ناسخ اور منسوخ کا عقیدہ تحریر: محمد نعیم خان

ناسخ اور منسوخ کا عقیدہ

تحریر: محمد نعیم خان

(پی ڈی ایف فائل لنک)

ہمارے ہاں بعض احباب یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ نے قران میں کچھ ایات نازل کیں لیکن بعد میں ان ایات کو منسوخ کر کے دوسری ایات سے بدل دیا۔ اب ان ایات کی تلاوت تو کی جاتی ہے لیکن یہ حکم اب منسوخ ہو چکا ہے۔ یہ ناسخ و منسوخ کہلاتا ہے۔ اس لئے جو ایت کسی دوسری ایت کو منسوخ کرتی ہے اسے ال ناسخ کہتے ہیں اور جو ایت منسوخ کی جاتی ہے وہ ال منسوخ کہلاتی ہے۔

یہ عقیدہ ایک ایسی کتاب کے بارے میں ہے جس کا اغاز ہی ایسے زور دار انداز میں ہوتا ہے کہ ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ اور جس کتاب کے بارے میں اللہ کا یہ فرمان ہو کہ اس میں کوئ تضاد نہیں پھر اس کا نازل کرنے والا وہ علیم و حکیم ہستی ہےجس کو معلوم ہے کہ وہ کیا نازل کر رہا ہے۔ یہ وہ کلام ہے جس کے بارے میں خود قران یہ گواہی دیتا ہے کہ باطل نہ سامنے سے اس پر آ سکتا ہے نہ پیچھے سے، یہ ایک حکیم و حمید کی نازل کردہ چیزہے (سورہ فصلت ایت 42)۔

ایئے غور کرتے ہیں کہ وہ کون سی ایات یا ایت ہے جس سے یہ غیر قرانی عقیدہ گھڑا گیا۔ جو ایت اس عقیدہ کے حق میں پیش کی جاتی ہے وہ سورہ البقرہ کی ایت 106 ہے

مَا نَنسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَا أَوْ مِثْلِهَا ۗ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّـهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ﴿106﴾

ہم اپنی جس آیت کو منسوخ کر دیتے ہیں یا بُھلا دیتے ہیں، اس کی جگہ اس سے بہتر لے آتے ہیں یا کم از کم ویسی ہی کیا تم جانتے نہیں ہو کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے؟(106 (

پھر ایک اور ایت اس کے حق میں پیش کی جاتی ہہے جو سورہ نحل کی ایت 101 یے جس میں اللہ کا ارشاد ہے :

وَإِذَا بَدَّلْنَا آيَةً مَّكَانَ آيَةٍ ۙ وَاللَّـهُ أَعْلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ قَالُوا إِنَّمَا أَنتَ مُفْتَرٍ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ﴿101﴾

جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت نازل کرتے ہیں اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا نازل کرے تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ تم یہ قرآن خو د گھڑ تے ہو اصل بات یہ ہے کہ اِن میں سے اکثر لوگ حقیقت سے ناواقف ہیں(101)

جن مفسرین نے اس ایت سے ناسخ و منسوخ کا عقیدہ گھڑا ہے انہوں نے اس میں ایت کا مطلب قران کی ایت لی ہے۔ سب سے پہلے اس بات پر غور کرتے ہیں کہ قران میں آيَةٍ کے کیا معنی ہیں :

  1. اس کے معنی دلیل یا معجزا بھی ہیں جیسے سورہ اسرا کی ایت 101 میں ذکر ہے۔
  2. اس کے معنی ظاہری نشانی بھی ہیں جیسے سورہ الفرقان کی ایت 37 اور سورہ مریم کی ایت 10 میں ذکر ہے
  3. اس کے معنی رسالت یا پیغام الہی بھی ہیں جیسے سورہ البقرہ کی ایت 39 میں ذکر ہے
  4. اس کے معنے قران کی ایت بھی ہے جیسے سورہ ص کی ایت 29 میں ذکر ہے

آيَةٍ کے یہ تمام معنی قران میں موجود ہیں ۔ اگر ہم سورہ البقرہ کی ایت 106 پر غور کریں تو بااسانی یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس ایت میں قران کی ایت کا ذکر ہر گز نہیں ہے۔

پہلی دلیل : اگر سورہ البقرہ کی ایت پر غور کریں تو اس میں الفاظ ” بُھلا دیتے ہیں (نُنسِهَا نَأْتِ)“ کسی صورت قران کی ایت پر صادر نہیں ہوتا کیوں کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ قران کی ایت بھلا دی جاتی ہے جبکہ جو ایت منسوخ ہوئی ہے وہ خود قران میں آج تک موجود ہے ۔ اگر آيَةٍ کا مطلب قران کی ایت لی جائے تو آج بھی ہم اس ایت کی تلاوت کرتے ہیں پھر یہ کیسے بھلا دی گئی؟

دوسری دلیل: پھر ایت میں موجود الفاظ ”کم از کم ویسی ہی “ اگر قران کی آیت کاذکر ہے تو یہ بات بلکل عقل و شعور کے خلاف ہے کہ جب ویسی ایت لانی تھی تو پھر پہلی ایت کو کیوں منسوخ کیا؟  ہم یہ کام کسی انسان سے گوارہ نہیں کرتے کہ اس کی توقع ہم علعم و خبیر اللہ سے کریں ۔

تیسری دلیل: اگر ایت میں لفظ آيَةٍ کا مطلب دلیل یا معجزا یا رسالت یا پیغام الہی یا ظاہری نشانی لی جائے تو اس میں سے کوئی بھی مطلب اس ایت پر بہت عمدگی کے ساتھ بغیر کسی ابہام کے اس میں نگینہ کی طرح فٹ ہو جاتا ہے۔ یہود ان تمام باتوں کو بھلا بیٹھے تھے جس کا ذکر بار بار قران کرتا ہے کہ اگر تم اپنے دعوی میں سچے ہو تو لاو سند ، کوئی آسمانی کتاب جس میں لکھا ہو، کوئی دلیل۔

اوپر کے دلائل سے یہ بات تو واضع ہوگئ کہ اس میں لفظ آيَةٍ کا مطلب قران کی آيَةٍ ہر گز نہیں۔ مفسرین کو جس ایت کو سمجھنے میں مشکل پیش آئی  اس کو منسوخ قرار دے دیا اور پھر ان کی تعداد میں اتنے اختلافات کہ کسی کے ہاں یہ آیات پانچ تو کسی کے ہاں پانچسو۔ اس کے علاوہ جن روایات سے استدلال کیا جاتا ہے وہ تمام احادیث بھی رسول اللہ تک نہیں پہنچتیں ۔ اس عقیدہ کی تمام بنیاد ہی ضعیف روایات پر ہے۔ پھر یہ بھی عجیب معماملہ ہے کہ جو ناسخ و منسوخ کی ایت نازل ہوئی (بقول ان مفسرین کے ) اس کے نہ اگے نہ ہی پیچھے کوئ ایسی ایت یا حکم گزرا ہو یا کوئی ایسا قرینہ موجود ہو جس سے اس کا مطلب جو مفسرین لے رہے ہیں وہ نکلتا ہو۔ بلکہ ایت اس استدلال کے برعکس کلام کرتی ہے۔ جیسے ایت میں موجود الفاظ ”اس کی جگہ اس سے بہتر لے آتے ہیں یا کم از کم ویسی ہی“ کو سورہ الزخرف کی ایات 46 سے 48 تک دیکھیں تو اس کی تائید کرتی ہے کہ اس میں بیان معجزات کا بھی ہے۔

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ بِآيَاتِنَا إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ فَقَالَ إِنِّي رَسُولُ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴿46﴾ فَلَمَّا جَاءَهُم بِآيَاتِنَا إِذَا هُم مِّنْهَا يَضْحَكُونَ ﴿47﴾ وَمَا نُرِيهِم مِّنْ آيَةٍ إِلَّا هِيَ أَكْبَرُ مِنْ أُخْتِهَا ۖ وَأَخَذْنَاهُم بِالْعَذَابِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ﴿48﴾

ہم نے موسیٰؑ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اُس کے اعیان سلطنت کے پاس بھیجا، اور اس نے جا کر کہا کہ میں رب العالمین کا رسول ہوں (46) پھر جب اُس نے ہماری نشانیاں ان کے سامنے پیش کیں تو وہ ٹھٹھے مارنے لگے (47) ہم ایک پر ایک ایسی نشانی اُن کو دکھاتے چلے گئے جو پہلی سے بڑھ چڑھ کر تھی، اور ہم نے اُن کو عذاب میں دھر لیا تاکہ وہ اپنی روش سے باز آئیں(48)

مولانا اصلاحی مرحوم سورہ البقرہ کی ایت 106 کی تشریح میں لکھتے ہیں :

” یہود مسلمانوں کے دلوں میں یہ وسوسہ ڈالتے تھے کہ جب قرآن حضرت موسیٰ علیہ السلام کو خدا کا پیغمبر اور تورات کو خدا کی کتاب تسلیم کرتا ہے تو پھر تورات کے احکام کے ردوبدل کے کیا معنی؟ کیا خدا اپنے ہی بنائے ہوئے قوانین کو خود اپنے ہی ہاتھوں بدلتا ہے۔ کیا اب تجربہ کے بعد خدا پر اپنی غلطیاں واضح ہو رہی ہیں اور وہ ان کی اصلاح کر رہا ہے؟ اس قسم کے اعتراضات اٹھا کر یہود مسلمانوں کو قرآن اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بدگمان کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ قرآن نے ان کا جواب یہ دیا ہے کہ تورات کا جو قانون منسوخ کیا جاتا ہے اس سے بہتر قانون اس کی جگہ دے دیا جاتا ہے۔ اسی طرح تورات کے جو احکام یہود نے فراموش کر دیے تھے، ان کی تجدید کی جاتی ہے اور اگر تجدید نہیں کی جاتی بلکہ ان کو نظر انداز کرایا جاتا ہے تو ان سے ملتے جلتے احکام دیے جاتے ہیں یعنی اس تبدیلی سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ایک تو خوب سے خوب تر کی طرف بڑھا رہا ہے، دوسرے دین کی جو دولت ضائع کر دی گئی تھی اس کی جگہ دین کے خزانہ کو نئی دولت سے معمور کر رہا ہے ان دونوں باتوں میں سے کوئی بات بھی ایسی نہیں ہے جو قابل اعتراض قرار دی جا سکے“

اس کی وجہ یہ ہے کہ شریعت موسوی ایک قوم کے لئے تھی جبکہ یہ کل قوم کے لئے ہے ۔ وہ ایک زمانے کے لئے تھی یہ کل زمانہ کے لئے ہے۔ اس سے پہلے ہر رسول ایک مخصوص قوم اور زمانہ کے لئے ہوتا تھا جبکہ رسول اللہ کی بعثت اب آنے والے ہر زمانہ کے لئے ہے۔

پھر ایک اعتراض احباب یہ بھی اٹھاتے ہیں کہ خود قران میں یہ ہے کہ ہم جو کچھ تجھے پڑھائیں گے اسے تو بھولے گا نہیں لیکن جسے اللہ چاہے۔ سورہ اعلی کی ایت ہے۔

سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنسَىٰ ﴿٦6﴾ إِلَّا مَا شَاءَ اللَّـهُ ۚ إِنَّهُ يَعْلَمُ الْجَهْرَ وَمَا يَخْفَىٰ ﴿7﴾

ہم تمہیں پڑھوا دیں گے، پھر تم نہیں بھولو گے (6) سوائے اُس کے جو اللہ چاہے، وہ ظاہر کو بھی جانتا ہے اور جو کچھ پوشیدہ ہے اُس کو بھی(7)

اس لئے یہ احباب کہتے ہیں کہ جہاں نسخ کا ذکر ہے اس ہی طرح سورہ البقرہ کی ایت 106 میں فراموش کردینے کا بھی ذکر ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ رسول اللہ کو کچھ ایات بھولا بھی دیتا تھا۔ إِلَّا مَا شَاءَ اللَّـهُ کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ کچھ حصہ بھول بھی جاو گے۔ کیوں کہ یہ کلام بے معنی ہو جاتا ہے کہ ہم تجھے پڑھائیں گے سو تو نہیں بھولے گا مگر بھول جائے گا۔ یہ کوئ معمولی انسان بھی ایسی گفتگو نہیں کر سکتا جہ جائیکہ قران جیسی پر حکمت کتاب کی طرف یہ بات منسوب کی جائے۔ یہ قران کا معجزا ہے کہ رسول اللہ قران کی کوئی آیت بھی نہیں بھولے۔

إِلَّا مَا شَاءَ اللَّـهُ کے معنی بلکل صاف ہیں کہ اور بعض باتیں تو تم بشری تقاضوں کے تحت بھول بھی جاتے ہو لیکں ہمارے پڑھانے کا یہ اثر ہے کہ جو کچھ ہم پڑھائیں گے اس کو ہرگز نہیں بھولو گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ رسول اللہ پر ایک وقت میں بیس بیس رکوع کی سورتیں نازل ہوئیں لیکن اس کا ایک لفظ بھی رسول اللہ کبھی نہیں بھولے۔ پھر اللہ نے اس قران کی حفاظت کا ایسا انتظام کر رکھا تھا کہ کاتب وحی ایک تو اس کو جلدی سے لکھ لیا کرتا تھا دوسرا صحابہ اس کو حفظ کر لیا کرتے تھے۔ اس لئے یہ اعتراض بھی اتنا قوی نہیں ہیں جیسے یہودیوں نے خود سے اپنے اوپر کجھ جیزوں کو حرام کر لیا تھا اور جس کی سرکشی کی سزا کے طور پر ان پر برقرار رکھی گئیں۔ اسی طرح سبت کا بھی قانون ملت ابراہیمؑ کا کوئی جزو نہیں تھا بلکہ سبت یہود کے لیے مشروع ہوا تھا ۔ اس ہی طرح بعض ایات ایک حکم کی وضاحت کرتی ہیں جیسے سورہ البقرہ کی ایت 187 روزے کے احکامات کی مزید وضاحت و تفصیل میں نازل ہوئی ہے کہ دن میں اگر زن و شوہر کے تعلقات کی اجازت نہیں تھی جس سے یہ مغالطہ ہو سکتا تھا کہ رات میں بھی اس کی اجازت نہیں ہوگی اس لئے اس کی وضاحت اس کے لئے یہ ایت نازل ہوئی۔

پھر اس ہی طرح جن ایات میں جیسے بیس کے مقابلے میں ایک غالب یا دوسو کے مقابلے میں ایک غالب والی آیت۔ وہ آیت بھی منسوخ نہیں اس میں مسلمانوں کی دو مختلف حالتوں کا ذکر ہے۔ کمزور ہو تو یہ طاقتور ہو تو یہ۔

اوپر پیش کئے گئے تمام دلائل سے یہ بات بلکل صاف ہے کہ ناسخ و منسوخ کا عقیدہ غیر قرانی ہے اور اس کی سند قران سے نہیں ملتی۔

ختم شد

٭٭٭٭٭