کیا حضرت نوح علیہ السلام 950 سال زندہ رہے؟ تحریر: محمد نعیم خان

کیا حضرت نوح  علیہ السلام 950 سال زندہ رہے؟

تحریر: محمد نعیم خان

(پی ڈی ایف فائل لنک)

اس کاذکر ہمیں سورہ العنکبوت کی آیت 14 میں ملتا ہے

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِ فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمْسِينَ عَامًا فَأَخَذَهُمُ الطُّوفَانُ وَهُمْ ظَالِمُونَ ﴿14﴾

ہم نے نوحؑ کو اس کی قوم کی طرف بھیجا اور وہ پچاس کم ایک ہزار برس اُن کے درمیان رہا آخر کار اُن لوگوں کو طوفان نے آ گھیرا اس حال میں کہ وہ ظالم تھے (14)

اس آیت میں دو الفاظ سَنَةٍ اور عَامًا قابل غور ہیں۔

سَنَةٍ کے بنیادی معنی زمانہ پر دلالت کرتے ہیں۔ جیسے عرب کہتے تھے سنھت النخله یعنی کھجور پر کئی سال گزر گئے ۔ اس ہی طرح وہ جانور جو کنویں کے اردگرد پانی نکالنے کے لئے گھومایا جاتا تھا اس کو السنه کہتے تھے۔ اس ہی سے مختلف اجرام فلکیات کی مخصوص گردش جو دن،ماہ،سال معلوم کرنے کے لیے استعمال کی جاتیں ہیں اس پر اس لفظ کا اطلاق ہوتا ہے۔

 مثال کے طور پر اگر وقت کی پیمائش کا پیمانہ زمین کی گردش سورج کے گرد ہو تو یہ گردش 365 دنوں میں مکمل ہوتی ہے اس لیے یہ ایک السنه ہو گا ۔ اس ہی سے اس کا ایک مطلب سال بھی ہے۔

 اس ہی طرح اگر وقت کی پیمائش کا پیمانہ چاند کی گردش زمین کے گرد ہو تو یہ گردش 30 دنوں میں مکمل ہوتی ہے اس وجہ سے یہ بھی ایک سنه ہو گا۔ اس لیے اس کا اطلاق مہینے پر بھی ہے۔

 اس ہی طرح اگر وقت کی پیمائش کا ہمارا پیمانہ زمین کا اپنے ہی محور پر گھومنا ہو تو ایک سنه پھر ایک دن ہو گا۔ جو اجکل چوبیس گھنٹے کا ہوتا ہے۔

السنه لفظ بلکل اس ہی طرح استعمال ہوتا ہے جیسے عربی کا لفظ یوم۔ جس کے معنی دن کے بھی ہیں ، ایک سال کے بھی، پانچ ہزار سال بھی، پچاس ہزار سال بھی اور ایک لمبا عرصہ بھی۔ بلکل اس ہی طرح یہ لفظ السنه ہے۔ السنه ایک فصل کو بھی کہتے ہیں۔ یعنی تین مہینوں پر بھی اس لفظ کا اطلاق ہوتا ہے۔

دوسرا قابل غور لفظ عام ہے۔ اس کا بنیادی مطلب تیرنا ہے۔ السبح کے معنی بھی تیرنا ہوتے ہیں لیکن السبح پانی کے اوپر تیرنے کو کہتے ہیں جس میں انسان پانی میں غوطہ نہ کھائے اور العوم ایسا تیرنا جس میں انسان پانی کے نیچے بھی چلا جائے۔ اس جہت سے جہاں قران نے یہ کہا ہے کہ اجرام فلکی اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں ، اس ہی جہت سے العام کے معنی سال ہوتے ہیں جوصرف بارہ مہینوں پر مشتمل ہو جبکہ السنه میں یہ قید نہیں۔

اوپر بیان کی گئی السنه کی تشریح کو سمجھنے کے لئے نیچے کی آیات پر غور کریں۔

اللہ کا ارشاد ہے:

فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ۚ ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ ﴿96﴾

پردہ شب کو چاک کر کے وہی صبح نکالتا ہے اُسی نے رات کو سکون کا وقت بنایا ہے اُسی نے چاند اور سورج کے طلوع و غروب کا حساب مقرر کیا ہے یہ سب اُسی زبردست قدرت اور علم رکھنے والے کے ٹھیرائے ہوئے اندازے ہیں

سورہ االانعام  آیت  96

چاند اور سورج کے طلوع و غروب کا حساب مقرر کرنے کی وجہ ان آیات میں بیان کی ہے۔

وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ آيَتَيْنِ ۖ فَمَحَوْنَا آيَةَ اللَّيْلِ وَجَعَلْنَا آيَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوا فَضْلًا مِّن رَّبِّكُمْ وَلِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ ۚ وَكُلَّ شَيْءٍ فَصَّلْنَاهُ تَفْصِيلًا ﴿12﴾

دیکھو، ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا ہے رات کی نشانی کو ہم نے بے نور بنایا، اور دن کی نشانی کو روشن کر دیا تاکہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کر سکو اور ماہ و سال کا حساب معلوم کر سکو اِسی طرح ہم نے ہر چیز کو الگ الگ ممیز کر کے رکھا ہے

سورۃ الاسراآیت  12

سب جانتے ہیں کہ سورج کے طلوع و غروب ہونے سے دن کا آغاز اور اختتام ہوتا ہے اس لئے اس ایت میں عَدَدَ السِّنِينَ سے مراد دنوں کی گنتی  ہےنہ کہ سالوں کی گنتی اور یہاں پیمانہ زمین کا اپنے محور پر گردش ہے ۔ اس لئے جب دنوں کی گنتی 29 تک پہنچتی ہے تو پھر اب مہینہ 29 کا ہو گا یا 30 کا اس کا حساب چاند کے نکلنے سے ہے۔ اس ہی بات کو اس ایت میں عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ سے تعبیر کیا ہے۔ اس لئے اس آیت میں السنه سے مراد دن ہے۔

پھر یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے اور ایک ماہ کے بعد دوسرا آتا رہتا ہے یہاں تک کہ ان کی گنتی 12 تک پہنچتی ہے اور ایک سال مکمل ہوتا ہے۔ اس ہی بات کو اس آیت میں ہوں بیان کیا ہے ۔

 مْسَ ضِيَاءً وَالْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ ۚ مَا خَلَقَ اللَّـهُ ذَٰلِكَ إِلَّا بِالْحَقِّ ۚ يُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ ﴿5﴾

وہی ہے جس نے سُورج کو اجیالا بنایا اور چاند کو چمک دی اور چاند کے گھٹنے بڑھنے کی منزلیں ٹھیک ٹھیک مقرر کر دیں تاکہ تم اُس سے برسوں اور تاریخوں کے حساب معلوم کرو اللہ نے یہ سب کچھ (کھیل کے طور پر نہیں بلکہ) با مقصد ہی بنایا ہے وہ اپنی نشانیوں کو کھول کھول کر پیش کر رہا ہے اُن لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں(5)

سورہ یونس آیت  5

اس لئے اس آیت میں عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ سے مراد ماہ و سال ہیں۔ پھر مہینے بارہ ہوتے ہیں نہ ایک کم اور نہ ایک زیادہ اور یہ سب جب سے زمین وآسمان وجود میں آئے ہیں اللہ کی کتاب میں ان کی تعداد بارہ ہی ہے۔ اس کو قرآن یوں بیان کرتا ہے۔

إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللَّـهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّـهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ۚ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ ۚفَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنفُسَكُمْ ۚ وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِينَ كَافَّةً كَمَا يُقَاتِلُونَكُمْ كَافَّةً ۚ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ ﴿36﴾

حقیقت یہ ہے کہ مہینوں کی تعداد جب سے اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے اللہ کے نوشتے میں بارہ ہی ہے، اور ان میں سے چار مہینے حرام ہیں یہی ٹھیک ضابطہ ہے لہٰذا ان چار مہینوں میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو اور مشرکوں سے سب مل کر لڑو جس طرح وہ سب مل کر تم سے لڑتے ہیں اور جان رکھو کہ اللہ متقیوں ہی کے ساتھ ہے(36)

اس تمہید کے بعد اب اس آیت پر غور کریں ۔

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِ فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمْسِينَ عَامًا فَأَخَذَهُمُ الطُّوفَانُ وَهُمْ ظَالِمُونَ ﴿14﴾

ہم نے نوحؑ کو اس کی قوم کی طرف بھیجا اور وہ پچاس کم ایک ہزار برس اُن کے درمیان رہا آخر کار اُن لوگوں کو طوفان نے آ گھیرا اس حال میں کہ وہ ظالم تھے(14)

جب اللہ نے یہ فرمایا کہ حضرت نوح علیہ السلام اپنی قوم کے درمیان 1000 سنه منفی 50 عوم تو مفسرین نے یہاں یہ ٹھوکر کھائی کہ سنه اور عام کو ایک سمجھ کر 1000 میں سے 50 منہا کرنے لگے ۔ اگر سنه اور عام کے بلکل ایک ہی مطلب ہوتا تو اللہ ایک ہی ایت میں ان دونوں کو استعمال نہ کرتا۔ اللہ بہت سادہ سے انداز میں اسی بات کو یوں بیان کر سکتا تھا :

ولقد أرسلنا نوحا إلى قومه فلبث فيهم ألف سنة إلا خمسين فأخذهم الطوفان وهم ظلمون ۔

یا پھر اسی بات کو بیان کرنے کا انداز یوں بھی ہے

ولقد أرسلنا نوحا إلى قومه فلبث فيهم ألف عام إلا خمسين فأخذهم الطوفان وهم ظلمون

ان دونوں کو ایک ہی ایت میں بیان کرنے کا مقصد یہی ہے کہ اس ایت میں یہ دونوں لفظ ہم معنی نہیں ۔

اوپر کی ایت میں الف سنه سے مراد سال نہیں بلکہ سنه مہینوں کے معنوں میں ایا ہے۔جیسا کہ اس لفظ کی تشریح میں یہ بات بیان کرچکا ہوں کہ اس لفظ کا مطلب صرف سال نہیں ہوتا۔ یہاں وقت کی پیمائش کا پیمانہ چاند کی گردش زمین کے گرد ہے نہ کہ زمین کی گردش سورج کے گرد۔

حضرت نوح اپنی قوم میں کتنے برس رہے اس کا حساب کچھ یوں ہوگا۔

1000/12 =83

50-83= 33

حضرت نوح اپنی قوم میں 33 سال رہے۔ یہاں حضرت نوح کی عمر بتانا مقصود نہیں تھا بلکہ یہ بتانا تھا کہ رسالت کے بعد جیسے رسول اللہ 23 سال اپنی قوم کے درمیان رہے اس ہی طرح حضرت نوح 33 سال اپنی قوم  کے درمیان رہے یعنی تبلیغ کا فریضہ انجام دیتے رہے پھر سیلاب کا عذاب آیا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہاں کیا قرینا ہے جس کی وجہ سے یہ آیت یہاں آئی ہے . تو جان لیں کہ یہ سورۃ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے سے پہلے کی ہے اور مکہ میں مسلمانوں پر کفار نے ظلم کی انتہا کر رکھی تھی . حضرت نوح کا ذکر کرنے کی وجہ یہ تھی کہ اکثر قرآن سلسلہ نبوات کا آغاز حضرت نوح سے کرتا ہے ،جیسے سورہ النسا کی ایت 163۔ اِس لیے یہاں یہ بتانا مقصد تھا کہ جب سے یہ سلسلہ شروع ہوا ہے اِس وقت سے ہر رسول کی مخالفت کی گی ہے . حضرت نوح ان کے درمیان 33 سال تک رہے تبلیغ کا فریضہ انجام دیتے رہے لیکن اِس میں سے بہت ہی کم لوگ ان پر ایمان لائے . اِس لیے اگر یہ کفار آپ کی مخالفت کرتے ہیں تو اِس سے پہلے بھی رسولوں کی مخالفت کی گئی ہے اور یہ مخالفت بالکل آغاز نبوت سے جاری ہے . اِس لیے غم کرنے کی ضرورت نہیں .

یہاں یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ قران اپنے اپ کو کتاب مبین کہتا ہے پھر یہ کتاب مبین کیسے ہوئی؟۔ جس بات کہ سمجھنے میں اتنی مشکل ہو وہ کتاب مبین کیسے ہو سکتی ہے؟اس کے علاوہ یہ اعتراض بھی کیا جاتا ہے کہ یہی عمر بائبل میں بھی ہے اس لئے حضرت نوح کی عمر 950 سال تھی اور اللہ نے بائبل کی بات کی تائید کی ہے۔ پھر یہ اعتراض بھی کیا جاتا ہے کہ اتنے عرصہ تک کوئ بھی مفسرین اس بات تک نہ پہنج سکا اور مجھ جیسے کم علم کو یہ بات معلوم ہوئ۔ اس سے پہلے تمام مفسرین اس ایت کا یہی ترجمہ اور تفسیر کرتے رہے ان کے علم میں یہ بات نہ تھی جو میرے علم میں آگئی۔

میں یہ بات اپنی ہر تحریر میں لکھتا رہتا ہوں کہ میری بات حرف آخر نہیں ۔ نہ ہی یہ دعوی ہے کہ اس کو صرف میں نے ہی سمجھا ۔ نہ جانے کتنے اور لوگ ہوں گے جن کی تحقیق اس ہی نتیجہ پر پہنچی ہوگی جس پر میں پہنجا ہوں ۔ اگر کبھی ساینس اور علم کے نئے دریچے کھلیں جس سے میری بات رد ہو جائے تو مجھے خوشی ہو گی کہ علم کی جیت ہوئ اور ہم ایک قدم اگے بڑھ گے۔

باقی کے جو اعتراضات ہیں اس کے لئے میں قران کی ایک آیت پیش کروں گا ایسی بہت سی آیات پیش کی جا سکتی ہیں لیکن مضمون کی طوالت کی وجہ سے صرف ایک پر ہی اکتفا کر رہا ہوں۔ یہ ایت ان تمام اعتراضات کا جواب ہے۔

اللہ فرماتا ہے۔

وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّا(7)

اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا

سورہ ھود ایت  7

اس ایت کی تشریح بھی ہمیشہ مفسرین یہی کہتے رہے کہ یہ کائنات چھ دنوں میں وجود میں ائ ہے۔ نہ جانے کتنے عرصہ تک یہی مفسرین بائبل کا حوالہ دیتے رہے اپنی بات کی تائید میں ۔ اس وقت بھی قران مبین ہی تھا اور اپنے اپ کو کتاب مبین قرار دیتا تھا۔ پھر کیا ہوا ؟ جیسے جیسے علم کا سفر اگے بڑھا اور یہ بات معلوم ہوئ کہ اس کائنات کے بننے میں ہزاروں سال کا عرصہ لگا ہے تو اج کل کے مفسرین اس ایت کی تشریح میں یوم کا مطلب ایک دن نہیں بلکہ ایک زمانہ مراد لیتے ہیں۔ لفط بھی وہی تھا یعنی یوم بس صرف بات اتنی تھی کہ اس کا علم انسان کو نہیں تھا۔

بلکل اس ہی طرح یہی معاملہ اس ایت کا ہے۔ یہ لازمی نہیں کہ اگر کوئ بات بائبل میں بھی بیان ہوئ ہے تو اس لحاظ سے درست ہی ہوگی۔ قران کسی کتاب کا محتاج نہیں یہ ہم انسانوں کا فہم ہے جو اس بات تک نہیں پہنچتا جس کا زکر قران کر رہا ہوتا ہے۔ باقی سارے مفسرین اس دین کے مخلص لوگ تھے ان کی نیت پے شک ہر گز نہیں کیا جا سکتا لیکن بہرحال وہ سب انسان ہی تھے۔

ایک دفعہ پھر یہ بات کہہ دوں کہ یہ میری تحقیق ہے اس سے اختلاف کا حق سب کو ہے ۔ اس کے جاننے یا نہ جاننے سے ہماری جنت و دوزخ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اس لئے ہی ایک علمی معاملہ ہے۔

ختم شد

٭٭٭٭٭