کرونا وائرس اور باجماعت نماز __ڈاکٹر طفیل ہاشمی

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلامی ریاست میں پنج وقتہ اذان، مساجد کا وجود اور ان میں باجماعت نماز اسلامی شعائر میں سے ہے. ان کی تحقیر یا بے ادبی کسی صورت قابل قبول نہیں ہے. دنیا بھر میں کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے یہ مسئلہ پیدا ہو گیا کہ اس متعدی وبا کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ افراد میں سماجی فاصلہ پیدا کیا جائے. دو افراد ایک دوسرے سے کم ازکم تین فٹ کے فاصلے پر رہیں اگرچہ اس کا فوری شکار عمر رسیدہ افراد یا پہلے سے کسی عارضے مثلا قلبی امراض، شوگر یا سانس کی تکلیف والے ہوتے ہیں لیکن صحت مند جوان بھی متاثر ہو جاتے ہیں اور کیریئر بن کر آگے بوڑھوں یا کمزور صحت افراد میں بیماری منتقل کر سکتے ہیں.
حالات کے اسی تناظر میں سعودی عرب نے سارے ملک کی مساجد میں حتی کہ بیت اللہ اور مسجد نبوی میں بھی باجماعت نمازوں پر پابندی عائد کردی. مصر کی جامعہ ازھر نے بھی یہی فتوی دیا اور دیگر بیشتر اسلامی ممالک نے بھی اسی پر عمل کیا.
البتہ
پاکستان میں فقہاء اور مفتیان کرام میں اختلاف رائے پیدا ہوگیا ان کے فتاوی میں بتدریج ارتقاء ہوتے ہوئے آخر میں اس پر نیم دلانہ اتفاق ہوا کہ حکومت جو فیصلہ کرے اسے قبول کیا جائے،
تاہم
مساجد میں پانچ وقت اذان ہو اور مساجد میں موجود تین سے پانچ تک افراد باجماعت نماز ادا کریں جمعہ کی با جماعت نماز کے بجائے لوگ گھروں میں ظہر کی نماز پڑھیں.
اس فیصلے کے باوجود بعض مفتیان کرام کا اصرار ہے کہ باجماعت نمازیں حسب معمول جاری رکھی جائیں.
اس نوع کے فقہی اختلافات ہر دور میں رہے اور فقہ اسلامی میں توسع کی علامت ہیں. بدقسمتی سے اس مسئلے میں دو ایسے فریق آمنے سامنے آ گئے جن میں سے ایک باجماعت نمازوں کو بالکلیہ موخر کرنے کا موقف رکھتا ہے اور دوسرا حسب معمول جاری رکھنا چاہتا ہے دونوں فریق اپنے اپنے دلائل دیتے ہیں.
ہم نے جب اس مسئلے پر غور کیا تو سورہ النساء کی آیت نمبر 103 اس سلسلے کی واضح ترین الوہی ہدایت کے طور پر ہمارے سامنے آئی. یہ آیت صلاۃ خوف سے متعلق ہے، ایک فریق اس آیت سے استدلال کرتا ہے کہ حالت جنگ میں جب دشمن سامنے کھڑا ہو تب بھی جماعت ترک نہیں کی جا سکتی. جب ہم اس آیت کے الفاظ و تراکیب پر غور کرتے ہیں تو یہ استدلال بوجوہ کمزور نظر آتا ہے.. آیت میں دو امور پر ارتکاز ہے.
1_اگر ہنگامی حالات میں پورے پروٹوکول کے ساتھ نماز پڑھنا ممکن نہ ہو تو بھی نماز با جماعت ترک کرنا درست نہیں ہے.
2_جب ہنگامی حالت میں کسی مختلف انداز میں نماز ادا کرنا پڑ جائے تو بھی احتیاطی تدابیر اور نمازیوں نیز دیگر مسلمانوں کا تحفظ بہر طور کیا جائے.
اس آیت میں کچھ الفاظ ایسے ہیں جنہیں ان کی واقعی اہمیت دینے کی ضرورت ہے :
آیت کے الفاظ یہ ہیں :
اذا کنت فیھم فاقمت لھم الصلوۃ (جب آپ ان میں موجود ہوں اور انہیں نماز پڑھانا چاہیں) اگرچہ آپ کے وصال کے بعد صلاة خوف کا حکم منسوخ نہیں ہوا لیکن اس کی وہ اہمیت اس لئے نہیں رہی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں آیت لاتقدموا بین یدی اللہ و رسولہ کا تقاضا یہ تھا کوئی دوسرا آپ کا امام نہ ہو لیکن جب آپ خود موجود نہ ہوں تو ایسی پابندی نہیں ہے کہ ایک ہی امام کے پیچھے لوگ نماز پڑھیں دو یا متعدد الگ الگ جماعتیں بھی کروائی جا سکتی ہیں نیز آپ کسی وجہ سے امامت نہ کروا سکیں تو سنت میں اس کی گنجائش ہے. غزوہ خندق کے موقع پر آپ نے صلاۃ خوف نہیں پڑھائی بلکہ دن میں قضاء ہونے والی تینوں نمازیں رات عشاء کے ساتھ اکٹھی پڑھی گئیں سفر کے دوران ایک موقع پر آپ نے عبدالرحمن بن عوف اور مرض وصال میں حضرت ابوبکر صدیق کے پیچھے نماز ادا کی.
اس آیت کا تعلق مسجد میں نماز سے نہیں ہے کیوں کہ حالت جنگ میں، اسفار میں ہر پڑاؤ پر مسجد نہیں بنائی جاتی تھی.
آیت میں اس امر کا ذکر ہے کہ بارش یا بیماری کا سامنا ہو تو حفاظتی اقدام میں کوتاہی نہ کرو.
جب ہنگامی حالت ختم ہوجائے جس کی وجہ سے حفاظتی اقدام کے باعث معمول کی نماز نہیں پڑھی جا رہی تھی تو قرآن کہتا ہے فإذا اطمئننتم فاقیموا الصلوۃ جب تم بے خوف ہو جاؤ تو معمول کی نماز قائم کرو جس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے پڑھی جانے والی نمازیں حفاظتی اقدامات کی نمازیں تھیں جو معمول سے ہٹ کر تھیں.
سورہ النساء کی آیت نمبر 103 اور اس ضمن کی تمام احادیث کو سامنے رکھتے ہوئے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ حفاظتی اقدامات کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نماز ادا کرتے رہو. کھڑے، بیٹھے اور لیٹے اللہ کی یاد سے غافل نہ رہو اور جب ہنگامی حالت ختم ہو جائے تو متعین اوقات کی باجماعت نماز طرف لوٹ آؤ.
طفیل ہاشمی

You might also like More from author

تبصرے

Loading...