خلاصہ قرآن پارہ نمبر 18

اٹھارویں پارے کا آغاز سورہ مومنون سے ہوتا ہے جس میں اللہ تعالی نے مومنوں کے اس گروہ کا ذکر کیا ہے جو جنت کے سب سے بلند مقام فردوس کا وارث بننے والا ہے۔ اللہ فرماتا ہے وہ مومن کامیاب ہوئے جنھوں نے اپنی نمازوں میں اللہ کے خوف اور خشیت کو اختیار کیا، جنھوں نے لغویات سے اجتناب کیا، جو زکوٰۃ کو صحیح طریقے سے ادا کرتے ہیں، جو امانتوں اور وعدوں کی پاسداری کرتے ہیں، جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں، جو اپنی پاک دامنی کا تحفظ کرتے ہیں اور سوائے اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے کسی سے خلوتِ صحیحہ نہیں کرتے۔ جو صاحبِ ایمان ایسا کرے گا وہ فردوس کا وارث بن جائے گا۔

ارشاد ہے کہ جب کافروں پر عذاب آئے گا تو وہ چیخ پڑیں گے۔ اس وقت ان سے کہا جائے گا آج چیخ پکار مت کرو، ہمارے مقابلہ میں کسی طرف سے تمھاری مدد نہیں کی جائے گی۔ ہماری آیات کی تمھارے سامنے تلاوت کی جاتی تو تم الٹے قدموں بھاگ پڑتے تھے، تکبر کرتے اور اپنی رات کی محفلوں میں اس قرآن کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے۔

اللہ کافروں کی غفلت اور سرکشی کو اجاگر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ کیا انھوں نے قرآن کریم پر غور نہیں کیا یا ان کے پاس کوئی ایسی چیز آگئی ہے جو ان کے آبا و اجداد کے پاس نہیں آئی یا انھوں نے اپنے رسول کو پہلے سے نہیں پہچانا جو ان کا انکار کر رہے ہیں۔ اللہ اس حقیقت کو واضح فرماتا ہے کہ نبی کریم علیہ السلام کی سابقہ زندگی ان کے سامنے ہے اس لیے ان کو صادق اور امین رسول کا انکار نہیں کرنا چاہیے اور صرف اس وجہ سے قرآن کو رد نہیں کرنا چاہیے کہ یہ ان کے آبا و اجداد کے عقائد سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ان کو حق پر مبنی دعوت پر غور کرنا چاہیے اور اللہ کی اس وحی کو دل و جان سے قبول کرنا چاہیے۔ درحقیقت وہ یہ چاہتے تھے کہ حق ان کی خواہشات کے تابع کر دیا جائے۔

اس سورت میں یہ بھی ارشاد ہے کہ بعض لوگوں کا یہ گمان ہے کہ ہم نے ان کو بغیر وجہ کے پیدا کر دیا اور انھوں نے ہمارے پاس پلٹ کے نہیں آنا حالانکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ انسانوں کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور وہ اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوں گے اور ان کو اپنے کیے کا جواب دینا ہوگا۔

اس سورت کے آخر میں ارشاد ہوا کہ جو کوئی بھی غیر اللہ کو پکارتا ہے اس کے پاس ایسا کرنے کی کوئی دلیل نہیں اور اس کا حساب پروردگار کے پاس ہے اور اس نے کبھی کافروں کو کامیاب نہیں کیا۔

سورۃ مومنون کے بعد سورۃ نور ہے جس میں اللہ نے جنسی جرائم اور فحاشی کی روک تھام کے لیے زنا کی سزا مقرر فرمائی ہے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ اس سورت میں Character Assassination کے ہتھیار سے مذہبی و سیاسی یا کاروباری مخالفین کو ٹھکانے لگانے کے برے فعل سے روکنے کے اقدامات ذکر گئے ہیں۔ ارشاد ہے کہ زانی اور زانیہ کو بدکاری ثابت ہونے پر ایک سو کوڑے مارے جائیں۔ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے کی مذمت کی گئی ہے اور ارشاد ہے کہ جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں اور پھر اپنی بات کے ثبوت کے لیے چار گواہوں کی شرط کو پورا نہیں کرتے ایسے لوگوں کو اسی کوڑے لگائے جائیں اور مستقبل میں ان کی کوئی گواہی قبول نہ کی جائے اور ان کا شمار فاسقوں میں ہوگا۔ ایسے ہی اگر شوہر اپنی بیوی پر الزام لگاتا ہے تو غیرت کے نام پر قتل (Honour Killing) کے بجائے الزام کے سچ جھوٹ ثابت کرنے کا طریقہ بتلایا. (رجم کا ذکر قرآن مجید میں نہیں ہے۔ یہ سزا جہاں بھی دی جا رہی ہے اس کا اسلام سے نہیں، علاقائی رواج سے تعلق ہے۔)

اللہ نے سورۃ نور کے دوسرے اور تیسرے رکوع میں نام لیے بغیر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی براءَت کا اعلان فرمایا اور یوں اہلِ ایمان کو ازواجِ مطہرات کی حرمت و ناموس کے بارے میں خبردار کر دیا اور اصول طے فرما دیا کہ جب بات نبی اور ان کے گھر والوں کی ہو تو راوی کو مت دیکھا جائے۔ اہلِ ایمان کو یہ سمجھایا گیا کہ انھیں ایک دوسرے کے بارے میں اچھا گمان رکھنا چاہیے۔ اور اگر کوئی نبی یا ان کی ازواج میں سے کسی کی کردار کشی کرے تو سننے والے کو علی الفور کردار کشی کو بہتان سے تعبیر کرنا چاہیے۔ بارھویں آیت میں ارشاد ہے کہ جب تم نے اس خبر کو سنا تو مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنے بارے میں اچھا گمان کیوں نہیں کیا، اور سنتے ہی کہہ کیوں نہیں دیا کہ یہ واضح طور پر تراشا ہوا جھوٹ اور طوفان ہے؟ اگر کسی واقعہ پر چار گواہ موجود نہ ہوں تو الزام تراشی کرنے والا اللہ کی نظر میں جھوٹا ہے۔ اسی طرح سولھویں آیت میں ارشاد ہے کہ جب تم نے اس خبر کو سنا اسی وقت یہ کیوں نہ کہہ دیا کہ ہم تو اس کو ماننا تو دور کی بات، اس پر گفتگو تک کرنے کے روادار نہیں۔ اے اللہ تو پاک ہے (اس کمزوری سے کہ نبی کے حرم کی حفاظت نہ کرسکے) یہ تو عظیم بہتان ہے۔ جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ مومنوں میں بے حیائی پھیلے ان کے لیے دنیا و آخرت میں دکھ دینے والا عذاب ہے۔ اے مومنو، شیطان کے قدموں پر مت چلنا۔ جو لوگ پاک دامن عورتوں پر بدکاری کی تہمت لگاتے ہیں ان کی زبانیں اور ہاتھ پاؤں قیامت کے دن ان کے خلاف گواہی دیں گے۔ نیک مردوں کے لیے نیک عورتیں ہیں اور بروں کے لیے بری۔

اس بعد گھروں میں داخل ہونے کا ادب بتایا کہ کسی کے گھر میں بغیر اجازت مت داخل ہوں بلکہ پہلے اجازت لے کر سلام کرکے داخل ہوں.

معاشرے میں مرد و زن کے اختلاط سے فروغ پانے والی برائیوں کی روک تھام کے لیے اللہ نے اس پارے میں مومن مردوں کو اپنی نگاہیں جھکانے اور شرم گاہوں کی حفاظت کا حکم دیا ہے جب کہ مومن عورتوں کو اپنی نگاہیں جھکانے اور شرم گاہوں کی حفاظت کرنے کے حکم کے ساتھ ساتھ اوڑھنیاں سینے پر رکھنے، پاؤں کی آواز کے پھیلنے سے روکنے اور محرم رشتہ داروں کے علاوہ کسی شخص کے سامنے اپنی زینت ظاہر کرنے سے منع کیا ہے.

اللہ نے غیر شادی شدہ مرد کی شادی کرنے کا حکم دیا ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص فقیر ہو تو نکاح کرنے کے نتیجے میں اللہ اس کو غنی فرما دیں گے۔ نیز غلامی کے خاتمہ کے لیے ایک اہم حکم فرمایا کہ اگر غلام کچھ رقم کے عوض آزادی چاہیں تو ان کو آزاد کر دو.

آگے ارشاد ہے کہ اللہ زمین اور آسمان کو روشن فرمانے والا ہے اور وہ اپنے نور کے ذریعے جسے چاہتا ہے ہدایت کے راستے پر گامزن فرما دیتا ہے۔ اللہ تعالی نے ان مردوں کا ذکر کیا ہے جو تجارت اور سوداگری میں مشغول ہونے کے باوجود اللہ کے ذکر اور نماز سے غافل نہیں ہوتے۔ اللہ نے صحیح ایمان رکھنے والے مومنوں کا ذکر کیا ہے کہ جب ان کو اللہ اور رسول کے احکامات کی طرف بلایا جاتا ہے تو وہ جواب میں کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی، اور شاندار کامیابی انہی صاحبِ ایمان لوگوں کے لیے ہے۔

اللہ نے اس وقت موجود اہلِ ایمان یعنی صحابہ سے وعدہ کیا کہ جو ایمان اور عملِ صالح کے راستے پر چلیں گے اللہ ان کو زمین پر خلافت عطا فرمائیں گے جس طرح سابقہ اہلِ ایمان کو خلافتِ ارضی سے نوازا گیا تھا۔ اللہ نے اس وعدے کو اپنے نبی کی حیاتِ مبارک ہی میں پورا فرما دیا اور سرزمینِ حجاز کے بڑے حصے پر آپ کے کامیاب سیاسی معاہدوں کی وجہ سے آپ کا اثر و رسوخ قائم کر دیا اور صحابہ کو اقتدار عطا ہوا (البتہ جس ریاستی بندوبست کو آج کی اصطلاحی سیاسی زبان میں سلطنت یا ریاست کہتے ہیں اس کا قیام بہت بعد کی بات ہے)۔

اس سورت میں اللہ نے خلوت کے تین اوقات کا ذکر کیا ہے کہ ان اوقات میں کسی کے گھر جانا درست نہیں: فجر سے پہلے، ظہر کے بعد جب لوگ اپنے ضروری کپڑے اتار کر آرام کرتے ہیں، اور عشاء کے بعد۔ ان تین اوقات کے علاوہ انسان کسی بھی وقت کسی کے گھر اجازت لے کر ملاقات کو جا سکتا ہے۔

سورۃ نور کے آخر میں اللہ نے حضرت محمد علیہ السلام کے حوالے سے یہ ادب ارشاد فرمایا ہے کہ نبیِ کریم کو ایسے نہ پکارا جائے جیسے تم لوگ ایک دوسرے کو بے تکلفی سے پکارتے ہو بلکہ ادب و احترام کے ساتھ شائستہ انداز میں پکارو، ایسا نہ ہو کہ نامناسب انداز میں پکارنے والے دنیا میں فتنے کا نشانہ بن جائیں اور آخرت میں ان کو درد ناک عذاب کا سامنا کرنا پڑے۔

سورۃ نور کے بعد سورۃ فرقان ہے جس کے آغاز میں ارشاد ہے کہ بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان کو نازل کیا تاکہ وہ دنیا والوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں۔ فرقان کا مطلب فرق کرنے والا ہوتا ہے۔ قرآنِ مجید نیکی اور بدی، ہدایت اور گمراہی، شرک اور توحید، حلال اور حرام وغیرہ وغیرہ کے درمیان فرق کرنے والا ہے اس لیے اس کو فرقان کہہ کر پکارا گیا ہے۔

کفار کے ان خیالات کو کہ یہ قرآن پاک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود کہیں سے بنا لائے ہیں یا پھر یہ پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں جو انھوں نے لکھ لی ہیں، کا رد کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ اس ذات کی نازل کردہ کتاب ہے جو چھپی اور ظاہر باتوں کو جانتا ہے.

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآنِ مجید پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین.

Dr. Muhammad Hamidullah
Visit Website of Dr. Muhammad Hamidullah
ماخذ فیس بک

You might also like More from author

تبصرے

Loading...