بے گناہ تحریر محبوب مسافر

بے گناہ
تحریر محبوب مسافر
(پی ڈی ایف فائل لنک)

ہمارے ارد گرد ہمارے ماحول میں جو کچھ ہورہا ہوتا ہے وہ ہمارا تمدن ہمارا رہن سہن کہلاتا ہے۔ اس کے دوسرے معنی طرز زندگی کے ہوتے ہیں۔ یعنی زندگی گزارنے کے  جوجوطریقے ہم اپناتے ہیں ہمارا روز گار ہمارا رہن سہن رسم و رواج ہماری سوچ فکر کے طریقے یہ سب مل کر ہمارے معاشرے کو تشکیل دیتے ہیں۔

جب بھی کوئی معاشرہ ترقی کرتا ہے تو سب سے پہلے ان کا تمدن بدلتا  ہے ورنہ وہ کبھی ترقی کرہی نہیں سکتے ۔ سوچ کے پیمانے جب بدلتے ہیں تو اس کا اثر معاشرے کی مجموعی زندگی پر پڑتا ہے جس سے قوموں کے عروج و زوال کے فیصلے ہوتے ہیں۔

یہ بات تو طے ہوئی کہ کسی معاشرے کی ترقی کے لیے قوم کی مجموعی سوچ کا بدلنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کسی پودے کو ہوا پانی اور مناسب ماحول کی ضرورت ہے۔ فرد معاشرے کا ایک جز ہوتا ہے اور ایک معاشرہ لاکھوں افراد پر مشتمل ہوتا ہے۔ معاشرے کا ہر فرد ہی اہمیت کا حامل ہوتا ہے جس میں مرد عورتیں بچے سب شامل ہوتے ہیں۔

ہمارے ہاں بد قسمتی سے عورت کو اہمیت دینا تو دور کی بات ہے اسے ان گناہوں کی سزا دی جاتی ہے جو اس نے کبھی کیے ہی نہیں ہوتے۔ معاشرے کی ترقی میں عورت کا کیا کردار ہے یہ بات آپ ان لوگوں سے پوچھیں جو ترقی یافتہ ہیں ان کے ہاں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ عورت کے بغیر ترقی ناممکن ہے کسی معاشرے کی صحت کے لیے عورت کا ہم پایہ ہونا بہت ضروری ہے ۔یہ اتنا ہی ضروری ہے جیسے کسی گاڑی کے پہیوں کا برابر اور ایک سائز کا ہونا ضروری ہے ۔فطری اصولوں میں سے ایک اٹل اصول یہ بھی ہے کہ ہر چیز اپنا بیلنس چاہتی ہے۔

پاکستان میں عورت کو اہمیت نہ دینے کی بہت ساری وجوہات ہیں لیکن میں چند ایک کو ہی پیش کرونگاجس سے آپ ازخود اس قابل ہوجائیں گے کہ آپ عورتوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھاسکیں۔

1۔معاشرتی سوچ

ہم ایک معاشرے میں پیدا ہوتے ہیں اور پھر وہاں سے ہم سب کچھ سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جو بھی معاشرے کی زبان ہوتی ہے ہم وہی سیکھتے ہیں اگر ہمارے معاشرے میں پنجابی بولی جاتی ہے تو ہم پنجابی سیکھتے ہیں اگر سندھی تو سندھی سیکھتے ہیں نیز جو بچہ جس معاشرے میں پیدا ہوتا ہے وہی زبان سیکھتا ہے۔ صرف زبان ہی نہیں ہمارے سوچنے کا ڈھنگ، بیوقوف کیا ہے؟ عقل مند کون ہے ؟ عزت ذلت کے پیمانے سب کچھ ایک معاشرہ ہماری رگوں میں ٹھونس ٹھونس کر بھر دیتا ہے۔ ہم معاشرے سے اچھا بھی سیکھتے ہیں برا بھی سیکھتے ہیں ہماری موجودہ سوچ میں آج جو کچھ بھی ہے وہ معاشرے کی دین ہے جیسے معاشرے میں اچھے برے لوگ سب رہتے ہیں اسی طرح دماغ میں چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے اچھی بری سوچیں سب شامل ہوتی ہیں۔ ہم معاشرے کی دی ہوئی سوچ پر کبھی غور ہی نہیں کرتے کہ یہ درست ہے یا غلط ہے ہم وہی طرز زندگی اپناتے ہیں جو معاشرہ ہمیں دیتا ہے۔

ہمارے افکار و نظریات ہماری معاشرے کا دیا ہوا تحفہ ہوتے ہیں یا یوں سمجھ لیجیے کہ جیسا سانچہ ویسی ہی صورت ۔اگر سانچے کوبدل دیا جائے تو صورت بھی بدل جائے گی اگر کوئی آدمی ایک بات بھی کرتا ہے تو اس کا اثر پورے معاشرے پر ہوتا ہے چاہے بہت معمولی اثر ہو لیکن ہوتا ضرور ہے۔ اس سے پہلے کہ ہم دور نکل جائیں ہمیں واپس لوٹ آنا چاہیے اپنے موضوع کی طرف ۔یہاں تک ہم دیکھ چکے ہیں کہ آج ہماری سوچوں کا جو منبہ ہے وہ اصل میں معاشرے کی ملکیت ہے یا معاشرے کی ہی عنائیت ہے ۔عورتوں کے متعلق ہم جو تنگ نظری کا مظاہرہ کرتے ہیں یہ سب ہمیں معاشرہ سکھاتا ہے۔ معاشرہ سکھاتا ہے کہ کس طرح تمہاری نسل کے لیے بیٹا ضروری ہوتاہے آپ بیٹی کی پیدائش پر شرمندگی اس لیے محسوس کرتے ہیں کیونکہ آپ کا تمدن آپ کا کلچر آپ کی راہنمائی کرتا ہے ورنہ آپ کا دماغ پیدائشی طور پر ایسا نہیں تھا ۔ یورپ میں نہ بیٹی کی پیدائش پر شرمندگی محسوس کی جاتی ہے نہ ہی بیٹے کی پیدائش پر۔ وہ لوگ بھی پیدائشی طور پر عقل مند نہیں ہیں ان کے معاشرے میں کوئی ایسی وجہ نہیں ہے جو بچے کو یہ سکھائے کہ بیٹی اچھی نہیں ہوتی اور بیٹا نسل کے لیے ٹھیک ہوتا ہے یہ سب چیزیں ہم سیکھتے ہیں۔

وہی بات کہ جیسا سانچہ ویسی صورت ۔بوتل بنانے والی کمپنی بوتل بناتی ہے لیکن موبائل بنانے والی کمپنی موبائل بناتی ہے اسی طرح کلچر ہمیں بناتا ہے جیسا کلچر کا ڈیزائین ہوتاہے اب ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اگر معاشرے کی سوچوں کو بدلا جائے تو آنے والی نسلوں کی سوچ خودبخود بدل جائے گی کیونکہ کسی انسان کی زندگی پر معاشرتی اثرات بڑے گہرے ہوتے ہیں۔ ہمیں کوئی پیار سے سکھاتا ہی نہیں جب ہمارے سیکھنے کی عمر ہوتی ہے اور اسی طرح یہ بہت سارے غیر ضروری سلسلے بناکسی روک تھام کے چلتے رہتے ہیں اور ہم محسوس بھی نہیں کرپاتے کہ کچھ غلط ہورہا ہے۔ یاد رکھیے کہ سبھی لوگ ایک جیسے نہیں ہوتے چند ایک لوگ ضرور روشن خیال بھی ہوتے ہیں۔

2۔عزت ذلت کے مصنوعی پیمانے

ہمارے معاشرے میں عزت اور ذلت کے تمام پیمانے مصنوعی ہوتے ہیں جنہیں ہم خود ہی بناتے ہیں۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے چند ایک مثالوں کی بے حد ضرورت ہے فرض کریں ایک گاڑیوں کی ریس کا مقابلہ ہے اب ہر ڈرائیور کی عزت کا پیمانہ یہ ہوتا ہے کہ جو سب سے پہلے مقررہ حد تک تیزی سے چلا جائے یعنی جو سب سے پہلے پہنچ جائے وہی عزت محسوس کرتا ہے۔

اب اسی مثال کو دوسری طرح سے سمجھنے کی کوشش کریں کہ اگر اصول یہ ہو کہ گاڑی کو جو سب سے پہلے مقررہ حد تک لے گیا وہ ہار جائے گا تو سارے ڈرائیور گاڑی کو آہستہ چلائیں گے اور ذلت سے بچنے کی کوشش کریں گے لیکن پھر بھی جو پہلے پہنچ گیا وہ ذلت محسوس کرے گا۔ اب دیکھیے دونوں طرف سے صرف ہم نے عزت کے پیمانے کو بدلا تو پوری کی پوری ٹیم کی سوچ ہی بلکل الٹ ہوجاتی ہے پہلی وہ گاڑی کو تیز سے تیز دوڑانا چاہتے تھے دوسری دفعہ سب سے آہستہ چلانے کی کوشش میں تھے کیونکہ ہم نے ان کی عزت ذلت کا پیمانہ بدلا تو اس کا اثر  سیدھا ان کے کردار پر پڑا۔ یہ بڑے حساس موضوعات ہوتے ہیں اس لیے ان پر تفصیل کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ آپ کبھی سمجھ ہی نہیں سکتے کہ بات ہوکیا رہی ہے اس مثال سے ثابت ہوا کہ عزت ذلت کے مصنوعی پیمانے ہمارے کردار پر پورا پورا اثر رکھتے ہیں ۔

اس لیے ہمارے ہاں اگر کوئی لڑکا کسی لڑکی سے شادی کرتا ہے تو عزت کی بات اور ہم بڑا فخریہ بتاتے ہیں کہ یہ کارنامہ ہمارا ہے لیکن اگر کوئی لڑکی شادی کرتی ہے تو ہمارے لیے ذلت و رسوائی کی بات بن جاتی ہے کیونکہ جب ہم نے ہوش سنبھالا تو یہی عزت و ذلت کے پیمانے ہمارے آگے رکھ دیے جاتے ہیں بلکہ زبردستی ہماری جھولی میں ڈال دیے جاتے ہیں۔ اس سے عورت اس گناہ کی سزا بھگتنے لگتی ہے جو اس نے کبھی کیا ہی نہیں ہوتا۔

3۔گالی گلوچ اور بدکلامی کا عورت پر اثر

ہمارے ان سارے موضوعات سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ مرد و عورت اصل میں دونوں ایک ہی ہیں لیکن عورت کو کم تر سمجھنا نہ صرف جہالت ہے بلکہ معاشرے کے لیے انتہائی خطر ناک بھی ہے۔ عورت ذات یا لڑکی کی پیدائش سے کترانے یا شرمندگی محسوس کرنے کی ایک وجہ بدکلامی اور گالی گلوچ بھی ہے ۔

جب ہم اپنے بچپن کے ابتدائی ایام میں ہوتے ہیں اور سیکھنے کی کوشش کررہے ہوتے ہیں کیونکہ ہم بچپن سے ہی زندگی کے متعلق سیکھنے لگ جاتے ہیں ہم یہ بھی سیکھ لیتے ہیں کہ کس طرح لڑائی کرنی ہے اور غصے کی حالت میں کس طرح مدمقابل کو گالی دینی ہے اور کون سی گالی دینی ہے جس سے مدمقابل کو زیادہ سے زیادہ تکلیف ہو۔ ہمارا معاشرہ ہمیں سکھاتا ہے کہ کسی کو تکلیف دینی ہو یا اس کی عزت اتارنی ہو تو اسے ماں بہن کی گالی دینی چاہیے.

کیونکہ سبھی جان لیتے ہیں کہ ان گالیوں سے تکلیف ہوتی ہے حالانکہ سچ مچ کی تکلیف ہوتی نہیں گالی دراصل تکلیف دینے کا ایک فرضی معاہدہ ہوتا ہے جسے سب ایکسیپٹ کرلیتے ہیں.

اس بات کو ایک مثال سے سے سمجھنے کی کوشش کریں فرض کیجیے میں آپ سے کہتا ہوں کہ اگر میں اپنی ایک انگلی کھڑی کروں تو تم سمجھنا کہ میں نے تم پر پھول برسائے ہیں اگر دو انگلیاں کھڑی کروں تو تم سمجھنا کہ میں نے تمہیں ایک تھپڑ رسید کیا ہے۔

پہلے میری انگلیاں آپ کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی تھیں لیکن اب اگر میں ایک انگلی کھڑی کرتا ہوں تو آپ کے لیے باعث فخر ہے اور اگر دو انگلیاں کھڑی کرتا ہوں تو آپ محسوس کریں گے کہ میں نے آپکو تھپڑ رسید کیا ہے کیونکہ میں نے آپ کو بتایا کہ ایک انگلی کھڑی کرنے کا کیا مطلب ہے اور دو انگلیاں کھڑی کرنے کا کیا مطلب ہے۔ اسی طرح گالی گلوچ کا کوئی وجود نہیں ہوتا یہ صرف غلط اشارے ہیں جن کے مطلب کے طور پر ہم ذلت محسوس کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماں بہن کی گالی ہمیں تکلیف دیتی ہے اور ہم ماں بہن کے وجود سے شرمندگی محسوس کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ شاید یہ ہماری کمزوری ہیں۔ کیا ہم محض صرف اس لیےان سے نفرت کریں یا ان کی موجودگی سے شرمندہ ہوں کہ ایک غلط اور جاہل معاشرہ ہمیں ان سے نفرت پر اکساتا ہے؟  ایک عورت جو مرد کو پیدا کرتی ہے بھلا وہ ہمارے لیے شرمندگی کیسے ہوسکتی ہے؟  ایک لڑکی جسے ایک مرد خود پیدا کرتا ہے وہ کم تر یا باعث شرمندگی کس طرح ہوسکتی ہے؟ اگر ہم ایک ایسا معاشرہ تشکیل دےلیتے ہیں جس میں پیدا ہونے والے بچے گالی گلوچ اور بدکلامی سے واقف تک نہ ہوں تو یقین مانیے گالی سے غصہ آتا ہے یا کسی کو مزہ آتا ہے یہ ٹوپک ہی ہمیشہ کے لیے بند ہوجائے گا اور عورت بھی ایک آزاد شہری کے طور پر نمایاں ہوگی اور اس کی بے گناہی خود بخود ہی نکھر جائےگی ۔ہم خود ہی ماں بہن کی گالیاں ایجاد کرکے ان کو ٹارگٹ کرتے ہیں ویسے فطری طور پر یہ ویسے ہی بے گناہ ہیں۔

ہم نے اب تک یہ جانا کہ کس طرح ماحول ہمیں بناتا ہے عزت ذلت کے مصنوعی پیمانے کس طرح ہمارے دماغ میں ٹھونستا ہے ہماری کئی نسلیں صدی در صدی کس طرح اس عذاب میں اترتی جاتی ہیں۔

گالی گلوچ سے غصہ کرنا ہے ،یہ چیزیں ہم سب مل کر طے کرتے ہیں اور گویا جیسے ہم خود چاہتے ہوں کہ فساد برپا رہے انسان بہتر سے بہتر تو ہوتا ہے لیکن اس پر کئی صدیاں گزر جاتی ہیں ہر معاشرے کی برائی کہیں آسمان سے نہیں اترتی بلکہ ہر برائی خود معاشرے کی ہی پیداوار ہوتی ہے۔اگر معاشرے کو پوری طرح بدل دیا جائے تو ایک ایسی نسل پیدا ہوگی جو ہم سب سے کافی بہتر اور کارگر ثابت ہوگی۔

4۔عورتوں اور لڑکیوں کی تربیت کا معیار

اگر آپ کے گھر میں ایک لڑکا ایک لڑکی ہے تو یہ بات سمجھنا آپ کے لیے اور بھی آسان ہے فرض کیجیے آپ کے لڑکے نے کسی لڑکی سے ناجائز رشتہ رکھا اور اس لڑکی کو حاملہ کردیا تو ہوسکتا ہے آپ اس لڑکی کو بدکار سمجھیں اور اپنے بیٹے سےکہیں کہ خبر دار اگر دوبارہ اس عیاش بے حیا لڑکی سے ملنے کی کوشش کی تو۔ آپ یہ بھول جاتے ہیں کہ اگر یہ برائی ہے تو آپ کا لڑکا بھی برابر کا مجرم ہے اگر وہ لڑکی بے حیا اور عیاش ہے تو آپکا لڑکا بھی بے حیا اور عیاش ہے۔ لیکن آپ ہر حال میں اپنے بیٹے کو تو محفوظ رکھنے کی کوشش کریں گے لیکن اس لڑکی کے بارے آپ کو ذرا بھی فکر نہیں ہوتی کہ ایک کنواری حاملہ لڑکی کس مصیت اور اضطراب کی کیفیت میں ہوگی اور وہ بھی ایک ایسے معاشرے میں جہاں پر اکثر ایسی غلطیاں کرنے والی لڑکیوں کو جان سے ہی مار دیا جاتا ہے یا اس کی زندگی جہنم بنا دی جاتی ہے اصول تو یہ ہونا چاہیے کہ اگر کوئی جوڑا ایسا کام کرتا ہے تو ان کو آپسی مشترکہ زندگی میں جوڑ دیا جائے لڑکے کو کم از کم علم ہونا چاہیے کہ وہ کوئی ایسا کام کرکے آزاد نہیں گھوم سکتا۔ اب وہ پیدا ہونے والے بچے کا باپ ہے اور اس بے گناہ جان کی کفالت کرنا اس کا فرض ہے اسے اس کی ذمہ داری سے راہ فرار اختیار نہ کرنے دیں ۔اس کے لیے دونوں فریقین کو بھرپور کوشش کرنی چاہیے اور اگر لڑکا نہیں مانتا تو ریاست کی جانب سے سخت سزا کا قانون بھی ہونا چاہیے۔ بہر حال کسی معاشرے کو بہتر بنانے کے لیے یہ عمدہ کوششیں ہوسکتی ہیں اور ابتدائی طور پر ان پے عمل کرنا بے حدضروری ہے۔

دوسری طرف ہم لڑکیوں کو ایسی غلطیوں پر مارتے ہیں گالیاں دیتے ہیں یا سخت ترین تشدد کرتے ہیں ہم کبھی اس بات پر غور نہیں کرتے کہ ایسا کیوں ہوا اس قسم کے واقعات زیادہ تر کم علمی کی وجہ سے سامنے آتے ہیں لڑکیوں کی تربیت ہونی چاہیے انہیں پتہ ہونا چاہیے کہ ایسی حرکت کا کیا نتیجہ ہوگا ۔

اس ضمن میں اپنی لڑکیوں کی خود تربیت کریں انہیں یہ کبھی مت کہیں کہ یہ ایک برا کام ہے اس لیے اسے نہ کرنا ۔یہ بات اس کے دماغ میں گھس سکتی ہے ہوسکتا ہے وہ لازمی کرکے دیکھے یا شادی کے بعد بھی اس کام کو برا ہی سمجھے اور اس کی ازدواجی زندگی تباہ ہوکر رہ جائے دونوں صورتوں میں ہی خطرہ ہے

اس لیے لڑکیوں کو اصل حالات اور واقعات سے آگاہ کرنا چاہیے اور انہیں بتانا چاہیے کہ جب ایک لڑکا اور لڑکی آپسی ملاقاتوں میں مگن ہوکر ہر اصول توڑ دیتے ہیں اور ہر بندھن سے آزاد ہوجاتے ہیں تو اس کا سب سے برا اثر لڑکی کی زندگی پر پڑتا ہے۔

لڑکا تو سیکس کے بعد بھاگ جائے گا لیکن لڑکی اپنے پیٹ کا بوجھ لے کر کہاں بھاگے گی۔ معاشرے کی لعن طعن ساری لڑکی کو برداشت کرنی پڑتی ہے ۔ہمارے معاشرے میں تو ایسے کام کو ہی گناہ کبیرہ سمجھا جاتا ہے یہ ایک علیحدہ بات ہے

یورپ میں تو لڑکی آزاد ہوتی ہے اگر کنواری لڑکی چاہے تو اپنے بوائے فرینڈ سے بچہ پیدا کرسکتی ہے اس سے ہوتا یہ ہے کہ جو ایسا کرتے ہیں ان میں سے اکثر کے تو بوائے فرینڈ ہی دوڑ جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں بچے کی پرورش اور کفالت کا سارا بوجھ لڑکی کو اٹھانا پڑتا ہے اور وہ ایک مرد کی طاقت کے بغیر پوری زندگی کے لیے پس کر رہ جاتی ہے اور اس کی ساری انرجی اور طاقت بچے کی کفالت پر ضائع ہوتی ہے اس کے بچے کو والد کا پیار نہ ملنے سے اس کی ذہنی گروتھ بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ لہذا بچے کی پرورش اور اچھی کفالت کے لیے ماں اور باپ دونوں کا ہونا بے حد ضروری ہے ۔

یہ ساری چیزیں لڑکیوں کی تربیت کے لیے بے حد ضروری ہیں اگر آپ لوجیکلی اپنی بیٹیوں کو سمجھا دیتے ہیں کہ اس کی کسی غلطی کا اس کی زندگی پر کتنا گہرا اثر ہوسکتا تو وہ اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی خود ہی کوشش کرے گی نہ کہ آپ روزانہ بڑے بڑےغیر ضروری لیکچر دیں

انہیں یہ بھی بتائیں کہ شادی کے آئیڈیے انسانوں نے انہی مسائل سےدوچار ہوکر ایجاد کیے تھے تاکہ بچے پیدا کرنے والا جوڑا مل کر اپنے بچوں کی پرورش کرے اور اکٹھے رہیں، نہ کہ لڑکی کا بوڑھا ماں باپ کسی نوجوان کی نشانیوں کا بوجھ اپنے بوڑھے کاندھوں پر لادے پھریں

یہ ساری چیزیں ضروری ہیں کسی لڑکی کی تربیت کے ساتھ اس سے لڑکی اپنے اوپر کوئی معاشرتی دباؤ محسوس نہیں کرے گی اور خود اپنے فیصلے کرنے کے قابل ہوجائے گی۔

ختم شد

٭٭٭٭٭

You might also like More from author

تبصرے

Loading...