حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر۔ از قاری حنیف ڈار

حضرت اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کا ترجمہ یعنی تعارف پڑھ لیجئے ، ھر اسلامی کتاب میں کچھ یوں لکھا ھوا ھے کہ وہ اپنی بہن ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے ۱۰ سال ( نصف جس کا پانچ سال ھوتا ھے ) بڑی تھیں ،، حضرت اسماءؓ کا انتقال ۷۳ ھجری میں سو سال کی عمر میں ھوا ،، یوں سو میں سے ۷۳ نکال دیجئے تو پہلی ھجری کو حضرت اسماء کی عمر ۲۷ سال بنتی ھے اور ان کی دس سال چھوٹی بہن حضرت عائشہؓ کی عمر ۱۷ سال بنتی ھے ،، مگر مجال ھے جواپنے ھی لکھے کو مان جائیں ،،اور جب وہ اتنی واضح اور دوٹوک بات کو تسلیم نہیں کرتے تو باقی لوگوں کے بارے میں ان کی معلومات پر کیونکر اعتبار کیا جا سکتا ھے ؟

کہتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ 4 نبوی کو پیدا ھوئیں یعنی اعلان نبوت کے چار سال بعد ،، پھر لکھتے ہیں کہ اسلام قبول کرنے والوں میں حضرت اسماءؓ کا نمبر 18واں اور حضرت عائشہؓ کا 19واں تھا ،، گویا 4 نبوی تک رسول اللہ ﷺ پر ۱۷ سے بھی کم لوگ ایمان لائے تھے ،، اس کے بعد ۱۸ نواں نمبر حضرت اسماءؓ کا ھے جن کے اسلام کے بعد کسی اور نے اسلام قبول نہیں کیا جب تک کہ حضرت عائشہؓ پیدا ھو کر اسلام قبول کرنے کی عمر کو نہیں پہنچ گئیں ،، تا کہ دونوں بہنوں کا Sequence خراب نہ ھو اور دونوں کو ایک ساتھ نمبر الاٹ ھو ،، مزید دیکھئے کہ چھ نبوی میں 84 آدمی حبشہ کی طرف ھجرت کرتے ہیں ،، اور 6 نبوی میں حضرت عائشہؓ کی عمر صرف اور صرف 2 سال ھے نصف جس کا ایک سال ھوتا ھے ،، جب حضرت عائشہ ۲ سال کی تھیں تو ھجرتِ حبشہ چھ نبوی میں 84 آدمیوں نے کی جبکہ ایک سال پہلے 5 نبوی کو ۱۲ آدمی ھجرت کر کے جا چکے تھے ،، گویا 84 + 12 =96 ،، تو جب حضرت عائشہؓ دو سال کی تھیں تو 96 مسلمان ھجرت کر کے حبشہ چلے گئے تھے جبکہ رسول اللہ ﷺ ، حضرت خدیجہؓ اور ان کی بیٹیاں نیز حضرت ابوبکرؓ ، حضرت حمزہ ، سمیت بہت سارے مسلمان ابھی مکے میں باقی بھی تھے ،، پھر حضرت عائشہؓ رحم مادر میں نہیں بلکہ صلبِ پدر میں ایمان لائی ھونگی تبھی 19 واں نمبر الاٹ ھو سکتا ھے یا دوسری صورت یہ ممکن ھے کہ وہ رسول اللہ کے اعلان نبوت سے پہلے پیدا ھوئی ھوں جیسا کہ وہ خود فرماتی ہیں کہ جب سورہ القمر نازل ھوئی تو میں بھاگتی دوڑتی لڑکی تھی ،، کنت جاریۃ العب ،، اور یہ بات راویوں کو قبول نہیں کیونکہ چھ سال والی بات بھی تو ثابت کرنی ھے ، ان کی ایک بات مانو تو دس باتوں پر سوال کھڑے ھو جاتے ہیں ،، مگر پھر بھی ان کی روایتوں کو وحی اور قرآن کہا جاتا ھے !

سورس

Dr. Muhammad Hamidullah
Visit Website of Dr. Muhammad Hamidullah

You might also like More from author

تبصرے

Loading...