نظم از غزالہ شاہین غزل

سورج بنا دیا کبھی چندا بنا دیا
تو نے مرا وجود تماشا بنا دیا

بہتی ہوئی ہوا کے کنارے پہ بیٹھ کر
ہم نے ترے خیال کا چہرہ بنا دیا

جھڑتا ہے تیرے منہ سے جو پھولوں کا سلسلہ
چن چن کے سارے لفظوں کا گجرا بنا دیا

آؤ کبھی تو سیر کو کچھ دیر کے لیے
اس دل کو ہم نے گاؤں کا حجرہ بنا دیا

اک دوسرے کے واسطے ہم کچھ نہ کر سکے
اک دوسرے کو ہم نے ادھورا بنا دیا

جلتا ہوا چراغ اچانک جو بجھ گیا
لوگوں نے سانحے کا بھی قصہ بنا دیا

ٹپکا جو تیری آنکھ سے آنسو مرے لیے
پانی کا ایک قطرہ ستارہ بنا دیا

دیکھا جو اس نے ایک پرندہ فضاؤں میں
کاغذ کو لے کے ہاتھ میں پنجرہ بنا دیا

شدت تھی اس طرح کی تعلق کے درمیان
الفت کے سلسلے کو بھی جھگڑا بنا دیا

 

Posted by | View Post | View Group

You might also like More from author

تبصرے

Loading...