دَابَّةً مِّنَ الْأَرْضِ سے کیا مراد ہے؟ تحریر:محمد نعیم خان

ہمیں دَابَّةً مِّنَ الْأَرْضِ کا زکر سورہ النمل کی آیت 82 میں ملتا ہے۔ اس آیت کی تشریح میں جتنی بھی تفاسیر پڑھی ہیں ان سب میں سب سے بہتریں تفسیر جو میرے نزدیک اب تک ہے وہ امین احسن اصلاحی مرحوم کی ہے۔ اس لئے اس تحریر کا سارا کریڈٹ اصلاحئ مرحوم کو ہی جاتا ہے۔

زیادہ تر مفسرین نے دَابَّةً مِّنَ الْأَرْضِ سے مراد قیامت کی نشانی لی ہے۔ جس میں اللہ زمین سے ایک مخلوق نکالے گا جو لوگوں سے کلام کرے گا اور یہ انسانیت پر اللہ کی طرف سے اتمام حجت ہوگا۔ مودودی مرحوم اس آیت کی تشریح میں ابن عمر کا قول نقل کرتے ہیں کہ یہ اس وقت ہوگا جب زمین پر کوئ نیکی کا حکم کرنے والا اور بدی سے روکنے والا باقی نہیں رہے گا۔ پھر مودودی مرحوم لکھتے ہیں کہ ابن مردودیہ نے ایک حدیث ابو سعید خدری کے حوالے سے نقل کی ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ خود انہوں نے یہ بات رسول اللہ سے سنی تھی۔ یہ باتیں بیان کرنے کے بعد مودودی مرحوم فرماتے ہیں کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب انسان امر بالمعروف اور نہی عن المنکر چھوڑ دیں گے تو قیامت قاتم ہونے سے پہلے اللہ ایک جانور کے ذریعے سے آخری مرتبہ اتمام حجت فرماہیں گے۔

پھر یہ ایک ہی جانور ہوگا یا بہت سارے مختلف مقامات سے نکلیں گے اس پر مختلف اقوال ہیں ۔ جس پر کسی کو اتفاق نہیں ۔

مودودی مرحوم دونوں معنوں کا احتمال بیان کرتے ہیں ۔ پھر یہ بات بھی بیان کرتے ہیں کہ یہ جانور لوگوں سے باتیں کرے گا اور کہے گا کہ تم ہماری آیات کا انکار کرتے تھے اور قیامت کے آنے میں شک میں مبتلا تھے تو دیکھو اب اس کا وقت آنپہنچا ہے۔ اب اس مشکل کو حل کرنے کے لئے کہ آیت میں جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں کہ ہماری آیات کا انکار کرتے تھے، مودودی مرحوم اس کی تاویل یہ بیان کرتے ہیں کہ وہ ”ہم“ کا لفظ بلکل اس طرح استعمال کرے گا جیسا کہ ایک حکومت کا کارندہ ہم کا لفظ اس معنی میں بولتا ہے کہ وہ اپنی حکومت کی طرف سے بات کر رہا ہوتا ہے نہ کہ اپنی شخصی حثیت سے۔ یہ تاویل دینے کے بعد شائد مودودی مرحوم کو اس پر تذبذب کا شکار تھے تو دوسرے جملے میں بیان کرنے لگے کہ دوسری صورت میں کیوں کہ اللہ اس کے کلام کو اپنے الفاظ میں بیان کررہا ہے اس لئے اللہ نے ”ہماری آیات“ کے الفاظ بیان کئے۔

قرآن کا مطالعہ کریں تو یہ بات آپ کو ملے گی کہ اللہ نے ہر انسان کو ارادہ و اختیار دے کر اس دنیا میں بھیجا ہے۔ جو کچھ بھی ماننا ہے اس کو اپنے اختیار سے ہی ماننا ہے اور جو کچھ بھی رد کرنا ہے وہ بھی اپنے ہی ارادہ اختیار سے رد کرنا ہے۔ یہ اللہ کا منشا ہی نہیں ہے کہ کسی کی عقل کو ماووف کر کے اس سے کسی بات کا اقرار کروائے ۔ وہ انسان کو اس کائنات پر ، بلکے خود اپنے نفس میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ بلکہ وہ خود یہ بات قرآن میں بیان کرتا ہے کہ وہ انسان کو انفس اور آفاق میں اپنی نشانیاں دیکھائے گا۔ اس لئے یہ بات درست معلوم نہیں ہوتی کہ اللہ قیامت کے قریب ایک ایسے جانور کو نکالے جو کلام کر کے ان کو یہ بات بتائے کہ اب قیامت کے بارے میں اللہ کا ارشاد درست ہے۔ زبردستی یا کسی کو مجبور کر کے ایمان کا اقرار کروانا اللہ کی منشا میں شامل نہیں ۔

اب اصل موضوع کی طرف آییں تو امین اصلاحی مرحوم اس آیت کی تشریح کچھ یوں کرتے ہیں :

قریش کے مطالبہ نشانئ عذاب کا جواب: ’وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْْہِمْ‘ سے یہ مراد ہے کہ جب ان کے باب میں اللہ کا فیصلہ صادر ہو جائے گا اور سنت الٰہی کے مطابق جس چیز کے وہ مستحق ہیں اس کے ظہور کا وقت آ جائے گا۔ ’عَلَیْْہِمْ‘ میں ضمیر کا مرجع قریش ہیں جن سے اس سورہ میں خطاب ہے اور جو مطالبہ کر رہے تھے کہ قرآن ان کو جس عذاب یا قیامت کی خبر دے رہا ہے جب تک وہ ان کو یا ان کی کوئی نشانی دیکھ نہ لیں گے اس وقت تک وہ ماننے والے نہیں ہیں۔ ان کے اس مطالبے کا ذکر آیات ۷۱-۷۳ میں گزر چکا ہے۔ ’تُکَلِّمُہُمْ‘ یہاں اس مفہوم میں ہے جس مفہوم میں سورۂ روم کی آیت ۳۵ میں ہے۔ فرمایا ہے: أَمْ أَنۡزَلْنَا عَلَیْْہِمْ سُلْطَاناً فَہُوَ یَتَکَلَّمُ بِمَا کَانُوۡا بِہِ یُشْرِکُوۡنَ (الروم: ۳۵) ’’کیا ہم نے اتاری ہے ان پر کوئی دلیل جو شہادت دے رہی ہو ان چیزوں کے حق میں جن کو یہ خدا کی شریک ٹھہراتے ہیں؟‘‘ یہاں ظاہر ہے کہ لفظ ’تکلم‘ اس عام معنی میں نہیں ہے جس معنی میں ہم بولتے ہیں بلکہ اس کا مفہوم کسی چیز کے حق میں دلیل، نشانی یا شہادت ہونا ہے۔ فرمایا کہ اگر یہ متمردین تمہاری بات اس وقت تک ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں جب تک تم ان کو کوئی نشانئ عذاب نہ دکھا دو تو اس طرح کی کوئی نشانی دکھا دینا خدا کے لیے ذرا بھی مشکل نہیں ہے۔ وہ ان کو توبہ و اصلاح کے لیے مہلت دے رہا ہے اس وجہ سے اپنے رسول اور اپنی کتاب کے ذریعہ سے ان کو تعلیم و تذکیر اور انذار و تبشیر کر رہا ہے لیکن جب اتمام حجت کا یہ وقت گزر جائے گا اور سنت الٰہی کے بموجب ان کے لیے عذاب ہی کا فصیلہ ہو جائے گا تو کوئی نشانی ظاہر کر دینے کے لیے خدا کو کوئی اہتمام خاص نہیں کرنا ہے۔ وہ زمین ہی سے کوئی جانور اٹھا کھڑا کرے گا جو اس بات کی شہادت دے دے گا کہ یہ ناہنجار و نابکار لوگ اللہ کی آیات پر یقین کرنے والے نہیں ہیں اس وجہ سے قہر الٰہی کے مستحق ہیں۔ اس اسلوب بیان سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ابھی تو اللہ تعالیٰ آسمان سے اپنی ہدایت نازل فرما رہا ہے اور اپنے رسول اور اپنی کتاب کے ذریعہ سے ان پر حجت تمام کر رہا ہے لیکن ان کی شامت اعمال سے اگر ان کی ہلاکت کا فیصلہ ہو ہی گیا تو خدا زمین سے کسی جانور کے ذریعہ سے بھی ان پر شہادت دلوا دے گا۔ رسولوں کی تاریخ میں اس طرح کی نشانی کی ایک مثال ناقۂ ثمود ہے۔ حضرت صالحؑ کی قوم نے جب ان کی بات کسی طرح نہیں مانی اور برابر اس بات پر مصر ہی رہی کہ اس کو کوئی عذاب کی نشانی دی جائے تو حضرت صالحؑ نے ایک اونٹنی نامزد کر دی کہ یہ عذاب کی نشانی ہے۔ اگر تم نے اس کو کوئی گزند پہنچایا تو تم پر قہر الٰہی ٹوٹ پڑے گا چنانچہ جونہی انھوں نے اس کو گزند پہنچایا اللہ کا عذاب ان پر آ دھمکا۔ اس آیت کی یہ تاویل، میرے فہم کے حد تک، قرآن کے الفاظ، نظام اور اس کے نظائر کی روشنی میں بالکل واضح ہے لیکن ہمارے مفسرین اس کے تحت ایک عجیب و غریب ’دآبۃ‘ کا ذکر کرتے ہیں جو قیامت کے قریب ظاہر ہو گا۔ میرے نزدیک اس کا تعلق اس آیت سے نہیں بلکہ آثار قیامت کی روایات سے ہے۔ ان روایات کو نقد حدیث کی کسوٹی پر پرکھ کر دیکھیے۔ اگر وہ اس کسوٹی پر پوری اتریں تو ان کو قبول کیجیے ورنہ رد کر دیجیے۔ یہاں یہ امر بھی یاد رکھیے کہ قریش کو یہ دھمکی جو دی گئی تھی وہ اس شرط کے ساتھ مشروط تھی کہ ’’جب ان کے بارے میں خدا کا فیصلہ ہو جائے گا۔‘‘ اگر قریش اپنی ضد پر اڑے رہ جاتے تو ان کو لازماً اسی عذاب سے سابقہ پیش آتا جس کی اس آیت میں وعید ہے لیکن معلوم ہے کہ قریش کی اکثریت آہستہ آہستہ مشرف بہ اسلام ہو گئی اس وجہ سے ان پر اس طرح کا کوئی فیصلہ کن عذاب نہیں آیا جس قسم کا عذاب عاد و ثمود اور دوسری قوموں پر آیا بلکہ ان کے اشرار اہل حق کے ساتھ تصادم میں ختم ہو گئے۔

سورس

Dr. Muhammad Hamidullah
Visit Website of Dr. Muhammad Hamidullah
Leave A Reply

Your email address will not be published.