ہدایت کے ضابطے ! از قاری حنیف ڈار

الحمد للہ وحدہ ،
والصلوۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ ،،
اما بعد ،،،،
انسانوں کی دو قسموں سے اکثر واسطہ پڑتا ھے ،،،،
ایک وہ لوگ جنہیں حقیقت میں حق کی تلاش ھوتی ھے اور وہ پوچھتے پھرتے ھیں کہ ان سے کہاں غلطی ھوئی ھے ؟ وہ رب تک پہنچنا چاھتے ھیں ،،، ان لوگوں کے بارے میں اللہ پاک کا وعدہ ھے کہ وہ ان کا ھاتھ پکڑے گا اور ان کو لازماً اپنے تک پہنچنے کا رستہ دکھائے گا اور اللہ یقیناً محسنین کے ساتھ ھے کوئی دور نہیں ھے (( والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا وان لمع المحسنین (العنکبوت 96 )) اس نے فرعون کے جادوگروں کی نیت بدلتے ھی ان کا ھاتھ پکڑ لیا تھا اور کچھ اس طرح پکڑا تھا کہ فرعون کی خوفناک دھمکیوں کے باوجود انہوں نے ایک جملہ کہہ کر اس کے سارے رعب داب پر پانی پھیر دیا تھا کہ لن ن‍ؤثرک علی ما جاءنا ، والذی فطرنا ، فاقض ما انت قاض ،، ھم تجھے اب اثر انداز نہ ھونے دیں گے اور ھر گز ترجیح نہ دیں گے اس پر جو ھمارے پاس کھل کر سامنے آ گیا ھے اور جس نے ھم کو بنایا ھے ،تو جو کر سکتا ھے کر لے تو ، تو صرف اس دنیائے فانی کے فیصلے کر سکتا ھے جبکہ اللہ بہترین آقا بھی ھے جس کی محبت اور انعام بھی دائمی ھے اور جس کا عذاب بھی دائمی ھے ،، قَالُوا لَنْ نُؤْثِرَكَ عَلَىٰ مَا جَاءَنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالَّذِي فَطَرَنَا ۖ فَاقْضِ مَا أَنْتَ قَاضٍ ۖ إِنَّمَا تَقْضِي هَٰذِهِ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا.( طہ – 72 )،، ظاھر ھے کہ جادوگروں میں یہ تبدیلی باھر سے موسی علیہ السلام کا کوئی فوری خطبہ سن کر نہیں آئی تھی بلکہ ان کے اپنے اندر کی سیٹنگز تبدیل ھوتے ھی وہ پیج ٹھک ٹھک کر کے کھلتے چلے گئے جو پچھلے 30 سال سے نہیں کھل سکے تھے اور جو علم ان کے اندر ھوتے ھوئے بھی ان کی مدد نہیں کر رھا تھا ، اندر کی نیت تبدیل ھوتے ھی ٹھک ٹھک کر کےلائن میں لگنا شروع ھو گیا ،، خدا باھر سے نہیں اندر سے ملتا ھے اور خدا تک پہنچنے کا قریب ترین اور مختصر ترین رستہ خود انسان کے اپنے اندر واقع ھے ،، جو اس دروازے کو بند کر کے خدا کو ڈھونڈنے نکلتے ھیں وہ کبھی خدا تک نہیں پہنچ پاتے ،؎
اپنے من کو بھول کر، سارا جہاں ڈھونڈا کئے ،،،
تم کہاں بیٹھے ھوئے تھے، ھم کہاں ڈھونڈا کئے ،،،
اللہ پاک نے اس مضمون کو بہترین اور مختصر ترین انداز مٰں سمجھایا ھے ،،
(( ﻓَﺈِﻧﱠﮭَﺎ ﻟَﺎ ﺗَﻌْﻤَﻰ اﻟْﺄَﺑْﺼَﺎرُ. وَﻟَﻜِﻦ ﺗَﻌْﻤَﻰ اﻟْﻘُﻠُﻮبُ. اﻟﱠﺘِﻲ ﻓِﻲ اﻟﺼﱡﺪُورِ.)) الحج ۔۔
جب دل اندھے ھو جاتے ھیں تو آنکھیں بھی رستہ دکھانا چھوڑ دیتی ھیں ،، پہلے نسخہ سمجھایا ھے کہ زمین میں گھوم پھر کر باغیوں کے اجڑے ھوئے کنوئیں اور بے مکین محلات جا کر دیکھو تا کہ تمہاری دلوں کو عقل آئے تا کہ تم وحی کی پکار پر کان دھر سکو ،،
ھدایت طلبگار کے لئے بس ایک ھی کتاب کافی ھے ،، کتاب اللہ وہ اس کو پڑھنا شروع کر دے ،، ایوان ریڈلے کو سمجھ لگ گئ ھے تو یہ سمجھ کسی سے بھی دور نہیں ھے ، جہاں کوئی بات سمجھ نہ لگے ھم بیٹھے ھیں 24 گھنٹے اسی کام کے لئے ھم سے رابطہ کیجئے ، ھم مدد کے لئے تیار بیٹھے ھیں ۔۔
دوسری قسم کے لوگ وہ ھیں جو کہتے ھیں کہ میں کافر ھونے جا رھا ھوں مجھے روک کر دکھاؤ ،،ان کا حال اس بچے کا سا ھے جو بستہ کلاس میں پھینک کر تنگ سے تنگ کھڑکی میں سے بھی ٹیڑھا میڑھا ھو کر نکل بھاگتا ھے ،، جناب دین کا معاملہ بڑا الگ ھے ، ھدایت کا ضابطہ طلب ھے (( و یہدی الیہ من ینیب ))،، اگر آپ کو ھدایت کی طلب نہیں تو یہ ھدایت آپ کو ملے گی بھی نہیں ، رزق بغیر طلب بھی مل جاتا ھے کیونکہ وہ مقدر ھے جبکہ ھدایت میں آپ کو آپشن دیا گیا ھے کہ من شاء فلیومن و من شاء فلیکفر ، جو چاھے وہ ایمان لائے جو چاھے کافر ھو جائے ،، جب کہ امیری اور غریبی میں ایسا نہیں فرمایا کہ جو چاھے وہ امیر ھو جائے اور جو چاھے وہ غریب ھو جائے ،، کوئی کچھ نہیں کرتا اور اس کی مٹی بھی سونا ھو جاتی ھے اور کوئی ھزار جتن کرتا ھے اور اس کا سونا بھی مٹی بنتا چلا جاتا ھے ،، اس ضابطے کو ثابت کرنے کے لئے اللہ پاک نے قرآن مثالوں سے بھر دیا ھے اور کوئی قریبی رشتہ چھوڑا نہیں کہ جس کی مثال دے کر سمجھایا نہ ھو کہ ھدایت بغیر طلب نہیں ملتی ،، آزر کو طلب نہیں تھی بیٹا نبی ھی نہیں نبیوں کا باپ ابوالانبیاء تھا ،مگر باپ کو نہیں ملی ،، نوح علیہ السلام کے بیٹے اور بیوی کو طلب نہیں تھی ،، باپ سے نہیں ملی ، بیوی کو شوھر سے نہیں ملی ،، لوط علیہ السلام کی بیوی کو اولی العزم رسول شوھر سے نہیں ملی ،، رحمۃ للعالمین کے تایا کو بھتیجے کے پڑوس میں رہ کر نہیں ملی ،،
آپ کو طلب نہیں تو آپ کا باپ بھی رسول ھوتا تو آپ کو کبھی ھدایت نہ ملتی اگرچہ وحی کا دروازہ آپ کے گھر میں کھُلتا ، پھر ھم کون ھوتے ھیں آپ کو ھدایت دینے والے ،، آپ متکبر ھیں اور سمجھتے ھیں کہ آپ کے ملحد یا مرتد ھو جانے سے اللہ پاک کا بہت نقصان ھو جائے گا لہذا اس کو زبردستی آپ کو مسلمان بنانا چاھئے کیونکہ آپ جیسا ھونٹ ٹیڑھے کر کے انگریزی بولنے والا رب کو ملے گا نہیں ،، آپ بھول گئے کہ کل آپ پیشاب میں تیرنے والا ایک دمدار کیڑا تھے ،، اور بس ،، اللہ پاک نے ٹھیک مرض پکڑا ھے ، جو لوگ ھماری آیات میں بغیر دلیل کے جھگڑتے ھیں ان کے دلوں میں تکبر ھے ، وہ اپنے کفر سے اللہ کو نقصان پہنچانے کی پوزیشن میں کبھی بھی نہیں پہنچ سکتے (( إِنَّ الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِي آيَاتِ اللَّهِ بِغَيْرِ سُلْطَانٍ أَتَاهُمْ إِن فِي صُدُورِهِمْ إِلاَّ كِبْرٌ مَّا هُم بِبَالِغِيهِ ،،، غافر- 56 ))
اگر آپ سمجھتے ھیں کہ آپ کو ساری صلاحتیں اس لئے دی گئ ھیں کہ آپ رات دن بیٹھ کر اللہ کی غلطیاں نکالا کریں اور ھم بیٹھ کر اللہ کا دفاع کیا کریں ،، تو ویری سوری سر ،، ھمارے پاس روحانی خودکشی کرنے والوں کے لئے وقت نہیں ھے ،ھماری خدمات ان کے لئے ھیں جو ڈوب رھے ھیں اور مدد کے لئے پکار رھے ھیں ،،

سورس

ماخذ فیس بک
Leave A Reply

Your email address will not be published.