد میں گھروں میں یہ کام کرتی تھیں۔ ملتان میں ریشم کی رنگائی کے پیچھے بھی نیل کی پیداوار ہی دکھائی دیتی ہے۔ برطانوی عہد کے دوران ملتان میں دوسرا بندوبست اراضی 1875ء میں کیا گیا‘ اس وقت کے تخمینہ کے مطابق ملتان میں نیل کی فصل کل کاشتہ رقبہ کا 10 فیصد تھی لیکن 1923ء میں صرف ایک فیصد رقبہ پر نیل کاشت ہو رہا تھا۔

ملتان میں نیل کی کاشت نے دو اہم صنعتوں کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کیا‘ ان میں ایک ملتان کی روایتی کاشی گری اور دوسری پارچہ بافی کی صنعت ہے۔ ملتان شہر کے علاقوں کے علاوہ تلمبہ‘ کہروڑپکا‘ ٹھٹھہ پاولیاں (جسے اب ٹھٹھہ صادق آباد کہا جاتا ہے) اور جلالپورپیروالا کپڑے کی مخصوص رنگوں میں چھپائی اور رنگائی کے بہت بڑے مراکز تھے جہاں نباتاتی رنگوں سے کپڑوں کی رنگائی کی جاتی تھی۔ ملتان میں عمارتوں اور برتنوں پر نیلے رنگ کی نقاشی کی روایت بھی قدیم عہد سے چلی آ رہی ہے‘ اس فن کیلئے نیلے رنگ کا ایک خاص روغن تیار کیا جاتا ہے‘ کاشی گری کے فن میں دوسرے رنگوں کا استعمال بہت ہی کم ہوا ہے اور غالباً کامیاب بھی نہیں ہو سکا‘ کاشی گری میں سفید سطح پر نیلگوں نقش و نگار بنائے جاتے ہیں۔

خطہ ملتان میں نیلے رنگ کے فروغ کے حوالہ سے ایک بات یہ بھی کی جاتی ہے کہ یہ رنگ انتہائے نظر اور آفاقیت کی ایسی علامت ہے جس سے روح و چشم کو سکون اور تابندگی ملتی ہے۔ ملتان اور سندھ کی تہذیب و تاریخ میں نیلے رنگ کی بہت زیادہ اہمیت ہے‘ اجرک جو سندھ اور ملتان کا تہذیبی پہناوا ہے‘ کی رنگائی بھی نیل سے ہی کی جاتی تھی‘ ملتان میں سر ڈھانپنے کی ایک مخصوص چادر کو ’’نیلا‘‘ کہا جاتا تھا‘ دریائے سندھ کا پرانا نام بھی ’’نیلاب‘‘ ہے۔ اس خطے میں پڑنے والی شدید گرمی نے بھی نیلے رنگ کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا کیونکہ نیلا رنگ آنکھوں کو ٹھنڈک دیتا ہے۔

’’اجرک‘‘ جو آج ایک سندھی زبان کا لفظ بن چکا ہے اس کا ماخذ دراصل عربی لفظ ’’ازرق‘‘ ہے جس کے معنی نیلا کے ہیں۔ ’’ازرق‘‘ کس طرح اجرک میں تبدیل ہوا‘ اس کے پیچھے ایک تاریخی واقعہ بتایا جاتا ہے کہ جب محمد بن قاسم سندھ کے راستے ملتان آیا تو یہاں کے لوگ نیلی چادریں لئے ہوئے تھے‘ عرب سپاہیوں نے مقامی لوگوں کی نیلی چادریں دیکھ کر ’’ازرق‘‘ کہہ کر پکارا بعدازاں یہی لفظ اجرک میں تبدیل ہو گیا‘ گو آج سندھی اجرک میں مختلف رنگوں کا استعمال ہوتا ہے لیکن ابتدائی عہد میں اجرک نیلی ہی بنائی جاتی تھی‘ خطہ ملتان میں سرائیکی اجرک کے احیاء کے پیچھے بھی اس خطے میں نیل کی قدیمی پیداوار کا ہی کردار ہے‘ ملتان میں سفید ملبوسات کے علاوہ دیگر رنگ کے کپڑوں کو بھی نیل دیا جاتا تھا‘بطور خاص پگڑی کو نیل سے آراستہ کیا جاتا تھا اور نیل سے آراستہ پگڑی باندھنے والے کو معتبر خیال کیا جاتا تھا‘ اس حوالہ سے سرائیکی کی ایک دلچسپ کہاوت بھی ہے کہ ’’گدڑ نیل دے حوض اچ ونج پووے تاں مہاندرا نی بن ویندا‘‘ ترجمہ (اگر گیدڑ نیل کے حوض میں جا گرے تو وہ معتبر نہیں ہو جاتا‘‘۔

کہا جاتا ہے کہ ملتان میں نیل کی کاشت اور تجارت پر سکھ عہد میں کاری ضرب لگائی گئی کیونکہ سکھ عہد میں ملتان کے مسلمان خاص معاشی بندشوں کا شکار ہوئے کیونکہ نیل کے کاشتکار بیشتر مسلمان گھرانے ہی تھے۔ یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ملتان سمیت دنیا بھر میں قدرتی طریقہ سے نیل کی پیداوار اس وقت ختم ہوئی جب ایک جرمن کیمسٹ ولیم ایڈولف وان بائیر نے مصنوعی طریقہ سے نیل بنانے کا عزم کیا‘ ولیم بائیر جو اپنے بچپن سے ہی کیمیائی تجربات کر رہا تھا‘ نے 1865ء میں مصنوعی طریقہ سے نیل بنانے کے منصوبہ پر کام کیا‘ بالآخر 1897ء میں بائیر مصنوعی طریقہ سے نیل بنانے میں کامیاب ہوگیا۔ 1905 میں نیل کی مصنوعی ایجاد جو کیمسٹری میں ایک غیر معمولی کام تھا‘ پر ولیم بائیر کو نوبل پرائز دیا گیا۔

ملتان میں نیل کی کاشت کا روایتی طریقہ :

نیل کی کاشت خالصتاً گہرے پانی میں ہوتی ہے‘ عموماً نیل کی فصل ایسی زمین میں کی جاتی ہے جس میں ریت کی مقدار بھی شامل ہو اور سب سے بڑھ کر پانی کی جلد اور بکثرت فراہمی بھی ضروری ہوتی ہے‘ اکثر نیل کی کاشت گندم کی کٹائی کے بعد ہوتی ہے۔ کاشت کے لئے نیل کا بیج ہمیشہ چھٹ کے ذریعے ڈالا جاتا ہے ایک ایکڑ کے لئے 20 کلو بیج درکار ہوتا ہے‘ بیج ڈالنے کے بعد عموماً 15 یا 20 مرتبہ پانی لگایا جاتا ہے لیکن اس میں کافی احتیاط برتنا پڑتی ہے جب نیل کے پودے نوخیز ہوں تو پانی کفایت سے اور رات کے وقت لگایا جاتا ہے تاکہ دھوپ سے گرم ہونے والا پانی انہیں برباد نہ کردے۔

نیل کی فصل میں کھاد کبھی کبھار ہی ڈالی جاتی ہے‘ نیل کی فصل کو کنویں یا جھلار کا پانی شاید ہی لگایا جاتا ہو‘ اس فصل کو نہری پانی سے کاشت کیا جاتا ہے۔ نیل کی فصل کی کٹائی خزاں میں ہونے کی وجہ سے نہروں کی بندش اس پر اثر انداز نہیں ہوتی‘ پہلے سال کی کٹائی کرتے وقت زمین کے اوپر ڈنٹھلوں کو چھ انچ چھوڑ دیا جاتا ہے‘ اگلے سال انہی ڈنٹھلوں سے دوسری فصل حاصل کی جاتی ہے‘ نیل کی پہلی فصل ’’سروپ‘‘ جبکہ دوسری ’’منڈھی‘‘ کہلاتی ہے لیکن تیسرے سال نیل کی فصل کو بدبختی کی علامت سمجھا جاتا ہے‘ نیل کی فصل کبھی کبھار بغیر ہل چلائے بھی کاشت کرلی جاتی ہے جیسے دریا کے قریب موزوں نشیبی زمینوں یا چنے اور گندم کے وڈھ میں‘ سروپ اور منڈھی کی پیداوار تقریباً ایک جتنی ہوتی ہے۔

مئی کے تیسرے ہفتے میں زمین کو نہری پانی دیا جاتا ہے‘ منڈھیاں یکم اگست کے بعد کٹائی کے لئے تیار ہوتی ہیں اور سروپ اگست سے لے کر ستمبر کے آخر تک کاٹ لی جاتی ہے‘ اس کے بعد ’’ولوری‘‘ کا مرحلہ آتا ہے جس کے لئے تین پختہ حوض تیار کئے جاتے ہیں دو بڑے اور ان کے درمیان ایک چھوٹا‘ انہیں جوڑی کہا جاتا ہے۔ اس خطے میں لوگ نیل کی مجموعی پیداوار کا تخمینہ اس رقبے کے مطابق لگاتے ہیں جو حوضوں کا ایک سیٹ روز آنہ وصول کرتا ہے۔

نیل کے پودوں کو کٹائی کے بعد گٹھوں کی صورت باندھ لیا جاتا ہے اور بڑے والے حوض میں ڈنٹھلوں کو نیچے کی طرف کر کے کھڑا کر دیا جاتا ہے‘ ہر حوض میں 8 سے 10 گٹھے ہوتے ہیں۔ شام کے وقت حوضوں میں اتنا پانی چھوڑ دیا جاتا ہے کہ تمام پودے ڈوب جائیں‘ اوپر لکڑی کا ایک شہتیر رکھ دیا جاتا ہے تاکہ پودے پانی میں ڈوبے رہیں۔ کٹائی کے بعد پانی میں ڈبونے کا عمل جلد از جلد شروع کیا جاتا ہے۔

پودوں کو 24 گھنٹے پانی میں ڈبونے کے بعد پتوں سمیت باہر نکال لیتے ہیں‘ حوض میں صرف مائع رہ جاتا ہے پھر ایک مزدور چپو نما آلے سے ایک گھنٹے تک اچھی طرح ’’بلوتا‘‘ ہے اسے ’’ولورنا‘‘ کہتے ہیں‘ اس کیلئے خاص مہارت کی ضرورت ہوتی ہے‘ اس کے بعد سارا شفاف پانی باہر نکال لیتے ہیں‘ حوضوں کے پیندوں میں صرف تلچھٹ رہ جاتی ہے‘ اب اسے چھوٹے والے حوض میں رات بھر کیلئے چھوڑ دیا جاتا ہے‘ صبح کو چھوٹے حوض سے پھر پانی نکالتے ہیں‘ تلچھٹ کو پورے احتیاط سے جمع کر کے ایک کپڑے میں باندھ لیا جاتا ہے اور ریت کے ڈھیر پر رکھ دیا جاتا ہے۔ آخر میں اسے دھوپ میں سکھاتے ہیں‘ ہاتھ سے گوندھتے ہیں اور پھر چھوٹی چھوٹی گولیوں کی شکل دے لیتے ہیں‘ اب نیل تیار ہو گیا ہے‘ اس میں تھوڑا سا تیل ڈالنے سے نیل کا رنگ اور بھی گہرا ہو جاتا ہے۔

Dr. Muhammad Hamidullah
Visit Website of Dr. Muhammad Hamidullah

You might also like More from author

تبصرے

Loading...