تعزیت کرنے کے حوالے سے 10 ضروری باتیں۔۔۔ تحریر: حبہ, مترجم: قاسم سرویا

معاشرے میں زیادہ تر لوگوں کو اس بات سے بالکل آگاہی نہیں ہے کہ جب کوئی فوت ہو جائے تو اس کے لواحقین سے یا اظہار افسوس کیسے کرنا ہے۔۔۔؟ دکھ اور پریشانی کے ایسے مواقع پر کیا کہنا چاہیے اور کیا نہیں کہنا چاہیے۔۔۔؟ اس پوسٹ میں مفادِ عامہ کے لیے یہی کچھ بتانے کی کوشش کی گئی ہے۔

1. تعزیت کے لیے ایک تعلق قائم کیجیے:
٭٭٭ ایک عام پیغام بھیجیے۔
٭٭٭ ایک ذاتی پیغام (ایس ایم ایس یا ان بکس پیغام)۔۔۔ عام پیغام سے زیادہ بہتر ہے۔
٭٭٭ ایک فون کال۔۔۔ ذاتی پیغام سے زیادہ بہتر ہے۔
٭٭٭ کسی کے گھر جا کے تعزیت کرنا فون کال سے بہتر ہے۔
٭٭٭ کسی کو حوصلہ۔۔۔ تسلی دینے کے لیے ایک بار کی بجائے بار بار (مناسب وقفے سے) بالمشافہ مل کے افسوس کرنا سب سے زیادہ اچھی بات ہے۔

اگر کسی کے ہاں آنے جانے کی کوئی حدود و قیود آڑے نہیں آ رہیں تو تعزیت کے حوالے سے وہ کیجیے جو بہترین اور جلد از جلد ہو۔۔۔ (کیونکہ ہمدردی کرنے اور حوصلہ بڑھانے میں دیر کرنے کا سیدھا سیدھا مطلب ہے ہمدردی اور حوصلے سے انکار ہی کر دینا). یہ اصول ہر اُس شخص پر لاگو ہوتا ہے جس کی عمر 18 سال سے زیادہ ہو۔

اگر آپ کا کوئی رشتہ دار یا کسی دوست اور جاننے والے کا رشتہ دار، رفیق کار اور واقف کار اللہ کو پیارا ہو گیا ہے تو آپ کو اس کے لواحقین سے ہر حال میں رابطہ قائم ضرور کرنا چاہیے۔

آپ کے دل و دماغ میں یہ بات قطعی طور پر نہیں آنی چاہیے کہ اپنے پیاروں کی جدائی میں غم زدہ لوگ اپنی پریشانیوں میں اتنے مگن ہوں گے کہ اُن کو بالکل پتا نہیں ہوگا کہ کون آیا۔۔۔ کون گیا یا کس نے رابطہ کیا۔۔۔؟ یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ گھر والے ہر اُس چیز پر نوٹس لے رہے ہوتے ہیں جو اُن کے سامنے وقوع پذیر ہو رہی ہوتی ہے۔۔۔ کہ کون تعلق قائم کر کے سکون دے رہا ہے اور کون دل دکھانے کا باعث بن رہا ہے۔۔۔؟ بلکہ ایسے موقعوں پر اُن کا بطور خاص ذکر ہوتا ہے جنہوں نے رابطہ کرنے کی زحمت ہی نہیں کی ہوتی۔ بہرحال آپ کو تو رابطہ کرنا ہی ہے نا۔ تو پھر دیر نہ کیجئے۔

2۔ بلاخوف اپنے دل کی کیفیت کا اظہار کریں:
ٹوٹے پھوٹے، بے ترتیب اور بے معنی جیسے بھی الفاظ سے آپ تعزیت کرتے ہیں، وہ پھر بھی ٹھیک ہے، بجائے اس کے کہ آپ بالکل خاموش جا کے بیٹھ جائیں۔
آپ کے الفاظ یہ ہو سکتے ہیں۔۔۔ “مجھے بڑا افسوس ہوا، اللہ تعالیٰ آپ کو صبر دے، میرے خیال میں یہ صدمہ آپ کے لیے بہت بڑا ہے لیکن آپ نے ہمت نہیں ہارنی۔۔۔ میں آپ کے ساتھ ہوں، کا وقت مقرر ہے، ہمیں آخرت کے لیے اپنے اعمال مزید بہتر بنانے چاہییں وغیرہ”۔

3۔ نام لکھ کر اظہار افسوس کیجیے:
اگر آپ ایک کاغذ، ای میل، وٹس ایپ، ٹویٹر یا فیس بک پر پیغام لکھ رہے ہیں تو بہترین پیغام لکھنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے۔
، مجھے آپ کے بابا کے بارے میں سُن کر بہت افسوس ہوا۔ اللہ تعالیٰ اُن کی قبر کو کشادہ فرمائے، اُن کے درجات بلند فرمائے، جو دکھ آپ کو ہے، مجھے اُس کا قطعی اندازہ نہیں ہوسکتا، مجھے آپ کی پریشانی کی بہت فکر ہے، میری دعائیں آپ کے بابا کے لیے ہیں اور رہیں گی، اگر کسی چیز کی ضرورت ہوتو برائے مہربانی مجھے ضرور بتانا۔۔۔ وغیرہ”۔
صرف RIP، سوری، یا۔۔۔ رونے والی ایموجی بھیج دینا بالکل ٹھیک نہیں۔
بعض اوقات ہم دو بدو اپنے جذبات کا اظہار نہیں کر پاتے تو ایسی صورت میں تحریر بہترین ذریعہ اظہار ہے۔

4۔ اچھے سوالات پوچھیے:
٭٭٭ آپ کے بہن بھائی اس صورت حال سے کیسے نبرآزما ہیں؟
٭٭٭ میری کوئی مدد کی ضرورت ہو تو بلاتکلف بتائیے گا۔
٭٭٭ مجھے اُن کی اچھی اچھی باتیں بتائیں۔
٭٭٭ آپ کے ابو کو کیا کیا پسند تھا؟
٭٭٭ اُن کے کوئی خاص کارنامے؟
٭٭٭ کیا اُن کی کوئی تصاویر ہیں۔۔۔؟ مجھے دکھائیےتو۔۔۔
آپ کے سوالوں اور باتوں میں بناوٹ نہیں ہونی چاہیے۔ سامنے والے کو لگے کہ درحقیقت آپ دل سے اور مخلص ہو کر اظہار افسوس کر رہے ہیں۔

5۔ پوچھے بغیر کوئی اچھا کام کر جائیے:
جب ملاقات کے دوران سلام کے وقت کوئی جوش سے آپ کا ہاتھ دباتا ہے تو آپ کو یقیناً اچھا لگتا ہے۔ اسی طرح کسی کو پانی پلا دینا یا کوئی اچھی چیز کھلا دینا، کوئی بھی بے لوث خدمت کر دینا یا کسی کے کام آنا “محبت کی زبان” کے بڑے بڑے کام ہیں۔ کسی کے پیارے کی موت پر اُس سے پوچھے بغیر کوئی ایسا کام کر جائیے کہ اس کا دل باغ باغ ہو جائے اور صدمے میں وقتی افاقہ بھی ہو۔

6۔ آٹھ نقصانات:
باپ، ماں۔۔۔ خاوند، بیوی۔۔۔ بیٹا، بیٹی۔۔۔ اور بھائی بہن۔۔۔ کی وفات کو ہماری زندگی کے بڑے “آٹھ نقصانات” کہا گیا ہے۔ اس کے علاوہ باقی ساری اموات “ثانوی” ہیں۔۔۔ دُکھ تو ہرقریبی عزیز کی موت کا ہوتا ہے لیکن ان آٹھ اموات کا دکھ ناقابل تلافی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی کرم نوازی ہے کہ وہ ہمارے پیاروں کے مرنے کے بعد ہمیں صبر دے دیتا ہے۔۔۔ تو آپ بھی اپنے اور دوسروں کے آنسو پونچھیے، تسلی دیجیے اور ایک بار پھر کھڑے ہو جائیے۔۔۔ زندگی زندہ رہنے کے لیے ہے۔۔۔ مرنے والوں کے ساتھ مرا تو نہیں جاتا نا۔۔۔

7۔ نماز جنازہ پر “پارٹی” نہ بنائیے”
اگر آپ نماز جنازہ میں شرکت کر رہے ہیں یا “پُھوڑھی” پر فاتحہ پڑھ کر اپنے دکھ کا اظہار کر رہے ہیں تو پارٹی بازی، گروپ بندی اور گپ شپ سے پرہیز کریں۔ دکھ کے موقع پر ہنسی مذاق، طنزیہ فقرے اور چہرے کے مضحکہ خیز تاثرات آپ کی شخصیت کو آنِ واحد میں زمین بوس کر سکتے ہیں۔۔۔
سیانے کہتے ہیں۔۔۔ موت والی جگہ پر رونا نہ بھی آئے تو رونے جیسا منہ تو بنایا جاسکتا ہے نا۔۔۔

8۔ گنوار مت بنیئے:
ایسے مواقع پر غیر شاستہ، غیر مہذب، تکلیف دہ اور بازاری الفاظ بولنے سے پرہیز کیجیے۔ وفات پا جانے والے شخص کے لیے “ڈیڈ باڈی” کی بجائے “باڈی” کا لفظ استعمال کیا جائے تو زیادہ بہتر ہے اور جن کا کوئی پیارا۔۔۔ اللہ کو پیارا ہو گیا ہے، اُن کے لیے کم تکلیف دہ ہے۔ ایسے لمحات میں کوشش اور عہد کریں کہ آپ کے الفاظ کسی کا دل نہ دکھا جائیں۔
بے شک موت کے بعد جب جسم سے روح نکل جاتی ہے تو پھر وہ “ڈیڈ باڈی” ہی ہوتی ہے، لیکن صدمے کی گھڑی میں بولے گئے مناسب الفاظ تادیر یاد رہتے ہیں۔
“میت کو لاؤ، میت کو لے جاؤ” جیسے الفاظ بولنے سے بھی گریز کرنا چاہیے۔

9۔ اچھی یادوں کا تبادلہ کیجیے:
“میں نے آپ کے بابا کو آپ کی شادی پر دیکھا تھا اور آپ سب کتنے خوش نظر آ رہے تھے۔۔۔”، “آپ کے بابا ریٹائرمنٹ کے بعد بہت مطمئن لگ رہے تھے”، “میری جب بھی اُن سے ملاقات ہوتی، وہ اپنا دستِ شفقت میرے سر پر رکھ دیتے”۔
یہ کچھ مثالیں ہیں جو ہم مرنے والے کے قریبی اعزاء و اقرباء کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ ان یادوں کے پیچھے ایک نفسیاتی اور فلسفیانہ تعلق ہوتا ہے اور یہ بڑا “بامعنی” ہوتا ہے۔ تو اب جب بھی کسی کے ہاں تعزیت کے لیے جانا ہے، اچھی یادیں ضرور شیئر کرنی ہیں۔۔۔ ٹھیک ہے نا۔۔۔؟
(میری کزنز نے میرے بابا کی وفات پر بہت اچھی یادیں بھیجیں اور وہ عام دنیاوی یادوں سے لے کرہر طرح کی طاقت ور یادیں تھیں، جو بڑی طمانیت اور سرور بخش تھیں۔ میں نے وہ یادیں ہنستے، سر ہلاتے اور روتے ہوئے پڑھیں اور پھر اپنے خاوند کے ساتھ شیئر کیں۔ پھر میں نے انہیں اپنے تنہائی کے لمحات میں دوبارہ پڑھا۔۔۔ بار بار پڑھا اور میں نے اپنے آپ کو “مکمل” محسوس کیا۔۔۔ حبہ)

10۔ کچھ نہ کچھ تعریفی اور ستائشی کہیے:
اگر آپ ذاتی طورپر مرحوم کو جانتے ہیں تو پھر تو بہت آسانی والی بات ہے۔ ہر اُس بات کی تعریف کیجیے جو آپ کو اچھی لگتی تھی کیونکہ یہ ایسے وقت میں ہر “مشفق لفظ” افسردہ دل کے “بام” کی طرح ہوتا ہے۔۔۔ سکون اور آرام دینے والا۔ یہ کوئی شخصیت کا اچھا پہلو بھی ہو سکتا ہے، کوئی جسمانی خوبی بھی یا کوئی بھی ایسی چیز جو اچھی “فیلنگ” دے سکے۔
اگر آپ مرحوم کو نہیں جانتے تو اپنے تصور اور تخیل سے کچھ بھی اچھا تخلیق کرنے کی کوشش کیجیے جیسے۔۔۔
٭٭٭ آپ جیسی پیاری بہن کا وہ بہت “ونڈرفل” بھائی رہا ہوگا۔
٭٭٭ اُس کی مسکراہٹ آپ جیسی تھی نا۔۔۔؟
٭٭٭ اگر اُنہیں آپ کی پرورش کرنا پڑتی تو بلا شبہ وہ ایک اچھے باپ (یا ماں) ہوتے۔
٭٭٭ میرا خیال ہے اُن کی آواز بہت اچھی ہوگی۔
٭٭٭ کاش زندگی میں میری ان سے ملاقات ہوئی ہوتی تو مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا۔۔۔ وغیرہ۔

بونس: یہ ایک سنت طریقہ ہے اور فرشتے مرحوم شخص کے لیے اسے اپنے پاس محفوظ رکھتے ہیں۔۔۔ یعنی آپ کی طرف سے اچھے اعمال بڑی آسانی سے مرحوم کے نامہ اعمال میں لکھ دیئے جاتے ہیں۔
۔۔۔
یہ سب کچھ پڑھنے کا بہت شکریہ۔۔۔ امید ہے یہ دس پوائنٹس کسی نہ کسی کے لیے۔۔۔ کہیں نہ کہیں ضرور مددگار ثابت ہوں گے۔۔۔ جزاک اللہ خیرا۔
Hiba – DramaMama
اردو قالب میں ڈھالنے کی کوشش: محمد ۔۔۔ شیخوپورہ
٭٭٭٭قیو پی ایس٭٭٭٭

Posted by | View Post | View Group

You might also like More from author

تبصرے

Loading...