عالمی یوم حجاب

﴿ یومِ حجاب ﴾

4 ستمبر : دُنیا بھر کی مسلم خواتین “یومِ حجاب” کے طور پر مناتی ہیں۔

 

﴿ حجاب ﴾

حجاب’‘ کا لفظ ،آڑ، اوٹ اور پردہ و رکاوٹ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
حجاب ‘‘سے مراد ’’پردہ’‘ ہے اور ’’حجاب’‘ کا لفظ ہر اس چیز کے لیے استعمال ہوتا ہے جس کے ذریعے ’’پردہ کیا جائے اور ہر وہ چیز جو کہ دو اشیاء کے درمیان آڑ ہو ‘’حجاب’‘ کہلاتی ہے ۔’‘

قرآن مجید میں بھی انہی معنوں میں استعمال ہوا ہے :
( وَاِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْـَٔــلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَاۗءِ حِجَابٍ) 
‘’اور جب تمہیں ان (نبی کی بیویوں) سے کوئی چیز مانگنا (یا کچھ پوچھنا) ہو تو تم پردے کے پیچھے سے مانگا (اور پوچھا) کرو’‘

انسانی معاشرتی زندگی میں ’’ستر’‘ اور ‘’حجاب’‘ دونوں خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ ’’ستر’‘ اور ’’حجاب’‘ دو مختلف چیزیں ہیں جن کے مفہوم کو اکثر خلط کر دیا جاتا ہے ۔ ’’ستر’‘ تو ہر دین سماوی میں فرض تھا جبکہ ’’حجاب’‘ اکثر شریعتوں اور شروع اسلام میں بھی فرض نہیں تھا بلکہ پانچ ہجری کو اس کا حکم نازل ہوا۔

﴿ ستر اور حجاب ﴾

 
‘’سترعورت ہر مومن اور مومنہ پر فرض ہے اور اس حکم میں مرد و عورت دونوں برابر ہیں لیکن حجاب کا حکم صرف عورتوں کے ساتھ خاص ہے ۔ ‘‘
مفتی صاحبؒ مزید لکھتے ہیں

﴿ قبل از اسلام حجاب ﴾ 
حجاب کا تعلق صرف تاریخ اسلام سے نہیں ہے بلکہ اسلام سے قبل بھی مختلف تہذیبوں اور علاقوں میں اس کا ثبوت ملتا ہے ۔

﴿ قدیم یونان میں حجاب ﴾

اقوام قدیمہ میں جس قوم کی تہذیب سب سے زیادہ شاندار نظر آتی ہے وہ اہل یونان ہیں ۔یونان کی عریانی اور فحاشی کی داستانیں تو بہت مشہور ہیں لیکن ایسا دور بھی تھا جب ان میں پردہ کا رواج تھا اور گھریلو شریف عورت کی عزت ہرسوسائٹی میں رہی ہے ۔
‏Han Licht لکھتا ہے :
‘’جدید دور کا نظریہ کہ عورتوں کی دوقسمیں ہیں ماں اور بازاری عورت ،قدیم ترین یونانیوں میں بھی موجود تھا ،اور اسی کے مطابق ان کا عمل بھی تھا ،جب یونانی عورت ماں بن جاتی تو گویا اس نے اپنی زندگی کا مقصد پالیا ،ماں بننے والی عورت کی جتنی عزت یونانی کرتے اتنی کسی اور کی نہ کرتے تھے ،ماں بننے کے بعد عورت کا کام گھر سنبھالنا اور بچے پالنا اور لڑکیوں کی نگہداشت ہوتا تھا حتی کہ ان کی شاد ی کر دی جائے

﴿ روم کی قدیم عورتوں میں حجاب ﴾

یونانیوں کے بعد جس قوم کو دنیا میں عروج نصیب ہوا وہ اہل روم تھے ،رومیوں کی پرانی تہذیب میں عورت کی حیثیت ایک با وقار اور عفت و حیاء کے پیکر کی تھی ،روم میں جو عورتیں دایا گیری کا کام کرتی تھیں وہ بھی اپنے گھروں سے نکلتے وقت بھاری نقاب میں اپنا چہرہ چھپا لیتی تھیں اور اس کے اوپر ایک موٹی چادر اوڑھتی تھیں جو ایڑی تک لٹکتی رہتی ،پھر اس چادر کے اوپر بھی ایک عبا اوڑھی جاتی تھی جس کے سبب اس کی شکل نظر نہ آتی تھی اورنہ جسم کی بناوٹ ظاہر ہوتی تھی ۔

﴿ عیسائیت میں حجاب ﴾

جسٹس سیدا میر علی(م ۱۹۱۹ء ) عورتوں کے بارے میں عیسائیت کے نقظہ نظر کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
‘’ابتدائی زمانوں میں جب اشرف واسفل،عالم و جاہل ،سب کا مذہب حضرت عیسی ؑ کی والدہ کی پرستش پر مشتمل تھا ۔۔۔۔راسخ العقیدہ کلیسا نے عورتوں کو ادنی ترین رسوم سوا کے تمام مذہبی رسوم سے خارج کر دیا تھا ،انہیں تاکید تھی کہ گھر کے گوشہ عزلت میں بسر کریں ،اپنے میاں کی اطاعت اور گھر کا کام کریں ،اگر وہ کبھی گھر سے باہر جائیں تو ضروری تھا کہ وہ اپنے آپ کو سر سے پاؤں تک لپیٹ لیں۔’‘

﴿ بائبل میں حجاب کا ذکر ﴾

عہد نامہ قدیم میں بھی ‘’برقع’‘ کا لفظ کئی جگہ ملتا ہے ۔
‘’عہد نامہ قدیم’‘ میں صیہونی لڑکیوں کو جو بناؤ سنگھار کر کے ننگے سر لوگوں کو متوجہ کرتی ہوئی نکلتی تھیں ۔سخت مذمت کی گئی ہے ۔یہ اور مذمت رب کی اس وعید تک پہنچتی ہے کہ ان کے سروں کو سزا کے طور پر گنجا کر دیا جائے گا ۔
‘’عہد نامہ جدید’‘ میں اس بات پر انتہائی سختی کی گئی ہے کہ عورت کو اپنا سر ڈھانکنا ضروری ہے ورنہ وہ ایسی ہو گی جس کے سر پر شیطان ہو اورسزاکے طور پر اس کو گنجا کر دیا جائے اور اس کے ساتھ کتاب مقدس کے دلائل بناؤ سنگھار ترک کر کے نفس کو سنوارنے کے بارے میں آئے ہیں ۔اور یہ حجاب جو بائبل میں فرض تھا وہ تقوی،فتنہ سے دور اور معاشرے میں فساد کو روکنے کے لیے تھا ۔

﴿ ایران میں حجاب کا رواج ﴾

ایران میں بھی ‘’حجاب’‘ کا رواج تھا اور ایرانی حرم میں تو ‘’پردہ’‘ اس قدر شدت کے ساتھ رائج تھا کہ نرگس کے پھول بھی محل کے اندر نہیں جا سکتے تھے کیونکہ نرگس کی آنکھ مشہور ہے ۔

﴿ عرب میں حجاب ﴾

مولانا شبلی نعمانی(۱۹۱۴ء) لکھتے ہیں :
‘’چہرہ اور تمام اعضاء کا پردہ عرب میں اسلام سے پہلے موجود تھا۔’‘
عرب جاہلیت کے حالات معلوم کرنے کے لیے سب سے عمدہ اور مستند ذریعہ شعرائے جاہلیت کے اشعار ہیں ،اور شعرائے جاہلیت کے کئی ایسے اشعار ملتے ہیں جن سے وہاں کے رواج ‘’حجاب’‘ کی تفصیل معلوم ہوتی ہے ۔

حضرت زینب بنت جحش ؓ کے نکاح کے وقت پہلی آیت ‘’حجاب’‘ نازل ہوئی ہے اس کے نازل ہونے سے پہلے بھی حدیث میں ان کی گھر میں نشست کی یہ صورت بیان کی گئی ہے ۔
((وَزَوْجَتُهُ مُوَلِّيَةٌ وَجْهَهَا إِلَی الْحَائِطِ)) 
‘’اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ دیوار کی طرف رخ کئے ہوئے بیٹھی ہوئی تھیں۔’‘
مندرجہ بالا حوالوں سے یہ بات واضح اور ثابت ہوتی ہے کہ ’’حجاب’‘ کی ضرورت و اہمیت اور افادیت مختلف تہذیبوں اور علاقوں میں مسلم رہی ہے اور اسلام میں بھی احکام حجاب کے نازل ہونے سے پہلے بھی حجاب کا رواج تھا ۔

﴿ فواحش کی ممانعت ﴾

اسلام نے معاشرے میں عفت و عصمت کے نظام کی داغ بیل ڈالنے کے لیے ہرقسم کے فواحش و منکرات کو حرام قرار دیا ۔

ارشاد باری تعالیٰ ٰ ہے :۔
(قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْاِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ) 
‘’(اے نبی ﷺ)فرما دیجئے کہ تمام فحش باتوں کو البتہ میرے رب نے حرام کیا ہے خواہ وہ اعلانیہ ہوں خواہ پوشیدہ اور ہر گناہ کی بات کو اور ناحق کسی پر ظلم کرنے کو بھی حرام کیا ہے ۔’‘

اس آیت میں لفظ ’’فواحش’‘ استعمال ہوا ہے ۔جس کی جمع ’’فاحشہ’‘ ہے ۔اوراس کا اردو میں ترجمہ ’’برا’‘ اور ’’قابل نفرت قول یا فعل’‘ اور ‘’بدکاری و بے حیائی’‘ سے کیا جاتا ہے ۔لفظ ’’فحش’‘ اور ’’فحشاء’‘ بھی انہی معنوں میں استعمال ہوتے ہیں ۔
قرآن و حدیث کی اصطلاح میں ہرایسے برے کام کے لیے یہ الفاظ استعمال ہوتے جن کی برائی اور فساد کے اثرات برے ہوں اور دور تک پہنچیں۔
قرآن کریم میں جا بجا فحش و فحشاء کی ممانعت وارد ہوئی ہے ۔

ایک اور مقام پر ہے ۔
(وَيَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَاۗءِ وَالْمُنْكَرِ ) 
‘’اور اللہ بے حیائی اور بری بات سے منع کرتا ہے ۔’‘

ایک مقام پر تو ’’فواحش’‘ کے قریب جانے سے بھی منع کیا گیا ہے ۔
ارشاد ربانی ہے :
( وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ) 
‘’اور بے شرمی کی باتوں کے قریب بھی نہ جاؤ خواہ وہ کھلی ہوں یا چھپی۔’‘

اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے مفتی محمد شفیعؒ لکھتے ہیں :
‘’اس آیت کو اگر مفہوم عام میں لیا جائے تو تمام بری خصلتیں اور گناہ خواہ زبان کے ہوں خواہ ہاتھ پاؤں کے ہو ،اور خواہ دل سے متعلق ہوں ،سبھی اس میں داخل ہو گئے ،اور اگر مشہور عوام معنی ‘’بے حیائی ‘‘کے لیے جائیں تو اس کے معنی بدکاری اور اس کے مقدمات اوراسباب مراد ہوں گے۔

﴿ غض بصر (بد نظری) ﴾

‘’بد نظری’‘ تمام فواحش کی بنیاد ہے ،اسلام نے اس راستہ کو پہلے بند کیا ہے ۔انسان کے لیے نقصان دہ چیز ‘’نگاہ’‘ کا غلط استعمال ہے اس لیے قران و حدیث دونوں سب سے پہلے اس کی گرفت کرتے ہیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
(قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ ۭ ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيْرٌۢ بِمَا يَصْنَعُوْنَ ) 
‘’ایمان والوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہ نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کو بھی محفوظ رکھیں یہ ان کے لیے بہت پاکیزہ ہے بیشک اللہ جانتا ہے جو وہ کرتے ہیں۔’‘
اور اسی طرح عورتوں کو بھی غض بصر کا حکم دیا گیا ہے ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
( وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ يَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ ) 
‘’اور ایمان والیوں سے کہہ دو کہ اپنی نگاہ نیچی رکھیں اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں۔’‘
حقیقت یہ ہے کہ ’’بد نظری’‘ ہی ‘’بدکاری’‘ کے راستے کی پہلی سیڑھی ہے ۔ اسی وجہ سے ان آیات میں نظروں کی حفاظت کے حکم کو ’’حفاظتِ فرج’‘ کے حکم پر مقدم رکھا گیا ہے ۔
‘’ غض بصر’‘ کا حکم ہر مسلمان مردو عورت کے لیے لازم ہے ۔نگاہ نیچی رکھنا فطرت اور حکمت الہی کے تقاضے کے مطابق ہے ۔اس لیے کہ عورتوں کی محبت اور دل میں ان کی طرف خواہش فطرت کا تقاضا ہے ۔
ارشاد ربانی ہے :
( زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَاۗءِ) 
‘’لوگوں کو مرغوب چیزوں کی محبت نے فریفتہ کیا ہوا ہے جیسے عورتیں۔’‘
آنکھوں کی بے باکی اور ان کی آزادی خواہشات میں انتشار پیدا کرتی ہے ۔
حضرت جریر بن عبداللہ البجلی ؓ کہتے ہیں میں نے حضور اکرم ﷺ سے سوال کیا کہ ‘’اچانک’‘ نظر پڑ جائے تو کیا کروں؟ آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا: أَنْ أَصْرِفَ بَصَرِي 
ترجمہ: ‘’میں اپنی نظر پھیر لوں.’‘

مردوں کے لیے عورتوں کی طرف نظر کرنا ائمہ ثلاثہ کے ہاں جائز نہیں ہے ،فتنہ کا خوف ہو یا نہ ہو ،تو تمام اہل علم کا اتفاق ہے کہ ‘’شہوت ‘‘کے ساتھ عورت کا مرد کو دیکھنا حرام ہے

چنانچہ امام نوویؒ(۶۷۶ھ) لکھتے ہیں :
وأما نظر المرأة إلى وجه الرجل الأجنبي فإن كان بشهوة فحرام بالاتفاق 
‘’اور بہرحال عورت کا اجنبی مرد کے چہرے کو دیکھنا اگر شہوت سے ہو تو بالاتفاق یہ دیکھنا حرام ہے ۔‘‘

﴿ غیر محرم سے خلوت اور لمس کی ممانعت ﴾
شریعت مطہر ہ نے غیر محرم عورت کے ساتھ تنہائی میں بیٹھنے سے منع کیا ہے ۔
حدیث میں ہے :
((أَلَا لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ إِلَّا کَانَ ثَالِثَهُمَا الشَّيْطَانُ )) 
‘’خبردار کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ خلوت نہ کرے اس لئے کہ ان میں تیسرا شیطان ہوتا ہے۔’‘

﴿ نمائش حسن پر پابندی ﴾

 
عورت کاحسن و جمال اور زیب و زینت کی نمائش،بے باکانہ چہل پہل مردوں کے جذبات میں شورش اور دل و دماغ میں غلط قسم کی سوچیں پیدا کرتی ہے ، جس سے وہ غلط راستوں کی طرف جا نکلتا ہے ۔ تو شریعت نے اس کے لیے ‘’تبرج جاہلیت’‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے پابندی لگائی ۔

⦾ ارشاد ربانی ہے :
( وَقَرْنَ فِيْ بُيُوْتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَــبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْاُوْلٰى ) 
‘’اور اپنے گھروں میں بیٹھی رہو اور گزشتہ زمانہ جاہلیت کی طرح بناؤ سنگھار دکھاتی نہ پھرو۔’‘

﴿ شیریں لہجے میں بات کرنے کی ممانعت ﴾

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ عورت کی آواز میں بھی نسوانی حسن اور دلربائی کا وصف خالق و فاطر کی طرف سے ودیعت کیا گیا ہے ۔ اس کی آواز میں نزاکت اور حلاوت ہوتی ہے جس میں جاذبیت اور کشش کا عنصر شامل ہے ۔لیکن یہی گفتگو کا شیریں اور لوچ دار انداز بہت سے فتنوں کا ذریعہ بنتا ہے ، جس سے لوگوں کے دل میں میلان پیدا ہوسکتا ہے ۔اس راستے کو بھی بند کرتے ہوئے اسلام نے حکم دیا ہے کہ اگر کسی اجنبی مرد بوقت ضرورت بات چیت کرنے کی نوبت آئے تو گفتگو میں لوچ اور لہجہ میں شیرینی نہ پیدا ہونے پائے

⦾ ارشاد ربانی ہے :
( فَلَا تَخْـضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِيْ فِيْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ) 
‘’پس تم (کسی نامحرم سے بوقت ضرورت) بات کرنے میں کسی لچک (اور نرمی) سے کام نہ لو کہ کہیں لالچ میں پڑ جائے کوئی ایسا شخص جس کے دل میں روگ ہو’‘

واضح رہے کہ عورت کی آواز ‘’ستر’‘ میں داخل نہیں ، اور بوقت ضرورت اجنبیوں سے گفت و شنید ہوسکتی ہے ۔تاہم لوچ دار گفتگو پر پابندی احتیاط کے طور پر لگائی گئی ہے اور اس کی رعایت تمام عبادات اور احکام میں رکھی گئی ہے کہ عورتوں کا کلام جہری نہ ہو جو مرد سنیں

﴿ عورت کے لیے زمین پر پاؤں مارکر چلنے کی ممانعت ﴾

عورت کے زمین پر پاؤں مار کر چلنے سے اس کے زیورات وغیرہ کی کھنک دوسرے مردوں کو متوجہ کرسکتی ہے شریعت نے اس سے بھی منع کیا ۔
( وَلَا يَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِيْنَ مِنْ زِيْنَتِهِنَّ) 
‘’ اور وہ زمین پر اس طرح زور سے پاؤں مارتی ہوئی نہ چلا کریں کہ اپنی جو زینت انہوں نے چھپا رکھی ہو وہ ظاہر ہونے لگے ۔’‘

﴿ خوشبو لگا کر نکلنے پر پابندی ﴾

‘’خوش بو ‘‘بھی دوسروں کو متوجہ اور مخاطب کرنے کا ذریعہ ہے شریعت اسلامیہ اتنی حساس ہے کہ اس کی طبع نازک پر یہ بات بھی ناگوار گزرتی ہے کہ کوئی عورت اپنے لباس کو ‘’خوش بو ‘‘میں بسا کر اس طرح گزر ے کہ لوگوں کو اس کی گزر کا علم ہو اور ان کے جذبات میں تحریک پیدا ہو ۔چنانچہ مردوں کی مجلس میں عورتوں کو خوشبو لگانے کر گزرنے سے بڑی سختی سے منع کیا گیا ہے ۔ مسجد میں نماز کے لیے آنے والیوں پر بھی خوشبو کے استعمال پر پابندی لگائی گئی ۔

بلکہ ایک موقع پررسول اللہ ﷺ نے مردو عورت کی خوشبو کے متعلق ایک بڑا اہم فرق بیان کیا ۔
((وَإِنَّ طِيبَ الرِّجَالِ مَا ظَهَرَ رِيحُهُ وَلَمْ يَظْهَرْ لَوْنُهُ أَلَا إِنَّ طِيبَ النِّسَائِ مَا ظَهَرَ لَوْنُهُ وَلَمْ يَظْهَرْ رِيحُهُ)) 
‘’بے شک مردوں کی خوشبو (اچھی )وہ ہے جس کی بو ہو لیکن اس کا رنگ معلوم نہ ہو اور عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس کا رنگ دکھائی دے لیکن اس کی خوش بو معلوم نہ ہو۔’‘

﴿ شرم و حیاء ﴾

امام راغب(م ۵۰۲ھ ) لکھتے ہیں :
الحياء انقباض النفس عن القبائح وتركه لذلك 
‘’قبیح چیزوں سے نفس کے انقباض کرنے اور اس بناء پر انہیں چھوڑ دینے کا نام حیا ہے ۔’‘
‘’حیا ‘‘سے مراد وہ جھجک یا نفسیاتی رکاوٹ نہیں ہے جس کا باعث عام طور پر ہمارا خارج ہوتا ہے ، بلکہ ’’حیا ‘‘انسان کے اندر پائی جانے والی وہ خوبی یا صفت ہے جس کی وجہ سے وہ غیر معروف اعمال سرانجام دینے میں انقباض (گھٹن)محسوس کرتا ہے ۔ حیا ایمان کا ایک شعبہ ہے۔

حضرت آدمؑ و حضرت حواء سے غلطی سرزد ہو جانے کے نتیجے میں جب ان پران کا سترعیاں ہوا تو وہ اسی فطری ’’حیا ‘‘ ہی کی وجہ سے خود کو پتوں سے ڈھانکنے لگے ۔
⦾ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
( فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفٰنِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ ) 
‘’پھر جب ان دونوں نے درخت کو چکھا تو ان پر ان کی شرم گاہیں کھل گئیں اور اپنے اوپر جنت کے پتے جوڑنے لگے ۔’‘

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مدین کے کنویں پر جن دو لڑکیوں کی بکریوں کو پانی پلایا تھا، ان میں سے ایک جب انھیں اپنے باپ کے پاس لے جانے کے لیے بلانے آئی تو اس وقت اس کے آنے میں ‘’حیا ‘‘کی جو صفت نمایاں تھی۔
⦾ قرآن مجید نے درج ذیل الفاظ میں اس کا ذکر کیا ہے :
( اِحْدٰىهُمَا تَمْشِيْ عَلَي اسْـتِحْيَاۗءٍ قَالَتْ اِنَّ اَبِيْ يَدْعُوْكَ لِيَجْزِيَكَ اَجْرَ مَا سَقَيْتَ لَنَا ) 
‘’پس ان میں سے ایک شرماتی ہوئی آئی، کہا کہ میرے والد آپ کو بلاتے ہیں تاکہ جو پانی آپ نے ہماری خاطر پلایا ہے ، اس کا آپ کو صلہ دیں۔’‘

قرآن کریم نے یہاں ایک کنواری عورت کی اس فطری ‘’حیا ‘‘ کا ذکر کیا ہے جواسے کسی غیر محرم مرد سے بات کرتے ہوئے محسوس ہو سکتی ہے ۔اسی طرح ایک کریم النفس آدمی دوسرے کی عزت نفس کا خیال کرتے ہوئے بعض اوقات اس سے اپنا حق وصول کرنے میں بھی ‘’حیا’‘ محسوس کرتا ہے ۔

چنانچہ نبی کریمﷺ نے اپنے بے شمار ارشادات عالیہ میں ‘’ حیا ‘‘کی اہمیت کو بیان کیا ہے ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
((الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسِتُّونَ شُعْبَةً وَالْحَيَائُ شُعْبَةٌ مِنْ الْإِيمَانِ )) 
‘’ایمان کی ساٹھ سے کچھ اوپر شاخیں ہیں اور حیا ایمان کی ایک شاخ ہے ۔’‘

نیز آپﷺ نے فرمایا:
((اَلْحَيَاءُ کُلُّهُ خَيْرٌ)) 
‘’حیا تو خیر ہی خیر ہے ۔’‘

حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :
((مَا کَانَ الْفُحْشُ فِي شَيْئٍ إِلَّا شَانَهُ وَمَا کَانَ الْحَيَائُ فِي شَيْئٍ إِلَّا زَانَهُ)) 
‘’بے حیائی جس چیز میں آتی ہے اسے عیب دار بناتی ہے اور حیا جس چیز میں آتی ہے اسے مزین کر دیتا ہے ۔’‘

بہرکیف شریعت اسلامیہ نے شرم و حیاء کی بہت تلقین کی ہے اگر خدانخواستہ کسی معاشرے میں شرم و حیاء اٹھ جائے تو پھر معاشرہ ایسے فساد میں مبتلا ہو جائے گا جو ختم نہیں ہو گا اور ایسا بگاڑ پیدا ہو گا جس کی اصلاح بہت مشکل ہو گی ۔

﴿ احکام حجاب ﴾

شریعت اسلامیہ میں عورتوں کے لیے ‘’حجاب ‘‘کے احکامات بھی ‘’انسداد فواحش’‘ کے لیے ہیں۔قرآن کریم میں حجاب نسواں اور اس کی تفصیلات کے متعلق سات آیات نازل ہوئی ہیں ۔تین سورہ نور میں اور چا ر سورہ احزاب میں ہیں۔ ’’حجاب’‘ کا حکم نبی کریم ﷺ کی حضرت زینب بنت جحش ؓ کے ساتھ شادی کے بعد نازل ہوا

اس پر سب کا اتفاق ہے کہ حجاب کے متعلق سب سے پہلے نازل ہونے والی یہی آیت ہے جس کو آیت حجاب کہا جاتا ہے ۔
⦾ آیت حجاب یہ ہے :
( يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُيُوْتَ النَّبِيِّ اِلَّآ اَنْ يُّؤْذَنَ لَكُمْ اِلٰى طَعَامٍ غَيْرَ نٰظِرِيْنَ اِنٰىهُ ۙ وَلٰكِنْ اِذَا دُعِيْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَلَا مُسْـتَاْنِسِيْنَ لِحَدِيْثٍ ۭ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْيٖ مِنْكُمْ ۡ وَاللّٰهُ لَا يَسْتَحْيٖ مِنَ الْحَقِّ ۭ وَاِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْـَٔــلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَاۗءِ حِجَابٍ ۭ ذٰلِكُمْ اَطْهَرُ لِقُلُوْبِكُمْ وَقُلُوْبِهِنَّ ۭ وَمَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُــؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَلَآ اَنْ تَنْكِحُوْٓا اَزْوَاجَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖٓ اَبَدًا ۭ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِيْمًا) 
‘’اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں داخل نہ ہو مگر اس وقت کہ تمہیں کھانے کے لئے اجازت دی جائے نہ اس کی تیاری کا انتظام کرتے ہوئے لیکن جب تمہیں بلایا جائے تب داخل ہو پھر جب تم کھا چکو تو اٹھ کر چلے جاؤ اور باتوں کے لیے جم کر نہ بیٹھو کیونکہ اس سے نبی کو تکلیف پہنچتی ہے اور وہ تم سے شرم کرتا ہے اور حق بات کہنے سے اللہ شرم نہیں کرتا اور جب نبی کی بیویوں سے کوئی چیز مانگو تو پردہ کے باہر سے مانگا کرو اس میں تمہارے اور ان کے دلوں کے لیے بہت پاکیزگی ہے اور تمہارے لیے جائز نہیں کہ تم رسول اللہ کو ایذا دو اور نہ یہ کہ تم اپ کی بیویوں سے آپ کے بعد کبھی بھی نکاح کرو بیشک یہ اللہ کے نزدیک بڑا گناہ ہے ۔’‘

⦾ ارشاد باری تعالیٰ ٰ ہے :
( یااَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَبَنٰتِكَ وَنِسَاۗءِ الْمُؤْمِنِيْنَ يُدْنِيْنَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيْبِهِنَّ ۭ ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَنْ يُّعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۭ) 
‘’اے نبی!اپنی بیویوں سے اور اپنی بیٹیوں سے اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنے اوپر چادریں لٹکایا کریں۔اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہو جایا کرے گی پھر نہ ستائی جائیں گی۔’‘

عورت کا اپنی نسوانیت کی چادر اتار کر بے حجاب ہونا معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے ۔چنانچہ اس عظیم نقصان کے پیش نظر جو عورت کے ‘’بے پردہ’‘ ہونے سے کسی بھی معاشرے کو پیش آسکتا ہے ، اسلام نے حفظ ماتقدم کے طور پر ’’حجاب’‘ کا حکم دیا درحقیقت ’’حجاب ‘‘انسداد فواحش کے لیے ہے ،جس کا مقصود اصلی معاشرے میں مرد و عورت کی بے ضابطہ آمیزش اور ضرورت سے زیادہ اختلاط کو روکنا ہے ۔

 
Dr. Muhammad Hamidullah
Visit Website of Dr. Muhammad Hamidullah

You might also like More from author

تبصرے

Loading...