کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے باجماعت نماز محدود یا منسوخ کی جا سکتی ہے تحریر: محمد امین اکبر

کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کے باعث  دنیا بھر کی حکومتوں نے مذہبی اجتماعات پر بھی  پابندی لگا دی ہے۔ سعودی حکومت نے  مسجد الحرام اور مسجد نبوی سمیت  تمام مساجد بند کر دی ہیں۔دوسرے بہت سے خلیجی ممالک نے بھی  مساجد میں نماز پڑھنے  اور دیگر اجتماعات پر پابندی عائد کر دی ہے۔اُن ممالک میں چونکہ تمام مساجد حکومت کے کنٹرول میں ہیں اس لیے  حکومت کے ایک بار  کہنے پر ہی  سب نے بغیر کسی حیل و حجت کے تمام مساجد بند کر دی  ہیں۔اس وقت مسئلہ پاکستان میں پیش آ رہا ہے ۔  پاکستان میں اس وقت سب سے بڑا مسئلہ لوگوں کو اجتماعات سے روکنا ہے تاکہ اس وائرس کے پھیلاؤ کو کسی طرح روکا جا سکے۔حکومت اس  کے لیے دفعہ 144 بھی نافذ کر چکی ہے۔ لوگوں کے اجتماع کو روکنے کے لیے تقریباً تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام اپنی مساجد میں باجماعت نماز کو ترک کرنے کو تیار نہیں۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس وقت جو حالات ہیں وہ عام حالات نہیں بلکہ  کورونا وائرس کی وبا کے باعث ہنگامی حالات ہیں۔ یہ تو سب ہی جانتے ہیں کہ قران  کریم میں بیان کیے گئے اللہ تعالیٰ  کے احکام عام حالات کے لیے الگ اور  ہنگامی حالات کے لیے مختلف ہوتے  ہیں۔

علمائے کرام کا سب سے بڑا اعتراض ہے کہ  باجماعت نماز فرض ہے  اور فرض کو چھوڑا نہیں جا سکتا، اس کے علاوہ مسجدوں کو آباد کرنے کا حکم ہے اس لیے بھی باجماعت نماز چھوڑی نہیں جا سکتی۔اگر عام حالات ہوں تو علمائے کرام کی یہ  بات  بالکل درست ہے لیکن اس وقت عام حالات نہیں ہیں۔ جب ہنگامی حالات ہوں تو اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق  اسلام کا ہر فرض چھوڑا جا سکتا ہے۔ فرضیت میں نماز کا نمبر تو بعد میں آتا ہے ۔ اسلام میں جو فرض سب سے زیادہ اہم ہے وہ  اللہ پر ایمان ہے لیکن  ہنگامی حالات میں اس بنیادی عقیدے کے معاملے میں اللہ تعالیٰ نے کافی چھوٹ دی ہے۔ہنگامی حالات جیسے جان بچانے کے لیے اگر کسی صاحب ایمان کو کلمہ کفر بھی کہنا پڑے تو اللہ تعالیٰ کے ہاں پکڑ نہیں ہے۔جس کا ثبوت قران کریم کی یہ آیت ہے۔

”جو شخص ایمان لانے کے بعد خدا کے ساتھ کفر کرے وہ نہیں جو (کفر پر زبردستی) مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن ہو۔ بلکہ وہ جو (دل سے اور) دل کھول کر کفر کرے۔ تو ایسوں پر الله کا غضب ہے۔ اور ان کو بڑا سخت عذاب ہوگا  “ (سورہ النحل 16 ، آیت 106)

روزہ  بھی صرف صحت مند شخص پر فرض ہے۔بیمار شخص رمضان کے روزے چھوڑ کر   اپنی تندرستی کے عرصے میں مکمل کرسکتا ہے ۔ حج اور زکواۃ تو فرض ہی صرف صاحب حیثیت لوگوں پر کی گئی ہے۔ جہاد کے  حوالے سے  بھی اللہ تعالیٰ نے طاقت اور کمزوری کے  حالات  کو پیش نظر رکھتے ہوئے مسلمانوں کو چھوٹ دی ہے۔جیسا کہ اس آیت میں فرمایا۔

”اے نبی! مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دو۔ اور اگر تم بیس آدمی ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو دو سو کافروں پر غالب رہیں گے۔ اور اگر سو (ایسے) ہوں گے تو ہزار پر غالب رہیں گے۔ اس لیے کہ کافر ایسے لوگ ہیں کہ کچھ بھی سمجھ نہیں رکھتے“ (سورہ الانفال 8 ، آیت 65)

حلال و حرام کھانے کے معاملے میں بھی اللہ تعالیٰ نے قران میں چار با ر کہا ہے کہ انسان مجبوری  کے عالم میں سور کا گوشت، خون، مردار اور غیر اللہ کے نام پر پکا کھانا بھی کھا لے تو پکڑ نہیں ہوگی۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے نماز میں بھی چھوٹ دی ہے۔وضو کرنے کے لیے پانی نہ ہو تو  مٹی سے تیمم کیا جا سکتا ہے۔بیمار افراد نماز کو بیٹھ  کر، لیٹ کر یا اشاروں سے پڑھ سکتے ہیں۔ سفر میں نماز کو چلتے ہوئے یا سواری پر بھی پڑھا جا سکتا ہے، اسے  جمع  یا قصر کیا جا سکتا ہے۔قران کریم کے مطابق مسلمان سفر  میں خاص طور پر دشمن کے علاقے میں  نماز میں کمی کر سکتے ہیں۔

”اور جب تم سفر کو جاؤ تو تم پر کچھ گناہ نہیں کہ نماز کو کم کرکے پڑھو بشرطیکہ تم کو خوف ہو کہ کافر لوگ تم کو ایذا دیں گے بےشک کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں“(سورۃ النساء 4، آیت 101)

نبی کریم ﷺ   بھی کئی بار  معمولی وجوہات  جیسے بارش میں اذان کے ساتھ کہلوا دیتے تھے کہ  لوگ نمازاپنے مقام پر یعنی گھروں میں ہی  ادا کریں۔علماء فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس وقت جب  ظاہری دشمن سامنے  موجود ہو  تو آدھے لوگوں کو  پہرہ دینے اور بقیہ لوگوں کو باجماعت نماز کا حکم دیا ہے۔ جیسا کہ اس آیت میں بیان فرمایا ہے

” اور (اے پیغمبر) جب تم ان (مجاہدین کے لشکر) میں ہو اور ان کو نماز پڑھانے لگو تو چاہیئے کہ ان کی ایک جماعت تمہارے ساتھ مسلح ہو کر کھڑی رہے جب وہ سجدہ کرچکیں تو پرے ہو جائیں پھر دوسری جماعت جس نے نماز نہیں پڑھی (ان کی جگہ) آئے اور ہوشیار اور مسلح ہو کر تمہارے ساتھ نماز ادا کرے کافر اس گھات میں ہیں کہ تم ذرا اپنے ہتھیاروں اور سامان سے غافل ہو جاؤ تو تم پر یکبارگی حملہ کردیں اگر تم بارش کے سبب تکلیف میں یا بیمار ہو تو تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ہتھیار اتار رکھو مگر ہوشیار ضرور رہنا خدا نے کافروں کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے “ (سورہ النسا 4 ، آیت 102)

 اس پر عرض ہے کہ یہ حکم  صرف اس وقت تک کے لیے ہے جب تک جنگ شروع نہیں ہوتی۔ جب جنگ شروع ہو  جاتی ہے تو پھر  سب  مل کر  ہی دشمن  کامقابلہ کرتے ہیں۔کچھ ایسی ہی جنگ ہماری کورونا وائرس  کے خلاف بھی شروع ہو چکی ہے۔ جسے جیتنے کے لیے  فی الحال ہمارے پاس واحد حل سماجی فاصلہ رکھنا ہے۔

کورونا وائرس کے خلاف اس جنگ میں  نماز  کی ادائیگی کے حوالے سے ہماری خوش قسمتی یہ ہے کہ ہم اب بھی تمام نمازیں پڑھ سکتے ہیں ۔ تاہم   باجماعت نماز کے لیے ہمارا طریقہ کار تھوڑا مختلف ہونا چاہیے تاکہ انجانے میں اس وائرس سے نہ تو ہم متاثر ہوں  اور نہ ہی دوسروں کو متاثر کریں۔ کیونکہ اس وقت کورونا وائرس کے جو تصدیق شدہ مریض سامنے آئے ہیں، اُن میں سے بہت سے لوگ مساجد میں  اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔

کورونا وائرس کے بارے میں یہ تو سب کو معلوم ہے کہ اس کی علامات کئی دن بعد ظاہر ہوتی ہے اور اس وقت تک متاثرہ مریض بہت سے دوسرے لوگوں کو بھی انجانے میں متاثر کر چکا ہوتا  ہے۔ ایسی صورتحال سے بچنے کے لیے  پہلے سے مخصوص لوگوں کو ہی  مسجد میں ایک دوسرے سے کافی فاصلے پر کھڑے ہو کر  باجماعت نماز  ادا کرنی چاہیے ۔اس کے علاوہ  جس طرح اعتکاف میں چند لوگ مسجد کو دن رات آباد رکھتے ہیں، اسی طرح آج  کل بھی چند لوگوں کو مسجد میں اعتکاف میں بیٹھنا چاہیے۔ یہ معتکف مساجد میں ذکر  اذکار بھی کریں اور باجماعت نماز کا اہتمام بھی کریں۔ اس طرح مساجد بھی آباد رہیں گی اور بیماری کے پھیلنے کا خدشہ بھی کم ہو جائے گا۔ اس وبائی مرض کے پھیلاؤ کے دنوں میں ہمارے علماء کو لوگوں کو گھروںمیں  باجماعت نماز ادا کرنے کی  حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ اس طرح ایک محلے میں جہاں ایک جگہ یعنی مسجد میں  با جماعت نماز ہو سکتی ہے، اب ہر گھر میں ہو سکے گی۔

کہنے کو تو  ہمارے علمائے کرام انسانی جان کی حرمت کو کعبے سے زیادہ خیال کرتے ہیں اب جبکہ کروڑوں پاکستانی خطرے سے دوچار ہیں، علمائے کرام مساجد  میں باجماعت نماز کو ختم کرنے یا محدود کرنے پر بھی تیار  نہیں۔ایک طرف تو کہا جاتا ہے کہ دین میں آسانی ہے لیکن اس قدر آسان مسئلے کو پہاڑ بنا دیا گیا ہے۔ علمائے کرام کو سمجھنا چاہیے کہ جو لوگ بھی آپ کو نمازوں کی ادائیگی گھر میں  کرنے کاکہہ رہے ہیں وہ بھی سب مسلمان اور صاحب ایمان ہیں۔ یاد  رہے کہ باجماعت  نماز کی ادائیگی حقوق اللہ ہے جبکہ عوام کی جان کو بچانا حقوق العباد میں شامل ہیں۔ اگر آپ باجماعت نماز کو محدود یا منسوخ  کرتے  ہیں تو یہ لوگوں کی خدمت ہو گی، جس سے اللہ تعالیٰ خوش ہوگا۔

You might also like More from author

تبصرے

Loading...