کیا واقعی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے گستاخِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان کاٹ دی تھی؟

🛑اصل واقعہ 🛑

اخونزادہ: تنبیہات سلسلہ نمبر 143

حضرت علی نے گستاخِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان کاٹ دی

● سوال:
مندرجہ ذیل واقعے کی تحقیق مطلوب ہے:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدنی دور میں (جب وہ مدینہ ہجرت کرچکے تھے، تب) کسی گستاخ شاعر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے خلاف گستاخانہ اشعار لکھے۔ صحابہ نے اس گستاخ شاعر کو پکڑ کر بوری میں بند کر کے حضور کے سامنے پھینک دیا. سرکار دوعالم نے حکم دیا کہ اس کی زبان کاٹ دو، تاریخ لرز گئی کہ مکہ میں جو پتھر مارنے والوں کو معاف کرتا تھا، کوڑا کرکٹ پھینکنے والی کی تیمارداری کرتا تھا، اسے مدینے میں آکے آخر ہو کیا گیا۔ بعض صحابہ کرام نے عرض کیا: یارسول اللہ! میں اس کی زبان کاٹنے کی سعادت حاصل کروں؟ حضور نے فرمایا: نہیں، تم نہیں. تب رسولِ خدا نے حضرت علی کو حکم دیا کہ اس کی زبان کاٹ دو. مولا علی بوری اٹھا کر شہر سے باہر نکلے اور حضرت قنبر کو حکم دیا: جا میرا اونٹ لے کر آ، اونٹ آیا مولا نے اونٹ کے پیروں سے رسی کھول دی اور شاعر کو بھی کھولا اور دو ہزار(٢٠٠٠) درہم اس کے ہاتھ میں دیئے اور اس کو اونٹ پہ بٹھایا، پھر فرمایا: تم بھاگ جاؤ ان کو میں دیکھ لونگا…
اب جو لوگ تماشا دیکھنے آئے تھے وہ بھی حیران رہ گئے کہ یا اللہ، حضرت علی نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی، رسول خدا کے پاس شکایت لے کر پہنچ گئے: یارسول اللہ! آپ نے کہا تھا کہ زبان کاٹ دو، علی نے اس گستاخ شاعر کو دو ہزار(٢٠٠٠) درہم دیئے اور آزاد کردیا، حضور مسکرائے اور فرمایا کہ علی میری بات سمجھ گئے… افسوس ہے کہ تمہاری سمجھ میں نہیں آئی، وہ لوگ پریشان ہو کر یہ کہتے ہوئے چل دیئے کہ: یہی تو کہا تھا کہ زبان کاٹ دو، علی نے تو کاٹی ہی نہیں…
اگلے دن صبح، فجر کی نماز کو جب گئے تو دیکھا کہ وہ شاعر وضو کررہا ہے، پھر وہ مسجد میں جا کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں چومنے لگتا ہے. جیب سے ایک پرچہ نکال کر کہتا ہے: حضور آپ کی شان میں نعت لکھ کر لایا ہوں…
اور یوں ہوا کہ حضرت علی نے گستاخ رسول کی گستاخ زبان کو کاٹ کر اسے مدحتِ رسالت والی زبان میں تبدیل کردیا. (حوالہ: دعائم الاسلام، جلد:2، صفحہ: 323)
کیا اس واقعے کی اصل حقیقت اسی طرح ہے؟

 الجواب باسمه تعالی

ہماری تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ رہا ہے کہ مؤرخین حضرات واقعات کو اپنا مذہبی لبادہ اوڑھانے کی کوشش کرتے ہیں جس سے اصل واقعہ کچھ کا کچھ بن جاتا ہے، پھر رہی سہی کسر کو مقررین اور خطباء پوری کرکے اس واقعے کی اصل شکل کو مسخ ہی کردیتے ہیں.
سوال میں مذکور واقعہ کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے۔

■ تاریخ کی کتابوں میں موجود اصل واقعہ:

غزوہ حنین کے موقعے پر آپ علیہ السلام نے نومسلم صحابہ (جن کو مؤلفة القلوب کہا گیا) کو غنیمت میں سے کافی زیادہ زیادہ مال دیا جیسے حارث بن ھشام، سہیل بن عمرو، أبوسفیان، عیینہ بن حصن وغیرہ کو سو سو اونٹ دیئے، جبکہ کچھ صحابہ کو کم مال دیا، انہیں میں سے ایک صحابی عباس بن مرداس کو بھی کم اونٹ ملے تو انہوں نے شکوے کو اشعار کی شکل میں عرض کیا جس کا مفہوم یہ ہے کہ آج جن لوگوں کو ہم پر فوقیت دی گئی یہ لوگ کسی طرح بھی ہم سے بہتر اور اعلی نہیں.
جب آپ علیہ السلام کے سامنے ان اشعار کا تذکرہ آیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ کوئی اس کو لے جاکر اس کی زبان بندی کردے.
تو صحابہ کرام نے عباس کو کچھ مال دے کر راضی کرلیا.

● إعطاء النبي المؤلفة قلوبهم من الغنائم:

قال ابن إسحاق: وأعطى رسول الله صلى الله عليه وسلم المؤلفة قلوبهم، وكانوا أشرافاً من أشراف الناس، يتألفهم ويتألف بهم قومهم، فأعطى أباسفيان بن حرب مائة بعير، وأعطى ابنه معاوية مائة بعير، وأعطى حكيم بن حزام مائة بعير، وأعطى الحارث بن الحارث بن كلدة أخا بني عبدالدار مائة بعير.‏
قال ابن إسحاق: وأعطى الحارث بن هشام مائة بعير، وأعطى سهيل ابن عمرو مائة بعير، وأعطى حويطب بن عبدالعزى بن أبي قيس مائة بعير، وأعطى العلاء بن جارية الثقفي حليف بني زهرة مائة بعير، وأعطى عيينة بن حصن بن حذيفة بن بدر مائة بعير، وأعطى الأقرع بن حابس التميمي مائة بعير، وأعطى مالك بن عوف النصري مائة بعير، وأعطى صفوان بن أمية مائة بعير، فهؤلاء أصحاب المئين.
وأعطى دون المائة رجالا من قريش، منهم مخرمة بن نوفل الزهري، وعمير بن وهب الجمحي، وهشام بن عمرو أخو بني عامر بن لؤي، لا أحفظ ما أعطاهم؟ وقد عرفت أنها دون المائة، وأعطى سعيد بن يربوع ابن عنكشة بن عامر بن مخزوم خمسين من الإبل، وأعطى السهمي خمسين من الإبل.
قال ابن هشام: واسمه عدي بن قيس.
قال ابن هشام: وأعطى عباس بن مرداس أباعر، فسخطها فعاتب فيها رسول الله صلى الله عليه وسلم. فقال عباس بن مرداس يعاتب رسول الله صلى الله عليه وسلم:‏
• كانت نهابا تلافيتها
بكري على المهر في الأجرع
• وإيقاظي القوم أن يرقدوا
إذا هجع الناس لم أهجع
• فأصبح نهبي ونهب العبيد
بين عيينة والأقرع
• وقد كنت في الحرب ذا تدْرَإ
فلم أعط شيئا ولم أمنع
• إلا أفائل أعكيتها
عديد قوائمها الأربع
• وما كان حصن ولا حابس
يفوقان شيخي في المجتمع
• وما كنت دون امرئ منهما
ومن تضع اليوم لا يرفع.

قال ابن هشام: أنشدني يونس النحوي.
فما كان حصن ولا حابس يفوقان مرداس في المجتمع إرضاء الرسول له.

قال ابن إسحاق: فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:‏ اذهبوا به فاقطعوا عني لسانه، فأعطوه حتى رضي. فكان ذلك قطع لسانه الذي أمر به رسول الله صلى الله عليه وسلم. (تاريخ الطبري)

● اس واقعے کی طرح کا دوسرا واقعہ:
تهذيب الآثار وتفصيل الثابت عن رسول الله من الأخبار میں دو واقعے مذکور ہیں:

١. پہلا واقعہ:
ایک شاعر آپ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ علیہ السلام نے حضرت بلال سے فرمایا اس کی زبان کاٹ دو تو بلال رضی اللہ عنہ نے اس کو چالیس درہم اور ایک جوڑا دیا تو اس نے کہا: خدا کی قسم آپ نے میری زبان کاٹ دی آپ نے میری زبان کاٹ دی.
□ أتى الشاعر النبي عليه السلام فقال: يا بلال! اقطع عني لسانه فأعطاه أربعين درهما وحلة، فقال: والله قطعت لساني؛ قطعت والله لساني.

٢. دوسرا واقعہ:
ایک شاعر آپ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کی تعریف کی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا اے بلال! اس کی زبان کاٹ دے تو وہ دیہاتی سمجھا کہ مجھے سزا ہوگئی، وہ بھاگ دوڑا اور بلال رضی اللہ عنہ اس کو آواز دیتے رہے کہ آپ کیلئے انعام کا اعلان ہوا ہے لیکن وہ بھاگ گیا.
□ جاء شاعر إلى النبي عليه السلام يمدحه فقال: اقطع لسانه فظن الأعرابي أنه قد أمر بقطع لسانه فقام يعدو فجعل يسعى خلفه ويقول: أمرني رسول الله بخير قال: فمضى أعرابي وتركه.

● اس واقعے میں کیا جانے والا سب سے پہلا اضافہ:

اس واقعہ کو مذہبی رنگ اور فضائل علی میں شمار کرنے والی شخصیت ایک اسماعیلی شیعہ عالم قاضی أبوحنیفہ نعمان بن محمد ہے جنہوں نے یہ واقعہ اپنی کتاب “دعائم الإسلام وذكر الحلال والحرام والقضايا والأحكام” میں ذکر کیا ہے اور ان سے یہ روایت الصحيح من سيرة الإمام علي عليه السلام میں جعفر مرتضی العاملی نے نقل کیا ہے.

وہی غزوہ حنین کے مال کی تقسیم کا واقعہ نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ عباس بن مرداس رضی اللہ عنہ کو اللہ کے نبی نے چار یا چالیس اونٹ دیئے جس سے عباس ناراض ہوا اور اس نے اشعار پڑھے تو آپ علیہ السلام نے حضرت علی سے فرمایا کہ اس کی زبان کاٹ دو تو حضرت علی نے عباس کا ہاتھ پکڑا اور عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت علی مجھے لے کر چل پڑے، میں نے کہا کہ اے علی! کیا آپ میری زبان کاٹیں گے؟ تو حضرت علی نے فرمایا کہ میں وہ کرونگا جس کا مجھے حکم ہوا ہے اور مجھے اونٹوں کے ریوڑ میں لے گئے اور فرمایا کہ چار سے لے کر سو تک اونٹ گن لو۔ عباس کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ آپ لوگ بہت نرم دل اور کرم والے لوگ ہیں، تو حضرت علی نے کہا کہ اللہ کے نبی نے تجھے مہاجرین کی صف میں شامل کرکے چار اونٹ دیئے، اب آپ سو اونٹ لے کر مؤلفة القلوب میں ہوجاؤ، میں نے کہا کہ مجھے مشورہ دیجئے تو حضرت علی نے فرمایا کہ جو دیا گیا ہے اس پر راضی ہوجاؤ، میں نے کہا کہ میں راضی ہوں۔
بعض روایات میں ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس کی زبان کاٹنے کا حکم دیا تو حضرت عمر ان کی طرف بڑھے تاکہ زبان کاٹ سکیں، تو حضور علیہ السلام نے حضرت علی سے فرمایا: اے علی! تم اٹھ کر اس کی زبان کاٹ دو.
بعض روایات میں ہے کہ آپ علیہ السلام نے اس کیلئے جوڑا بھجوایا اور سو اونٹ مکمل کئے۔
□ قالوا: كان صلى الله عليه وآله وسلم قد أعطى العباس بن مرداس أربعاً، وقيل: أربعين من الإبل يوم حنين، فسخطها، وأنشد…..الخ
فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم لأمير المؤمنين عليه السلام: قم (يا علي) إليه، فاقطع لسانه. قال: فقال العباس بن مرداس: فوالله، لهذه الكلمة كانت أشدّ علىَّ من يوم خثعم، حين أتونا في ديارنا. فأخذ بيدي علي بن أبي طالب، فانطلق بي، ولو أرى أحداً يخلصني منه لدعوته، فقلت: ياعلي! إنك لقاطع لساني؟
قال: إني لممضٍ فيك ما أُمِرْتُ. قال: ثم مضى بي، فقلت: يا علي! إنك لقاطع لساني؟ قال: إني لممض فيك ما أمرت. فما زال بي حتى أدخلني الحظائر، فقال لي: اعتد ما بين أربع إلى مائة. قال: قلت: بأبي أنتم وأمي، ما أكرمكم، وأحلمكم، وأعلمكم!
قال: فقال: إن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم أعطاك أربعاً، وجعلك مع المهاجرين. فإن شئت فخذ المائة، وكن مع أهل المائة.
قال: قلت: أشر عليّ. قال: فإني آمرك أن تأخذ ما أعطاك، وترضى قلت: فإني أفعل.

وذكروا في توضيح ما جرى: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم لما قال: اقطعوا عني لسانه، قام عمر بن الخطاب، فأهوى إلى شفرة كانت في وسطه ليسلها، فيقطع بها لسانه. فقال النبي صلى الله عليه وآله وسلم لأمير المؤمنين عليه السلام: قم أنت فاقطع لسانه.
وقد ذكروا كذلك: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم أرسل إليه بحلة.
– وفي رواية: فأتم له رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم مائة.

 خلاصہ کلام
عرب جب کسی شخص کی زبان بندی کرنا چاہتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ اس کی زبان کاٹ دو (یعنی کچھ انعام اکرام کرکے اس کی زبان جو چل رہی ہے اس کو بند کردو)۔
چونکہ عباس بن مرداس رضی اللہ عنہ کو ان نئے مسلمانوں کو زیادہ دیئے جانے اور پرانے مسلمانوں کو کم دیئے جانے پر دکھ ہوا تھا تو اس نے ایسے اشعار پڑھے جس میں ان لوگوں کو فوقیت دیئے جانے کو پسند نہیں کیا تھا اور یہ بات تو بہت سارے اصحاب کرام نے محسوس کی تھی اور بعض نے اس کا اظہار بھی کیا تھا (جیسے جمیل بن سراقہ رضی اللہ عنہ کو کچھ نہیں دیا گیا تو کسی نے عرض کیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر عُیَينہ بن حصن جیسے لوگوں سے زمین بھر جائے تب بھی جمیل بن سراقہ ان سے بہتر ہے، البتہ ایک شخص نے گستاخی کی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اس کی نسل سے خوارج نکلیں گے) لہذا عباس بن مرداس رضی اللہ عنہ کے اشعار گستاخی والے نہیں تھے اور نہ ہی اصل واقعے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ ہے، البتہ چوتھی صدی کا ایک فاطمی اسماعیلی شیعہ اس واقعے کو حضرت علی کے فضائل میں بیان کرنا شروع کرتا ہے اور موجودہ زمانے کے شیعہ سنی خطباء اس صحابی کو گستاخ شمار کرکے سارے مدینے پر لرزہ طاری کروادیتے ہیں جبکہ واقعے کی حقیقی شکل موجودہ شکل سے یکسر مختلف اور الگ ہے، لہذا اس واقعے کی نسبت آپ علیہ السلام کی طرف کرنا درست نہیں.

《واللہ اعلم بالصواب》
《کتبه:
0333-8129000
2 نومبر ٢٠١٨

Posted by | View Post | View Group

You might also like More from author

تبصرے

Loading...