نظم از غزالہ شاہین غزل

سورج بنا دیا کبھی چندا بنا دیا
تو نے مرا وجود تماشا بنا دیا

بہتی ہوئی ہوا کے کنارے پہ بیٹھ کر
ہم نے ترے خیال کا چہرہ بنا دیا

جھڑتا ہے تیرے منہ سے جو پھولوں کا سلسلہ
چن چن کے سارے لفظوں کا گجرا بنا دیا

آؤ کبھی تو سیر کو کچھ دیر کے لیے
اس دل کو ہم نے گاؤں کا حجرہ بنا دیا

اک دوسرے کے واسطے ہم کچھ نہ کر سکے
اک دوسرے کو ہم نے ادھورا بنا دیا

جلتا ہوا چراغ اچانک جو بجھ گیا
لوگوں نے سانحے کا بھی قصہ بنا دیا

ٹپکا جو تیری آنکھ سے آنسو مرے لیے
پانی کا ایک قطرہ ستارہ بنا دیا

دیکھا جو اس نے ایک پرندہ فضاؤں میں
کاغذ کو لے کے ہاتھ میں پنجرہ بنا دیا

شدت تھی اس طرح کی تعلق کے درمیان
الفت کے سلسلے کو بھی جھگڑا بنا دیا

 

Dr. Muhammad Hamidullah
Visit Website of Dr. Muhammad Hamidullah

You might also like More from author

تبصرے

Loading...
Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs agen slot terpercaya dan resmi

slot hoki terpercaya

slot pulsa tanpa potongan