“مہر”

نکاح ہوا تو ابا جان نے 5 ہزار مہر لِکھوایا۔ رُخصتی سے پہلے امّاں کان میں کہہ گئیں کہ ساس مہر کی بات کرے تو کہہ دینا میں نے معاف کِیا۔ ایسے شوہر اور اُسکے گھر والے خوش ہوں گے۔ میں نے سوچا کہ جب بات ہوگی تو دیکھی جائے گی۔ دل سے میں اس بات کو ہضم نہ کر پائی تھی۔ بھلا لکھوایا ہی کیوں جب معاف ہی کرنا تھا۔ سوچ لِیا کہ دیں گے تو چُپ کر کہ رکھ لوں گی۔ امّاں کو نہین بتاؤں گی۔
سسرال پہنچی تو انتظارمیں رہی کہ کوئی بات کرے۔ پر یہاں تو کسی کو یاد ہی نہ تھا۔ اگلا دن آیا، ولیمہ ہُوا پر کسی نے ذکر بھی نہ کِیا۔ دن گزرتے گئے، میرے ذہن میں یہ بات گردش کرتی رہی کہ کوئی تو تذکرہ کرے، مگر نہیں۔ شوہر کا مزاج بھی کُچھ برہم رہتا تھا اسلئیے خود کی تو ہمت نہ پڑی۔ آہستہ آہستہ دماغ سے نکل ہی گیا!
آج قرآن مجید پڑھ رہی تھی تو ترجمےمیں مہر کا ذکر ملا۔ لکھا تھا کہ عورت اگر اپنی خوشی سے مہر چھوڑ دے تو ٹھیک، ورنہ لازم ادا کرو۔۔فوراً سے اپنی ماں کی بات یاد آئی کہ مہر معاف کر دینا تاکہ شوہر اور اسکے گھر والے ناراض نہ ہو جائیں۔
سوال اُٹھا کہ جب اللّٰہ تعالیٰ نے صاف صاف کہا ہے کہ مہر ادا کرو تو شوہر یا اُسکے ماں باپ کی ناراضگی کے ڈر سے معاف کیوں کریں؟ ہاں اگر عورت اپنی مرضی سے چھوڑتی ہے توکوئی مضائقہ نہی۔ لیکن جبراً معاف کرانا تو معافی نہین ہوئی۔ یہ تو سنگین جُرم ہُوا۔
ہمارے یہاں رواج یہ ہے کہ حق مہر وہ سمجھا جاتا ہے جو طلاق کی صورت میں ادا کرنا پڑے۔ حالانکہ اللہ نے یہ شوہر کی طرف بیوی کا پہلا حق رکھا ہے جو وہ شادی کے وقت اپنی بساط کے مطابق ادا کر سکے۔ صاف اور سیدھی بات کو اُلجھا کہ پیش کیا کرنا ۔ اس معاملے کی سنگینی کو کوئی سمجھتا نہیں کہ عورت کا حق مہر ادا نہ کِیا جائے تو وہ شوہر کے لئیے حلال نہیں ہوتی۔۔ ادا تو یہاں کِیا نہی جاتا اسی لئے عورتیں جھٹ سے معاف کر دیتی ہیں کہ ایسے ہی ساتھ رہنے کا مطلب وہ گُناہ کے مرتکب ہوئے۔
ہمارے معاشرے میں کُچھ نظریات اس قدر رچ بس گئے ہیں کہ انہیں مکمل صحیح کرنے میں صدیاں لگ جائیں گی۔۔اس غلط فہمی کو درست کرنے کی بہت اشد ضرورت ہے کہ مہر طلاق کے لئے تہہ کِیا جاتا ہے۔ قران کو ترجمے کے ساتھ پڑھ کہ دیکھیں میں آپکو حلفًا کہتی ہوں آپ حیران ہو جائیں گے جب آپ کو کثیر تعداد میں سیدھے اور دو ٹوک احکامِ شریعت ملیں گے جنہیں ہمارے معاشرے اور اسلاف نے کیا سے کیا بنا دیا ہے۔
تھوڑا سہی لیکن قرآن مجید کو سمجھ کے ضرور پڑھیں۔
جزاکہ اللّٰہ خیر۔

 
Dr. Muhammad Hamidullah
Visit Website of Dr. Muhammad Hamidullah

You might also like More from author

تبصرے

Loading...