اقتباس از ایک غلط سوچ ، تالیف: سیف خان بابر

« _چــند انگــریزی الــفاظ کــا استعـــمال جــو غــلط ہــیں_ »

ہمارے معاشرے میں مغرب ممالک کی جو ایک چھاپ لگ رہی ہے
اور مسلمانوں میں ان مغربی ملکوں کی رغبت اور ان جیسا بول چال اختیار کرنے کی خواہش نے بہت مقامات پر ہماری بول چال کی اخلاقیات کو ہی پامال کر ڈالا ہے.

انگریزی سیکھنا اچھا فعل ہے مگر جو آپ بول رہے ہیں اسکا مطلب بھی سمجھ کر بولیں.

ایک غلطی: [ہمارے معاشرے میں سنے سنائے الفاظ کو اپنی گفتگو کا حصہ بنا لیا جاتا ہے]

خوب سمجھ لیجیے یہ درج بالا الفاظ کا مطلب نہائیت برا اور انتہائی غیر اخلاقی ہونے کے ساتھ ساتھ ہمارے گناہ میں اضافے کا باعث بھی بن رہا {جس کا ہمیں اندازہ تک نہیں}

آئیے دیکھیں: 👇👇

۔What the/Go to Hell~~دوزخ | جہنم | بد دعائیہ گالی

ایک مسلمان کیلئے اس سے بڑھ کر کیا بد دعا ہو گی.
کہ جس چیز سے ہمارے نبی پاک ﷺ نے بھی پناہ مانگی.
جس پر صلحاء اور صالحین روتے ہوئے چھٹکارے کی دعائیں کرتے ہوں اور لوگ اس کو اپنی گفتگو میں بےفکری سے جگہ دے دیں.

۔Shit ~~گوبر | لید | پاخانہ | گالی

معلوم نہیں لوگوں کو کس چیز نے آمادہ کر ڈالا کہ ایسے الفاظ بولیں اور لوگوں میں یہ لفظ دن بدن عام ہوتا جا رہا ھے۔

۔Damn ~~لعنت کرنا | جہنم واصل کرنا | مردود کرنا |گالی

جس پر نبی ﷺ*نے فرمایا کہ
مفہوم “لعنت ملامت زیادہ کرنے پر جہنم میں زیادہ دیکھتے ہیں (آپ ﷺ) لوگوں کو.”

اسی لفظ کو لوگوں نے اپنی گفتگو کا حصہ بنایا ہوا ہے۔ لعنت کرنا دوسرے کو برا نھیں بناتا بلکہ آپکی اپنی شخصیت کو خراب کرتا ھے۔

👈 حاصل کلام

لوگوں کو لگتا ہے کہ یہ الفاظ وہ غصےکا اظہار کرنے کیلئے بول دیتے ہیں اور انہیں اس میں کوئی کراہت بھی محسوس نہیں ہوتی لیکن یہی الفاظ کہیں نیک اعمال کو برباد کرنے کا ذریعہ نا بن جائیں.

لوگوں کو ایسے اعمال ضائع کرنے والے الفاظ بہت معمولی لگ رہے ہیں مگر
گناہ جب گناہ لگنا چُھٹ جائے تو وہ انسان کی بد قسمتی کی شروعات ہوتی ہے۔

ایسے انگریزی یا اردو کے الفاظ و جملوں کو اپنی گفتگو سے نکال پھینک دینا چاہئے۔

🔹نوٹ:-
لوگ اس پر طرح طرح کے جواز پیدا کریں گے مگر صاحب تمیز اس تحریر کو سمجھ جائیں گے اور ایسے بیہودہ اور غیر اخلاقی الفاظ کو بولنے سے خود بھی رکیں گے اور دوسروں کو بھی منع فرمائیں گے۔

جزاک اللہ خیرا

You might also like More from author

تبصرے

Loading...