کھوۓ ہوۓ کی جستجو ! از آصف حسین

کھوۓ ہوۓ کی جستجو !

سوال : کیا اسلام میں خلافت ، اور بادشاہت کی بحث ایک فضول بحث ہے ؟

سید مودودی رحمہ کی کتاب پر تنقید کرنے والی ایک بڑی علمی شخصیت کے اعتراضات کا مرحلہ وار جائزہ کھوۓ ہوۓ کی جستجو کے عنوان سے پیش کیا جا رہا ہے ، ویسے تو ان دوستوں کی کل کاوش کا منبہ و مصدر کچھ سکالرز کی کتب ہیں اور اس لیے انکا بیانیہ بھی ایک جیسا ہی ہے ، اس لیے علیحدہ علیحدہ سب کا نام لکھ کر جواب دینے کی بجاۓ انکے سوالات کو زیر بحث لانے کی کوشش کی جا رہی ہے ، زیر بحث مضمون میں مرحلہ وار حافظ محمد زبیر صاحب کی کتاب ،” مکالمہ ” کے ایک حصہ پر تبصرہ شامل کیا جا رہا ہے ،
مضمون آپ سب کی نظر
خلافت و ملوکیت کتاب کو رد کرنے کے لیۓ حافظ صاحب نے انبیاء سے بادشاہت کو اسلام میں داخل کرنے کی دلیل دی ہے ، ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں ” مودودی صاحب نے فرمایا میں نے یہ کتاب لکھ کر امت کی ایک بڑی ضرورت پوری کر دی ہے ، اب انہوں نے کون سی ضرورت پوری کی ہے اس کتاب سے پہلے خلافت و ملوکیت کا ایشو ہی کہاں تھا ؟
فرماتے ہیں ہم بھی اسی معاشرے میں موجود تھے ہمیں نہیں پتہ کہ ایشو کتنا ڈسکس ہوتا ہے ، اور اسے لکھنے کی کتنی ضرورت تھی اس کتاب کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دینا چاہیے بالکل فضول کتاب ہے ”

1: جبکہ حقیقت یہ ہے کہ محمود احمد عباسی صاحب کی کتاب خلافت معاویہ و یذید رحمت اللہ علیہ اسی عہد میں لکھی گئ تھی ، دوسرا ہمارے ہاں شیعت کئ صدیوں سے اس ایشو پر سراپا احتجاج و گریبان چاک کیۓ ہر چوک چوراہے میں کھڑی نظر آتی ہے ، ہماری سڑکیں چوک چوراہے ، انکے اس ایشو پر جلوسوں پر شاید ڈاکٹر صاحب کی نظر نہیں پڑی ، اوراسی ایشو پر گفتگو کرتے ہوۓ وہ اپنی مجالس میں اس ایشو کو پھیلا کر کیسے کیسے پھول بکھیرتے ہیں ڈاکٹر صاحب کی نظر نہیں رہی شاید ان معاملات پر ؟

کیا اس وردات پر ایک مفکر اور بڑا آدمی چپ رہتا یا رہ سکتا تھا ؟

2 : کہ جب استعمار سے جان چھوٹنے کے بعد ساری امت کے تمام ممالک میں جگہ جگہ فوجی آمریتوں کے نۓ ” جن ” نے ان سے انکا حق راۓ چھین لیا تھا ؟ پھر اسی کتاب کے لکھے جانے کے عہد میں فوجی ڈکٹیٹر اپنے آپ کو امت کا صلاح الدین ایوبی سمجھ کر انکے اپنے مشورے سے اور راۓ سے حکمران چننے کے حق و استحقاق پر شب خون مارنے کو ایک سنت بنا چکے تھے اور درباری ملا انہیں ڈکٹیٹر شپ حلال کرکے دے رہے تھے ، مصر سے لے کر لیبیا عراق شام انڈونیشیاء جہاں تک نظر پہنچتی تھی ایک جدید اسلوب کی آمریت استعمار ہمارے جسم پر مسلط کرکے چلتا بنا تھا ، اب بتائیں اس عفریت کو سند جواز اور نظام ربوبیت گھڑ کر دی جا رہی ہو تو کیا پھر امت کی راہ اعتدال واضع کرنا ایک مفکر اور نباض کا کام نہیں ہوتا محترم ؟

3: جو سارا سال اور بخصوص محرم کے دنوں میں جو شام غریباں بپا کی جاتی ہے ، اور بڑے لمبے چوڑے قصے کہانیاں رطب بااللسان ہوتے ہیں کس نے نہیں دیکھے کیسے چرب زبانی سے خلافت کی جگہ امامت کا تصور پھیلایا جاتا ہے ، اور اسکے مقابلے میں دوسری انتہاء ایسی ہے کہ سرا سر عہد ملوکیت کو جائز بلکہ عین حق قرار دے دیا جاتا ہے ،

دوسرا ذرا تاریخ کھنگال کر دیکھ لیجیے کہ
ڈاکٹر صاحب یہ ایشو تو خود سیدنا فاروق اعظم نے اپنے جانشین چننے پر ہی محسوس کر لیا تھا کہ کیسے اسلام کو قیصریت بننے سے بچانے کے لیۓ شخصی نامزدگی کو بظاہر انتہائ خوش کن ہونے کے باوجود رد کر دیا ،
انہیں انکے سگے بیٹے نے اور بعض صحابہ نے ان سے کہا کہ اپنے بعد کسی کو اپنا جانشین خلیفہ نامزد کر جائیں ، جس پر سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ جواب دیتے تھے کہ کیا قیامت کے دن میں اپنا حساب بھی دوں اور جسے امت پر مسلط کرکے جاؤں اسکے اعمال کا بھی حساب مجھے دینا پڑے ،
مودودی صاحب کو یہ موضوع اس لیے بھی درپیش تھا کہ کہ انکے عہد میں ما بعد جدیت مغربی استعمار ، دو بڑے نظام دنیا پر مسلط کیے جا رہے تھے ایک مغرب کا سرمایہ درانہ نظام دوسرا اشتراکیت ،

اب ایک مفکر کے سامنے یہ مسئلہ درپیش تھا کہ وہ یا تو انکے سامنے اپنے ولید سلمان اور مروان یا بنو عباس والوں کی اختلاف پر گردنیں اتارنے والا سسٹم دنیا کو دکھاتا ، کہ یہ ہے ، اسلام کا وہ نظام جو آپ کے جدید نظام کو ٹکر دے سکتا ہے ، حجاج بن یوسف یا یذید صاحب کو پیش کیا جاتا یا پھر سیدنا عمر بن عبدالعزیز اور خلفاۓ راشدین کو اور انکے دور کو سند جواز اور اسلام کا اصل چہرہ بنا کر پیش کیا جاتا ، آپ تو اس چیز کو سند جواز عطاء فرما رہے ہیں جسے خود بنو امیہ میں حضرت یذید رحمت اللہ علیہ کے نامزد کردہ فرزند معاویہ بن یذید رحمت اللہ علیہ نے بھی سند جواز دینے سے صاف انکار فرما دیا تھا ، اور کہیں کسی کونے میں بیٹھے بیٹھے جان دے دی ، پھر انکے بعد بنو امیہ سے ہی خلیفہ کی نامزدگی کی سند پانے والے ضحاک بن قیس بھی اسے سند جواز عطا فرمانے سے منکر دکھائ دیے بہت کم افراد جانتے ہیں کہ یہ بزرگ بھی اپنے آپ کو خلیفہ کے عہدے کا اہل جاننے کی بجاۓ ، سیدنا عبداللہ بن زبیر کے حق میں راۓ عامہ ہموار کرتے پاۓ گۓ اور بالآخر اسی ایشو پر ، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے حق میں کمپئین کرتے ہوۓ اپنے ہی خاندان کے ہاتھوں شہید ہو گۓ تھے ، یہ وہی سبق تھا جسے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سقیفہ بنی ساعدہ میں خلافت کی بحث پر یہ کہتے ہوۓ سمجھایا کہ ، جب ابو بکر رضی اللہ عنہ نے میرے اور ابو عبیدہ بن جراح کے ہاتھ پر بیعت کرنے کا مشورہ دیا تو مجھے اتنا ناگوار گزرا کہ شاید کوئ میری گردن مار دیتا تو اس سے اچھا ہوتا کہ ابو بکر موجود ہوں اور لوگ میری بیعت خلافت کرنے کا کہیں ، البخاری 6830

یہ تھا وہ اسلام کا نظام تربیت جہاں اپنے سے بہترین شخص کو ہی ذمہ دار بناۓ جانے کا تصور دیا گیا تھا ، حضرت یذید کے عہد میں کتنے ہی بڑے بڑے نام تھے ، لیکن قرعہ فال یذید صاحب کے نام ہی نکلا اور انہوں نے جاتے ہوۓ اپنے بیٹے کے نام یہ جاگیر ٹرانسفر کر دی ،

مودودی صاحب اور ڈاکٹر محمد اقبال صاحب کے عہد میں

مروجہ روایتی مذہبیت سوئ ہوئ تھی اور انکے ہاں اسلام بطور نظام کے دنیا کے سامنے پیش کرنا کوئ ایشو ہی نہیں تھا مغرب کے سامنے اور نا ہی ہماری اپنی نوجوان نسل جو انکی جدید مغربی تعلیم سے ہی مستفید ہو کر ان سے مرعوب ہو رہی تھی یہ سب جدید مغربی تعلیم یافتہ ذہن اور انکے اسلام کے سیاسی نظام پر اٹھنے والے تصورات انکے نذدیک ایشو ہی نہیں تھا جہاں مرضی جاۓ ہمارے یذید تو حلال تھے اور رہیں گے یہی اسلام ہے ،

لیکن ایک مفکر کو یہ بتانا تھا کہ اسلام چلا ہوا کارتوس نہیں ہے ، یہ اب بھی انسانیت کے لیے حل ہے ، خدا کا آخری اور مکمل نظام زندگی ہے ،

ظاہری بات ہے جو دریا میں اترا ہے جسے آنے والے وقت کا ادراک ہے کہ مغربی تہذیب ہماری اگلی نسلیں نگل جاۓ گی اسی نے اپنے بچے بچانے تھے نا ڈاکٹر صاحب آپ جیسے بے شمار بچے اور انکے والدین اس لیے اسلامسٹ ہیں کہ انہی لوگوں نے اقبال اور مودودی جیسے لوگوں نے انہیں مرعوب ہونے سے بچایا تھا ،
یا پھر روایتی ملائیت نے یہ کام کرنا تھا جبکہ وہ تو بقول اقبال
مست رکھو ذکر و فکر گاہی کر رہے تھے
حضرت وہ تو سجدے کے لیے جاۓ نماز کی جگہ پر خوش تھے اور ہیں اور رہیں گے ،
چلیں اسی خلافت کے موضوع پر ایک اور بندے کی راۓ دیکھیں وہ ہیں ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم انہوں نے کیسے خلافت راشدہ کے اہم ایشو پر گفتگو کی ہے اور اس سے کیسے آج کے ہمارے عہد کے لیۓ بہترین اصول اخذ کرکے دیۓ ہیں ، ڈاکٹر صاحب کا وڈیو کلپ دیکھ لیجیے , نیچے لنک دیکھ لیجیے ڈاکٹر صاحب کی گفتگو کا ،

اللہ پاک ڈاکٹر اسرار احمد رحمت اللہ علیہ کی قبر پر کروڑوں رحمتیں فرماۓ ، کہ کیسے ایک بہت ہی اہم گتھی یوں عام پیراۓ میں کھول کر رکھ دی ہے کہ یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ کہ جو شخص بھی کھلی آنکھ سے تاریخ کا حقیقت پسندانہ جائزہ لے گا وہ انہی نتائج پر پہنچے گا ، ڈاکٹر صاحب بتاتے ہیں کہ ،
پہلی بات تو یہ کہ دیکھا جاۓ گا کہ سابقین اولین صحابہ کا کیا مقام تھا ،
دوسرا ان سابقین و اولین کے معیار پر ہرایک کو کھڑا کر دینا بہت فاش غلطی تھی ، اور ہے ، جبکہ خلفاۓ راشدین بہت اونچے پاۓ کے لوگ تھے ، ان کو جو خاص لقب دیا گیا راشدین کا وہی معاملہ اور ان پر دی گئ ایک خاص چھوٹ اگر ہم اپنے آج کے حکمران بناۓ گۓ افراد کو دیں گے تو پھر نتیجہ وہی نکلے گا کہ جو مسلمانوں کی چودہ سو سالہ تاریخ میں رہا ہے ،
کہ ، کلی اختیار حاصل ہو جانے کے بعد اسلام کا سیاسی نظام ویسا ہی رنگ اختیار کر گیا جیسے کہ قیصرو کسرئ کے حکمرانوں کا طرز حکمرانی تھا کہ انہیں کوئ عام انسان کسی بھی بات پر ٹوک نہیں سکتا تھا عہد ملوکیت میں یہ حق لینا گردن اتروانے کے برابر تھا ،
دوسری اس اہم چیز کو اس وقت صحابہ میں سے سب سے عبقری شخصیت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے بھی محسوس کرکے نامزدگی کا سلسلہ ختم فرما دیا ، اور خود اپنے آپ سے اسکا آغاز فرما کر گۓ ، اور حکومت اور ریاست کا سربراہ چننے کے طریق کار میں وقت اور حالات کی نذاکت کو مد نظر رکھتے ہوۓ پہلی ترمیم فرما گۓ ،
اور سابق خلیفہ کے پاس شخصی نامزدگی کے اختیار کی جگہ پر چند افراد کی شورئ بنا دی گئ ، یہ ایک با حکمت فیصلہ تھا ، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سیدنا عمر فاروق اسلامی نظام خلافت کو بتدریج ایک ٹھیٹ مسلمانوں کے مشورے سے کھڑا کیا گیا ادارہ دیکھنا چاہتے تھے ملاحظہ ہو صحیح بخاری کی روایت نمبر 6830 جس کے الفاظ یہ ہیں ،

” سن لو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ میری تعریف حد سے بڑھا کر نہ کرنا جس طرح عیسیٰ ابن مریم عیلہما السلام کی حد سے بڑھا کر تعریفیں کی گئیں (ان کو اللہ کو بیٹا بنا دیا گیا) بلکہ (میرے لیے صرف یہ کہو کہ) میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں اور مجھے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ تم میں سے کسی نے یوں کہا ہے کہ واللہ اگر عمر کا انتقال ہو گیا تو میں فلاں سے بیعت کروں گا دیکھو تم میں سے کسی کو یہ دھوکا نہ ہو کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت ناگاہ ہوئی اور اللہ نے ناگہانی بیعت میں جو برائی ہوئی ہے اس سے تم کو بچائے رکھا اس کی وجہ یہ ہوئی کہ تم کو اللہ تعالیٰ نے اس کے شر سے محفوظ رکھا اور تم میں کوئی شخص ایسا نہیں جو ابوبکر رضی اللہ عنہ جیسا متقی، خدا ترس ہو۔ تم میں کون ہے جس سے ملنے کے لیے اونٹ چلائے جاتے ہوں۔ دیکھو خیال رکھو کوئی شخص کسی سے بغیر مسلمانوں کے صلاح مشورہ اور اتفاق اور غلبہ آراء کے بغیر بیعت نہ کرے جو کوئی ایسا کرے گا اس کا نتیجہ یہی ہو گا کہ بیعت کرنے والا اور بیعت لینے والا دونوں اپنی جان گنوا دیں گے ”

اگر کوئ سلیم الفطرت انسان بھی اس پر ٹھنڈے دل سے غور کرے گا تو اسے یہ بات مانے بغیر چارہ کار ہی نہیں رہتا ، کہ خلافت کا رنگ اور نتائج ملوکیت سے بالکل جدا رنگ تھا ،

بادشاہت تو انبیاء کو بھی عطاء کی گئ ؟
اب آتے ہیں ، محترم ڈاکٹر صاحب کے ایک اور اعتراض کی طرف جس میں ڈاکٹر صاحب بادشاہت کو انبیاء کی سنت کے طور پر پیش کرکے اسے سند جواز دے رہے ہیں اور تاریخ کا ہر سنجیدہ طالب علم جانتا ہے کہ ملوکیت کو انبیاء سے سند جواز دینا انتہائ سطحی سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے کا نتیجہ ہے ،
کہ انہوں نے تاریخ ملوکیت اور اسکے نتائج پر کبھی توجہ ہی نہیں دی ، اگر ٹھنڈے دل سے ایک انسان دوسری اقوام تو ایک طرف صرف مسلمانوں کے عہد بادشاہت میں اٹھنے والے بڑے بڑے فسادات کو غور سے دیکھے اور اسکے اندر لاکھوں مسلمانوں کا باہمی کشا کش میں مارے جانے کے اسباب پر غور کرے تو اسے کوئ بات ایسی نہیں ہے کہ وہ آج اس عہد سے سیکھ کر ایک جدید پولٹیکل سسٹم کی ضرورت محسوس نا کرے ،
کیونکہ انبیاء اللہ تعالئ کی نگرانی میں ہوتے ہیں ، وہ باپ کے بعد بیٹے چاہے ایک ہزار بھی بنتے جائیں انسے غلطی کا صدور ممکن ہی نہیں ، وہ اگر ڈگر سے ہٹنا چاہیں بھی تو وحی آ جاتی ہے ، کیا اب بھی اگر ہم عاکف سعید اور سراج الحق صاحب یا مولانا فضل الرحمن صاحب کو بادشاہت کے مطلق اصول تھما کر بٹھا دیں تو ان پر وحی آ جایا کرے گی اور انکی اصلاح ہوتی رہے گی ؟؟
کیا یہ ممکن ہو سکے گا ؟
حضرت ملوکیت کی تاریخ تو بتاتی ہے کہ وہاں حضرت امام احمد بن حنبل کو بھی رد کر دیا جاتا تھا اور کوڑے مارے جاتے تھے کہ ہماری تائید کرو ورنہ جیل میں سڑتے رہو تو پھر ان کے معاملات کو اٹھا کر عام انسانوں کو وہی اختیارات سونپنے کا ذہن بنانا انتہائ سطحی سیاسی سوچ و فکر کے مظاہرے کے سوا اور کوئ چیز نہیں ہے ،
اسکا سب سے بڑا سبب ہمارے مختلف جگہوں سے مفادات اٹھانے والے سکولز آف تھاٹس کا پیٹ کا مطلبی ہونا تھا کچھ انگریز کے عہد میں ملا کو ہند میں سجدے کی اجازت پر خوشی خوشی لیٹ گۓ تھے ، دوسرے بعد از استعمار یہ جان ہی نا پاۓ کہ اب فوجی ڈکٹیٹر ان پر ایسے کسی راستے سے ہی چڑھتے رہیں گے ، اور ان آمریتوں نے جہاں کئ صدیاں مسلمانوں کو اس قابل نا رہنے دیا کہ کبھی پہلے عباسی پھر ان پر کبھی قرامطی کبھی منگول اور کبھی انکی اپنی باہمی جنگوں نے انکی زمینوں کو ہوس اقتدار کے میدان جنگ بناۓ رکھا ،

آج کے اہل علم نے اپنے فالوورز کو پھرکی دے کر انکی آنکھوں کو تاریخ میں سب ہرا ہی ہرا دکھایا ہے ،

اسکے نتیجے میں آج جب کوئ اسلام کے پولٹیکل سسٹم کو جدید اسلوب میں پرانے تجربات سے سیکھ کر ریوائز کرنے کی بات کرتا ہے تو یہ مختلف جگہوں سے مفادات حاصل کرنے والے افراد مسلمانوں کو پھرکی دینے پہنچ جاتے ہیں اور خلافت راشدہ کے اصولوں سے رو گردانی کرکے قیصریت کے پیوند کو عین اسلامی ثابت کرکے صف مخالف کو تجدد پسند اور اسلام سے نکلا ہوا ثابت کرنے چل پڑتے ہیں
یاد رہے ، قومیں وہی آگے بڑھتی ہیں جو اپنے زوال کے اسباب سے سیکھتی ہیں ، ڈاکٹر اسرار صاحب کی یہ گفتگو آب زر سے لکھنے کے قابل ہے ,
ٹھیک اسی مسئلے پر سیدنا فاروق اعظم کا خلافت کے انتخاب پر صحیح بخاری میں ایک طویل خطبہ موجود ہے ، وہ علم و حکمت کا ایک جہان اپنے اندر سموۓ ہوۓ ہے کہ کیسے سیدنا فاروق اعظم خود اپنے وقت میں اسے مسلمانوں کے عام مشورے سے تبدیل کرگۓ اور اسکی حکمت یہ بتائ کہ اب کون ہے ابو بکر جیسا شخص ، ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں ملنے کہ نہیں نا یاب ہیں ہم

یعنی کہ کوالٹی آف وزڈم میں ڈکلائن انہیں صاف دکھائ دے رہا تھا ، پھر جیسے انہوں نے اپنے بعد اپنے جانشین کو نامزد کرنے سے ریفیوز کیا اس میں اہل دانش کے لیے نشانیاں نہیں ہیں کہ انہوں نے اپنے بعد کے آنے والے دور کو بھی سامنے رکھا ، لیکن دانش کی بات تو اولی الالباب ہی سمجھ سکتے ہیں ،
پیٹ سے سوچا تھوڑی جاتا ہے
اللہ نے اسکے لیے سر میں ایک چیز عقل رکھی ہے _

یہ دو سوالات اور انکا جواب دینا درکار تھا کہ اصلا اس موضوع پر سید مودودی کو کتاب لکھنی چاہیے بھی تھی کہ نہیں اس لیے ان دو بنیادی سوالات کو ایڈریس کیا گیا ہے ،
ترتیب وار کوشش کی جاۓ گی کہ ان بھائ کے سارے سوالات اور اعتراضات پر ایک گفتگو سامنے لائ جاۓ ، تاکہ یہ بات واضع طور پر سامنے لائ جاۓ کہ یہ موضوع اور اس پر گفتگو کیوں ضروری ہے ، تاکہ ہم ایک نیا جدید سسٹم ڈویلپ کر سکیں ، اور مسلمان اس پر سنجیدگی سے سوچیں ، کہ اب چونکہ وہ پرانے نبوت کے تیار کردہ لوگ میسر نہیں ہیں تو ہم اپنے عہد کے لوگوں کے رجحانات کو سامنے رکھ کر ایک جدید احتساب پر مبنی سسٹم تشکیل دے سکیں ، جو ایک آئین کی شکل میں لکھا ہوا موجود ہو جس میں ریاست کے کل پرزوں کو ایک جوابدھی اور احتساب امر کے دائرے میں پابند کیا جاۓ تاکہ شخصی حکومت سے ایک درست مشورے کی حکومت تشکیل پاۓ ، جسے وقت ضرورت اتارا بھی جا سکے اسکے لیے تلواریں نکالنے کی ضرورت نا باقی رہے
یہی زندہ جاگتی قوموں کے اسلوب ہوا کرتے ہیں
باقی اسٹیبلش خلافہ والے بھائیوں پر اپنی گزارشات تو کئ بار پیش کر چکا ہوں ،
وسیم گل بھائ کا مشورہ تھا کہ اپنی گفتگو کو علمی انداز میں پیش کریں ، اب یہ انکی نصیحت کس حد تک مد نظر رہی ہے ، اسکا فیصلہ قارئین ہی کر سکتے ہیں ، کہ انہیں اس موضوع کی اہمیت پر تیقن بڑھا ہے کہ نہیں ،
باقی ڈاکٹر صاحب کے علمی قد کا میں معترف ہوں ، اور نا ہی انہیں ڈی گریڈ کرنے کا کوئ ارادہ ہے ڈاکٹر صاحب اپنی کتاب میں خود ہی لکھتے ہیں کہ میں اس بات کا باغی ہوں کہ مجھے میرے سٹوڈنٹ اندھی تقلید سے فالو کریں
یہ ایک عام سے طالب علم کی گزارشات ہیں ،
کوئ دعوئ علمی نہیں ہے

دعاؤں کا طلب گار

آصف حسین ، کامریڈ
( ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کی گفتگو کا لنک)

 

خلافت و بادشاہت ، اور اپنے اس عہد تک پر اپنی گزارشات کا دوسرا حصہ آپ سب دوستوں کی نظر کر رہا ہوں ، چونکہ پہلے بھی عرض کیا تھا کہ ان بھائیوں کے اعتراضات کی نو‏عیت ایک جیسی ہے ، اس لیۓ یہ عام طور پر کیے جانے والے اعتراضات ہیں ، اس لیے کسی شخصیت کو مخاطب کرنا ایک عمومی بات ہے ، وگرنہ سب کے دلائل کی جڑ ایک ہی ہے _ تحریر کی طوالت پر پیشگی معزرت چند منٹ نکال کر دوسرا نکتہ نظر سمجھنے کی کو شش کر لیجیے ،

کھوۓ ہوۓ کی جستجو !

خلافت راشدہ یا بادشاہت ، ( حصہ دوئم )
قبلہ محمد فہد حارث بھائ فرماتے ہیں کہ ،

” جو نا معقول ارض پاک جتنے حصے میں اسلام نافذ نا کر سکے وہ اس شخص کو ملوکیت کا طعن دیتے ہیں جس نے تین براعظموں پر اسلام کا پرچم لہرا دیا _ جو خلافت اصحاب رسول کے ہاتھوں تیس سال سے زیادہ نا چل سکی وہ محض ایک خیالی شۓ ہوگی ، موجودہ دورکے تحریکیوں کو اس کے لیے جدوجہد کرنا فقط عبث کار ہے ”

جناب کو اتنا نہیں پتہ کہ دین اسلام کی اور انبیاء کی تاریخ بھری پڑی ہے ، کہ جہاں ان سعید و برگزیدہ ہستیوں کے انکے کے وقت کے جابروں کے سامنے سر کٹ گۓ اصحاب کہف کو غاروں میں پناہ لینی پڑی ، عیسئ ابن مریم کی کہانی ہی صرف اٹھا کر قرآن میں سے پڑھ لیتے کیسے وہ اپنے حواریوں سے من انصار الی اللہ کی صدا لگا رہے تھے _

یہ تو ایک نظریعہ ہے فقط قائم ہونے یا نفاذ سے اس کی صداقت کا بھرم تھوڑی قائم ہے _

کتنے انبیاء ہیں جو یہ کام نہ کر سکے کئ ہزار انبیاء کو بگڑی قوموں نے قتل کیا ، کیا مسیح کو صلیب تک لے جانے کی نوبت نہیں آ گئ تھی _
دوسرا ہر دور کے جابروں ڈکٹیٹروں کو ان جناب جیسے بنی اسرائیل کے احبار و رہبان ٹائپ مفتی طارقین جیسے میسر نہیں رہتے تھے ، جو رو رو کر کہتے ہیں اۓ اللہ بہت اچھا دیا ہے ،

دوسرا کہتا ہے اچھا ہے ان ڈکٹیٹروں نے جمہوریت اپنے قبضے میں رکھی ہوئ ہے ،

اب بتائیں جہاں ایسے جناب جیسے شگوفہ ٹائپ دانشور ہوں جو نظام ربوبیت اور مرکز ملت ایوب خان جیسوں کو بنائیں وہاں ایک کیا درجنوں تحریکیں ان فوجی ڈکٹیٹروں کے ہاتھوں ہاتھ پیر تڑوا لیتی ہیں ،

ہم نے کب کہا ہے خلافت چل نا سکی ہم تو خلافت راشدہ کا کہتے ہیں کہ وہ تیس سال تک رہی ہے ، اس کے بعد خلافت ہی تھی مگر خلافت راشدہ نہیں تھی ، خود بقول مولانا یوسف لدھیانوی صاحب کے کئ بڑے بڑے ناموں کے سیدنا عمر بن عبدالعزیز کے دور میں خلافت راشدہ کی جھلک تھی ، اس سے پہلے والوں کا تو انہوں نے احتساب کیا تھا اسی لیۓ شہید کر دیۓ گۓ ،

ہم تو مزاج کی بات کرتے ہیں بھائ کہ وہ کون تھے کہ شدید ترین سوالات ان سے ہوتے تھے اگلے گردن جھکا لیتے تھے ، اور تائید کرتے تھے ایک بدو اٹھ کر سوال کرتا تھا ایک عورت اٹھ کر خلیفہ کو چیلنج کرتی تھی ، کیا یہ سب باقی رہنے دیا گیا تھا ؟

کیا یہ ساری باتیں اور سنتیں ہمارے اسلاف صرف مولویوں کو اس لیے تھما کر گۓ ہیں کہ وہ انہیں صرف منبروں پر لہک لہک کر لوگوں کے سینے گرمایا کریں اور نیچے اتر کے کسی جرنیل کے یا ان کے لگاۓ ہوۓ پودے کے جوتے سیدھے کرتے رہیں کوئ فرق نہیں پڑتا مراثی کے اسلام کی طرح مندر میں بھی سجدہ اور مسجد بھی چلے گۓ ،

دوسرا کئ ممالک ہیں جہاں ان نا معقول لوگوں کو عوام نے اپنی راۓ سے منتخب کیا انکی حکومتیں کن لوگوں نے الٹائیں کیا آپ نشے میں ہیں آپ کہتے ہیں ہمیں سیاست کی سمجھ نہیں ہے حضرت ہمیں سمجھ بھی ہے اور ہمیں ادراک بھی ہے کہ یہ سب ہمارے ساتھ کیوں ہوتا ہے اسکی بنیادی وجہ آپ جیسے وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان مطلق العنان حکمرانوں کی ہر لوٹ مار اور قبضے پر سند جواز ہاتھ میں پکڑ رکھی ہوتی ہے _

دوسرا حضرت ٹھنڈے دل سے سوچیے ہمیں کہا گیا ہے نا کہ میرے بعد میری سنت اور میرے خلفاۓ راشدین کی سنت اپناۓ رکھنا تو خلفاۓ راشدین کی سنت کی طرف لوٹ کر جانےکے نام پرآپ کو کیوں اتنی آگ لگ جاتی ہے ؟

جبکہ جناب والا ہم تو فرمان نبوت کی طرف پلٹنے کی جانب بات کرتے ہیں ،
اسکی وجہ یہ ہے کہ فرمان نبوت کے مطابق یہ مسلمانوں کو تا قیامت حکم ہے کہ راشدین المھدین کے پیٹرن کو فالو کرنا ،

اگر آج ہم اپنی ریاست کے اصول کشید کریں گے تو صرف خلفاۓ راشدین سے لیں گے ،
ہم تو آپ کے سامنے ویسی ہی صدا لگا رہے ہیں کہ جیسے نجران کے عیسائیوں کو لگائ گئ تھی کہ آؤ اس بات کی طرف جو ہم میں اور تم میں مشترک ہے ، ہم بھی کہتے ہیں سارے پیوند چھوڑ کر اصل کی طرف لوٹ چلتے ہیں وہاں جتنی ڈکٹیٹر شپ ہوگی اتنی ڈکٹیٹر شپ لے لیں گے جتنی جمہوریت و آزادی ہوگی اتنی وہ لے لیں گے چلو آؤ اس طرف جو ہم میں اور تم میں مشترک ہے پتہ نہیں آپ کیوں بھاگنے لگتے ہیں نجران والوں کی طرح ،

دوسرا بھائ ان سارے خلفاء نے جتنے اچھے کام کیے ہیں سر آنکھوں پر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ہمارے سر آنکھوں پر یذید نے بھی اگر کوئ اچھا کام کیا ہے ، جس سے انسانی حریت و آزادی کا سبق کشید ہوتا ہے تو جناب ہم یذید پائین کے چرن چھونے کو تیار ہیں ، میں تو آنجناب کو خلیفہ بھی مانتا ہوں خلیفہ تو وہ ہے کوئ شک نہیں میں نے اس پر آج تک کبھی تبرہ نہیں کیا کبھی گالی نہیں دی ، اسکا معاملہ اللہ کے پاس ہے ویسے بھی وہ ایک تابعی ہے ، چلو اصل کام کی طرف آتے ہو جناب ؟

آخر ہمیں کوئ انسے خدا واسطے کا بیر تھوڑی ہے ہم تو مروان کے پوتے کو ہیرو مانتے ہیں اس کا ذکر خیر کرتے ہیں بھائ اگر ان صاحب نے بھی کوئ بھلا کام کیا ہے ، تو سر آنکھوں پر ہماری کوئ ذاتی دشمنی ہے کیا ؟
انتہائ گھٹیا اور ذلیل ہوتا ہے وہ شخص جو اپنی کدورت کی بنیاد پر اصول اور کسی کی اچھائ کو نظر انداز کر دے ، یہ بات تو دین نے سکھائ ہی نہیں _
لیکن بھائ اگر آپ اوور آل اصول کشید کرنے اخلاقی معیارات لینے کی بابت جائیں گے تو ہم خلفاۓ راشدین کی طرف ہی جائیں گے پہلے کتاب اللہ پھر سنت نبوی پھر سنت خلفاۓ راشدین صحابہ کا اجماع ہر چیز مد نظر رکھی جاۓ گی ،

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا (59) سورہ النساء

پھر ہی آج کے لیے ہم اصل دین کے مطلوب ترین اصول کشید کر سکیں گے ،
کل سے ہمارے محترم دوست و بھائ شیخ صاحب نے ترکی کی عثمانی خلافت کی کلاس لگانی شروع کر رکھی ہے انہیں ڈاکو کہہ رہے ہیں ،
اور حزب تحریر والے انہی خلیفوں کو اللہ کی رحمت بتاتے ہیں ،

اب بتائیں ایک ہمارے سلفیوں کے نذدیک مردود ہیں ، ایک پر ہم راضی نہیں ہیں ،
تو جن پر ہم سارے اہل سنت راضی ہیں اور انکے بارے میں فرمان نبوی بھی ہے چلو کیوں نا وہاں چلے چلیں تاکہ سب کتاب و سنت کی اصل سے جڑ جائیں ،
آپ ایک طرف کے خلیفوں کے خلاف بات کریں تو وہ توحید پرستی ، ہم دوسری طرف بادشاہت کے نقائص پر بات کرکے بتائیں کہ مطلق العنان حکمرانی صرف اللہ کو سزا وار ہے انسان نفس پرست ہوتے ہیں پھر ظلم کرنے لگتے ہیں ، انبیاء کا معاملہ اور ہے وہ اللہ خاص نگرانی رکھتے ہیں ،

سروَری زیبا فقط اُس ذاتِ بے ہمتا کو ہے
حُکمراں ہے اک وہی، باقی بُتانِ آزری

اسکی سب سے بڑی دلیل سیدنا عمر فاروق کا خطبہ ہے وہ تو مطلق نامزدگی کو یہ کہہ کر رد فرما گۓ کہ اب ابو بکر کے پاۓ کا کوئ انسان نہیں ہے ،
لہذا اب نامزدگیوں سے زیادہ افراد کے مشورے کی طرف اپنا رجحان قائم کرو ، جناب علم و حکمت کے اس پہاڑ کی بات کو صرف اس لیے آپ سامنے نہیں لاتے کہ آپ سمجھتے ہیں کہ پھر آپ کی بادشاہت زیر بحث آ جاۓ گی
حضرت بادشاہت اور حکمرانوں کے ان سارے واقعات کو میں نے نہیں بہت بڑے بڑے محدثین مفسرین نے اپنی کتب میں لکھا ہے ،، کیا آپ انسے زیادہ صحابہ کے چاہنے والے ہیں ،

انہیں اس بات کا اندازہ ہی نہیں ہوا کہ انکے اس فعل سے توہین صحابہ ہو رہی ہے ، اور آگے جا کر لوگ صحابہ کے گستاخ بن جائیں گے ہم اپنی آنے والی نسلوں تک کیا پہنچا رہے ہیں یہ صرف فہد حارث اور محمود عباسی ڈکٹر زبیر و غیرہم کو ہی وحی اتری تھی انکی بصیرت امام مسلم سے زیادہ ہے امام ابن کثیر امام بخاری یہ سب یہی نا جان سکے یہ کہ وہ سب صحابہ کی توہین کے دروازے کھول رہے ہیں ،
کیا ایسا تھا ؟
حضرت ہرگز نہیں !

یہ صرف آپ کی ذہن کی اختراع ہے ، اور معزرت کے ساتھ جہالت ہے _
جسے آپ نے شیعوں کے سرے منڈھ کر اپنے مریدین کو تعصب کا نشہ پلا کر خود اپنے اہل سنت کے ماضی حال اور مستقل کا بیڑہ غرق کروا رکھا ہے کہ ہم کوئ مشترکہ سسٹم ہی نہیں بنا سکے آج تک ہمارے انٹلیکٹ یہ فیصلہ ہی نہیں دے سکے کہ مسلمانوں کا طرز حکمرانی کس طرح کا اور کیسا ہونا چاہیے ،
دوسری طرف ایک یہودی سابق امریکی وزیر خارجہ اسلامی نظام کو کیسے اور کیا سمجھتی ہے دو لفظوں میں اس نے بیان کر دیا ہے پڑھیے اور سر دھنیے

” فرماتی ہیں کہ میری مذاہب عالم کے مطالعے کی حد تک اسلام دنا کا سب سے زیادہ ڈیموکریٹک مذہب ہے ، کیونکہ اس میں خدا اور بندے کے درمیان کوئ چیز حائل نہیں ہوتی ”

کیونکہ ہمارے اسلاف نے دین کا ہر پہلو ہمارے پاس پہنچانا تھا تاکہ دین زندہ مثالوں سے سمجھایا جا سکے آپ نے اسی پر بستر ڈال کر نیند لینی شروع کر دی اور خود بھی سوۓ اور پوری امت کو بھی سلا دیا ،
یہ تو شکر کریں اقبال پیدا ہو گۓ ، نواۓ سروش ، بانگ درا اور بال جبرائل بن کر وگرنہ تو ہم چوہدریوں کے حقے بھرنے کو ہی کل کائنات بناۓ بیٹھے تھے ، اور اسکی چاکری اور اسکی حویلی کو ہی کل کائنات سمجھ بیٹھے تھے ، اقبال فرماتے ہیں ،

آ بتاؤں تُجھ کو رمز آیۂ اِنَّ الْمُلُوْک
سلطنت اقوامِ غالب کی ہے اک جادُوگری
خواب سے بیدار ہوتا ہے ذرا محکوم اگر
پھر سُلا دیتی ہے اُس کو حُکمراں کی ساحری
جادوئے محمود کی تاثیر سے چشمِ ایاز
دیکھتی ہے حلقۂ گردن میں سازِ دلبری
خُونِ اسرائیل آجاتا ہے آخر جوش میں
توڑ دیتا ہے کوئی مُوسیٰ طلسمِ سامری
سروَری زیبا فقط اُس ذاتِ بے ہمتا کو ہے
حُکمراں ہے اک وہی، باقی بُتانِ آزری
اور اسی نظم کا آخری شعر ہے
” از غلامی فطرتِ آزاد را رُسوا مکُن
تا تراشی خواجۂ از برہَمن کافر تری ”

اب آپ کہتے ہیں تاریخ اسلام میں سب جھوٹ ہے یہاں تک کہ جس مرضی معتبر ترین کتاب میں جو بات بھی کسی ایک بھی صحابی کے خلاف کوٹ ہوئ ہے وہ مردود ہے ، جبکہ یہ بھی آپ کی جہالت کی انتہاء ہے اسکی حکمت آپ سمجھ ہی نہیں سکے ، کیونکہ پرانی اقوام اپنے بڑے لوگوں کے بت بنا کر پوجنا شروع کر دیتی تھیں انکی شخصیت میں غلو کا مرض ان میں آ جاتا تھا ، جبکہ اسلام کے آفاقی اصولوں نے یہ بتانا تھا کہ یہ سب انسان تھے ، لہذا تم پرانی اقوام کے جیسے نا بن جانا بلکہ اصول کی بنیاد پر انکی اچھی بری بات کو پہچاننا ،
انہوں نے یہ ساری مثالیں کیوں ہم تک ٹرانسفر کیں اسے سمجھیے ،

مثال کے طور پر ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا بیٹا سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص سے سوال کرتا ہے تفسیر ابن کثیر سورہ النسآہ آیت 59 کی تفسیر دیکھیۓ صحیح مسلم کی روایت ہے ، اب انسے سوال کرتے ہیں کہ خلیفہ ہمیں فلاں حکم دے رہے ہیں خلیفہ کی بات مانیں کہ اللہ کی کتاب کی ،،، عبداللہ بن عمرو بن العاص فرماتے ہیں ،، کہ کتاب اللہ کی بات مانو ، خلیفہ تمہیں جو حکم اللہ کی کتاب کے تحت دے اسے مان لو جو اللہ کی کتاب کے خلاف حکم دے اسے نا مانو ،
اب اس سے تا قیامت ان بزرگوں نے اپنے آنے والی نسلوں تک پیغام ٹرانسفر کر دیا کہ دنیا کا بڑا ترین شخص بھی اللہ اور اسکے رسول کے قانون کو نہیں بدل سکتا ،،لوگوں کو اولی الامر کی اطاعت کا مفہوم پتہ چل گیا ،

یہی وجہ تھی کہ ان بزرگوں نے بڑی سخت ترین روایات تک آگے ٹرانسفر کر دی ہیں ، تاکہ اسلام کے اصول دین کا ٹیکسٹ اور متن تا قیامت محفوظ رہے تاکہ کوئ کل کو کہہ ہی نا سکے کہ انہیں مثالوں سے درست اطاعت کا طریقہ نہیں سمجھایا گیا تھا وگرنہ تو اولی الامر کی وہ تشریح ہی نا سمجھتے جو سیدنا ابو بکر الصدیق کرگۓ تھے اپنے پہلے خطبے میں اور سیدنا عمر فاروق بھی اپنے پہلے خطبے میں بیان کر گۓ سارے عام مسلمانوں کے سامنے کہ ہماری اصلاح کرنا اگر ہم کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کے معیار سے پیچھے ہٹیں ،

اب حجاج بن یوسف کیسے اصلاح کرتا تھا وہ بہت سارے صحابہ اور تابعین کے حالات و واقعات سے جان لیجیے !

آصف حسین کامریڈ

فیس بک پوسٹ

You might also like More from author

تبصرے

Loading...