مودت فی القربٰی کا حقیقی مفہوم ۔ از جعفر شاہ پھلواری

مودت فی القربٰی کا حقیقی مفہوم ۔

سورۃ شوریٰ میں احوال آخرت بیان کرتے ہوئے ارشاد ہوتاہے۔

تَرَی الظَّلِمِيْنَ مُشْفِقِنَ مِمَّا كَسَبُواوَهَوَ وَاقِعُٝ بِهِمْ ؞ وٓالّٓذٍيْنٓ ٱمٓنٓوْ وٓعٓمٍلُوا الصّٰلٍحٰتٍ فٍی رٓوْضٰتٍ الْجٓنّٰتٍ لٓهُمْ مّٓا يٓشٓاءُ وْنَ عٍنْدٓرٓبِّهِمْ ذٰلِكَ هُوَا لْفَضْلُ الْكَبِيْرُ(٢٢)
(ترجمہ)تم ظالموں کو دیکھو گےکہ وہ اپنے اعمال کی وجہ سے ڈر رہے ہوں گے حالانکہ وہ ان پر واقع ہوکر رہےگا۔اور جو لوگ ایمان لائےاوراچھےعمل کیے،وہ جنت کی کیاریوں میں ہوں گے۔وہ جو کچھ چاہیں گےوہ ان کے رب کےپاس موجود ہوگااور یہی تو بڑا فضل ہے۔
اس کے فوراً بعد ارشاد ہوا۔

ذٰالِكَ الَّذِیْ يَبَشِّرُاللّٰهَ عِبَادَهُ الَّذِيْنَ اٰمَنَوا وَعَمِلُوالصّٰلِحٰتتِ ءِ قُلْ لَّا اَسُاَلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْراً اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰی ؕوَمَنْ يَّقْتَرِفْ حَسَنَتًه نَّزِدْ لَه فِيِهَا حُسْناً اِنَّ اللَّه غَفُوُر٬٫ شَكُوْر٬٫

(ترجمہ)یہی وہ (اجر)ہے جس کی اللہ اپنے ان بندوں کو خوشخبری دیتاہے جو ایمان لائے اور اچھے عمل کیے۔کہدو کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا مگر مودت فی القربی اور جو شخص کوئی حسن عمل کرےگا،ہم اس کے حسن میں مزید اضافہ کریں گے۔اللہ بڑا مغفرت والا قدردان ہے۔

قرآن کریم میں جو معنوی تحریفات کی مہم سبائیوں نے چلائی ہے،اس سے سب سے زیادہ نمایاں تحریف اس آیت کی تفسیر ہے۔سب سے پہلے تو دیکھئےکہ جس طرح آیت تطہیر میں پوری آیت اور اس کے سیاق وسباق کو چھوڑ کر آیت کا صرف ایک ٹکڑا لےکر تفسیری فریب دیا گیاہے،جیساکہ آپ پڑھ چکےہیں،ٹھیک اسی طرح یہاں بھی پوری آیت کو سیاق وسباق سے کاٹ کرصرف ایک ٹکڑا(قُلْ لٓا آسْٱَلُكُمْ عَلَيْهِ اَجُرا”اِلَّاالْمَوَدَّةَ فِی ااْقُرْبَی)لے لیا گیا ہے۔پھر اس کے ترجمہ و تفسیر میں تحریفات کا ایک نادر نمونہ پیش کیاگیا۔
ترجمہ یوں کیاجاتا ہےکہ “اےرسول تم اعلان کرو کہ میں تم سے اپنی تبلیغ کا کوئی اجر نہیں مانگتا بجزاس کے کہ میرے رشتہ داروں سے محبت کرو”اور یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ ان کے خیال میں نبی کریم ﷺکے رشتہ دار کون لوگ ہیں؟صرف ایک داماد،فقط ایک بیٹی اور محض دو نواسے،اس سے مفروضہ ائمہ،پھر ان کی مخصوص اولادیں۔مخصوص اس لئے کہ اس میں اسمعیل یابوہرے ائمہ داخل نہیں ہے۔زیدی ائمہ بھی اس سے خارج ہیں۔سنی سادات تو پہلے ہی باہر کردیے گئے۔بس زیادہ سے زیادہ اثنائے عشری مجتہدین یاماتمی سادات شامل ہیں۔لطف کی بات یہ ہےکہ یہ آیت مکی ہے جبکہ سیدنا علیؓ کی شادی بھی نہ ہوئی تھی اور نہ حسن وحسین پیدا ہوئےتھے۔
اچھا اب آئیے ذرا اس تحریفی تفسیر اور ترجمے پرایک نظر ڈالیں۔
(۱)سب سے پہلی بات تو یہ ہےکہ قُربٰی کے معنی کسی عربی لغت میں رشتہ دار یاقرابت مندکےنہیں۔اس کے معنی صرف”قرابت یارشتے”کے ہیں۔قرابت مند یا رشتہ دار کےلئے عربی میں اور سارے قرآن پاک میں دو لفظ آئے ہیں۔ذَوِالْقُرْبٰی جس كی جمع ذووالْقُرْبٰی یا اولوالقُربی هےاور دوسرا اقَرب القُربی جس کی جمع اقارب،اقربا اور اقربون ہے۔
(۲)اگر صرف قُربٰی کے معنی رشتہ دار یا قرابت مند بھی فرض کرلیےجائیں تو سوال یہ ہےکہ اس سے کس کے قرابت مند مراد ہوں گے؟اسے سمجھنے کےلئے ایک سیدھا سادہ اصول یاد رکھئے۔ذِی الْقُربٰی واحدو جمع کے صیغے سے بیسوں جگہ قرآن مجید میں آیا ہے۔لیکن کسی جگہ بھی لفظ قُربٰی کے بعد کسی مضاف الیہ کا ذکر نہیں جس سے یہ معلوم ہوکہ اس سے کس کے ذِی الْقُربٰی مراد ہے۔اس کی وجہ یہ ہےکہ یہ ایک بالکل واضح قرینے سے خودبخود واضح ہوجاتا ہے۔اس لئے یہاں عبارت کو طول دینے کی ضرورت ہی نہیں۔اگر مخاطب سے کہاجائے کہ ذَات ذِی القُربٰی حَقہ(۱۶:۱۷)(قرابت مندکواسکاحق دو)تو اس سے مراد مامور ہی کے ذی القربی ہوں گے۔دوسرے کے نہیں ہوں گے۔اگر غائب کے صیغے سے کہا جائے جیسےکہ(وَاٰتَی الْمَالَ عَلٰی حَبِّہِ ذَوِالْقُربٰی(۱۷۷:۲)(اللہ کی محبت میں مال ذوالقربی کودیا)تواس سے مراد صرف اسی غائب مذکور کے ذوی القربی ہوں گے۔اسی طرح متکلم کہے”میں ذوی القربٰی کا خیال رکھتاہوں ۔تو اس اس متکلم هی کےذی القُربٰی مراد ہوں گے۔
اب دیکھنا یہ ہےکہ اس آیت(شوریٰ:۲۳)بلکہ آیت کے اسی زیر بحث ٹکڑے میں جو مودت فی القربی کاذکر ہے۔اس میں قربی سے کس کی قرابت مراد ہے؟رسول اللہ ﷺکی یا جن سے رسولؐ مخاطب ہیں ان کی؟سبائیوں کا کہنا ہےکہ اس سےرسولؐ کی قرابت مراد ہے؟دوسرے لفظوں میں رسولؐ یوں کہتا ہےکہ میں تم سے اپنی تبلیغ کا کوئی اجر طلب نہیں کرتا بجز اسکے تم میری قرابت سے یعنی میرے قرابت داروں سے محبت کرو۔یہ خود ساختہ تفسیر کئی وجوہ سے غلط ہے۔غلط ہی نہیں بلکہ تمام انبیاء علیہم السلام کی تعلیمی و تبلیغی سپرٹ کے خلاف ہیں۔کسی پیغمبر نے بھی اس قسم کا اجر نہیں مانگا ہے۔بلکہ ہرایک نے ہرقسم کے اجر کی کامل نفی فرمائی ہے۔
(١)سیدنوحؑ فرماتےہیں۔
فَاِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَمَاسَاَلْتُكُم مِّنْ اَجْرِی اِلَّاعَلَی اللّٰه(يونس:٧٢)
(ترجمہ)اگر تم نے منہ پھیر لیا تو میں نے تم سے کسی قسم کا اجرتو طلب نہیں کیاتھا۔میرا اجرتو اللہ کے ذمہ ہے۔
(۲)سیدنانوحؑ کایہی مضمون (شعراء:۱۰۹میں )یودہرایا گیاہے۔
وَمَٱاَسْاَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرِیَ اِلَّاعَلٰی رَبِّ الْعٰالَمِيْنَ اور(هود٢٩)میی یو هی: وَيٰقَوْمِ لَاْاَسْٱَلُكُمْ عَلَيْهِ مَالَا اِنْ اَجْرِیَ عَلٰی اللّٰه۔
اےمیری قوم میں اس تبلیغ کے عوض کوئی مال نہیں مانگتا۔میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے۔

(٣)بالکل یہی الفاظ سیدنا ہودؑ کی زبان سے بھی ادا ہوئےہیں(شعراء ۲۷۱)اور سیدنا ہودؑ ہی کی زبان سے(ہود۵۱)میں ارشاد ہوا۔
يٰقَوْمِ لَآاَسْآلُكُمْ عَلَيهِ اَجْراً.اِنْ اَْجْرِیَ اِلَّاعَلٰی الَّذِی فَطَرَنِی۔

اےمیری
قوم میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔میرا اجر تو اس کے ذمہ ہےجس نے مجھے پیدا کیا۔
(۴)یہی الفاظ سیدنا صالحؑ نےبھی فرمائےہیں۔(شعراء ۱۴۵)
(۵)بعینہ یہ الفاظ سیدنا لوطؑ نےبھی فرمائےہیں۔(شعراء ۱۶۴)
(۶)بالکل یہی الفاظ سیدنا شعیبؑ کی زبان پرجاری ہوئے۔ (شعراء :۱۸۰)

(۷)اصحاب القریہ کے تین رسولوں کےمتعلق ایک مومن کی گواہی کو قرآن یوں بیان فرماتا ہےکہ۔

اِتَّبِعُوامَنْ لَّايَسْٱَلُكُمْ اَجَراًوَّ هُمْ مَّهْتَدُونَ(يٰسين:٢١)
ان کی پیروی کرو جو تم سے کوئی اجر نہیں مانگتے اور ھدایت یافتہ بھی ہیں۔
اب ذرا خود خاتم النبیین ﷺ کے متعلق قرآنی ارشادات سنئیے۔
(١)وَمَاتَسْآلَهُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجَرٍ .اِنْ هُوَ اِلَّاذِكْر٬٫ لِّلْعٰالَمِيْنَ(يوسف:١٠٤)
تم اس رسالت کا ان سے کوئی بھی اجرنہیں مانگتے یہ تو تمام جہانوں کےلئے نصیحت ہے۔

(٢)قُلْ لَّا اَسْٱَلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْراً.اِنْ هُوَاِلَّا ذِكْرٰی لِلْعٰلَمِيْنن(انعام٩٠)
تم اےرسول کہہ دو کہ میں اس تبلیغ کاتم سے کوئی اجرنہیں مانگتا۔یہ تو تمام جہانوں کےلئے یاددہانی ہے۔

(٣)اَم تَسْٱَلُهُمْ اَجرَاً فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَ(الطور٤٠)
اے رسولؐ کیا تم ان سے کوئی اجر طلب کرتےہو کہ ان پر تاوان کا بوجھ پڑرہاہے؟

(٤)بالکل یہی الفاظ(قلم:٤٦میں بھی)دہراۓگۓےہیں۔ 
(٥)قُلْ مَاسَاَلْتُكُمْ مَّنْ اَجْرٍ فَهُوَ لَكُمْ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَی اللّٰهِ (سبا:٤٧)
اے رسولؐ کہہ دو کہ میں تم سے جواجرمانگتاہوں وہ (میرے لئےنہیں)خود تمہارے فائدے کےلئے ہے۔میرا اجر تواللہ کے ذمے ہے

(٦)قُلْ مَآ اَ سْاَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍوَّ مَآ اَنْاَمِنَ الْمُتَكَلِّفِيِنَ (ص:٨٦)
کہدو اے رسولؐ کہ میں تم سے اپنے فریضہ رسالت کا کوئی اجرنہیں مانگتا اور میں ان لوگوں میں سے نہیں جو تکلف یا بناوٹ سے کام لیتےہیں۔
ان تمام آیات کو ایک بار غور سے دیکھ جائیے۔
تمام پیغمبروں نے اور خود رسول اکرم ﷺ نے فریضہ رسالت و تبلیغ کے عوض ہرقسم کے اجرکی کامل نفی کردی ہےاور کسی نے یہ نہیں کہاکہ:میں کوئی اجر نہیں مانگتا مگر اتنا اجر مانگتا ہوں کہ میرے قرابت داروں سے محبت کرتے رہواور ان کا خیال رکھو۔یہ اتمام صرف رسول اکرم ﷺکی ذات اقدس پر تھوپاجاتاہےکہ رسول اکرم ﷺنے ساری عمر فریضہ رسالت ادا کرنے میں جتنی ایذائیں اور تکلیفیں برداشت کیں،وہ صرف ایک ہی مطلب کےلئے تھیں کہ میرے رشتہ داروں سے محبت کیاکروں خواہ ان میں کافر ہوں یا مومن،نالائق ہوں یا لائق اور اس تفسیر کے بین السطور یہ مفہوم پیدا کرنا مقصود ہےکہ جو لوگ رسول اکرم ﷺ کےقرابت مند نہیں،ان سے محبت کرنے کی بھی ضرورت نہیں،خواہ وہ کتنے ہی اعلیٰ مومن صادق ہوں بلکہ قرابت مند نہ ہونے کی وجہ سے ان سے عداوت رکھو اور ان پر تبرا بکنا ثواب سمجھو۔نعوذباللہ من ذالک۔

یہاں چند سوال پیدا ہوتےہیں:
(١)اِنْ اجْرِیَ اِلَّا عَلَی اللّٰہ (میرا اجر تو بس اللہ کے ذمے ہے) کہنے کے بعد پھر بندوں سے اجرمانگنے کاکیا مطلب ہوا؟اور اجر بھی یہ کہ میرے قرابت داروں سے محبت کرو۔ایک طرف تو یہ اعلان کہ میں تم سے کسی قسم کا کوئی اجر طلب نہیں کرتا کیونکہ میرا اجر صرف اللہ کے ذمے ہےاور دوسری طرف بندوں سے یہ مطالبہ کہ میرے قرابت داروں سے محبت کرتےرہوں۔کیا ان دونوں باتوں میں آپ کو واضح تضاد نظر نہیں آتا۔

(٢)اللہ تو محبت کرتا ہے تمام متقین سے،تمام توابین سے،تمام مطاہرین سے،تمام مقسطین سے،تمام محسنین سے،تمام صابرین سے،تمام متوکلین سے۔
(اِنَّ اللّٰهَ يُحِبَّ الْمُتَّقِيْن…المُتَطَّهِرِيْن…الْمُقْسِطِيْن…اَلْمُحْسِنِيْن…اَلْصَبِرِيْن… المَتَوَكَلِيْن)مگر اللہ کا رسولؐ فرماتا ہے(نعوذباللہ)کہ نہیں تمہیں اس کی ضرورت نہیں۔یہ تو اللہ کا کام ہے،تمہیں تو صرف میرے رشتہ داروں سے محبت کرنی چاہیے۔باقی امت کو چھوڑ دو۔
(۳)اگر پیغمبروں کو قرابت مندوں کی محبت اور تقاضائے محبت میسر آجائے تو اس سے بڑھکر اور کونسا صلہ واجر ہوسکتاہے جس کی تمام انبیاء نفی فرمارہے ہیں؟

(٤)اورپھر قرابت مندوں کادائرہ کہاں تک وسیع ہوتاہے۔ذرا اس کی بھی تشریح ہونی چاہیے کون کون لوگ اس میں داخل ہیں اور کیوں؟ کون کون لوگ خارج ہیں اور کیوں؟

(٥)کیا کسی پیغمبر کویہ بات ذرا بھی زیب دیتی ہےکہ وہ زبان سےتو یہ اعلان کرےکہ میں تم سے کوئی صلہ و اجر نہیں چاہتا اور اسی سانس میں یہ بھی کہےکہ میرے سارے خاندان کے تحفظ ومحبت و احترام کی ضمانت دو اور اسی معمولی سی چیز کا تم سے سوال کرتا ہوں۔یہ کہنے کے بعد ایک عام ملک،بادشاہ،فرماں روا میں اور اس رسول میں فرق ہی کیا رہ جاتاہے!

حاصل گفتگو یہ ہےکہ مُوَدَتْ فِی القُرْبٰی میں قربی سے رسول اکرم ﷺ کی قرابت مراد ہی نہیں ہوسکتی کیونکہ اسلام کادارومدار صرف ایمان و عمل صالح پرہے۔خاندان،نسل یانسب پر نہیں۔اگر معاملہ اہل خاندان کی محبت کا ہوتا تو یہ نعمت توپہلے ہی سے رسول اکرم ﷺ کو حاصل تھی۔نبی کریم ﷺبھی اور آپؐ کی وجہ آپؐ کےتمام قرابت دار بھی سارے عرب کی نظروں میں پہلے ہی سے محبوب تھے،پھر اس جھگڑے کی کیا ضرورت تھی جس نے ایک کو دوسرے قرابت مند سے الگ کردیا۔ایک کو دوسرے کے خون کا پیاسا بنادیا۔ستائے جانے اور بےگھر ہونے پرمجبور ہوئےاور پہلے ہی معرکہ(بدر)میں ادھر ایک چچا حمزہؓ ہیں اور ادھر دوسرے چچا عباس۔اسی کیمپ میں علی ہیں اور اسی کیمپ میں عقیل۔علیؓ کابڑا بھائی طالب مارا جاتاہے،اور عمرؓ کاماموں عاص بن وائل عمرؓ ہی کے ہاتھ سےقتل ہوتاہے۔اس وقت تورسولؐ کو ایک ہی اعلان کردینا چاہیے تھا(نعوذباللہ)کہ دیکھو عباس،عقیل،نوفل سب میرے قرابت مند ہیں لہٰذا انہیں کچھ نہ کہوں بلکہ ان سب سے مودت و محبت کرو کیونکہ ان کی محبت ہی تو میری تبلیغ ورسالت کا اجرہے۔تم نے اگر میری اقربا کی محبت کے خلاف کچھ کیاتو میرا اجر رسالت ادا کرنے سے قاصر ہوگئے۔
ذرا سوچئے اور اسلامی جذبہ عدل سے سوچئےکہ رسول اللہ ﷺ کے سارے(یاچند مخصوص قرابت مندوں کی) مودت ومحبت کو اجر رسالت قرار دینے والے کدھر جارہے ہیں۔اور یہ انداز تفسیر قیصر یت و کسرویت کی خدمت ہےیا محمدیتؐ کی؟رسول سے اگر کوئی توقع ہوسکتی ہےتو صرف یہ کہ قرابت کی غلط مودت کو منقطع کردے۔سورہ ممتحنہ پہلا رکوع پڑھ جائیے۔معاملہ بالکل صاف ہوجائےگا۔
حقیقت یہ ہےکہ آیت زیربحث میں قُربٰی سے رسول ﷺ کی قرابت(یاقرابت دار)سرےسے مراد ہی نہیں بلکہ رسولؐ جن لوگوں کو مخاطب کرکےیہ فرمارہے ہیں کہ اپنی کسی قرابت(نہ کہ قرابت دار)مراد سے اللہ تعالی کے حکم سے رسولؐ یہ اعلان فرمارہے ہیں کہ میرا اجر یہ ہےکہ تم اپنی قرابت کی محبت اور پاس لحاظ کرو۔اپنی اس قرابت کا حق ادا کرو۔قرابت والوں کو حق کی دعوت دو۔ان کی ہر انسانی ہمدردی اور ان کےلئے مالی ایثار کرو۔اپنی بےلوث انسانیت کاثبوت دو۔یہی میرا مشن ہےاور یہی میرا اجرہے جو تم ادا کرسکتے ہوں۔ورنہ میرا اجر تو اللہ کے سوا کوئی نہیں دےسکتا۔مودت کے اس انداز میں تمہارا ہی بھلا اور تمہارا ہی فائدہ ہے۔اس کا اجربھی تم ہی کوملے گا۔اور تمہارا فائدہ ہی میرا فائدہ ہے اور تمہارا اجرہی میرا اجرہے۔یہی وہ حقیقت ہےجو اوپر نمبر ۵کی آیت میں یوں بیان فرمائی گئی۔
قُلْ مَاسَاَلْتَکُمْ مِنْ اَجْرٍ فَھُوَ لُکُمْ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّاَ عِلَی اللّٰہ (سبا ۴۷)
یعنی(بتادو اےرسول کہ میں نےتم سےکوئی اجرمانگاہے تواپنے لئے نہیں)خود تمہارے لئے ہےورنہ میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمے ہے اور وہی دےسکتاہے۔ایک طرف سورۃ سبا کی یہ آیت ہےاور دوسری طرف ملت ابن سباء کی وہ تفسیر۔اس فَھُوَلَکُمْ اور اگلے جملے نے اجر رسالت کی حقیقت کو آئینے کی طرح واضح وصاف کردیا ہےکہ رسول ﷺکوفریضہ رسالت ادا کرنے کا صلہ یااجر نہ کوئی امتی دےسکتاہے اور نہ رسولؐ اپنی امت سے کبھی اس کا طالب ہوا۔بات صرف اتنی ہےکہ رسولؐ کا اپنی ہرامتی کےساتھ جوقلبی لگاؤہے،وہ اتنا شدید ہےکہ کسی ماں باپ کو اپنی پیاری اولاد سے بھی ویسی دلی الفت نہیں ہوسکتی۔امتی کےپاؤں میں کانٹاچھبےتواس کی چھبن رسولؐ اپنی روح میں محسوس کرتاہے۔(عزیز علیہ ماعنتم)امتی کےہرفائدے کو وہ اپنا فائدہ اور اس کے ہراجر کو اپنا اجر قرار دیتاہے۔رسولؐ کااجرکیاہے،اسے دوسری جگہ(فرقان:۵۷)میں اور زیادہ واضح فرمایاہےکہ:

قُل مَآ اساَلَکُمْ عِلَیہِ مِنْ اَجْرٍ اِلَّا مَنْ شَاْءَ اَنْ یَّتَّخِذَ اِلٰی رَبِّہ سَبِیْلاً۔
کہہ دو اےرسول کہ میں تم سے مطلقاً کوئی اجر نہیں مانگتا۔بجز اسکےجویہ چاہےکہ اپنے رب کی طرف جانے والا راستہ اختیار کرے۔
مطلب واضح ہےکہ اگر کوئی صحیح راستہ اختیار کرےتو رسول ﷺکا اجربن جاتاہے۔صحیح راستہ اختیار کرنے کا صلہ تو اسے ملے گا جواسے اختیار کرےگا لیکن رسول ﷺاسی کو اپنا اجرقراردیتاہے۔رسول ﷺکےان جذبات کو،جو پوری امت سے وابستہ ہیں،وہ لوگ کہاں سمجھ سکتے ہیں جنہوں نے پورے دین اسلام کو ایک گھریلو قسم کی مناپلی بنارکھاہے اور اس کی آفاقیت کو چند افراد خاندان میں محصور کرڈالا ہے۔امت کیساتھ رسول ﷺ(بابائناھووامھاتنا)کوجو غایت درجے کی چسپیدگی اور والہانہ محبت ہےاس کا اندازہ صرف ایک حدیث سے کرلیجئے۔رسول اکرمﷺنےفرمایا۔

لَیْسَ مِنَّامَنْ لَمْ یَرْحَمُ صَغِیْرَنَاوَلَمْ یَوَقِّرکَبِیْرَنَا۔
ہم میں سے نہیں ہےوہ جو ہمارے چھوٹےپررحم نہ کرےاور ہمارے بڑے کااحترام نہ کرے۔
رسول اکرم ﷺبتاناتو یہ چاہتے کہ ہرشخص اپنے چھوٹوں پر رحم اور اپنے بڑوں کااحترام کرے۔لیکن اللہ اللہ(رسول اکرمؐ پر ہمارےماں باپ قربان ہوں )
ہرایک کے چھوٹے کو خود اپنا چھوٹا اور ہرایک کے بڑے کو خود اپنا بڑا قرار دےکر ہمارے چھوٹے اور ہمارے بڑے فرمارہے ہیں۔یہاں ضمیر متکلم(نا”ہوتے ہوئے بھی غائب مذکور(من)ہی کے چھوٹے اور بڑے مراد لیےجاتےہیں۔
مگر طرفہ تماشا یہ ہےکہ المودت فی القربی میں ضمیر متکلم(ی یا نا)نہ ہونے کےباوجود اس کاترجمہ میری قرابت ۔۔۔بلکہ میرے قرابت مند۔۔۔کیاجاتاہے۔
سنی حضرات اس کا ترجمہ یوں کرتےہیں کہ:کہدو اے رسول کہ میں تم(منکروں،کافروں)سےاس پیغام کا کوئی صلہ نہیں چاہتا بجزاس کے کہ قرابت کی محبت کا پاس ولحاظ کرو۔
یعنی میرے ساتھ دشمنی کرنے میں اتنا حدسے نہ گزر جاؤبلکہ اتنا لحاظ تو کرو جو قرابت مندوں کیساتھ کیا جاتاہے۔لیکن یہ تفسیری ترجمہ صحیح نہیں اگرچہ سبائیوں کےترجمے سے بہترہے۔یہ ترجمہ تفسیر اس لئے درست نہیں کہ۔

(۱)برادری وقرابت کا واسطہ دےکر منکرین سے اپنے لئے اچھے برتاؤ یااپنے لئے تحفظ کی اپیل کرنا نبی کریم ﷺ کی غیرت کےمنافی ہے۔
(۲)نبی کریم ﷺ اگر اتنا کچھ بھی صلہ تبلیغ طلب کرے تو وہ مطلق نفی کس اجر کی کررہا ہے۔جیساکہ اوپر گزرچکاہے۔
(۱)تم اے (رسول )ان سے رسالت کا کوئی اجر بھی نہیں مانگتے(یوسف:۱۰۴)
(۲)کہدو اےرسول کہ میں تم سے اس کا کوئی اجر نہیں مانگتا۔(انعام:۹۱)
(۳)کیا تم اےرسول ان سے کوئی اجر مانگ رہے ہو جو ان پر تاوان کا بوجھ پڑرہاہے(طور:۴۰،قلم:۴۶)
(۴)اور پھر اس کا کیامطلب ہوگاکہ:قُلْ مَاسَاَلْتُکُمْ مِنْ اَجْرٍ فَھُوَلَکُمْ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَی اللّٰه(سباء ۴۷)
یعنی کہدو اےرسول میں نے تم سے جو اجر طلب کیا ہے وہ(میرےلیے)نہیں خود تمہارے ہی فائدے کےلئے ہے۔میرا اجر (جو نہ میں تم سے مانگتاہوں نہ تم دےسکتےہو)صرف اللہ کے ذمے ہے۔اگر رسول ﷺمنکرین سے اپنے لیے قرابت کے پاس لحاظ کی رعایت طلب فرمائیں تو یہ فھولی(میرےلیےہوتا،فھولکم(تمہارےہی لیے)نہ ہوتا۔
(۵)جن لوگوں کو سرےسے پیغام نبوت ہی سے انکار ہے،ان سے اجر یاصلہ مانگنےکا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ان سے تو صرف یہی کہاجاسکتا ہےکہ:اس رسالت سے میرا اپنا کوئی مطلب و غرض نہیں،میں تم سے کسی قسم کاکوئی معاوضہ،صلہ یااجرنہیں چاہتا۔تم اس کا اجر دےبھی نہیں سکتے۔میرا اجر تو وہی دےگا جس کی طرف سے میں پیغام حق لےکر آیا ہوں۔میرا اگر کوئی اجر ہوسکتاہے تو وہ صرف یہی ہےکہ تم اس پیغام کو قبول کرلو۔یہ بھی دراصل میرا اپنا اجر یافائدہ نہیں،اس کا فائدہ تو خود تمہیں کو پہنچے گا(فھولکم) اگر زید خالد کو ایسی چیز دے جو خالد کو پسند ہی نہ ہو اور وہ اسے لینا ہی نہ چاہتا ہو اور زید کہے کہ میں تم سے اس کا فلاں صلہ چاہتا ہوں تو یہ ایک بالکل بے معنی سی بات ہوگی۔خالد یہی کہےگاکہ میں یہ چیز لینا ہی نہیں چاہتا تو صلہ دینے کا کیاسوال ہے۔صلہ دینے کا تو صرف اس وقت پیدا ہوتا ہے جب چیز قبول کی جائے۔پیغمبر کی طرف اس قسم کی بے جوڑ اور لایعنی باتوں کو وہی لوگ منسوب کرسکتے ہیں جو نبوت کے مقام کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔پیغمبر سے صرف ایک ہی بات منسوب کی جاسکتی ہیں کہ تم میرے پیغام کو قبول کرلو تواس سے بڑا میرے لیے کوئی صلہ وانعام نہیں۔اسے قبول کرنے میں تمہارا اپنا ہی فائدہ ہے اور میں اس کو عین اپنا اجر سمجھوں گا۔
بعض اوقات ایسا بھی ہوتاہے کہ انسان کوئی خواہش دل میں رکھتا ہےمگر تکلفا” اسے زبان پر نہیں لاتا۔قرآن نے اس آخری رگ کو بھی ہمیشہ کےلئے کاٹ کر رکھدیا۔
ارشاد ہوا۔
قُلْ مَا اَسُاَلُکُمْ َعلَیہِ مِنْ اَجْرِ وَّمَآ مِنَ الْمُتَکَلِّفِیْنَ(ص۸۶)
“اعلان کردو اےرسول کہ میں تم سے رسالت کےعوض کسی طرح کا بھی کوئی اجر نہیں مانگتا اور میں یہ بناوٹ یاتکلف نہیں کررہا”۔

یعنی ایسا نہیں کہ دل میں تو تم سے کسی شکل میں صلہ لینے کی خواہش موجود ہو اور ازراہ تکلف زبان زبان سے ہرقسم کی صلےکی نفی کررہاہوں۔نعوذباللہ۔اب ذرا سوچئے کہ اس سے بڑا تکلف اور کیا ہوسکتاہے کہ نبی کریم ﷺباربار ہرقسم کے اجر کی نفی کررہاہے اور ایک جگہ دبی زبان سے یوں اجر مانگتاہےکہ میری قرابت کا لحاظ کرواور میرے خاندان سے محبت کرو۔اس قسم کے مطالبے کےبعد اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَی اللّٰہ کادعویٰ کس کھاتے میں ڈالا جائےگا؟
ایک نکتہ یہ بھی غور طلب ہےکہ تمام پیغمبروں پر ایمان لانااسی طرح ضروری ہےجس طرح رسول اکرم ﷺپر،پس اگر رسول اکرم ﷺکےخاندان سے محبت کرنا ضروری اور جزو ایمان ہے۔
تو کوئی وجہ نہیں کہ دوسرے پیغمبروں کے خاندان سے بھی محبت کرنااسی طرح جزایمان نہ ہو۔لیکن کسی پیغمبر نےجیساکہ اوپر کی آیات سے واضح ہے اپنے خاندان کی محبت کو اجرتبلیغ نہ قرار دیا۔اگر انبیاء کیساتھ ان کی خاندان کی محبت بھی ضروری ہےتو تمام پیغمبروں کے خاندانوں کی فہرست مرتب کرلیجئے۔اس کے بعد ہم بھی کچھ فیصلہ کرلیں گے۔
یہ حقیقت ایک لمحے کےلئے بھی فراموش نہیں کرنا چاہیےکہ محبت کی دوقسمیں ہیں۔ایک ہےفطری و بشری،دوسری دینی۔فطری محبت ہرانسان کو اپنی اولاد یا افراد خاندان سے ہوتی ہے۔بلکہ حیوانات کو بھی ہوتی ہے اور یقیناً پیغمبروں کو بھی تھی لیکن کوئی امتی اس نوع محبت پر اللہ اور اس کے رسولؐ کی طرف سے مجبور نہیں کیاگیاہے۔سیدنا نوحؑ کو اپنے فرزند سے یقیناً فطری و بشری محبت تھی،جبھی اس کے ڈوبنے کامنظر نہ دیکھاگیا اور اِنْ اَبْنِی مِنْ اَھْلِی کہہ کرفریاد کی۔اس طرح سیدنا ابراہیمؑ کو بھی یقیناً اپنے باپ آزر سےفطری محبت ہوگی جبھی آپ ممانعت آنے تک اس کی مغفرت کی دعا کرتے رہے،لیکن کیا کسی امت کو بھی مجبور کیا جاسکتا ہےکہ وہ بھی کنعان یا آزر سے محبت کرے؟محبت کا نہ ہوناتوالگ رہا،یہاں تو دونوں سے نفرت و تبرا ضروری ہے۔
لیکن امت کےلئے جو محبت اختیار کرنی ضروری ہے،وہ بشری محبت نہیں،وہ دینی محبت ہےاور دینی محبت ہر اس متنفس سے ہونا ضروری ہےجو ایمان اور عمل صالح رکھتاہوں۔
نبی کی قرابت نسبی برادری کی قرابت نہیں ہوتی۔نبیؐ کی قرابت و برادری اور وہ اخوت ہوتی ہےجو پیغام نبوت قبول کرنے کی وجہ سے ظہور میں آتی ہے۔یہ وہ روحانی قرب ہوتاہے جو بعید کو قریب اور قریب کو بعید بنادیتا ہے۔یہ وہ قرب ہےجو نسبی قرابتوں کو کاٹ کر پھینک دیتاہے۔بےقرابت بلال حبشیؓ کو آغوشِ رسالت میں جگہ ملتی ہےاور سگے چچا ابولہب کو برادری سے کاٹ کر “تَبَّتْ یَدَا اَبِی لَھَبَ” کی وعید سنائی جاتی ہے۔بلالؓ کی محبت ومودت ایمان کاجزقرار پاتی ہےاور ابولہب سے بیزاری عین ایمان بن جاتی ہے۔اسلام کی ہمہ گیری کو خاندانی جاگیر بنانے والے اس حقیقت کو کیسے سمجھ سکتے ہیں؟ان کے نزدیک تو رسولؐ کامشن (نعوذباللہ)بالکل ہی ناکام رہاہے۔بس چار پانچ مسلمان تو ایمان پر قائم رہے،باقی سب کے سب رسول اکرم ﷺ کے آنکھ بند کرتے ہی مرتدہوگئے۔استغفراللہ۔
ایک نحوی نکتہ بھی سن لیجئے۔استثنا دو قسم کے ہوتے ہیں۔متصل اور منقطع۔اگر مستثنٰی،مستثنٰی منہ میں داخل ہو تو متصل ہےورنہ منقطع مثلاً کہا جائےگا “جَاءَ الْعُلْمَاء اِلَّا زِیْداً(علماء آگئے بجز زيدکے)اس کا مطلب یہ هوتاهے كه زید بهی علماء میی داخل ہے۔یہاستثنامتصل اوراگریوں کہاجاۓ”جَاءَالْعُلَمَااِلَّاکِتَابًا”(علماءآگئےبجزخط کے)تواس کامطلب یہ ہوگا کہ خط علماء میں شامل نہیں بلکہ خط نہ آنے کاذکر ایک الگ بات ہے۔اسے کہتے ہیں منقطع۔
اب پہلے اس آیت کودیکھئے۔
قُلْ مَا اَسْاَلُکُمْ عَلَیہِ مِنْ اَجرٍ اِلَّا مَنْ شَاءَ اَنْ یَّتَّخِذَ اِلٰی رَبِّہٖ سَبِیْلاً۔(فرقان:۵۷)
کہدو اےرسول کہ میں تم سے رسالت کا کوئی بھی اجر نہیں مانگتا اس آدمی کے جو اپنے رب کی طرف جانے والے راستے کو اختیار کرسکے۔
یہاں ظاہر ہےکہ استثنا منقطع ہےیعنی:”مَنْ شَآءَ اَنْ یَّتَّخِذَ اِلٰی رَبِّہٖ سَبِیْلا”ً۔کوئی اجر نہیں جس کو عام اجر سے مستثنٰی کیاگیا ہو۔یہ دو الگ الگ باتیں ہیں اور اس کا صرف یہ مطلب ہےکہ میں تم سے کسی قسم کا کوئی اجر بھی نہیں چاہتا،ہاں یہ چاہتاہوں کہ تم ٹھیک ہوجاؤ اور راہ حق اختیار کرلو۔بالکل یہی صورت زیر بحث آیت میں بھی ہے۔
قُلْ لَا اَسْاَلُکُمْ عَلَیہِ اَجْراً اِلاَّ الْمُوْدَّةَ فِی الْقُرْبٰی(شوریٰ:۲۳)
“کہدو اےپیغبر کہ میں تم سے اس تبلیغ کوئی اجر نہیں طلب کرتا،ہاں یہ ضرور چاہتا ہوں کہ تم قرابت وبرادری کی محبت کا حق ادا کرو”
آپس میں خیر خواہی،ہمدردی،امداد باہمی اور مودت کے دوسرے انسانی واخلاقی تقاضے پورے کرتےرہو۔
یہاں خاص طور پر قربیٰ کا ذکر اس لئے کیاگیا ہےکہ سارے عرب اس کا لحاظ رکھتے آئے ہیں۔لیکن اسلام دشمنی میں وہ اتنے اندھے ہوگئے تھےکہ باپ بیٹے کو اور بھائی بھائی کو اور ایک قرابت مند دوسرے قرابت دار کو ستانا اور ایذا پہنچانا نیک کام سمجھنے لگاتھا۔یہ درندگی صحابہؓ کےعلاوہ خود رسولؐ کےخلاف بھی روا سمجھی جارہی تھی۔رسول اکرم ﷺاس سے باز رکھنے کی موثر اپیل یوفرماتےہیں کہ بھائیوں،میں تم سے اس پیغام حق کا کوئی معاوضہ واجرنہیں مانگتا۔
اگر میں کوئی صلہ طلب کرتاتوشاید تم اس تاوان کے بوجھ تلے اپنے آپ کو دبتاہوا محسوس کرتے۔
(فَھُمْ مِنْ مَغْرِمْ مُثْقَلٰوَنْ)اور اس سے بچنے کےلئے اہل ایمان کی مخالفت کرتےلیکن جب میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا اور تم میرا پیغام بھی قبول نہیں کرتے تو یہ تمہاری اپنی مرضی ہے۔لیکن اس قرابت دارانہ اور برادرانہ سلوک کا تو لحاظ رکھو جو جو انسانیت کا تقاضا ہےاور عربی و قریشی معاشرے میں بھی مسلم ہےاور ہمیشہ سے ملحوظ رکھاجاتاہے۔
قرابت مندی کا لحاظ ایسا تسلیم شدہ اصول ہےکہ خود قرآن نے اسے تمام حقداروں پر مقدم رکھاہے۔
(وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّیِذِالْقُربٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسَاکِیْنِ وََالْجَارِذِی الْقُرْبٰی وَالْجِارِ الْجَنْبِ وَالْصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَابْنِ السَّبِیْلِ وَمَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ)(النساء:۳۶)
یہاں اس آیت میں نوحقداروں میں والدین اور دوسرے قرابت داروں کو باقی سبھوں پر مقدم رکھاہے بلکہ پڑوسیوں میں بھی قرابت دار پڑوسی کو غیر قرابت دار پڑوسی پر مقدم رکھاہے۔
منکرین قریش سے رسول ﷺکوئی اجر کسی شکل میں بھی نہیں مانگتا۔اجر کی مکمل نفی کرتاہے۔اور اس کے ساتھ ایک دوسری بات بھی کہتاہے کہ تم قرابت داری کے مسلمہ اصول کو تو ملحوظ رکھو،یہ کوئی اجر نہیں جسے دوسرے تمام اجروں سے مستثنٰی کیاگیا ہو۔یہ مستثنیٰ منقطع ہےجس کا مطلب یہ ہےکہ دو الگ الگ باتیں بتائی جارہی ہیں۔کلام ادب اور اصول زبان کا ادنی طالب علم بھی استثناء کی اس قسم سے واقف ہے۔
یہاں میرے ایک مفکر قرآن محترم دوست نے اس آیت کی ایک اور جدید تفسیر بتائی اور وہ اس لئے قابل غور ہےکہ قرآن کے حقائق ومعارف کسی دور کی تفسیر میں بندنہیں۔کسی چیز کو محض اس لئے ردکردینا درست نہیں کہ پہلے کسی نے یہ نہیں لکھا۔ہمارے دوست کا کہنا یہ ہےکہ نسبی اور رحمی قرابت کا اسلام نے بلاشبہ بڑا لحاظ رکھااور اس میں کفر و اسلام کے فرق کو بھی اکثر موقعوں پر نظرانداز کردیاہے لیکن اسلام نے دنیا کو قرابت،برادری اور اخوت کی ایک اساسی قدر(value) بھی بخشی ہے۔اور وہ ہے دینی برادری وقرابت(اِنَّمَا الْمُوْ مِنُوْنَ اِخْوَةَ)مودت فی القربیٰ میں ہی تصوراتی قرب مقصود ہےمگر اس کا تعلق مکانی قرب سے بھی ہے۔اس اجمال کی تفصیل یہ ہےکہ انبیاء علیہم السلام جو معاشی و معاشرتی نظام قائم کرتےہیں،اس کی شکل ایسی ہوتی ہےکہ الگ الگ حلقے یا یونٹ قائم کردیے جاتےہیں اور ہر یونٹ اپنی ضروریات زندگی کا کفیل خود ہوتاہے کیونکہ اس یونٹ کے تمام افراد اپنے اپنے ذوق و صلاحیت کےمطابق مشترکہ طور پر پیداواری کام پر لگ جائے اور پیداوار میں پوری یونٹ کے افراد مشترکہ طور پر حقدار ہوتےہیں اور سب کی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔زیادہ محنت کرنے والا یہ مطالبہ نہیں کرتاکہ ہم نے زیادہ کام کیاہے،اس لئے ہمیں زیادہ ملنا چاہیے بلکہ اپنی ضروریات سے زیادہ اپنی خوشی سے یونٹ کےدوسرے افراد کےلئے پیش کرتاہے۔اور یہ اس کا سب سے بڑا تقویٰ و ایثار و تزکیہ نفس ہوتاہے۔اگر محنت کی کمی پیشی کو معیار بنایا جائے توکمزوروں،بیماروں، بوڑھوں اور بچوں کا تو کوئی حق ہی نہیں ہوناچاہیے۔اور ان کو بھوکوں مرناچاہیے۔یونٹ قائم کرنے کا تو مقصد ہی یہ ہےکہ اس یونٹ کے لوگ خوشحال ہوجائیں اور کوئی کسی کا محتاج نہ رہے۔یہی نظام زکوٰۃ ہےجسے رسول اکرم ﷺ نے یوں بیان فرمایا ہےکہ”تُوَخِذْ مِنْ اغْنِيَائِھِمْ وَتَرَدْعَلٰی فُقَرَائھِمْ”(وہی کے خوشحالوں سے صدقہ لیاجائے اور وہی کے محتاجوں کودےدیا جائے) اسی طرح دوسری یونٹ اور باقی سب یونٹوں کے افراد بھی کریں تاکہ پورے ملک کا معاشرہ خوشحال ہوجائے۔
ہاں اس میں دو باتوں کا لحاظ ضرور ہوگا۔ایک یہ کہ پیداوار کے جو ذرائع کسی یونٹ کےافراد کےپاس نہ ہوں گے،اسے مرکز ان کےلئے مہیا کرےگا۔دوسرے ایک یونٹ اپنی فاضل پیداوار مرکز کی ہدایت کےتحت دوسرے کمزور یونٹ کو دےگا،جس میں “اَلْجَارِ ذِی الْقُرْبٰی” قریبی یونٹ”اَلْجَارِالْجُنُبِ(بعید یونٹ)پر مقدم رہے گا۔گویا ہریونٹ جہاں اپنے افراد کو مقدم رکھےگا،وہاں بعید یونٹ پرقریبی یونٹ کومقدم رکھےگا۔
یہ ہےمودت القربٰی کاوہ نظام جس میں مکانی اور ذہنی ہم آہنگی کاقرب ملحوظ ہوتاہے۔
اور رسول اکرم ﷺ یہی فرماتےہیں کہ۔ میں تم سےاپنےلئےکوئی اجرنہیں چاہتا۔میں جوتم سےمانگتاہوں وہ خود تمہارے فائدےکیلئےہے۔(فَھُوَلَکُمْ)مجھےایسے لوگ مطلوب ہیں جومیرےاس الہی نظام کوقبول کرلیں (اِلَّا مَنْ شَاءَ اَنْ یَّتَّخِذَ اِلٰی رَبِّہٖ سَبِیْلَا)یہی نظام مودت فی القربی کا نظام ہے۔یہی ہرپیغمرکامشن رہاہے۔کوئی پیغمبر اپنے مشن کاکوئی معاوضہ بندوں سے نہیں مانگتا،وہ صرف یہی چاہتاہے کہ اس کے مشن کی تکميل ہو جائے۔اس عظیم مقصد کی تکميل کےلئے وہ جدوجہد کرتاہے،وہ صرف اس لیے کرتاہے کہ اسے اسی مقصد کیلئے اللہ کی طرف سے بھیجا جاتاہے اور اس کا اجر بھی وہی دیتاہے جس نے اسے بھیجاہے۔اگر کوئی حکومت کسی علاقے کا کسی کو قاضی بناکر بھیجے تو قاضی صاحب کا صرف یہ کام ہوتاہے کہ عدل و انصاف کیساتھ قضاء کے فرائض ادا کرے۔یہی اس کا مشن ہوتا ہے،اور اس کا اجر اسے حکومت دیتی ہے۔قاضی کبھی یہ نہیں کہہ سکتا اےلوگوں!میں تمہارا قاضی بھیجاگیا ہوں،لہٰذا تم مجھے معاوضہ ادا کیا کرو۔وہ یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ اے لوگوں میرا اجر حکومت کے ذمے ہے مگر تم مجھے اس شکل میں اجر ادا کرو کہ میرے خاندان والوں اور قرابت مندوں سےمحبت رکھو۔
غور کرنے کی بات یہ ہےکہ ایک معمولی قاضی اس قسم کا بےمعنی مطالبہ نہیں کرسکتا تو خود رسول اکرم ﷺ کی طرف ایسی خود غرضانہ بات کو منسوب کرنے کی جرات کس طرح کی جاتی ہے؟
رسول ﷺکےمشن یعنی مودت فی القربی کا صحیح مفہوم یہی ہےکہ کہ ہرحلقہ اپنے افراد کےلئے خود کفیل بن جائے اور ہرفرد دوسرے کی محبت سے سرشار ہو اور باہمی مودت کاحق ادا کرےاور پھر تمام حلقے بھی ایک مرکز اطاعت کے زیراثر اور زیر ہدایت رہتے ہوئے آپس میں مودت کا حق ادا کرتے رہیں۔یہ حلقے کے افراد ایسے بھی ہوسکتے ہیں جن میں نسبی قرب بھی ہو اور ایسے بھی ہوسکتےہیں جوذہنی و مکانی قرب رکھتے ہوں۔جس قسم کا بھی قرب ہوگا،اسکا لحاظ کرنا مودت فی القربیٰ ہی میں شمار ہوگا کیونکہ نبویؐ مشن کی تکميل اسی طرح ہوسکتی ہے۔
یہ ہے مودت فی القربیٰ کی وہ تفسیر جو میرے ایک محترم دوست نے بیان کی ہے۔اسے قابل غور نہ سمجھنا یااسے ردکردینا(اور وہ بھی صرف اس لئے کہ پہلے کسی نے نہیں لکھی ہے)کوئی صحیح طرز عمل نہیں۔آپ اس تفسیر سے اتفاق کریں یا نہ کریں،آپ کو اختیار ہے لیکن رد و قبول دلائل کی روشنی میں ہونا چاہیے نہ کہ محض قدماء پرستی کی روشنی میں۔محترم دوست نے بہرحال فہم کی ایک نئی راہ دکھائی ہےاور وہ غور و فکر کی مستحق ہے۔
اگر یہ تفسیر آپ کی نظر میں غلط ہوتو غلط ہی سہی لیکن اس کی وجہ سے وہ تفسیر صحیح نہیں ہوسکتی جو صرف سبائیوں کی پیداوار ہےاور نبویؐ مزاج و کردار کے سراسر منافی ہے۔
آخر میں ایک ضروری بات بھی سن لیجئے۔قریش کے تمام بطون سے رسول اللہ ﷺ کی قرابت موجود تھی، لہٰذا کسی کو قربی میں داخل اور کسی کو خارج کرنے کی کوئی واضح دلیل ہونی چاہیے۔اس قربیٰ سے رسول اکرم ﷺکی ازواج کیوں خارج ہوگئی جبکہ ان کے رشتہ زوجیت کوقرآن ناقابل انقطاع قرار دیاہے۔نیز رسولؐ کے سسرالی رشتہ دار ان میں داخل ہوں گے یانہیں؟اگرنہیں تو کیوں؟کس دلیل سے ایک بیٹی کاشوہر قربی میں داخل ہوگااور دوسری بیٹیوں کے شوہر خارج ہوجائیں گے؟سیدنا ابو سفیانؓ،سیدنامعاویہؓ اور جناب یزیدؒ کیوں اس میں داخل نہ ہوں گے جبکہ آخرالذکر امیرالمومنین یزیدؒ رسول اکرم ﷺ کی پانچویں پشت(عبدالمناف)میں جاکر مل جاتےہیں۔رسول کریم ﷺ ان کے سگےپھوپھا ہے جو ام المومنین ام سیدہ ام حبیبہؓ بنت ابو سفیانؒ کے سگے بھتیجے ہیں۔علی اکبربن حسین بن علیؓ کی والدہ (لیلٰی بنت میمونہ)کے سگے ماموں زاد بھائی اور حسینؒ کےسالے ہیں اور جو ام محمد بنت عبداللہ بن جعفر طیارؓ کے شوہرہیں۔یعنی جناب حسینؒ کے ماموں بھی ہیں،سالےبھی اور بھتیجی داماد بھی۔سوال یہ ہےکہ قربی سے خارج کیسے ہوجائیں گےاور اس آیت کے نزول کے وقت تو حضرت حسین پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔

ازعلامہ شاہ محمد جعفرؒ ندوی پھلواری۔

سورس

Dr. Muhammad Hamidullah
Visit Website of Dr. Muhammad Hamidullah

You might also like More from author

تبصرے

Loading...