رابطے کی اخلاقیات از قاری حنیف ڈار

ہمارے ہاں اس وقت جس رویے کی تہذیب کی اشد ضرورت ہے وہ “رابطے کی اخلاقیات” ہیں۔

آپ کے ہاتھ میں اگر موبائل ہے اور آپ کے پاس کسی کا نمبر ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جس وقت چاہیں دوسرے کو لائن حاضر کردیں۔

یہی معاملہ وٹس ایپ کاہے ،کوئی انسان غلطی سےواٹس ایپ پر اگر موجود ہے تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ روز صبح اسے السلام علیکم کے میسج کے ساتھ ایک دعا ،دو ہاضمے کے نسخے، ایک لیموں سے داغ صاف کرنے کا ٹوٹکا اور ایک عبرت والی کہانی بھیج دی جائے؟

یہاں ان چند اصلاح طلب پہلووں کی جانب توجہ دلانا چاہتا ہوں جن کا مجھے روز سامنا کرنا پڑتا ہے۔

۱-کسی اجنبی کا بغیر کسی اطلاع کے کال کرنا:

ایک شخص اگر آپ کو جانتا نہیں ہے،تو آپ اسے براہ راست کال کیسے ملا سکتے ہیں،اگلا آپ سے بات کرنے کی پوزیشن میں ہے ،آپ سے بات کرنا اس کے لیے کمفرٹ ایبل ہے، وہ آپ سے آپ کے تعارف کے بارے میں تحقیق میں اپنا وقت صرف کرنا چاہتا ہے یا نہیں اس کا مارجن اسے ملنا چاہیے۔

لہذا کسی ایسے آدمی کو جو آپ کو جانتا نہیں ہے ہمیشہ ایک مختصر میسج کرنا چاہیے، جس میں
1-اپنا تعارف
2-جس کے ذریعے نمبر ملا اس کا حوالہ
3-رابطہ کرنے کا مقصد
4- بات کرنے کے مناسب وقت کا پوچھا جائے۔

اس کے بعد آرام سے کم از کم تین دن کی خاموشی اختیار کی جائے تاکہ اگلا آدمی جس وقت فری ہو جواب دے دے۔

اس دوران بار بار ٹن ٹن کر کے یاد دلانا کہ آپ نے میرے میسج کا جواب نہیں دیا بہت ہی غلط حرکت ہے۔

۲-کال پر بات کرنے کا اصرار:

جب کسی کو فون ملایا جاتا ہے تو لازمی رسمی کلمات کا تبادلہ ہوتا ہے، حال چال پوچھا جاتا ہے، اسی طرح سے اصل مدعے تک آنے میں ذرا وقت لگتا ہے، پھر گفتگو کا آغاز ہوتا ہے۔

یہ رسمی تبادلہ خیالات سامنے والا کرنے کی خواہش رکھتا ہے، سامنے والا انسان اس کیفیت میں ہے کہ ابتدا سے راگ اٹھائے پھر کسی کو براہ راست مخاطب کرنا بھی ایک دباؤ کا کام ہے۔ لہذا حتیٰ الامکان کوشش ہونی چاہیے کہ کال سے پرہیز کیا جائے۔ اس کا بہترین حل  voice msg ہے۔ جب چاہیں بھیج دیں۔ اگلا بھی جب چاہے سن کر جواب دے دے گا۔

3-آدمی کی مصروفیات کا خیال کرنا:

میسج کیا جائے یا کال دونوں صورتوں میں اس بات کیا خیال رکھا جائے کہ اگلا بھی انسان ہے، اس کے فون پر بات کرنے کے علاوہ بھی کوئی مصروفیات ہیں، اس کا خاندان ہے، دوست ہیں، اس کے کھیل، کھانے کا وقت کا ہے، وہ تفریح پر باہر نکلا ہوا ہے۔ چاہے وہ پلمبر ہو، الیکٹریشن ہو یا پھر ڈاکٹر ہو یا دین کا عالم ہو، ہر ایک کی زندگی کی اپنی مصروفیات ہوتی ہیں۔ لہذا ان مصروفیات کا مارجن دیے بغیر اس سے تقاضہ کرنا کہ وہ ہر وقت سماج سیوا کے لیے حاضر رہے ایک بڑی زیادتی ہے۔
لہذا کسی سے کوئی کام ہو تو
1-کوشش کریں working hours میں فون کریں.
2-فون کرتے ہی معذرت کریں،
3-پھر اسے بتائیں کہ میں اتنی دیر بات کرنا چاہتا ہوں.
4-اگر ممکن نہیں آپ مصروف ہوں تو جب کہیں کال کر لوں گا۔
5-اور اگر کال نہیں اٹھائی گئی تو ایک دفعہ سے زیادہ کال نہ کریں۔ اگرچہ آپ کو یقین ہو کہ اگلا انسان بہت فارغ آدمی ہے لیکن فارغ انسانوں کو بھی واش روم جانا پڑ جاتا ہے۔
(مجھے ایک صاحب نے بار بار کال کی، اٹھا نہیں سکا، بعد میں بتایا بھیا وہاں تھا، کہنے لگے اچھا تو آپ بتا دیتے،میں بار بار کال نہ کرتا گویا اب یہ بھی بتانے کی بات رہ گئی ہے)

4-مختصر پر اثر:

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انسانی طبائع میں اختلاف واقع ہوا ہے لوگوں کی اپنی اپنی حساسیتیں ہیں، بعض لوگ لمبی بات کرنے کا مزاج رکھتے ہیں، اگر رکھتے ہیں تو وہ یہ بھی جان لیں کہ سامنے والا ممکن ہے فطری طور پر مختصر بات کا مزاج رکھتا ہو، اب جب آپ کو قائل نہیں کیا جا سکتا کہ مختصر رکھیں تو اسے کیسے مجبور کیا جا سکتا ہے کہ لمبی سنے۔ لہذا اپنے ساتھ ساتھ دوسرے کے ذوق کا بھی خیال رکھیے۔اور کوشش کیجئے کہ بات اگلے کے لحاظ سے ہو نہ کہ اپنے لحاظ سے۔

5 -کسی public figuresسے رابطے میں احتیاط:

جب کوئی آدمی کسی منصبی تقاضے، ذمےداری یا پھر صلاحیت کے لحاظ سے لوگوں میں کوئی مقام رکھتا ہو اور اس وجہ سے معروف ہو تو آپ غور کیجیے کتنے لوگ اس سے رابطے کی کوشش میں ہوتے ہوں گے۔ سینکڑوں، لہذا کوشش کیجئے کہ ضرورت پیدا ہونے پر رابطہ کیجئے، آپ اپنی محبت کے اظہار کے لیے بھی یقینًا رابطہ کر سکتے ہیں لیکن یہ بات ذہن میں رکھتے ہوئے کہ بیسیوں لوگ یہی معاملہ اس کے ساتھ کر رہے ہیں لہذا اگر وہ آپ کو attend نہیں کرتا تو اس وجہ سے مایوس نہ ہوں بلکہ اسے اس بات کا مارجن دیں۔

6-واٹس ایپ گروپ، ایک مہلک وبا:

واٹس ایپ گروپس نے رابطوں اور زندگی کی خوشیوں کو شیئر کرنے کی نئی راہیں کھولی ہیں، لیکن نئی راہوں کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ موجود راہوں کو جام کر دیا جائے۔ اپنے آپ کو ان گروپس سے نکالیں جہاں دس بیس سے زائد لوگ ہوں اور وہ گروپ بغیر قواعد کے چلتا ہو۔ ورنہ آپ بیگم کے پاس بیٹھے ہیں اور ٹن ٹن جاری ہے، ابو کے ساتھ بات کر رہے ہیں اور میسج پر میسج آرہا ہے۔ یہ آپ کے ارد گرد لوگوں کی حق تلفی ہے۔ لہذا موبائل کے استعمال کو گھر میں محدود سے محدود تر رکھنا انتہائی ضروری ہوتا جا رہا ہے۔
ہم سب کو اس پر غور کرنا چاہیے۔

Dr. Muhammad Hamidullah
Visit Website of Dr. Muhammad Hamidullah
ماخذ فیس بک

You might also like More from author

تبصرے

Loading...