نکاح حضرت ام حبیبہؓ اور قرآن کریم از ابن آدم

ام المومنین حضرت ام حبیبہؓ بنت ابی سفیانؓ السابقون الاولون من المھاجرین میں سے ہیں۔ آپؓ کا اصل نام رملہ تھا۔ رسول الله ﷺ کے پھوپھی زاد بھائی عبید الله بن جحش ان کے پہلے خاوند تھے. نبی کریم ﷺ کی تمام ازواج مطہراتؓ میں پدری شجرے کے اعتبار سے آپؓ ہی رسول اللهﷺ کے سب سے قریب ہیں، کیونکہ حضرت ام حبیبہؓ کا تعلق خاندان بنو امیہ سے تھا۔ نبی کریم ﷺ کا خاندان بنو ہاشم اور بنو امیہ دونوں بنی عبدمناف کا حصہ ہیں۔ حضرت ام حبیبہؓ کے والد حضرت ابو سفیانؓ بن حرب ہیں، جبکہ کاتبان (وحی) حضرت یزیدؓ بن ابی سقیانؓ اور حضرت معاویہؓ بن ابی سفیانؓ آپؓ کے بھائی ہیں۔

۵ نبوی اور اس کے بعد کفار مکہ کے مظالم سے تنگ آکر جن مسلمانوں نے حبشہ کی جانب ہجرت کی ان میں آپؓ بھی شامل تھیں۔ حبشہ جا کر ایک عرصہ بعد آپ بیوہ ہو گئیں. سن ٦ یا ۷ ہجری میں رسول اللہ ﷺ نے آپ کے لئے نکاح کا پیغام بھجوایا جس کے بعد آپ کا نکاح رسول اللہ ﷺ سے حبشہ میں ہی منعقد ہوا اور وہاں سے رخصت ہوکر مدینہ منورہ تشریف لائیں۔ تاریخ اسلام کا یہ واقعہ اتنا معروف ہے کہ شاید ہی کوئی اس سے انکار کر سکا ہے، لیکن اس کے باوجود بھی بعض حلقوں کی طرف سے کوشش ہوئی ہے کہ نکاح کے انعقاد کو ایک نئے رخ پر پیش کرکے نبی کریمؐ اور حضرت ام حبیبہؓ کے تعلق کو دنیا کے سامنے کمزور کرکے پیش کیا جائے اور ان تمام کوششوں کے پیچھے ان حلقوں کی سیاسی ضروریات کام کر رہی تھیں۔

دراصل جزیرۃ العرب میں مسلمانوں کی عملداری رسول اللہ ﷺ ہی کے دور میں قائم ہو گئی تھی، اور بیرون عرب توسیع دور صدیقی، دور فاروقی اور بنو امیہ سے تعلق رکھنے والے خلفاء کے دور میں ہوئی۔ پہلی صدی کے اختتام تک علوی اور عباسی خاندانوں میں خلافت حاصل کرنے کی عملی تحریک کا آغاز ہوچکا تھا، جزیرہ عرب کے مشرقی خطے، عراق اور ایران کے علاقے اس تحریک سے زیادہ متاثر ہوئے۔ سیاسی تحریکوں میں رائے عامہ اپنے حق میں کرنے کے لیے پروپگیںڈا بھی ایک ناگزیر عنصر رہا ہے، لہذا خلفائے وقت کے ساتھ ساتھ خاندان بنو امیہ یا ان کے حلفاء سے تعلق رکھنے والے صحابہ کرامؓ کی بھی کردار کشی کی مہم شروع ہوئی۔ اس مہم میں شامل افراد اگرچہ حضرت ام حبیبہؓ کے رسول اللہ ﷺ سے نکاح کا انکار تو نہ کر سکے، تاہم انھوں نے ان کے نکاح اور ام المومنینؓ ہونے کے رتبے کو دھندلانے کے لئے ایک کہانی وضع کردی۔

عکرمہ بن عمار کا بیان ہے کہ اس نے ابو زمیل سے سنا کہ حضرت عبدللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ مسلمان نہ تو ابو سفیان کی طرف دیکھتے اور نہ اس کے ساتھ بیٹھتے۔ اس نے رسول الله ﷺ سے عرض کیا کہ الله کے نبیؐ مجھے تین چیزیں عطا فرما دیں۔ آپﷺ نے وعدہ فرمایا۔ اس نے کہا کہ میرے پاس عرب کی حسین و جمیل عورت ام حبیبہ بنت ابی سفیان موجود ہے، میں اس کا آپ سے نکاح کرتا ہوں. آپؐ نے فرمایا اچھا ٹھیک ہے۔ اس نے کہا کہ معاویہ کو اپنے ساتھ کاتب مقرر کر لیجیے۔ آپؐ نے اسے بھی قبول فرمایا۔ اور اس نے کہا کہ مجھے امیر بنا دیجیے تاکہ میں کفار سے اسی طرح جنگ کروں جس طرح مسلمانوں سے جنگ کرتا رہا ہوں۔ آپﷺ نے قبول فرمایا۔ (اس کے بعد عکرمہ بن عمار کا کہنا ہے کہ) ابو زمیل کا بیان ہے کہ “نبی کریم ﷺ سے جو بھی سوال کیا جاتا تھا تو آپؐ اسے پورا فرماتے تھے، اگر ابو سفیان یہ سوالات نہ کرتا تو آپﷺ اسے ہرگز یہ چیزیں عطا نہ فرماتے.”

اس روایت کی سیاسی نوعیت بالکل واضح ہے کہ یہ ان پروپیگنڈا روایتوں میں سے ہے جو بنو امیہ کے خلاف عوام کی ذہن سازی کے لئے یمامہ، کوفہ یا خراسان میں وضع ہو رہی تھیں۔ ان روایتوں کے ذریعہ سے یہ بات باور کرائی جا رہی تھی کہ خاندان ابی سفیان/بنو امیہ کو اگر کوئی سعادت حاصل ہوئی ہے تو اس کی واحد وجہ ان کا نبی کریمؐ سے طلب کرنا تھا ورنہ وہ لوگ اس لائق نہ تھے کہ نبی کریمؐ ان کو ان اعزازات سے نوازتے۔ اس روایت کے الفاظ پر اگر غور کیا جائے تو سب سے پہلے تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر وہ کون سے مسلمان تھے جو حضرت ابو سفیانؓ کے ساتھ بیٹھنا تو کجا دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے تھے۔ اہلیان مکہ اس لئے نہیں ہو سکتے کہ وہ تو انہی کے ساتھ مشرف با اسلام ہوئے اور یہ ان کے سردار تھے. اور مدینہ کے مسلمان اس لئے نہیں ہو سکتے کیونکہ حضرت ابو سفیانؓ مدینہ جا کر کبھی بسے ہی نہیں. باقی ان سے منسوب یہ بات کہ انھوں نے امارت اس لئے طلب کی کہ وہ کفار سے بھی اس طرح جنگیں کریں جس طرح انھوں نے مسلمانوں کے خلاف کیں. اس بات میں متعدد سقم ہیں. پہلی بات کہ مکہ والوں کے ساتھ کفر اور اسلام کی حقیقی جنگ ٢ ہجری میں بدر کے مقام پر ہوئی جس میں ان کی عدم شرکت معلوم ہے بلکہ انھوں نے تو ابو جہل کو پیغام بھیجا تھا کہ ہمارا تجارتی قافلہ مدینہ کی حدود سے بحفاظت نکل چکا ہے تو تم لوگ جنگ کے لیے نہ آؤ۔ بدر کی جنگ تو دراصل ابو جہل کی ایما پر ہوئی جس کو رکوانے کی انھوں نے مقدور بھر کوشش کی۔

اس جنگ میں ٧٠ کفار مارے گئے جن میں اکثریت سرداروں کی تھی اور یوں حضرت ابو سفیان مکہ کے بلا شرکت غیرے حکمران بن گئے۔ ٤ ہجری میں بدر ہی کے میدان میں مسلمانوں اور کفار مکہ کا مقابلہ متعین تھا جس میں حضرت ابو سفیان مکے سے کوئی لشکر لے کر بدر نہیں پہنچے اور یوں کوئی جنگ نہ ہوئی۔ ٥ ہجری میں غزوہ خندق کے موقع پر اگرچہ بحثیت سردار قریش دیگر قبائل کے ساتھ ایک بڑی فوج لے کر آئے تاہم اس میں بھی کوئی جنگ نہ ہوئی۔ حضرت ابو سفیان کا مسلمانوں سے اصل مقابلہ ۳ ہجری میں احد کے مقام پر ہوا ہے۔ مکہ والوں کی طرف سے اس جنگ کا بنیادی محرک اسلام کا خاتمہ نہیں بلکہ بدر کی شکست کا بدلہ لینا تھا۔ اگر حضرت ابوسفیانؓ پر نبی کریمؐ کے خلاف جنگوں میں شریک ہونے پر ہی اعتراض لگتا ہے تو پہلی صدی کے اختتام پر بنو امیہ کی حکومت کے خلاف تحریک چلانے والے عباسیوں کے جدامجد حضرت عباسؓ بن عبدالمطلب تو غزوہ بدر میں بھی شامل تھے، اور نجانے صحابہ کرامؓ میں سے کتنے ایسے تھے جو بدر، احد، خندق سبھی میں کفار کے لشکر کا حصہ رہے تھے. آخر حضرت ابو سفیان ہی نے ایسا کیا انوکھا جرم کیا تھا کہ (نامعلوم) مسلمان ان کو دیکھنے کے بھی روادار نہ رہے تھے؟

۷ ہجری میں جب رسول اللہ نے مختلف حکمرانوں کو خطوط ارسال کیے، تو قیصر روم نے اسلامی تحریک سے اگاہی کے لیے انہی کو دربار میں طلب کیا تھا۔ باوجود اس کے کہ آپ غیر مسلم تھے اور سیاسی طور پر مسلمانوں کے مخالف تھے، آپ نےاسلام کے متعلق بالکل ایمانداری اور سچائی سے پوچھے گئے سوالات کے جوابات دیے کہ قیصر کو نبی کریمؐ کے رسول ہونے پر کوئی شک نہ رہا تاہم اپنی سیاسی مجبوریوں کے ہاتھوں اس نے اسلام قبول کرنے سے گریز کیا۔ غزوہ بدر کے بعد جب غصے، نفرت اور انتقام کی آگ سارے مکہ میں پھیلی ہوئی تھی تو انہی کی معاملہ فہمی سے رسول الله ﷺ کی بڑی صاحبزادی حضرت زینبؓ کا اپنے بچوں عبدللہؓ بن ابی العاص اور امامہؓ بنت ابی العاص کے ہمراہ مدینہ ہجرت کرنا ممکن ہوا تھا ورنہ مکہ کے لوگ تو اس پر تیار نہیں تھے۔ اور یہ یاد رہے کہ یہ وہ موقع تھا جب حضرت ابو سفیان کے خاندان کے بھی کئی لوگ بدر میں مارے گئے تھے اور ان کا ایک بیٹا یزید بن ابی سفیان مدینہ میں مسلمانوں کی قید میں تھا۔ اگر یہ چاہتے تو رسول الله ﷺ کی دختر کی ہجرت کو اپنے بیٹے کی رہائی سے مشروط کر سکتے تھے کیونکہ حضرت زینبؓ بنت رسول اللہ ﷺ انہی کے خاندان بنی عبد شمس کی بہو تھیں، لیکن انھوں نے جنگی معملات کو خاندانی معاملات سے الگ رکھا۔

مزید یہ کہ اس روایت کی رو سے تو انھوں نے امارت جہاد کے واسطے طلب کی تھی۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انکو نجران کا عامل مقرر کیا تھا، تو کیا نجران کا عامل بنا دینے سے جہاد کا وہ مقصود حاصل ہوجاتا جس کے لیے انہوں نے امارت طلب کی تھی۔ اگر ازروئے روایت نبی کریمؐ نے انکی جہاد کی خواہش کے احترام میں امیر بنانا قبول کیا تھا، تو وہ مبینہ خواہش تو نجران کا عامل بننے کی صورت میں ہرگز پوری نہیں ہوسکتی تھی۔ باقی اہم ترین سوال یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کیوں ایک ایسے شخص کو محض طلب کرنے پر کوئی عوامی عہدہ عطا کردیں گے، جبکہ وہ اسکا اہل ہی نہ ہو؟ کیا اس طرح نبی کریمؐ کو سفارش قبول کرنے والا باور نہیں کرایا جارہا (نعوز باللہ)؟ یا کیا نبی کریمؐ پر ایک نااہل شخص کے ہاتھ میں ریاست کا نظم و نسق سپرد کرنے کرنے کا الزام نہیں دھرا جارہا (نعوز باللہ)؟ کیا بنو امیہ دشمنی میں اٹھایا گیا یہ پروپگیںڈا خود نبی کریمؐ کی ذات کے اوپر انگلیاں نہیں اٹھا دیتا- کیا یہ تبرا بالواسطہ نبی کریمؐ کی ذات پر بھی نہیں ہے۔ یہاں یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ نبی کریم ﷺ کے دور میں متعین کردہ عاملین کی اکثریت کا تعلق خاندان بنو امیہ سے تھا۔ صرف اسی ایک بات پر غور کر لیا جائے کہ اس تبرے کا الزام نبی کریمؐ کی ذات پر بھی پڑ رہا ہے، کیا اس روایت کے وضعی ہونے کے ثبوت کے لیے کاقی نہیں ہے۔

روایت میں دوسرا نام حضرت امیر معاویہؓ کا آتا ہے۔ کیونکہ حضرت امیر معاویہؓ ان لوگوں میں سے ہیں جو خلیفہ بھی رہے ہیں، مزید یہ کہ جنگ صفین میں بھی انکا ایک فعال کردار تھا، تو یہ تو عراقیوں کے روز اول سے ہی نشانے پر رہے۔ زیر بحث روایت بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ اور یہاں ان کے کاتب (وحی) ہونے کو نشانہ بنایا گیا ہے، اور بیان کرنے کا مقصد ہے کہ یہ صحابی رسول کاتب (وحی) کے منصب کے لائق نہیں تھے بلکہ خاندانی وقار بڑھانے کی خاطر یہ عزت افزائی بھی حضرت ابو سفیانؓ نے رسول اللہ ﷺ سے مانگ کر حاصل کی تھی. یہ روایت بیان کرتے وقت عکرمہ بن عمار کو شاید انہی کے بھائی یزیدؓ بن ابی سفیانؓ کا نام یاد نہیں رہا حالانکہ وہ بھی کاتب وحی تھے۔ اگر ذاتی وقار کے لئے حضرت امیر معاویہؓ کو کاتب (وحی) بنوایا گیا تھا تو یہ اعزاز تو یزیدؓ بن ابی سفیانؓ کی صورت میں حضرت ابو سفیانؓ کو پہلے ہی حاصل تھا۔ تو آخر اس لایعنی مطالبہ کی بنیاد رہ ہی کیا جاتی ہے۔

اب آتے ہیں اصل موضوع کی طرف یعنی حضرت ام حبیبہؓ کا رسول اللہﷺ سے نکاح ہونا۔ اس موضوع پر اگرچہ بہت کچھ لکھا جا چکا ہے، اور ہمارے بڑے بڑے آئمہ اسی بات کے قائل رہے ہیں کہ یہ نکاح حبشہ میں ہی ہوا تھا، لیکن کیونکہ عکرمہ بن عمار کی روایت ایک معتبر کتاب کا حصہ بن گئی ہے، اس لیے لوگوں نے اس کتاب کے احترام میں تاویلات کرنے کی کوششیں کی ہیں، تاکہ حبشہ کے نکاح کا بھی انکار نہ کرنا پڑے اور اس کتاب کی وثاقت پر بھی سوالات نہ اٹھیں- تاہم دور جدید میں دو کتب حدیث کو کتاب اللہ کی مانند محفوظ ماننے والے گروہ میں سے بعض افراد نے اب یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ یہ نکاح حبشہ میں نہیں بلکہ در حقیقت جناب ابو سفیانؓ کی خواہش پر ہی عمل میں آیا تھا، ورنہ نبی کریم ﷺ کا حضرت ام حبیبہؓ سے نکاح کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ بجائے اس کے کہ اس غلط روش کی مذمت کی جاتی، غلو فی الروایت کے مرض میں مبتلا گروہ کے افراد مبارکباد کے شادیانے بجانا شروع کردیتے ہیں کہ ہمارے ایک فرد نے صحیح مسلم کا حق ادا کردیا- اگرچہ سند اور متن کے حوالے سے تو کئی افراد اس روایت پر سوال اٹھا چکے ہیں، تاہم یہاں موضوع یہ ہے کہ قرآن کریم حضرت ام حبیبہؓ کے نبی کریم ﷺ کے ساتھ ہونے والے نکاح کا کیا دور متعین کرتا ہے۔

قرآنی پہلو پر غور کرنے سے پہلے بہتر ہوگا کہ نبی کریم ﷺ کی ازواج کے متعلق یہ معلوم کرلیا جائے کہ وہ تعداد میں کتنی تھیں اور انکے خاندانی پس منظر کیا تھے۔ آپؐ کی گیارہ ازواج میں سے چھ کا تعلق قریش سے تھا، جن میں حضرت ام حبیبہؓ کے علاوہ حضرت خدیجہؓ، سودہؓ، عائشہؓ، حفصہؓ اور ام سلمہ ؓ شامل تھیں۔ جبکہ حضرت زینبؓ بنت خزیمہ، زینبؓ بنت جحش، صفیہؓ، جویریہؓ اور میمونہؓ غیر قریشیہ تھیں۔ ۳ قریشی ازواج حضرت خدیجہؓ، سودہؓ اور عائشہؓ کے متعلق کوئی اختلاف نہیں ہے کہ انکے نکاح مکہ میں ہوچکے تھے۔ دوسری جانب حضرت حفصہؓ، ام سلمہؓ اور زینب بنت خزیمہؓ کے متعلق بھی معلوم ہے کہ انکے نکاح مدینہ کے ابتدائی ادوار میں ہوئے ہیں۔ حضرت صفیہؓ کا نکاح خیبر کی جنگ کے بعد اور حضرت میمونہ کا عمرہ قضاء کے موقع پر ۷ ہجری میں منعقد ہوئے ہیں- جن ازواج کے نکاح کے سن کے بارے میں زیادہ اختلاف اٹھتا ہے، ان میں حضرت ام حبیبہؓ کے ساتھ ساتھ حضرت زینبؓ بنت جحش اور حضرت جویریہؓ شامل ہیں۔

رشتہ کے اعتبار سے نبی کریم ﷺ کی قریب ترین رشتہ دار حضرت زینبؓ بنت جحش ہیں، اور نسبی اعتبار سے قریب ترین رشتہ دار حضرت ام حبیبہؓ بنت ابی سفیانؓ ہیں۔ سورہ احزاب جو کہ غزوہ خندق (۵ ہجری) کے زمانے میں نازل ہوئی، اسکی آیت ۳۷ۨ میں رسول اللہ ﷺ کے حضرت زینبؓ بنت جحش کے ساتھ نکاح کی تصدیق ہوگئی ہے، جوکہ رشتہ میں نبی کریمؐ کی سگی پھوپھی زاد تھیں، تاہم غیر قریشی تھیں۔ ارشاد ہوتا ہے:
“—-پھر جب زیدؓ اس سے اپنی حاجت پوری کر چکا تو ہم نے اس خاتون (زینبؓ بنت جحش) کا تم سے نکاح کر دیا —-(۳۷)

سورہ احزاب کے نزول کے وقت تک حضرت ام حبیبہؓ کو چھوڑ کر نبی کریمؐ کے خاندانِ قریش کی باقی پانچ بیویاں نبی کریمؐ کے نکاح میں آچکی تھیں، جن میں سے حضرت خدیجہؓ کا انتقال بھی ہوچکا تھا۔ آیت ۳۷ میں حضرت زینبؓ بنت جحش کے نکاح کی توثیق کے بعد آگے چل کر سورہ احزاب ہی کی آیت ۵۰ میں ارشاد ہوا کہ:
“اے نبیؐ، ہم نے تمہارے لیے حلال کر دیں تمہاری وہ بیویاں جن کے مہر تم نے ادا کیے ہیں، اور وہ عورتیں جو اللہ کی عطا کردہ لونڈیوں میں سے تمہاری ملکیت میں آئیں، اور تمہاری وہ چچا زاد اور پھوپھی زاد اور ماموں زاد اور خالہ زاد بہنیں جنہوں نے تمہارے ساتھ ہجرت کی ہے، اور وہ مومن عورت جس نے اپنے آپ کو نبیؐ کے لیے ہبہ کیا ہو اگر نبیؐ اسے نکاح میں لینا چاہے یہ رعایت خالصۃً تمہارے لیے ہے، دوسرے مومنوں کے لیے نہیں ہے۔۔۔۔۔۔(۵۰)”

اس آیت پر غور کیا جائے تو مستقبل مین نکاحوں کے لیے رسول اللہ کے واسطے ۳ کلیوں کی تحدید کردی گئی ہے۔
۱) وہ عورتیں جو اللہ کی طرف سے لونڈی کی صورت میں رسول اللہ ﷺ کو عطا ہوئی ہوں۔
۱) رسول اللہ ﷺ کی ددھیالی اور ننھیالی رشتہ دار بشرط یہ کہ مہاجرہ ہوں۔
۳) وہ خاتون جو خود اپنے آپ کو ھبہ کردے اور اگر رسول اللہ ﷺ بھی قبول کرلیں۔

ان تین کلیوں کے باہر سے رسول اللہ اب کوئی نکاح نہیں کرسکتے تھے۔ جس وقت سورہ احزاب نازل ہونا شروع ہوئی، حضرت سودہؓ، عائشہؓ، حفصہؓ اور ام سلمہؓ بحیثیت بیویاں موجود تھیں۔ آیت ۳۷ کے آتے آتے حضرت زینبؓ بنت جحش جو کہ سگی پھوپھی زاد بہن بھی تھیں، وہ بھی نکاح میں آگئی تھیں۔ غزوہ احزاب (۵ ہجری) کے بعد جب غزوہ مریسیع (٦ ہجری) ہوا، تو حضرت جویریہؓ سے رسول اللہ ﷺ کا نکاح ہوا اور جب غزوہ خیبر (۷ ہجری) ہوا تو حضرت صفیہؓ سے نکاح ہوا۔ یہ دونوں نکاح سورہ احزاب کی آیت ۵۰ میں مستقبل کے نکاحوں کے لیے بیان کردہ پہلے کلیے کے تحت ہوئے۔ عمرہ قضاء (۷ ہجری) کے موقع پر حضرت میمونہؓ سے نکاح ہوا جو کہ آیت ۵۰ میں بیان کردہ تیسرے کلیے کے تحت ہوا۔

سوال یہ ہے کہ حضرت ام حبیبہؓ سے اگر رسول الله ﷺ کا نکاح ٨ ہجری میں فتح مکہ کے بعد ہوا تو سوره احزاب (۵ ہجری) کی آیت ۵۰ میں بیان کردہ کس کلیہ کے تحت ہوا، حضرت ام حبیبہؓ کسی جنگ میں لونڈی بن کر نہیں آئی تھیں، تو یہ نکاح پہلے کلیے کے تحت تو نہیں ہو سکتا تھا۔ باقی زیر بحث روایت خود بتا رہی ہے کہ ام المومنینؓ نے تو اپنے آپ کو ہبہ نہیں کیا بلکہ حضرت ابو سفیانؓ رشتہ لے کر آئے لہٰذا تیسرے کلیے کے تحت بھی یہ نکاح نہیں ہو سکتا تھا. حضرت ام حبیبہؓ کے لئے صرف ایک ہی کلیہ کے تحت نکاح کی گنجائش باقی رہ جاتی تھی اور وہ تھا کلیہ ٢۔ حضرت ام حبیبہؓ رسول الله ﷺ کی قریبی ددھیالی رشتہ دار تھیں اس لحاظ سے آپؓ کا نکاح اس کلیہ کے تحت ہو سکتا تھا. اگر صحیح مسلم کی زیر بحث روایت کو درست مانا جائے، تو حضرت ام حبیبہؓ مکہ میں اپنے نو مسلم والد کے ساتھ کیا کر رہی تھیں، اسکی دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں کہ حبشہ سے واپس مکہ چلی گئی ہوں، یا پھر سرے سے ہجرت ہی نہ کی ہو۔ اگر تو ہجرت کی ہی نہیں تو نبی کریم ﷺ کا انؓ کے ساتھ نکاح جائز تھا ہی نہیں، کیونکہ آیت ۵۰ کے کلیہ کے تحت تو رشتہ دار خاتون کا مہاجر ہونا بھی ضروری تھا۔ لہذا یہ تو لازم ہے کہ وہ مہاجرہ تھیں۔ اور اسکا امکان یوں نکل سکتا ہے کہ وہ حبشہ سے مکہ واپس لوٹ گئی ہوں- اس صورت میں وہ مہاجرہ تو قرار پاتی ہیں لیکن سورہ سورہ نساء کی آیت ۸۹ جس میں ہجرت کا لازم حکم آچکا تھا، اسکی خلاف ورزی کی مرتکب ہو کر منافقہ ٹھہرتی ہیں۔ لہذا اس چیز کا بھی امکان نہیں ہے کہ وہ حبشہ سے مکہ واپس لوٹی ہوں۔ ام المومنینؓ کے لیے حبشہ میں دو ہی امکانات تھے، یا تو وہیں رہتی رہتیں، یا پھر مدینہ چلی جاتیں۔ سورہ نساء سے ثابت ہوتا ہے کہ ام المومنین کے لیے مکہ واپسی کی کوئی گنجائش تھی ہی نہیں، لہذا فتح مکہ کے بعد حضرت ابو سفیانؓ کے لیے یہ بولنے کا موقع بنتا ہی نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ میری بیٹی ام حبیبہ سے نکاح کرلیں۔ گویا ثابت ہوا کہ حضرت ام حبیبہؓ کا نکاح ٦ یا ۷ ہجری میں حبشہ ہی میں منعقد ہوا تھا۔

روایت پرستوں نے عکرمہ بن عمار، فضل بن وکین اور اسی قبیلہ کے دوسرے راویوں کی روایات کے بچاؤ کے لیے یہ حل نکالا کہ بیشک سورۃ احزاب ۵ ہجری مین نازل ہوئی ہو، لیکن آیت ۵۰ کا یہ حصہ لازماً ۸ ہجری کے بعد نازل ہوا ہوگا، تاکہ عکرمہ کی روایت کا کسی طرح دفاع ہو سکے۔ بجائے اس کے کہ قران فرقان سے ان تبرائی راویوں کی روایات کو پرکھا جاتا، ان کی روایات کے اعزاز میں قران کی ہی چیر پھاڑ کردی گئی۔ محض عکرمہ ہی کی روایت اس سلسلے کی اکلوتی روایت نہیں ہے، امویوں کے سیاسی مخالف علویوں نے یہ بھی دعوی کیا کہ اگر امویوں کی پھوپھی نبی کریمؐ کے نکاح میں آئی ہے، تو ہماری پھوپھی (ام ہانیؓ بنت ابی طالب) کا رشتہ بھی رسول اللہ ﷺ نے دیا تھا، جو کہ انہوںؓ نے مسترد کردیا تھا۔ یاد رہے کہ حضرت ام ہانیؓ نے فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا تھا اور وہ مہاجرہ نہیں تھیں، اور ازروئے قران نبی کریمﷺ انکو رشتہ بھیج ہی نہیں سکتے تھے۔ دوسری جانب عباسیوں نے بھی اپنی پھوپھی کے لیے دعوی کردیا کہ رسول اللہ نے ان کو دیکھ کر اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ اگر اس کی عمر تھوڑی زیادہ ہوتی تو میں اس سے شادی کرلیتا۔ گویا اپنے سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لیے نعوذ باللہ نبی کریمؐ پر یہ الزام لگادیا کہ وہ ایک نابالغ لڑکی کو شادی کی نظر سے دیکھ رہے تھے۔ انہی روایات کی بناء پر مستشرقیں رسول اللہ ﷺ کی ذات پر انگلیاں اٹھاتے ہیں، اور بہت سے مسلمان الحاد کے راستہ پر چل پڑتے ہیں۔ یہاں بھی واضح رہے کہ حضرت عباسؓ بھی مہاجر صحابی نہیں ہیں لہذا انکی بیٹی کے رشتہ کے لیے۹ یا ۱۰ہجری میں یہ نام نہاد مکالمہ ازروئے قران ممکن ہی نہیں ہے۔

اس ساری بحث سے جہاں ازروئے قران یہ ثابت ہوا کہ حضرت ام حبیبہؓ کا نکاح قرآن کریم کی روشنی میں حبشہ میں ہی ہوا ہے اور عکرمہ بن عمار کی یہ روایت ایک وضعی روایت ہے، وہیں دوسری جانب یہ بھی ثابت ہوا کہ اگر قران کریم کی آیات کو ان کے نظم کے مطابق پڑھا جائے، تو وہ کس طرح مختلف روایات پر فرقان ثابت ہوتی ہیں۔

 
Dr. Muhammad Hamidullah
Visit Website of Dr. Muhammad Hamidullah
ماخذ فیس بک

You might also like More from author

تبصرے

Loading...